موجودہ مسیحی مذہب
Al-Risala, September 1977, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اکثر مذاہب میں غلطی ہوئی ہے کہ بعد کے دور میں وہ ان علوم کے ہم معنی بن کر رہ گئے جو ان کے بعد کے بزرگوں نے وضع کئے تھے۔ مثال کے طور پر موجودہ یہودیت بعد کی پیدا شدہ فقہ کا نام ہے اور مسیحیت بعد کے پیدا شدہ علم کلام کا۔
نئے عہد نامہ میں چار انجیلیں ہیں جن میں حضرت مسیح کے اقوال و احوال درج ہیں۔ اگرچہ تاریخی اعتباراً سے ان کی صحت مشکوک ہے، تاہم موجودہ مسیحیت ان انجیلوں سے زیادہ سینٹ پال کے وضع کردہ نظریات پر مبنی ہے۔ ایک محقق نے لکھا ہے:
IN THE EFFECTIVE SENSE PAUL, RATHER JESUS, WAS THE FOUNDER OF CHRISTIANITY نہ زیادہ صحیح معنی میں، سینٹ پال نہ کہ حضرت عیسیٰ، مسیحی مذہب کے بانی ہیں اسپینوزا نے کہا تھا: ”اس دنیا میں صرف ایک مسیحی تھا اور وہ صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ “ جب ایک خالی الذہن آدمی نیا عہد نامہ پڑھتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر اس کے اندر اس بیان کی تصدیق پا تا ہے نئے عہد نامہ کے ابتدائی چار ابواب جو حضرت مسیح کے حالات و اقوال کا ریکارڈ ہیں، ان میں کہیں بھی ان عقائد کا کوئی ذکر نہیں جن کے مجموعہ کا نام نیقیا کونسل (۳۲۵) کے اعلان کے مطابق مسیحیت ہے۔ کفارہ کا عقیدہ جو گویا کل مسیحیت ہے اس کو پہلی بار سینٹ پال نے وضع کیا جس نے حضرت مسیح کو دیکھا بھی نہ تھا۔ تثلیث خود سینٹ پال کے یہاں بھی نہیں وہ ترتولین (۳۰ - ۱۵) کی اسی طرح دوسرے عقائد۔ اس کے بعد صرف حضرت مسیح کے بارہ ساتھی یا شاگرد رہ جاتے ہیں جن کو مسیحی کہا جاسکے۔ مگر خود کتاب مقدس کے مطابق جب رومی سپاہیوں نے حضرت مسیح کو پکڑا تو سب شاگر دا سے چھوڑ کر بھاگ گئے " (مرقس، ۱۴: ۵۰) انجیل یا نیا عہد نامہ باعتبار ترتیب ۲۷ کتابوں پر مشتمل ہے۔ مگر "انجیل مقدس" کا لفظ حقیقتہً صرف ابتدائی چار کتابوں پر صادق آتا ہے جو متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی مرتب کی ہوئی ہیں اور جن میں حضرت مسیح کے حالات واقوال درج ہیں۔ کتابیں بعد کے مسیحی بزرگوں کے خطوط یا ان کے مکاشفات و احوال پر مبنی ہیں۔
کتاب مقدس کا ایک طالب علم سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ مجلد کتاب جو "انجیل مقدس" کے نام سے آج اس کے ہاتھوں میں ہے وہ کب اور کس زبان میں لکھی گئی۔ مگر اس کی کوئی تاریخ قطعیت کے ساتھ بتائی نہیں جاسکتی۔