Al-Risala · February 1977

نماز

Al-Risala, February 1977, pp. 455–459

By Maulana Wahiduddin Khan

اب نماز کو لیجیے۔ نماز دین کا بنیادی ستون ہے۔ اس کے بغیر کسی کا ایمان ہی معتبر نہیں۔ وہ آدمی کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ (حدیث) مگر یہ فائدہ صرف اس نماز سے حاصل ہوتا ہے جو صلوٰۃ خشوع ہو، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ کامیاب ہوئے ایمان لانے والے، وہ جو اپنی نماز میں خشوع خَاشِعُونَ ہ (مومنون - ۲) اختیار کرتے ہیں۔

میں یہاں چند چیزوں کا ذکر کروں گا جس سے معلوم ہو گا کہ صلوٰۃ خشوع کیا ہوتی ہے اور اس کی علامات

پہلی بات یہ کہ اس سے مراد وہ نماز ہے جو اس طرح پڑھی جائے کہ آدمی اس کا نگراں اور محافظ بن گیا ہو: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ (بقرہ - ۲۳۸) اپنی نمازوں کی حفاظت کرو۔

یہاں حفاظت سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی روزانہ زندگی کو ہر اس چیز سے بچائے جو اس کی نماز میں خلل ڈالنے والی ہو، جس سے وہ اپنی نمازوں کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کر سکے۔ اس میں وقت کا اہتمام خاص طور پر داخل محافظت صلوٰۃ، اپنے ابھرے ہوئے مفہوم کے لحاظ سے، محافظت اوقات کا دوسرا نام ہے۔ نماز اہل ایمان کے لیے "کتاب موقوت" ہے جس کو متعین لمحات میں "رکوع کرنے والوں" کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہے۔ آدمی کو ہر اس عادت یا ہر اس مشغولیت سے اپنی زندگی کو بچانا اور پاک کرنا ہے جو اس کو وقت پر نماز باجماعت کی ادائیگی سے محروم کر دے یا تکبیر تحریمہ کے وقت وہ مسجد کی صف میں کھڑا ہوا نظر نہ آئے۔ ٹھیک وقت پر نماز کے لیے حاضر ہونا محض فوجی ڈسپلن کی قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ وہ دراصل بندے کی طرف سے اس بات کا مظاہرہ ہے کہ وہ آقا کی پکار پر فوراً دوڑ پڑنے کے لیے تیار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب خدا کے گھر سے "آؤ نماز کی طرف" کی آوازیں بلند ہوتی ہیں تو خدا کا بندہ ہر دوسری مشغولیت سے اپنے آپ کو فارغ کر کے خدا کی پکار کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ یہ انتہائی آمادگی اور انتہائی تعلق کا ثبوت ہے۔ وقت آتے ہی نماز کے لیے دوڑ پڑنا اس بات کا اظہار ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی میں اولین مقام صرف خدا کو دے رکھا ہے۔ مگر جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ گویا اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو بھی وہ اپنی عبادت میں شریک کیے ہوئے ہے۔ وہ یا تو بے حسی کا شکار ہے یا کسی دوسری مشغولیت کو اس نے اپنی زندگی میں وہ مقام دے رکھا ہے جو دراصل خدا کا ہونا چاہیے۔

مسجدوں کی صف بندی دراصل خدا کے دربار میں کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ جو اس اہم ترین وقت پر خدا کے گھر میں نظر نہ آئے یا دیر سے پہنچے وہ گویا اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو خدا کی پکار سے زیادہ اپنے نفس کی پکار عزیز ہے۔ عین اس وقت بھی وہ اپنے آپ کو دوسرے مشاغل میں مصروف رکھتا ہے جب خدا کے بندے خدا کے حضور کھڑے ہو رہے ہوتے ہیں۔ ایسے آدمی کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خدا کی یاد سے غافل ہے۔

