Al-Risala · February 1977

نبوت محمدی کا ظہور

Al-Risala, February 1977, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک طرف افریقہ اور دوسری طرف ایشیا اور یورپ کے وسط میں عرب کا جزیرہ نما قدیم آباد دنیا کا جغرافی قلب معلوم ہوتا ہے۔ مگر قدیم زمانہ کے سیاسی حوصلہ آزماؤں میں کوئی نہیں ملتا جس نے اس علاقہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی ہو۔ تمام فوجی مہمیں عرب کے سرحدی علاقوں ۔ عراق، شام، فلسطین، لبنان اور یمن پر آکر ٹھہر گئیں۔ اس سے آگے نجد و حجاز کے علاقہ کو اپنی قلمرو میں شامل کرنے کی ضرورت انھوں نے نہیں سمجھی۔ کیوں کہ تین طرف سے سمندروں سے گھرا ہونے کے باوجود یہاں ان کے لئے خشک پہاڑ اور اڑتی ہوئی ریت کے سوا اور کچھ موجود نہ تھا۔

اسی بے آب و گیاہ" وادی کی مرکزی بستی مکہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا ہوئے۔ آپ کے والد عبداللہ بن عبد المطلب آپ کی پیدائش سے چند ماہ پہلے انتقال کرگئے۔ والدہ کا انتقال بھی اس وقت ہو گیا جب کہ آپ کی عمر ابھی صرف چھ سال تھی۔ اب آپ کے سرپرست آپ کے دادا عبد المطلب بن ہاشم تھے تاہم دو سال بعد وہ بھی اس دنیا سے چلے گئے۔ آخر عمر میں آپ کی سرپرستی آپ کے چچا ابو طالب بن عبد المطلب کے حصہ مگر ہجرت کے تین سال پہلے، آپ کی زندگی کے مشکل ترین مرحلہ میں، ان کے لئے بھی موت کا پیغام آگیا۔ اگر چہ فطرت سے آپ نے بڑی شان دار شخصیت پائی تھی۔ بچپن میں آپ کو دیکھنے والے کہا اٹھتے : ان لہذا الغلام لشانا (اس لڑکے کا مستقبل عظیم ہے) جب بڑے ہوئے تو آپ کے شخصی رعب و وقار کا حال یہ تھا کہ حضرت علی کے الفاظ میں: من رآه بديهة هابه ومن خالطه احبہ (جو آپ کو پہلی بار دیکھتا مرعوب ہو جاتا، جو ساتھ بیٹھتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا) مگر چالیس سال کی عمر میں جب آپ نے دعوت نبوت کا آغاز کیا تو لوگوں کو آپ کا دعویٰ اتنا حقیر معلوم ہوا کہ انھوں نے کہا: هذا ابن ابی كبشة يكلم من السماء۔ اس کا مطلب تھا: دیکھو یہ فلاں دیہاتی کا لڑکا، وہ سمجھتا ہے کہ آسمان سے اس کو وحی آتی ہے۔

آپ کی دعوتی جد و جہد کی کل مدت صرف ۲۳ سال ہے۔ مگر اس انتہائی مختصر مدت میں عرب کے قبائل میں آپ نے ایسا انقلاب برپا کر دیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس انقلاب نے سو سال سے بھی کم عرصہ میں دنیا کی دو بڑی شہنشاہیتوں، ساسانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کو زیر کر لیا اور ایک طرف عراق و ایران سے لے کر بخار ا تک، دوسری طرف شام و فلسطین سے لے کر مصر اور پورے شمالی افریقہ تک کو فتح پھر یہ سیلاب مغربی سمت بڑھا اور ۱۱۱۷ء میں جبر الٹر سے گزر کر اسپین اور پرتگال میں داخل ہو گیا۔ میں قافلہ اسلام کی پیش قدمی ۳۲۱۷ء میں شاہ فرانس چارلس مارٹل نے تور کے مقام پر روک دی۔ تاہم دو صدیوں تک یورپ کی صلیبی جنگوں اور اس کے بعد تاتاریوں کے بے پناہ حملوں کے باوجود پندرھویں صدی تک اس کو کوئی

