صنعتی نظام کا تضاد
Al-Risala, February 1977, pp. 459–34
By Maulana Wahiduddin Khan
ایرک گل (ERIC GILL) نے لکھا ہے:
ہمیں کارخانوں میں انسانوں کی ضرورت نہیں، مشینیں ان سے بہتر ہیں۔ ان کی ایجاد اور استعمال کا سب سے بڑا مقصد انسانی محنت کی بچت ہے، لہذا ہمیں مشینوں کو نہیں، انسانوں کو ختم کرنا ہے۔ مگر وہ انسان جسے ہم دنیا سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ وہ وہ انسان ہے جو کارخانہ میں کام کرتا ہے نہ کہ محکہ میں بسنے والا انسان۔ محنتوں رہنے والے انسان ہمارے وہ ہمارے دوست ہیں۔ کیونکہ وہ ہمارا مال آج کل سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح پیدائش میں انسانی محنت کے دخل کو ختم کیا جائے، اور دوسری طرف صارفین (CONSUMERS) کی تعداد اور ان کی قوت خرید کو کبھی بڑھایا جائے۔ یہی ہمارا بنیادی جڑ کھلی بھی ہے اور شاخ بھی یہی ہے ۔ صنعتی نظام کا وہ مسئلہ ہے جس کا کوئی حل اس کے موجودہ ڈھانچہ میں نہیں۔ قدیم زمانہ میں انسان اپنی محنت سے پیدا وار تیار کرتا تھا اور انسان ہی اسے اس طرح اقتصادی عمل کے اندر کوئی تضاد اب ٹکنالوجی کے دور میں مشین پیداوار کارل مارکس (۱۸۸۳ - ۱۸۱۸) کی کتاب سرمایہ (DAS KAPITOL) کا پہلا ایڈیشن جرمن زبان میں چھپا تو اس کے فروخت ہونے میں اتنے سال لگ گئے کہ کہا جاتا ہے کہ اس کی آمدنی کارل مارکس کے سگار کا خرچ بھی پیدا نہیں کرسکتی تھی۔ مگر اسی کارل مارکس کی کتابوں، اس کے ترجموں اور اس کی تشریحات پر آج اتنے بے شمار ادارے قائم ہیں جن سے لاکھوں لوگوں کو قیمتی روزگار مل رہا ہے۔
کام صرف وہ ہے، جو خود اپنے مثبت فکر کے زور پر وجود میں آئے۔ خارجی حالات کے خلاف ردعمل کے طور پر جو چیز ظاہر ہو، وہ کام نہیں، جذباتی ابال ہے۔ اس قسم کا جذباتی ابال دفی شور و شر تو ضرور پیدا کر سکتا ہے مگر اس سے کسی حقیقی نتیجہ کی امید کرنا ایسا ہی ہے جیسے کتے کی بھونک سے بلبل کے نغمہ کی توقع کی جائے۔ نادانی کی چھلانگ حکایت ہے کہ کسی زمانہ میں بہت بڑا سیلاب ایک بندر اور ایک مچھلی اس میں پھنس گئے۔ چھلانگ لگا کر ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک شاخ پر جا بیٹھا جہاں وہ سیلاب کی طوفانی موجوں سے محفوظ تھا۔ اب اس نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ مچھلی امڈتی ہوئی لہروں کے خلاف جد و جہد میں مصروف اس نے سمجھا کہ مچھلی طوفان میں پھنس گئی ہے۔ پوری ہمدردی اور نیک نیتی کے ساتھ نیچے آیا اور مچھلی کو پانی سے نکال کر خشکی پر ڈال دیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے۔
نادان دوستی کی یہ تمثیل ایڈیسن کی زندگی میں دہرہ بن چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈیسن ایک کتاب پالے ہوئے تھا جو اس کو بہت محبوب تھا۔ ایک روز ایڈیسن کا کتا اس کے مطالعہ کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ میز پر اس کے ضروری کاغذات پھیلے ہوئے تھے اور کروسین کا لیمپ جل رہا تھا۔ ایک پتنگا کہیں سے کمرے میں داخل ہو گیا اور لیمپ کے گرد منڈلانے لگا۔ کتا دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا۔ آخر اس کو گوارا نہ ہوا کہ اس کے آقا کی میز پر ایک پتنگا قابض ہو جائے۔ اس نے اس کو پکڑنے کے لئے ایک چھلانگ لگائی۔ پتنگا تو اڑ گیا، البتہ لیمپ الٹ گیا اور میز پر تیل پھیل جانے کی وجہ سے فوراً آگ لگ گئی اور کاغذات جل گئے۔ ایڈیسن نے دیکھ
