Al-Risala · September 1977

Winston S. Churchill,

Al-Risala, September 1977, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

The Second World War (Abridgement), Cassell & Company London, 1965, P. 603 سابق صدر امریکہ مسٹر رچرڈ نکسن کے افراد خاندان جب آخری فوٹو گراف کے لئے وائٹ ہاؤس میں جمع ہوئے تو سرکاری فوٹو گرافر کو ان کا فوٹو لینے میں کافی دیر لگی کیونکہ نکسن سمیت سب لوگ رو رہے تھے۔ کوئی جس کا واہ تمہاری طرح اور تحریروں میں نہ ہو کافی دیر ہی۔ کیونکہ صدر حسن سمیت سب وہاں موجود ہے

تھے اور فوٹو گرافر اس انتظار میں تھا کہ بغیر آنسوؤں کا کوئی لمحہ ملے تو شاٹ لے سکے۔

وائٹر گیٹ سکینڈل کے متعلق ٹیپ ریکارڈنگ جس نے نکسن کی صدارت کو ختم کیا، اگر نکسن چاہتے تو اس کو ضائع کر سکتے تھے۔ ایسی صورت میں ان کی صدارت خطرہ میں نہ پڑتی۔ مگر صدر نکسن کو یہ لالچ تھا کہ صدارت کے بعد اس ٹیپ کو فروخت کر کے وہ معقول رقم حاصل کر سکتے ہیں، مگر ان کی یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ ریکارڈنگ لوگوں کے علم میں آگئی اور نکسن کی صدارت ایسے بھو نچال کا شکار ہوئی کہ علیحدگی کے سوا ان کے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔

وائٹر گیٹ اسکینڈل کے انکشاف سے پہلے رچرڈ نکسن اتنا زیادہ پریشان تھے کہ نیم پاگل ہو گئے تھے۔ وہ وائٹ ہاؤس میں روتے رہتے۔ خودکشی کا ارادہ کر لیا تھا۔ اگر چہ سخت نگرانی کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

آخری ایام THE FINAL DAYS نامی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ:

AS THE END NEARED, NIXON ASKED SECRETARY OF STATE HENRY KIS- SINGER TO KNEEL AND PRAY WITH

"YOU ARE NOT A VERY ORTHODOX JEW AND I AM NOT AN ORTHODOX QUACKER, BUT WE NEED TO PRAY."

Daily American (Rone) 27.3.1976 جب صدارت کا خاتمہ قریب آگیا، نکسن نے سابق سیکرٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ خدا کے آگے جھکیں اور دونوں مل کر دعا کریں۔ نہ تم زیادہ پکے یہودی ہو نہ میں زیادہ پکا عیسائی۔ اس وقت ہم کو ضرورت ہے کہ ہم دعا کریں“، نکسن نے کہا اور عیسائی طریقِ عبادت کے مطابق جھک کر دعا کرنے لگے۔ روس میں اشتراکی انقلاب اکتوبر ۱۹۱۷ء میں اس طرح اس انقلاب پر اب پورے ساٹھ سال گزر چکے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ۲۵ کروڑ دو سوڈ شہریوں میں ۲۱ کروڑ ایسے لوگ ہیں جو اکتوبر انقلاب کے بعد پیدا ہوئے ہیں، دوسرے لفظوں میں ایسے سماج میں جس میں حکومتِ روس کے دعوے کے مطابق، قدیم مذہبی نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اشتراکی نظریہ کے مطابق مذہب، سرمایہ داری نظام کا ضمیمہ تھا۔ سرمایہ داری نظام کے خاتمہ کے بعد قدرتی طور پر اس کے ضمیمہ کو بھی ختم ہو جانا چاہئے ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرمایہ داری نظام کو روس سے ختم کر دیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ مذہب اب بھی وہاں زندہ ہے۔ حتیٰ کہ روس کی جدید نسل میں دوبارہ مذہب پروان چڑھ رہا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک دل چسپ واقعہ وہ ہے جو ۱۹۷۷ء میں ہندوستان میں پیش آیا۔ جہاز (ILYUSHIN JET) ہندوستان میں مغربی بنگال کی فضا پر اتر رہا تھا کہ اس کا انجن خراب ہو گیا ہوا باز کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں اور جہاز زمین پر گر پڑا۔ ہوا باز سمیت سارے مسافر جل کر ختم ہو گئے ۔

چونکہ یہ حادثہ ہندوستان کی سرزمین پر ہوا تھا اس لئے بین الاقوامی قانون کے مطابق ہندوستان کو اس کی تفتیش کرنی تھی۔ ہوائی جہازوں کا قاعدہ ہے کہ اس میں آواز ریکارڈ کرنے والی ایک خود کار مشین رکھی جاتی ہے جس کو عام طور پر (BLACK BOX) کہتے ہیں۔

بلیک باکس ہواباز اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کو ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔ اس کو ہوائی جہاز کی دم میں رکھا جاتا ہے تا کہ ہوائی جہاز کے جلنے کے بعد بھی وہ

ہندوستانی افسروں نے ہوائی جہاز کے ملبے سے اس بلیک باکس کو حاصل کیا۔ جب اس جنس کا ٹیپ بجایا گیا تا کہ اس سے تفتیش میں مدد لی جاسکے تو معلوم ہوا کہ بالکل آخری لمحات میں روسی ہواباز کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ یہ تھا:

Printed page