ایک امام کا واقعہ ہے۔ ان کی مسجد کے نمازی عموماً دیر کے لیے آتے تھے۔ ایک روز نماز شروع ہوئی تو حسب دستور پیچھے چند آدمی موجود تھے، اور جب امام نے سلام پھیرا تو پوری صف کھڑی ہوئی نظر آئی۔ یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا۔ " کاش اللہ تعالیٰ مجھے متقیوں کا امام بنائے۔ ایسے لوگوں کی امامت نے تو مجھے بیمار بنا دیا جن کا حال یہ ہے کہ جب نماز شروع ہو چکی ہے یا اس کا ایک حصہ گزر جاتا ہے تو وہ بھاگم بھاگ آتے ہیں اور دائیں بائیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نہجایہ وہ نماز نہیں ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے۔ یہ کس کے ساتھ خدا کی عبادت کے لیے اٹھنا ہے جس کو ذکر قلیل کہا گیا ہے یا وہ صلوٰۃ سہو ہے جس پر قرآن میں سخت وعید آئی ہے۔ خاص طور پر صبح کی نماز جو صلوٰۃ مشہور ہے، بنی اسرائیل - 1) ، اس میں جو شخص وقت پر نہیں پہنچتا یا اس سے غیر حاضر رہتا ہے وہ تو اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈال رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کا لباس اس سے اتار لیا جائے اور شیطان کے مقابلے میں اس کے پاس کوئی پناہ باقی نہ رہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ مِنْ صَلَّی صَلٰوۃَ الصُّبْحِ فَھُوَمِِیْ ذِمَّتِہِ اللَّہِ فَلَا جس نے صبح کی نماز ادا کرلی وہ اللہ کے ذمہ میں آگیا۔ يَطْلُبَنَّکُمُ اللَّہُ مِنْ ذِمَّتِہِ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ہو کہ اللہ تم سے اپنے ذمہ کے متعلق کسی چیز کے بارے میں پوچھے۔ ذِمَّتِہِ بِشَيْءٍ يُدْرِکْهُ ثُمَّ يَکُبَّهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فِيْ کیونکہ اللہ جس سے اپنے ذمہ کے متعلق کسی چیز کے بارے میں سوال نَارِ جَهَنَّمَ - (مسلم) کرے گا وہ اس کو پکڑ لے گا اور اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا فجر کی نماز حدیث کے الفاظ میں "اول نہار" کی نماز ہے، وہ دوسری نمازوں کا مقدمہ ہے، ہر روز جب صبح کی سپیدی سورج کے آنے کی خبر دیتی ہے تو دو طرح کے مواقع انسان کے لیے کھلتے ہیں، ایک دنیا کا کام، دوسرا آخرت کا کام۔ عین اس وقت موذن بلند مقام پر کھڑے ہو کر آواز دیتا ہے۔

حَيَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف۔ یہ پکار انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ دن کی سرگرمیوں کو شروع کرنے سے پہلے خدا کے گھر میں آئے اور فجر کی نماز ادا کر کے اپنے اس ارادے کا اظہار کرے کہ وہ آنے والے لمحات کو آخرت کی کامیابی حاصل کرنے میں لگائے گا، وہ آنے والے دن کو خدا کی عبادت میں بسر کرے گا۔ عین اس وقت ایک اور پکارنے والا پکارتا رہتا ہے، یہ انسان کا دشمن شیطان ہے جو ہر ایک ایک شخص کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ وہ اپنے دن کو صرف دنیا کا کام کرنے میں لگائے۔

پہلی پکار دیواروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہے۔ ہزاروں کی آبادی میں صرف چند ایسے لوگ مسجد کے لیے نکلتے ہیں جو بوڑھے ہو چکے ہیں یا کسی اور کام کے قابل نہیں رہے ہیں۔ مگر دوسری پکار کو سن کر شخص اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، کسان اپنے کھیتوں کی طرف چل پڑتے ہیں، تاجر کھنتیوں کے بڑے بڑے پچھلے کرا اپنی دکانوں کی طرف ۷۱ صلٰوۃ مشہور کے معنی ہیں حضوری کی نماز، روبرو کی نماز۔

روانہ ہو جاتے ہیں۔ ملازم اپنے دفتروں کی تیاری شروع کر دیتے ہیں اور بہت سے لوگ جنھیں صرف آرام عزیز ہے وہ اس سہانے وقت میں اپنے نرم بستروں سے لپٹ جانے کو موزوں ترین خیال کرتے ہیں۔