” میرے محبوب کتے! تجھے نہیں معلوم کہ تو نے کیا کیا! موجودہ زمانے میں ہمارے رہنماؤں نے بھی حیرت انگیز طور پر اسی قسم کے کارنامے دکھائے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اصلاح ملت اور احیائے اسلام کا نعرہ لے کر مگر ہر ایک نے ایسی نادانی کی چھلانگیں لگائیں کہ اصل مقصد تو حاصل نہیں ہوا البتہ نئے نئے مسائل اور نئی نئی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں، جس کے نتیجہ میں مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گیا۔ نادانی کے اقدام سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے۔
پیچھے برطانوی اور امریکی استثمار کے مقاصد کا مرہونہ
رابطۂ عالم اسلامی (مکہ) نے دوسو صفحات پر مشتمل ایک عربی کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے : لماذا اسلمنا (ہم نے اسلام کیوں قبول کیا) اس کتاب میں موجودہ زمانہ کے ۴۴ نومسلموں نے خود اپنے قلم سے اپنے حالات لکھے ہیں۔ ان میں سے چند جاپانی ہیں۔ لوگوں نے نہایت شدت اور یقین کے ساتھ اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ جاپان میں اسلام کی اشاعت کے غیر معمولی علی محمد موری جاپانی لکھتے ہیں کہ جاپان جغرافی طور پر روس اور امریکہ کے درمیان پایا جاتا ہے اس لئے دونوں بلاک جاپانی قوم کے اندر اپنے اثرات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر دونوں میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں۔ کیوں کہ جاپان کے روحانی سوال کا جواب ان میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ جنگ عظیم کے بعد جاپانی نوجوانوں میں نئے آدرش کی تلاش کا جذبہ شدت سے ابھرا۔ اس موقع سے عیسائی مبلغین نے فائدہ اٹھایا اور جاپان کی نئی نسل میں عیسائیت پھیلنے لگی۔ مگر بہت جلد وہ اس سے متوحش کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ عیسائی مشنریوں کے عمر میتا جاپانی جنھوں نے جاپانی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا ہے، لکھتے ہیں کہ جاپان میں اسلام کے لئے ایک عظیم مستقبل ہے، جاپانی قوم سچے دین کی پیاسی ہے وہ کسی مذہبی تعصب میں بھی گرفتار نہیں۔ اس لئے اگر اس کے سامنے دین فطرت کو پیش کیا جائے تو وہ بہت تیزی سے اس کی طرف بڑھے گی ۔ انھوں نے دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے افراد کو جاپان بھیجیں جو اس قوم کو خدا کا سچا پیغام پہنچا سکیں ۔ محمد سلیمان تاکی نوشی جاپانی لکھتے ہیں کہ جاپان کے موجودہ حالات اسلام کی اشاعت کے لئے انتہائی اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان مادی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر روحانی مایوسی سے دوچار ہے۔ ترقی ہاں اس کی روح کو تسکین نہ دے سکیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جاپان میں مناسب انداز سے اسلام کی اشاعت کی جائے تو صرف دو تین نسلوں میں سارے ملک میں اسلام پھیل اور اگر ایسا ہو جائے تو یہ شرق اقطعی میں اسلام کی عظیم نصرت کے ہم معنی ہوگا اور بالآخر ساری نوع انسانی تک اس کے اثرات پہنچیں گے (۱۵۹)
ہر پیدا ہونے والا فطرت الہی پر پیدا ہے۔ معبود کی طلب انسان کی پیدائشی ساخت میں اس طرح شامل ہے کہ اس کو کسی طرح اس سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس فطری طلب پر موجودہ زمانہ میں مزید یہ اضافہ ہوا ہے کہ مادی تہذیب سے مایوسی سے ساری دنیا میں ایک نئی تلاش کا جذبہ اظہار دیا ہے۔ ان حالات نے آج دین حق کی اشاعت کے ایسے امکانات کھول دئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہ تھے۔
اپریل ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں کانگریس کی شکست سے پہلے جو شخص وزیر اعظم کے بعد ملک کا دوسرا سب سے طاقت ڈر آدمی سمجھا جاتا تھا ، وہ یہاں ہتھکڑی میں بندھا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
