معلومات نہیں، ذہنی رجحان
Al-Risala, September 1977, pp. 11–13
By Maulana Wahiduddin Khan
نوبل پرائز کا حصول، سائنس کی دنیا میں، اعلیٰ ترین کارکردگی کا ایک مسلمہ معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ انعام کیسے کسی کو حاصل ہوتا ہے۔ کیمسٹری کے نوبل انعام یافتہ ایچ۔ اے سکری میز (H.A. KREBS) نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سائنس داں بننے کے لئے اعلیٰ سازوسامان والی لیبارٹریوں اور جدید ترین لٹریچر پر مشتمل لائبریریوں سے بھی کہیں زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ کچھ مدت کے لئے کسی بڑی سائنسی شخصیت کی صحبت ورفاقت میسر آ جائے۔ "اگر مجھے اپنی جوانی کے ابتدائی چار سال" وہ لکھتا ہے" آٹو وار برگ (OTTO WARBURG) جیسے سائنس داں کی رفاقت میسر نہ آتی تو میرے اندر سائنس کا صحیح ذوق پیدا ہونا محال تھا۔
کر یبز مختلف بڑے بڑے سائنس دانوں کے اقوال پیش کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اعلیٰ سائنس دانوں کی صحبت جو بڑی چیز کسی کو دیتی ہے وہ سائنسی حقائق اور سائنسی طریقوں کے بارے میں معلومات کا انبار نہیں ہے۔ چیزیں تو ہر جگہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جو بات حقیقی فرق پیدا کرتی ہے، وہ دراصل فیضانِ نظر ہے جسے استاد اپنے شاگرد میں منتقل کرتا ہے۔ یہی فیضانِ نظر ، جس کو وہ عمومی سائنسی روح (GENERAL SCIENTIFIC SPIRIT) کا نام دیتا ہے، کسی شخص کو سچا سکالر بناتا ہے۔ وہ لکھتا ہے :
"سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک عظیم استاد یا سائنس داں اپنے شاگرد کے ذہن میں حقائق کے بارے میں معلومات سے کہیں زیادہ ایک ذہنی رویہ (ATTITUDE) منتقل کرتا ہے ۔ اس ذہنی رویہ میں دو باتیں بالخصوص بہت اہم ہیں۔ ایک عجز (HUMILITY) دوسرا شوق (ENTHUSIASM) (رایکلچرل سائنس ریویو) نمک خواہ ایک من ہو، کوئی چیونٹی اس کے پاس قوالی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے گلے باز لوگوں کے گرد بہت نہیں آئے گی۔ لیکن شکر ایک گرام بھی ہو تو چیونٹیوں کی تیزی سے جمع ہو جاتے ہیں جو خطابت کے دریا بہاتے فوج اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح قوموں کا ہوں، جو اشعار اور قصے سنائیں، جو فنائل اور کرامت بھی مزاج ہوتا ہے۔ کوئی قوم "شکر" پسند ہو تو آپ کی داستانیں بیان کریں۔ کسی سنجیدہ آواز اور کسی تعمیری اس کو "نمک" کے گرد اکٹھا نہیں کر سکتے۔
دعوت کے گرد وہ کبھی اکٹھا نہیں ہوتے۔
مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے گراوٹ کے اسی مرحلہ کے بارے میں قرآن میں کہا کہ وہ "قوالی" پسند ہو کر رہ گئے ہیں۔ کوئی ایسی ہی چیز گیا ہے: ان کا حال یہ ہے کہ سیدھا راستہ ان کے سامنے انھیں اپنی طرف کھینچتی ہے جس کے ساتھ قوالی کی چمک آئے تو اس کو اختیار نہ کریں اور ٹیڑھا راستہ نظر آئے لگی ہوئی ہو۔ مذہبی قوالی، سیاسی قوالی یا اور کوئی تو اس پر چل پڑیں ۔ (اعراف - ۱۴۶)
اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کیسا ہیبت ناک دن ان کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے تو ان کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں اور ان کے پاس بولنے کے لئے الفاظ نہ رہیں اس آئینہ میں آپ اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں خدا کے وفادار بندوں کے مشیر فرشتے ہوتے ہیں اور خدا کے باغیوں کے جو آدمی اختلاف کے وقت تواضع اختیار کرے، وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو یہ توفیق ملی ہے کہ خدا کے فرشتے اس کے مشیر بنیں۔ کیونکہ فرشتوں کی صفت یہ ہے کہ وہ استکبار نہیں کرتے۔
اس کے برعکس جو لوگ اختلاف کے وقت ظلم اور نا انصافی پر اتر آئیں اور متکبرانہ روش اختیار کریں، وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انھوں نے شیطان کو اپنا مشیر بنا رکھا ہے۔ کیونکہ قرآن میں گھمنڈ اور سرکشی کو صرف شیطان کی صفت بتایا گیا ہے
خدا ــــ از لائی قطرے کی آہ سے خدا — انسانی فطرت ہی اور ہے فرانس کی ایک فلم ایکٹرس گائنا لو لو بر ایگیٹیڈا (GINA LOLLOBRIGIDA) جنوری ۱۹۷۵ میں ہندوستان آئی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری رپورٹر سے اس کا سوال و جواب یہ تھا:
TO A QUESTION WHETHER SHE BELIEVED IN GOD, GINA SAID:
I BELIEVE IN GOD. I BELIEVE IN GOD, MORE WHEN I AM ON Times of India, 3.1.1975 ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ خدا کو مانتی ہے، گائنا نے کہا: میں خدا کو مانتی ہوں، میں خدا کو مانتی ہوں، اس وقت اور بھی زیادہ جب میں ہوائی جہاز میں ہوتی ہوں۔ آدمی جب ہوائی جہاز میں اڑ رہا ہو تو اس وقت وہ مکمل طور پر ایسے خارجی اسباب کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جن کے توازن میں معمولی فرق بھی اس کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔ انسان کی یہی بے چارگی سمندری سفروں میں بھی ہوتی ہے، قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے، تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرتیں دکھائے۔ اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صابر اور شکر کرنے والا ہو۔ اور جب سمندر میں ان لوگوں کو موجیں بادلیوں کی طرح گھیر لیتی ہیں تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں، اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کر کے۔ پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اعتدال پر رہتا ہے۔ اور ہماری نشانیوں کا انکار وہی کرتا ہے جو بد عہد اور
کوئی شخص خواہ کتنا ہی سرکش اور سنگدل نہ ہو، جب مشکل حالات پڑتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا انسانی فطرت کی
روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (۱۸۷۹-۱۹۵۳) خدا کا منکر تھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل (۱۸۷۴-۱۹۶۵) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست ۱۹۴۲ء میں ماسکو کا سفر کیا تاکہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکنڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ اس سلسلہ میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا جس کا خفیہ نام "ٹارچ" (TORCH) رکھا گیا اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبہ میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبہ کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں اس کی زبان سے نکلا:
MAY GOD PROSPER THIS UNDERTAKING خدا اس منصوبہ کو کامیاب کرے۔