حقیقی نقصان نہیں پہنچا، جب کہ انہوں نے اپنے اندرونی اختلاف کی وجہ سے اسپین کو کھودیا۔ اس کے بعد اسلام کی اندرونی طاقت نے ترکوں اور مغلوں کو کھڑا کیا۔ ترکوں نے ۵۳ ۱۴ء میں قسطنطنیہ کو فتح کیا اور مشرقی یورپ میں یوگوسلاویہ تک پہنچ گئے۔ دائنار کے سامنے ۱۴۸۴ء تک ایک ترک فوج موجود تھی سولھویں صدی میں مغلوں نے برصغیر ہند اور افغانستان کے علاقہ میں اسلام کا اقتدار قائم کیا۔ تیرہ صدیوں کے بعد اس تووسیع کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں مسلمان موجود ہیں۔ ایشیا اور افریقہ سے لے کر یورپ تک تقریباً چار درج ملک کا ایک مسلم علاقہ بن چکا ہے۔ مو تمر عالم اسلامی کے شائع کردہ عالمی مسلم گزٹیر (۱۹۷۵ء) کے مطابق آج دنیا بھر میں اہل اسلام کی تعداد ۱.۹ کروڑ ہے۔

یہ سب جو ہوا، اس ۲۳ سالہ عمل کا نتیجہ تھا جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں عرب میں انجام دیا گیا ۲۳ سال کی مدت میں ایک ایسا انقلاب آنا جو نہ صرف تاریخ انسانی میں دائمی طور پر مثبت ہو جائے بلکہ خود اپنی ایک مستقل تاریخ پیدا کرے، کسی انسان کے بس کی چیز نہیں۔ یہ ایک خدائی معاملہ تھا اور اسی نے اس کو انجام دیا۔ بدر کی فتح کے بعد جب مسلمان واپس ہوئے تو روحار کے مقام پر کچھ لوگ ملے جنہوں نے ان کو فتح کی مبارک باد دی ۔ سلمہ بن سلامہ نے جواب دیا: تم لوگ کس چیز کی مبارک باد دے رہے ہو۔ خدا کی قسم یہ تو گویا بندھے ہوئے اونٹ تھے جن کو ہم نے ذبح کر دیا۔ (کانا بل المعقلقة فتحوناها، تہذیب سيرة ابن هشام - ۱۵۳)

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خصوصی اہتمام سے پیشگی اس کے اسباب فراہم کردیے تھے۔ عرب کے خشک جغرافیہ میں ایک ایسی قوم جمع کر دی گئی جس میں صحرائی زندگی کے نتیجہ میں کردار کی صلا بہت غیر معمولی حد تک پائی جاتی وہ اقرار اور انکار کے درمیان کسی تیسری چیز کو نہ جانتے تھے، ان کے اندر وہ تمام فطری خصائص پوری طرح محفوظ تھے جو کسی تحریک کا مجاہد بننے کے لئے ضروری ہیں۔ پھر عرب کے جزیرہ نما کے گرد اس وقت کی دنیا کی دوسرے بڑی سلطنتیں قائم کردی گئی تھیں، بالکل فطری تھا کہ وہ اپنے پڑوس میں ایک نئی ابھرتی ہوئی طاقت کو برداشت نہ نہ کریں اور اس کے خلاف جارحیت کا آغاز کر دیں۔ اس طرح ان کی جارحیت اس اسلام کے لئے جواز فراہم کر دے کہ وہ دنیا کے اس سرے سے اس سرے تک ملکوں کو فتح کرتے چلے جائیں کیونکہ عملاً اس وقت کی تقریباً تمام دنیا انھیں دونوں جاس قوموں کا علاقہ تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی لڑائیاں دوسروں کے خلاف جارحیت نہیں تھیں، بلکہ یہ دوسروں کی جارحیت کا جواب تھا جو ہمیشہ تمام دنیا میں جائز سمجھا گیا ہے۔

اس طرح جو واقعات ظہور میں آئے، ان کی اہمیت صرف سیاسی تھی۔ اس سے زیادہ بڑی بات یہ تھی کہ اس انقلاب کے ذریعہ انسانی تاریخ کے بند دروازے کو کھول دینا مقصد تھا۔ اس کے ذریعہ وہ انقلاب آنا تھا جو دین حق کو ایک تاریخی حقیقت بنا دے، جو اس سے پہلے تاریخی واقعہ کی حیثیت حاصل کرنے سے محروم تھا۔ وہ پر نہیں کا دور لے لئے جس کے بعد قرآن کی دائمی حفاظت کا انتظام ہو جائے۔ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ آئے۔ جو اعلان حق کے لئے حق کی اشاعت کی راہ سے تمام مصنوعی رکاوٹوں کو مٹا دے۔ اس سے طبیعیاتی علوم کی وہ دریا فتیں ظاہر ہوں جو دین کی