موت بھی اسی قسم کی ایک گرفتاری ہے۔ دوسری گرفتاریوں سے زیادہ سخت ہے کیونکہ وہ زمین و آسمان کے مالک کی طرف سے اس کے بندوں کی گرفتاری گرفتاری کا یہ دن ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ "بنسی لال" کی گرفتاری سے تو خوب واقف ہیں۔ مگر خود اپنی گرفتاری کی انھیں خبر یہ خدائی گرفتاری کا دن اتنا ہولناک ہے کہ اگر آدمی کو اس کا واقعی احساس ہو جائے تو وہ ہرگز گرفتاری کو اپنی گرفتاری سمجھے۔ دوسرے کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگتی ہوئی دیکھے تو اس کو ایسا محسوس ہو گویا خود اسی کو باندھا جارہا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ ہریانہ اور سابق وزیر دفاع عشری بنسی لال ۲۳ اگست ، ۱۹۷۷ء کو ہریانہ میں گرفتار کئے گئے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ہریانہ یوتھ کانگریس فنڈ کا پانچ لاکھ روپیہ خورد برد کیا ہے۔ قبرص میں ۱۹۷۳ء میں فوجی انقلاب ہوا اور نکوس سمپسن ان کی صدارت اس کے بعد دوبارہ
نکوس سمپسن کو صدارت کے عہدہ سے معزول کرکے گرفتار کر لیا گیا۔
عدالت نے ان کو ۲۰ سال قید کی سزا سنائی ۔ میں ان کو ہتھکڑی پہنا کر جیل لے جایا
مولانا وحید الدین خاں صفحات ۲۷۲ - قیمت مجلد مع پلاسٹک کور پندرہ روپے قیمت مجلد بغیر پلاسٹک کور تیرہ روپے دین کی حقیقت ، تعلیمات قرآن کی حکمتیں ، سیرت رسول کا انقلابی سبق موجودہ زمانہ میں اسلام کے مسائل ، دین کا تجدید و احیاء امت مسلمہ کی تعمیر، دعوت اسلامی کے جدید امکانات ۔ ان موضوعات کے گہرے مطالعہ کے لئے " الاسلام " پڑھیے ۔ جدید سائنٹفک اسلوب میں ، نہایت دلچسپ اور معلومات سے بھر پور۔ اداروں، طالب علموں، نیز کم آمدنی والوں کے لئے غیر معمولی رعایت تاجروں اور ایجنٹوں کے لئے خصوصی کمیشن قیمت بذریعہ منی آرڈر بھیج کر طلب فرمائیں کتاب کی روانگی کا ڈاک خرچ ادارہ کے ذمہ ہوگا۔ بیرونی ممالک کے لئے تیس روپے یا اس کے مساوی رقم الدارالعلمیہ ، جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ ، دہلی ۔ AL-DARUL ILMIYYA, JAMIAT BUILDING, QASIMJAN STREET, DELHI 6 (India)
ایک شخص مقام اضطرار پر ہو تو صرف دعا کے کلمات ہی نصرت الہیٰ کو کھینچنے کے لئے کافی ہیں، مگر جو شخص یا گروہ مقام اضطرار پر نہ ہو بلکہ اس کو جد و جہد کے مواقع بھی حاصل ہوں ، اس کے لئے دعا کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ اپنی دعا کے موافق عمل کرے ۔ (فاطر - ۱۰)
دعا کے موافق عمل کیا ہے، یہ اس دعا سے متعین ہوتا ہے جو کسی معاملہ میں نصرت کو طلب کرنے کے لئے آدمی مانگ رہا ہو۔ اگر کوئی شخص قرآن کے اسرار و حکم جاننے کی دعا کر رہا ہو تو اس کے لئے اس دعا کے موافق عمل یہ ہوگا کہ وہ کتاب الہی میں تدبر کرے ۔ کوئی شخص نصرت حق کا طالب گار ہے تو اپنی دعا کے ساتھ اس کو معاش کی راہوں میں اپنی ممکن جد و جہد صرف کرنی ہوگی۔ اغیار کے خلاف نصرت رعب مطلوب ہے تو اپنے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہوگا ۔ اعدائے اسلام پر نصرت فتح کی دعا کی جا رہی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ان کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا جائے اور اس کو اتمام حجت کی حد تک لے جانے کی کوشش کی جائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو پوری طرح آگاہ کرنے سے پہلے ہلاک نہیں کرتا۔
