Al-Risala · February 1977

كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ

Al-Risala, February 1977, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی نسل میں خدا کے نزدیک سب سے اہم ہستیاں وہ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ساری تاریخ میں یہی لوگ سب سے زیادہ غیر اہم رہے ہیں۔ بادشاہوں اور سپہ سالاروں کے واقعات تاریخ نے مکمل طور پر ضبط کئے۔ مگر آدم سے مسیح تک کوئی نبی ایسا نہیں جس کو باقاعدہ طور پر مدون تاریخ میں جگہ ملی ہو۔ کہ بیشتر رسولوں کے نام تک ہم کو معلوم نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً تمام انبیائے کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کی قوم نے ان کو رد کر دیا۔ ان کے گھروں کو اجاڑا گیا، ان کو معاشرہ میں بے قیمت کرکے رکھ دیا گیا، ان کو

ایسا بنا دیا گیا کہ زیادہ اتنے غیر اہم لوگ ہیں جن کا ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

نبیوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اپنی مخاطب قوموں کی روش پر تنقید ۔ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز محبوب ہے، وہ ہے اپنی تعریف اور جو چیز سب سے زیادہ مبغوض ہے، وہ ہے اپنے خلاف تنقید ۔ انبیاء چونکہ صحیح اور غلط کو بتانے کے لئے آتے ہیں، وہ اپنے ہم قوموں سے مصالحت نہیں کرتے۔ وہ ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس لئے قوم ان کی مخالف بلکہ دشمن ہو جاتی ہے ۔ انبیاء اگر لوگوں کی دل پسند تقریریں کرتے تو کبھی ان کو اس صورت حال سے دوچار ہونا نہ پڑتا۔ اس عمومی انجام میں صرف چند نبیوں کا استثناء ہے۔ مثلاً حضرت داؤد، حضرت سلیمان ، حضرت یوسف علیہم السلام ۔ مگر ان حضرات کو جو عروج و اقتدار ملا، وہ ان کے نظریات کی عوامی مقبولیت کا نتیجہ نہ تھا۔ اسباب بالکل دوسرے تھے۔

حضرت داؤد اسرائیلی بادشاہ ساؤل کی فوج میں ایک جوان سپاہی تھے۔ ان کے زمانہ میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں میں جنگ ہوئی فلسطینی فوج میں جالوت نام کا ایک دیو ہیکل پہلوان تھا جس سے مقابلہ کرتے ہوئے تمام لوگ ڈرتے تھے۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص اس کو قتل کرے گا اس میں اپنی لڑکی کی شادی اس سے کر دوں گا۔ حضرت داؤد نے مقابلہ کیا اور اس کو مار ڈالا، اسطرح وہ اسرائیلی بادشاہ کے داماد بن گئے۔ اس کے بعد جب ایک جنگ میں بادشاہ اور اس کا دلی عہد دونوں ہلاک ہو گئے تو تخت حضرت داؤد کے حصہ میں آگیا۔ حضرت سلیمان آپ کے بیٹے تھے اور ان کو حکومت اپنے باپ سے وراثت میں ملی۔ حضرت یوسف کو تبریز شاب کا علم دیا گیا اس سے مصر کا مشرک بادشاہ متاثر ہو گیا، اور اپنے اقتدار اعلیٰ کے تحت حکومتی انتظامات آپ کے سپرد کر دیے۔ تاہم بادشاہ اور عام مصری باشندہ بدستور اپنے مشرکانہ دین پر قائم رہے۔

اس صورت حال کا نقصان صرف یہی نہیں ہوا کہ ہر دور کی بیشتر آبادی خدا کی نعمتِ ہدایت سے محروم رہی، اس سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ کوئی پیغمبر خدا کی طرف سے جو کتاب اور پیغامات لے کر آتا تھا ، اس کے بعد اس کو محفوظ رکھنے کا سامان نہ ہو سکتا کیونکہ پیغمبر کے بعد اس کے متبعین ہی اس کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ مگر وہ یا تو حاصل نہیں ہوئے یا اتنے کم تھے کہ سماج کے علی الرغم کلام الہیٰ کی حفاظت نہ کر سکتے تھے۔

خدا جس کا علم ازل سے ابد تک پھیلا ہوا ہے، جو آنے والے مستقبل کو بھی اسی طرح دیکھ رہا ہے جس طرح گزرے ہوئے ماضی کو، ہمارے انسانیت کا یا انجام معلوم تھا اس لئے اس نے پہلے ہی یہ مقدر کر دیا تھا کہ پیغمبرانہ دور کے آخری مرحلہ میں وہ اپنا ایک خاص نمائندہ بھیجے گا۔ اس پیغمبر کو دعوت دین کے ساتھ اظہار دین کی نسبت بھی حاصل ہوگی اس کو یہ نصرت خاص دی جائے گی کہ وہ ہر حال میں اپنے مدعوئین پر غلبہ حاصل کرنے اور راہِ حق کے آگے جھکنے پر مجبور کرے (لن يقبضه حتى يقيم به الملة العوجاء) خدا کی فوج اس کا ساتھ دے کر اس کے مخالفوں کو زیر کرے گی، تا کہ خدا کا دین ہمیشہ کے لئے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے۔ اور خدا کی کتاب کی حفاظت کا مستقل انتظام ہو سکے۔

