Al-Risala · September 1977

زبور : ۲۷

Al-Risala, September 1977, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کے روس میں اس کیفیت کے ابھرنے کے شواہد کثرت سے مل رہے ہیں۔ سولژننتسین اور سخاروف کی روحانی کش مکش کی ایک علامت ہیں۔ کو اگر نوبل انعام حاصل کرنے کی اجازت ملی ہوتی تو وہ اس رقم کو روسی عوام کے لئے ایک گرجا تعمیر کرنے میں صرف سولژننتسین کے ایک قریبی دوست ویلٹری پیلی نے پوچھا گیا کہ روسی سلطنت کا سب سے کمزور پہلو کیا ہے۔ اس نے بلا ترد د جواب دیا: THE HUNGER OF ORDINARY PEOPLE FOR MORAL AND SPIRITUAL TRUTH عام انسان کی یہ بھوک کہ وہ اخلاقی اور روحانی سچائی کو پاسکے“ جو شخص گھمنڈ اور عصبیت جیسی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا ہو وہ کبھی سچائی کو دیکھ نہیں سکتا، خواہ وہ کتنی ہی کھلی شکل میں اس کے سامنے رکھ دی گئی ہو۔ سچائی کو پانے کے لئے سچائی کا طالب ہونا ضروری ہے۔

ناموافق حالات زندہ قوموں کیلئے ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں آرنلڈ ٹائن بی (۱۹۸۹-۱۸۸۹) چند خوش قسمت مصنفین میں سے ہے جس نے اپنی زندگی ہی میں عالمی مقام حاصل کر لیا۔ اس انگریز مورخ کو سب سے زیادہ شہرت اپنی ۱۲ جلدوں پر مشتمل "اسٹڈی آف ہسٹری" کی وجہ سے ملی جس میں اس نے ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ وہ قوتیں جو تاریخ بناتی ہیں، وہ بنیادی طور پر داخلی قوتیں ہیں نہ کہ خارجی اسباب۔ اس نے قدیم زمانہ سے لے کر اب تک تمام بڑی تہذیبوں کا مطالعہ کر کے دکھایا ہے کہ ان تہذیبوں کو جن قوموں نے پیدا کیا، وہ تخلیقی صلاحیت رکھنے والی اقلیتیں تھیں جنھوں نے وقت کے چیلنج کا کامیابی کے ساتھ جواب دیا۔ اقلیتوں کے ساتھ ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ وہ اکثریت کی طرف سے مسلسل دباؤ میں رہتی یہ دباؤ عملی زندگی میں بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی وجہ سے کسی قوم کی وہ اندرونی تخلیقی صلاحیت ابھرتی ہے جو اُس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پیش آنے والے چیلنج کے مقابلہ میں قائدانہ رول ادا کر سکے۔ اس کے برعکس جن قوموں کی لغت میں "دباؤ" کے معنی صرف "مظلومیت" کے ہوتے ہیں، ان کے حصہ میں فریاد و احتجاج کے سوا کچھ نہیں آتا۔ وہ اپنی محرومیوں کا رجسٹر بنانے میں مشغول رہتی ہیں یا جلسوں اور تقرییوں کا کمال دکھا کر سمجھتی ہیں کہ انھوں نے اپنی سربلندی کا راز پا لیا ہے ۔ یہاں تک کہ جب وقت کا قافلہ آگے بڑھ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے اس دنیا میں قبرستان کے سوا اور کچھ نہیں۔

Printed page