کس قدر غافل ہے انسان جو اس وقت بھی محروم رہتا ہے جب کہ پانے کے امکانات سب سے زیادہ ہوں، ایک دروازہ جو ہر روز انسان کے لیے کھلتا ہے مگر نادان انسان ہر روز اسے اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔ صلوٰۃ خشوع کی دوسری پہچان یہ ہے کہ نماز میں آدمی کا جھکنا اس کی پوری زندگی میں اسی قسم کے جھکاؤ کا عنوان بن جاتا ہے۔ اس کا رکوع اور سجدہ دراصل اس بات کا ایک عملی اقرار ہے کہ اس نے پوری زندگی خدا کے آگے ڈال دی ہے نہ کہ محض طور پر خدا کا پابند بن چکا ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے: اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (عنکبوت-۵۱) نماز برکاریوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔ ایک نبی نے جب لوگوں کو خدا کا عبادت گزار بننے کی دعوت دی تو ان کی قوم، جس نے اپنی زندگی کی باگ اپنے نفس کے حوالے کردی تھی اور کسی دوسرے نظام اطاعت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی، اس نے جواب دیا: يَاشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اے شعیب! کیا تمہاری نماز کہتی ہے کہ ہم ان چیزوں کی اَبَاؤُنَا اَوْ أَنْ نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ عبادت چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے ہو د - ۸۷ آئے ہیں اور ہمارے مالوں میں ہماری مرضی کا کوئی دخل نہ ہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ نماز محض رسمی قسم کی پوجا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وجود اور تمام اٹھانے کو خدا کے آگے ڈال دینے کا نام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ خدا کے حضور جھک کر زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ ”میرے آقا تو مجھے حکم دے‘ میں تیرے حکم کی تعمیل کروں گا۔ اس اقرار کے باوجود اگر آپ کسی کو دیکھیں کہ اس کی مسجد کی نماز اس کی پوری زندگی کی نماز نہیں بنی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی تک صلوٰۃ خشوع سے محروم ہے۔ کی تصریح کے مطابق جس نماز کے ساتھ اتباع شہوات پایا جارہا ہو، وہ ایسی نماز ہے جس سے روح صلوٰۃ ضائع ہو چکی ہے (مریم-۵۹)

بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کی نمازیں بہت اچھی نہ سہی تاہم وہ نماز تو پڑھ لیتے ہیں اور یہ بھی بہر حال فرض کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔ مگر یہ صرف شیطان کا دھوکہ ہے۔ یاد رکھیے اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے وہ ذکر قلیل نہیں، بلکہ ذکر کثیر ہے۔ ذکر قلیل کو تو منافقوں کی پہچان بتایا گیا ہے۔ (نساء - ۱۴۲) صلوٰۃ خشوع کی تیسری اور آخری پہچان یہ ہے کہ بندہ جب نماز میں مشغول ہو تو وہ اپنے آپ کو خدا سے بالکل قریب محسوس کرے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:

وَاسْجُدُ وَاقْتَرِبُ (علق ۱۹) سجدہ کر اور قریب ہو جا یہ سجدہ قرب کیا چیز ہے اس کو شاید لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جب آدمی اس عالم میں پہنچتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ایک ان دیکھی حقیقت کو کامل یقین کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ ایک بعید ترین چیز سے

انتہائی طور پر قریب ہے، کسی مخاطب کی موجودگی کے بغیر کامیاب ترین گفتگو میں مصروف ہے۔ ایک سب سے زیادہ پرکشش چہرے کے لیے اپنے اندر سب سے زیادہ محبت کے جذبات پا رہا ہے۔ ایک چیز جس کو دنیا کسی بھی واسطہ کے ذریعہ محسوس نہیں کیا جا سکتا، کسی واسطہ کے بغیر وہ اس تک پہنچ گیا ہے۔