کے الفاظ میں" جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے، اسی طرح زمین خداوند کے جلال کے عرفان سے معمور ہو (حبقوق ۴ : ۱۲) اللہ تعالیٰ نے اپنے اس منصوبہ کو، بائبل کی شہادت کے مطابق، ہزاروں برس پہلے سے مختلف انبیاء کے ذریعہ مظاہر کرنا شروع کر دیا تھا، چنانچہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ نبی عرب کے صحرائی جغرافیہ سے اٹھے گا۔ وہ بنی اسرائیل کے بقیہ گھرانے یعنی ان کے بھائیوں (یعنی اسماعیل) کی اولاد سے ہوگا۔ وہ حضرت مسیح کے بعد آئے گا۔ اس کے ساتھ خدا کے خریدے ہوئے کہلائیں گے۔ جو قومیں ان سے ٹکرائیں گی پاش پاش ہو جائیں گی۔ ازلی پہاڑ (ایران و روم جھک اس کی سلطنت خشکی سے لے کر بحری ممالک تک پھیلی ہوئی ہوگی۔ موجودہ بائبل اگرچہ ترجمہ اور الحاقات کے نتیجہ میں اصل بائبل سے بہت کچھ مختلف ہو چکی ہے۔ تاہم آج بھی کثیر تعداد میں اس کے اندر ایسے بیانات موجود ہیں جو ایک غیر جانب دار آدمی کے لئے آنے والے آخری نبی کے سوا کسی اور ذات پر صادق نہیں آتے۔ خاص طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا تو خاص مشن یہی تھا کہ وہ دنیا کو خصوصاً یہود کو آنے والے نبی سے آخری طور پر آگاہ کردیں ۔ آپ نے جس نئے عہد نامہ کی بشارت دی وہ حقیقت اسلام تھا جو یہود کی معزولی کے بعد بنی اسماعیل کے ذریعہ باندھایا ۔ انجیل نئے عہد نامہ کی بشارت ہے نہ کہ خود نیا عہد نامہ ۔

حضرت مسیح علیہ السلام ، بنی آخر الزماں سے چھ سو سال قبل تشریف لائے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶۱ میں ارشاد ہوا ہے کہ حضرت مسیح نے فلسطین کے یہودیوں سے کہا کہ اللہ نے مجھے ایک آنے والے نبی سے پہلے اس کا مبشر بنا کر بھیجا ہے جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا (الصف - ۶)۔

احمد اور محمد دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کے معنی ہیں " تعریف کیا ہوا ہے ۔ انجیل برناباس میں صاف صاف لفظ " محمد آیا ہے۔ تاہم چونکہ مسیحی حضرات انجیل برناباس کو جعلی انجیل کہتے ہیں، اس لئے ہم اس کا حوالہ مناسب نہیں نیز ہمیں اس میں شبہ ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی پیشین گوئی میں لفظ احمد یا محمد کیا ہوگا۔ زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ آپ نے احمد یا محمد کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال فرمایا۔

محمد بن اسحاق (م ۱۵۲ھ) کی ایک روایت جو ابن ہشام نے نقل کی ہے، اس کے مطابق یہ لفظ غالبا "منحمنا " ابن اسحاق سیرت کے موضوع پر سب سے زیادہ اہم ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی روایت ہے کہ مجھے بتانے والوں نے بتایا کہ یحنس (یوحنا) کی انجیل میں آنے والے رسول کی جو پیشین گوئی ہے، اس میں اس کا نام منحمنا بتایا گیا ہے (تہذیب سيرة ابن ہشام جلداول، صفحہ ۵۰) اغلبية روایت انھیں اپنے زمانہ کے فلسطینی عیسائیوں کی معرفت پہنچی جو اس وقت اسلام کے زیر اقتدار آ چکا تھا۔ منخمنا سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں " تعریف کیا ہوا "۔ ماضی کے اثر سے اس وقت تک فلسطین کے باشندوں کی زبان سریانی تھی۔ اغلب ہے کہ حضرت مسیح اپنی مادری زبان میں بولا ہو اصل لفظ (منحمنا) انجیل کی روایات میں چلا آرہا تھا جو بعد کے ترجموں میں باقی نہ رہ سکا۔

یہاں ہم بائبل (قدیم اور جدید عہد ناموں) سے کچھ اقتباسات بغیر کسی کمی یا اضافہ کے نقل کرتے ہیں ۔

Printed page