صداقت کو عقلیاتی سطح پر مدلل ومبرہن کر دیں۔

اس انقلاب کا اس سے بھی اہم پہلو یہ ہے کہ نبی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر دکھا دیا۔ سچے لوگوں کو آپ کے ذریعہ غالب کر دیا گیا، جو آخرت میں دائمی برتری حاصل کریں گے، اور برے لوگوں کو آپ کے ذریعہ مغلوب کر دیا گیا جو آخرت میں دائمی پستی اور مغلوبیت کا شکار رہیں گے۔

تاریخ کا یہ اندوہناک منظر ہے کہ خدا کے سچے پرستار یہاں ہمیشہ دبے اور پسے ہوئے نظر آتے ہیں، اور دولت اور اقتدار کو پوجنے والوں کو یہاں تفوق حاصل رہتا ہے۔ تمام انبیاء اور صلحاء کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔ حال حقیقی صورت حال کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ بالاخر جو ہونے والا ہے، وہ تو یہ کہ خدا اپنے پرستاروں کو دائمی عزت اور برتری عطا فرمائے گا اور جولوگ اپنے نفس کی اور دنیا کی پوجا میں لگے رہے، ان کو ہمیشہ کے لئے ذلت اور رسوائی میں دھکیل دے گا۔

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں لوگوں کو موقع ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ اس لئے یہاں خدا کسی کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ تاہم پیغمبر اسلام کے ذریعہ، کم از کم ایک بار اس زمین پر وہ منظر ابتدائی شکل میں دکھا دیا گیا ہے جو کامل اور دائمی صورت میں آخرت میں سامنے آنے والا ہے۔ آپ کے ساتھی جن کا حال یہ تھا کہ ان کے گھروں کا جاڑا گیا، جن کے لئے زمین کو تنگ بنا دیا گیا، جن کی معاشیات تباہ کر دی گئیں، جن کو اس قدر خوف وہراس میں مبتلا کیا گیا کہ ان کو ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا کہ لوگ انہیں اچک لیں گے ان کو عزت اور اقتدار کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ دوسری طرف قریش اور سعود، رومی اور ایرانی، یعنی اور نفسانی اور جسمانی جو دولت اور اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ان کو ذلیل کر کے پستی کے گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ ہر نبی جو خدا کی طرف سے آتا ہے، وہ زمین پر خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ اس کی معرفت خدا اپنے ان فیصلوں سے لوگوں کو باخبر کرتا ہے جسے وہ کوہ آخرت میں براہ راست خود سنانے والا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کے ذریعہ یہ عدالت الہی ایسی خصوصی شکل میں ظاہر ہوئی کہ وہ خود تاریخ انسانی کا جزو بن گئی جس طرح بہت سے دوسرے انسانی تجربات تاریخی حقیقت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں، اسی طرح یہ واقعہ بھی ایک تاریخی حقیقت کی حیثیت سے انسانی معلومات میں ثبت ہو چکا ہے کہ خدا اپنے متقی بندوں کو سرفراز کرتا ہے اور جو لوگ سرکشی اختیار کریں، ان کو ذلت وبربادی کے دائمی عذاب میں دھکیل دیتا ہے جنت اور جہنم اگر چہ دوسری دنیا میں قائم ہونے والی حقیقتیں ہیں مگر انسان کی نصیحت کے لئے اللہ نے اس کا ایک ابتدائی منظر اسی دنیا میں لوگوں کو دکھا دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نسبت محمدی کا ظہور، خدا کی خدائی کا ظہور تھا، اسی لئے انجیل میں اس کو خدا کی بادشاہی" سے تعبیر کیا گیا ہے آپ کے لائے ہوئے انقلاب کی بلاشبہ سیاسی اور عمرانی اہمیت بھی ہے اور دوسری بہت سی مگر اس کی سب سے اہمیت یہ ہے کہ وہ انسان کو خدا کے جلال کا مشاہدہ کراتا ہے۔ وہ خدا کی عدالت کا منظر دکھارہا ہے، اس نے ان حقیقتوں کو آخرت سے پہلے انسان کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے جن کو انسان آخرت میں اپنی آنکی شکل میں دیکھے گا۔

Printed page