گویا سجدہ جو نماز کی انتہائی حالت ہے وہ بیک وقت خدا سے قریب ہونے کی بھی انتہائی حالت ہے۔ کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ ہم دنیا میں رہتے ہوئے اس کی معیت اور قربت حاصل نماز کے ذریعہ آدمی جب اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کرتا ہے تو وہ روحانی طور پر خدا سے جڑ جاتا ہے، وہ یاد الہی کی ایسی حالت اپنے اوپر طاری کرتا ہے جب کہ وہ مکمل طور پر ایک حیاتی وجود بن جاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کو خدا کے اندر گم کر دیتا ہے۔ وحدت وجود کا تصور غالباً اپنی ابتدائی شکل میں محض اس کیفیت کو بتانے کے لیے تھا جو حضور الہی میں غرق ہونے کے وقت آدمی کے اوپر طاری ہوتی ہے۔ مگر بعد کو منطقی یقین کی کوشش نے اس کو ہمہ اوست کے ناقابل فہم فلسفے تک پہنچا دیا۔ اگر اس بدنام عقیدے کے متعلق میری تشریح کو صحیح مانا جائے اور اس کو محض حیاتی ارتباط کے مفہوم میں لیا جا سکے تو میں کہوں گا کہ سجدہ قربت کے وقت آدمی پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کے اظہار کے لیے شاید انسانی زبان میں یہ ایک قریب ترین تعبیر ہے۔ جب سپردگی کا لمحہ آتا ہے، جب عجز اور محدودیت کا پیکر اپنے آپ کو لامحدود کمال کے حوالے کر دیتا ہے، جب پیشانی اس طرح کھنچ اٹھتی ہے گویا وہ زمین سے چپک گئی ہے۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے گویا قطرہ نے اپنے آپ کو سمندر میں ڈال دیا ہے، گویا انسان خدا سے ملا ہوا ہے۔ یہ تلاوت حق اور صلوٰۃ خشوع کی مختصر ترین تشریح ہے جو میں نے آپ کے سامنے کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کچھ نئی باتیں نہیں ہیں، ہر وہ شخص جس نے قرآن کو پڑھا ہے وہ ان باتوں کو بخوبی جانتا ہے۔ مگر اس کے باوجود میں نے آج آپ کے سامنے ان کو اس لیے دہرایا ہے تاکہ انھیں یاد دلا کر آپ سے یہ عہد لوں کہ آپ ان کو اپنی زندگیوں میں شامل آپ میں سے ہر شخص کو کسی دوسرے سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے اس معاہدہ پر دستخط کرنا ہے کہ وہ اپنے علم کو اپنا احساس بنائے گا۔ وہ جو کچھ جانتا ہے اس کو محسوس کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر آپ سچ مچ یہ ارادہ کر لیں تو یقین مانیے کہ یہ کائنات آپ کے لیے سلام و مرحبا کی آواز سے اس طرح گونج اٹھے گی کہ آپ کے کان اس کی آواز سنیں گے، اور آپ کے لیے خدا کی جنت کے دروازے اس طرح کھول دیے جائیں گے کہ آپ جیتے جی اس کی خوشبو محسوس کریں گے۔ اور اگر آپ اس عہد کے لیے تیار نہ ہوں تو وہ سب کچھ جو اجالے میں ہے اور وہ سب کچھ جو اندھیرے میں چھپا ہوا ہے، گواہ ہے کہ خدا کے یہاں اب آپ کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ کیونکہ آپ ان باتوں کو پہلے سے جانتے ہیں، آپ نے خود اپنے اوپر حجت تمام کر دی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اپنے کو نہیں بدلتے تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے پاس وہ کونسا سہارا ہے جس کے بل پر آپ رب العالمین کے سامنے اتنی بڑی جسارت کر رہے ہیں۔ (زندگی ذی الحجہ ۱۳۸۰ھ) تقریر اجتماع جماعت اسلامی ہند، بمقام بدایوں، ۱۶، ۱۷ اپریل ۱۹۶۱ء

تیار کرتی ہے۔ جب کہ اعتبار کو خریدنے والے اب بھی انسان ہی ہیں۔ اس صورت حال نے اقتصادی عمل کے درمیان تضاد پیدا کر دیا ہے۔ یعنی انسان اور پیداوار کے درمیان فاصلہ۔ جدید صنعتی نظام ایک طرف پیداوار کو پُر غرور طور پر بڑھاتا ہے، دوسری طرف خریداروں کو مسلسل گھٹا رہا ہے۔ مشین کی ترقی یہ ہے کہ وہ کام کرنے والوں کی تعداد کو انتہائی حد تک کم کرنے۔ مگر یہ بھاری مشینیں جو پیدا وار نکالتی ہیں، ان کو پھیلنے کے لئے دوبارہ بڑھے ہوئے خریداروں کی ضرورت یہ خریدار کہاں سے آئیں جب کہ خود مشین ہی نے پورے اقتصادی عمل پر قبضہ کرکے ان کو بے روزگار کر دیا اور نتیجہ ان کی قوت خرید کو ختم کر دیا۔ یہ ہے وہ تضاد جس سے آج کا صنعتی نظام دوچار اس کی جو کامیابی ہے، وہی اس کی ناکامی بن گئی اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ بھاری مشینیں ایجاد کرکے کام کرنے والوں کی تعداد گھٹا دے۔ مگر کام کرنے والوں کی تعداد کو گھٹانا عملاً خریداروں کی تعداد کو گھٹا دینا ہے۔ اس طرح مشینی عمل کے معنی بالآخر یہ ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے کنٹکل کمالات سے جو قیمتی پیدا وار تیار کرے، خود اس کے اپنے عمل کے نتیجہ میں اس کو بازار سے اٹھانے کے لئے خریدار موجود نہ ہوں۔

Printed page