Scanned with CamScanner
Al-Risala, February 1977, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی طرف سے جتنے رسول آئے، سب اس لئے آئے کہ انسان کو زندگی کی حقیقت سے باخبر کردیں، یہ حقیقت کہ موجودہ دنیا کی زندگی، انسان کی ابدی زندگی کا صرف ایک امتحانی وقفہ ہے۔ کم و بیش سوسال یہاں زندگی گزار کر ہم اپنی مستقل دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں خدا کے وفادار بندوں کے لئے جنت ہے اور اس کے نافرمان بندوں کے لئے جہنم۔
آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے رسول بھی۔ اس کے بعد حضرت مسیح تک مسلسل خدا کے پیغمبر آتے رہے۔ ابو امامہ کی روایت میں آیا ہے کہ ابو ذر غفاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا ، ایک لاکھ ۲۳ ہزار۔ ان میں تین سو پندرہ رسول تھے۔ (رواہ احمد وابن راہویہ فی مسند ہا وابن حبان فی صحیحہ والحاکم فی المستدرک) خدا کے ان نمائندوں نے مختلف قوموں اور آبادیوں کو اس حقیقت سے باخبر کیا اور خدا سے ڈر کر زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ مگر انسانوں میں بہت کم ایسے لوگ نکلے جو اپنی آزادی عمل کو خدا کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہوں۔ حضرت یحییٰ کو کوئی ساتھی نہیں ملا اور وہ قتل کر دیئے گئے۔ حضرت لوط نے اپنی قوم کو چھوڑا تو ان کے ساتھ ان کی صرف دو لڑکیاں تھیں۔ حضرت نوح کے ساتھ، ان کی کشتی کا قافلہ، توریت کے بیان کے مطابق، صرف آٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ تھیں اور ان کے بھتیجے لوط۔ بعد کو اس قافلہ میں ان کے دو بیٹے اسماعیل اور اسحاق شامل ہوئے۔ حضرت مسیح کو ساری کوشش کے بعد بارہ آدمی ملے، وہ بھی آخر وقت میں آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
بیشتر انبیاء کا حال یہی رہا ہے۔ کوئی تنہا رہ گیا کسی کو چند ساتھ دینے والے ملے۔ ان چند میں بھی کئی زیادہ تر ان کے اپنے اہل خاندان تھے جن سے رشتے کا تعلق نبی کا ساتھ دینے کے لئے ایک اضافی محرک بن گیا۔ قرآن کی یہ آیت اس پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے :
یَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا افسوس ہے بندوں کے حال پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انھوں نے اس کی ہنسی اڑائی۔