CS CamScanner
Al-Risala, September 1977, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث ہے کہ۔ المؤمن مِرآةُ المُؤمن یعنی مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہوتا آج کی صحبت میں آپ کے لیے میں یہی بننا چاہتا ہوں۔ اس موقع پر بہترین خدمت جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ کہ میں نہایت سادہ اور مختصر طور پر چند ایسی باتیں آپ کے سامنے رکھوں جس میں آپ خود کو بالکل برہنہ اللہ میری اور آپ کی مدد فرمائے۔
ایمان کی علامت کیا ہے۔ اس کی اگر مختصر ترین فہرست بنائی جائے تو شاید وہ دو چیزوں پر مشتمل ہوگی۔ قرآن اور نماز۔ یہ دو الفاظ دراصل پورے دین کا عنوان ہیں۔ ایک نظری حیثیت سے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور دوسرا عملی پہلو سے۔ اس نے دراصل خدا کو پا لیا ہے جس نے قرآن اور نماز کو پا لیا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اگر آپ کی زندگی میں شامل ہوگئی ہوں تو سمجھیے کہ ایمان اور اسلام آپ کی زندگی میں شامل ہوگیا ہے اور اگر آپ کی زندگی ان سے خالی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ابھی تک ایمان اور اسلام سے محروم ہیں۔ ان دونوں چیزوں کی بنیادی اہمیت خود قرآن سے ثابت ہے، جیسا کہ فرمایا:
وَالَّذِينَ يُمْسِكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَوةَ جو لوگ خدا کی کتاب کو مضبوط پکڑ لیتے ہیں اور نماز قائم اِنَّا لَا نُضِيعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِينَ (اعراف - ۱۷۰) کرتے ہیں، ہم ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔ گویا صلَح صرف وہ ہے جو قرآن اور نماز کو اپنی زندگی میں شامل کر چکا ہو۔ اسے ہی لوگوں کی کوششیں خدا کی نظر میں ' اصلاح ، کی حیثیت رکھتی ہیں اور انھیں کے عمل کو اللہ تعالیٰ دنیا میں برو مند کرے گا اور آخرت میں اپنے انعام سے سرفراز فرمائے گا۔ دوسرے مقام پر یہی چیز حکم کے انداز میں کہی گئی ہے۔ اُمُتُلْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ کتاب الہی کا جو حصہ تمہارے پاس بھیجا گیا ہے اس الصَّلَوة (عنکبوت - (۴۵) کو پڑھو اور نماز قائم کرو۔
مگر قرآن اور نماز کو پانے کا مطلب کسی لفظی مجموعے یا کسی ظاہری ڈھانچے کو پالینا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایک عظیم حقیقت کو پانا ہے جو آدمی کے وجود پر چھا جاتی ہے، جو اس کی پوری زندگی بن جاتی ہے۔ یہ ہے کہ ہر چیز جو آپ کی زندگی میں نظر آرہی ہو اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو آپ نے حقیقی طور پر اختیار کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ آپ کی زندگی کا حقیقی جز نہ ہو بلکہ کچھ دوسرے اسباب کے تحت وہ آپ کے اثاث البیت میں شامل ہوگئی ہو۔ یہ عین ممکن ہے کہ آدمی الفاظ کے ذریعے اپنے بارے میں دعویٰ کرنے کرے اس کا من القول، اس کے خلاف گواہی دے رہا ہو (حمد۔ ۴۰) اس کی زبان و قلم سے نہایت اعلی درجے کی باتیں ٹپک رہی ہوں مگر اس کا یہ تمام عمل يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَّ لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمُ (آل عمران - ۱۶۷) کا مصداق ہو جیسا کی زندگی کا مرکز و محور اس کے معاشی مفادات ، اس کی بیوی بچے اور اس کی دنیوی تمنائیں ہوں مگر گفتگو اور تعلقات
میں وہ اپنے آپ کو اس طرح ظاہر کرے گویا اس نے خدا اور اس کے دین کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنا
مثال کے طور پر ایک شخص امت کی حالت زار پر تقریریں اور بیانات شائع کر رہا ہو مگر اس کی زندگی میں ایک رات بھی ایسی نہ گزری ہو جب کہ امت کے درد میں اس کی نیند اُڑ جائے اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اس کی زبان سے نکلے کہ "خدایا تو انھیں ہدایت دے ، خدایا مجھے طاقت دے کہ میں ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا سکوں ۔ " تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امت کے درد سے زیادہ اس کو خود اپنا پروپیگنڈا ہے۔ کیونکہ اس عنوان کو اختیار کیے بغیر وہ پریس اور اسٹیج سے اپنے آپ کو نمایاں نہیں کر سکتا۔ منبر کے گرد بات چیت میں اگر کوئی شخص مظلوم انسانوں کی حمایت پر گرما گرم حصّے لے رہا ہو مگر اس کی روز مرہ کی زندگی مظلوم انسانوں کی ہمدردی سے خالی ہو تو یہ ہمدردی کا نہیں بلکہ ریا کاری کا ثبوت ہے۔ رسمی قسم کے بحث و مباحثہ میں اگر کوئی شخص اصول اور ضابطے کا بہت حوالہ دِیا ہو، مگر اس گفتگو کے باہر جو زندگی وہ گزارتا ہے وہ بے اصولی کا نمونہ ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ حقیقتاً اس کے اندر موجود نہیں ہے اس کو وہ الفاظ کے ذریعہ اپنے اندر ثابت کرنا چاہتا ہے وہ اپنے کو ایک ایسی حیثیت میں ظاہر کر رہا ہے جو کہ دراصل اس کی حیثیت نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کو دیکھیں کہ دوسروں پر تنقید کرنے میں اس کی زبان بہت تیز ہے مگر خود اس کو عمل کے جو مواقع حاصل ہیں ان میں وہ خود بھی اسی قسم کی کمزوریاں ظاہر کر رہا ہے جس میں دوسرے لوگ اپنے دائرے کے اندر مبتلا ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو فی الواقع اصلاحِ حال سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کو صرف تنقید عزیز ہے اور اسی کو وہ انجام دے رہا ہے۔
کئی سال پہلے کی بات ہے، میں ایک مرتبہ ٹراڈ کور کے علاقے میں ٹرین سے سفر کر رہا تھا۔ کی سیٹ پر کچھ عیسائی بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے کہا۔ "مسلمانوں کے اندر مذہبی اسپرٹ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کا ہر بچہ جب تعلیم شروع کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کو قرآن پڑھایا جاتا ہے، یہ نینک یہ بات بڑی حد تک صحیح ہے۔ بلکہ مسلمانوں میں تو یہ روایت رہی ہے کہ وہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سب سے پہلے کتاب الہی کی تلاوت کرتے ہیں۔ اگر چہ موجودہ زمانے کی سطحیات پسندی نے اس ذوق کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور خاص طور پر پڑھے لکھے لوگوں کی صبح تلاوتِ قرآن کے بجائے تلاوتِ اخبار میں بسر ہونے لگی ہے۔ اب بھی ہمارے یہاں ایسے مردوں اور عورتوں کی کافی تعداد ہے جو کسی نہ کسی حد تک اس روایت کو باقی رکھے مجھے اس سے انکار نہیں کہ اس قسم کی تلاوت بھی ایک دینی کام ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے وہ محض الفاظِ قرآنی کی تلاوت نہیں بلکہ "تلاوت حق" ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:۔
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتَابَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ۤ جو لوگ کتاب الہی کے حامل ہیں وہ اس کو اس طرح پڑھتے اُولٰئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ (بقرہ - ۱۲۱) ہیں جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے، یہی اس پر حقیقی مومن ہیں۔