اللہ کا وعدہ ہے کہ اہل اسلام اگر ۳۰ ہوں تو اہل باطل کے ۲۰ پر غالب آئیں گے۔ مگر ضروری ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان یہ فرق باعتبار کمیت نہ ہو نہ کہ باعتبار نوعیت یعنی اہل باطل جس چیز میں دسو“ ہوں ، اہل حق کو اسی چیز میں بیس“ ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہو کہ ایک طرف دو سو بندوقیں ہوں اور دوسری طرف بیس تلواریں تو یہ وعدہ متحقق نہ ہوگا۔ کیونکہ اس صورت میں فرق کمیت کا نہ رہا، نوعیت کا ہو گیا۔ اسی طرح اگر اہل اسلام کے پاس روایتی علم ہو اور اہل باطل کے پاس سائنسی علم۔ اہل اسلام جوش سے مسلح ہوں اور اہل باطل نے ہوش کا خزانہ جمع کر رکھا ہو، اہل اسلام کے پاس زمانہ سے بے خبری ہو اور اہل باطل کے پاس زمانہ سے آگاہی، اہل اسلام کے پاس اختلاف کا سرمایہ ہو اور اہل باطل کے پاس اتحاد کا۔ اہل اسلام کے پاس بے ترتیبی ہو اور اہل باطل کے پاس منصوبہ بندی، اہل اسلام قدیم قوتوں کے مالک ہوں اور اہل باطل جدید قوتوں کے، تو اہل اسلام کو کبھی یہ توقع نہ رکھنی چاہئے کہ وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں نصرت خداوندی کے مستحق قرار پاسکتے ہیں۔ کیونکہ ان تمام صورتوں میں دونوں گروہوں کے درمیان نوعی فرق ہے اور جب نوعی فرق پایا جائے تو کسی بھی تعداد پر کوئی نصرت نازل جب بھی ایسا ہو کہ دونوں گروہوں کے درمیان فرق باعتبار نوعیت ہو جائے تو اہل اسلام کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کو ختم کر کے کمیت کی سطح پر لے آئیں ۔ اس کے بعدی وہ نصرت الہیٰ کے مستحق قرار پا سکتے ہیں۔ (الاسلام ، صفحہ ۹۷ - ۹۰)
ایک لیڈر جب وزیر ہو جائے یا کسی بڑے سیاسی عہدہ پر پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لئے اپنے محکمہ میں کوئی کام نہیں رہتا، اس کا کام ہمیشہ کسی ایسے مقام پر ہوتا ہے جو اس سے ہزاروں میل دور ہو۔ اس کے قدموں کے نیچے جو زمین ہے ، وہ مسائل کا انبار لئے ہوئے کراہ رہی ہوگی ، مگر یہ کراہ اس کو سنائی نہ دے گی ، البتہ دور کے کسی مقام پر مسائل انسانی پر ایک سیمینار ہورہا ہو تو اس کا افتتاح کرنے کے لئے اس کے پاس کافی وقت ہوگا۔ حکمرانوں کی اسی روش کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک عظیم ملک اتنی لمبی مدت سے ان کے زیرِ انتظام ہے ، مگر وہ ملک کو اس کے سوا کوئی اور تحفہ نہ دے سکے کہ اس کو مہنگائی، رشوت، بدعنوانی اور بے انصافی سے بھر دیں۔
یہی روایت ہمارے ملی رہنماؤں میں بھی گھس آئی ہے۔ ہمارے رہنماؤں کی پہنچ اتنی بلند نہیں جتنی ملک کے سیاسی عہدہ داروں کی ہوسکتی ہے۔ تاہم اپنے دائرہ میں وہ بھی ٹھیک اسی عمل کو دہرارہے ہیں جس کا نمونہ ان کے حکمرانوں نے ۳۰ سال سے قائم کر رکھا ہے۔ ہمارے ہر رہنما کا خیال ہے کہ اس کے قدموں کے نیچے اس کے لئے کوئی کام نہیں۔ چھوٹے رہنماؤں کی پرواز چند سو میل کے دائرہ تک محدود ہے۔ جو اس سے بڑے ہیں ان کا کام ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہوتا ہے اور جو اور بڑے ہیں وہ بین اقوامی دائرہ میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے کام پارہے ہیں ۔ غرض ہر ایک کا کام دور کے کسی علاقہ میں واقع ہے جہاں وہ چند روز کے لئے مہمان بن کر جائے اور اعزازات کے ماحول میں شان دار تقریر کر کے اس طرح لوٹے کہ دوبارہ اسی قسم کے کسی دور دراز مقام پر واقع ایک اسٹیج اس کے جلووں کا انتظار کر رہا ہو۔
خدا یہ کام کرنے کا طریقہ نہیں۔ اگر ہمارے رہنماؤں کی یہ روش باقی رہی تو ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور کو بھی ہم اسی طرح کھودیں گے جس طرح اس سے پہلے کے دور کو ہم کھو چکے ہیں۔ کام کا یہ طریقہ صرف عالی شان قیادتیں وجود میں لا سکتا ہے وہ عالی شان قوم وجود میں نہیں لا سکتا۔ اس قسم کی قیادتیں قوم کو جو آخری وراثت دے سکتی ہیں، وہ صرف شان دار مقبرے ہیں۔ کو شان دار مستقبل تک نہیں پہنچا سکتیں۔
کیا لوگوں کو یہ ڈر نہیں کہ خدا کے یہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ جو مواقع انہیں دیئے گئے تھے ان کو انھوں نے کہاں خرچ کیا۔ یا وہ اتنے نادان ہیں کہ انھیں خبر ہی نہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے انھیں کیا کرنا چاہئے۔