Al-Risala · February 1977

بائبل کی پیشین گوئیاں

Al-Risala, February 1977, pp. 41–46

By Maulana Wahiduddin Khan

اور خداوند نے ابرام سے کہا کہ تو اپنے وطن اور اپنے ناتے داروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نکل کر ایسا ملک میں جا جو میں تجھ کو دکھاؤں گا۔ اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کروں گا۔ تو باعث برکت ہوا۔ جو تجھے مبارک کہیں ان کو میں برکت دوں گا اور جو تجھ پر لعنت کرے اس پر میں لعنت کروں گا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔ سو ابرام خداوند کے کہنے کے مطابق چل پڑا اور لوط اس کے ساتھ اور ابرام پچھتر برس کا تھا جب وہ حاران سے روانہ ہوا۔ اور ابرام نے اپنی بیوی ساری اور اپنے بھتیجے لوط کو اور سب مال کو جو انھوں نے جمع کیا تھا اور ان آدمیوں کو جو ان کو حاران میں مل گئے تھے، ساتھ لیا اور رہ ملہ کنعان کو اور ملک کنعان میں آئے۔ اور ابرام اس ملک میں سے گزرتا ہوا مقام سکم میں مورہ کے بلوط تک پہنچا۔ وقت ملک میں کنعانی رہتے تھے۔ تب خداوند نے ابرام کو دکھائی دے کر کہا کہ یہی ملک میں تیری نسل کو دوں گا اور اس نے وہاں خداوند کے لئے جو اسے دکھائی دیا تھا، ایک قربان گاہ بنائی۔ (پیدائش ۱۲: ۱-۷)

جب ابرام ننانوے برس کا ہوا تب خداوند ابرام کو نظر آیا اور اس سے کہا کہ میں خدائے قادر ہوں میرے حضور میں چل اور کامل ہو۔ اور میں اپنے اور تیرے درمیان عہد باندھوں گا اور تجھے بہت زیادہ بڑھاؤں گا تب ابرام منہ نگوں ہوگیا اور خدا نے اس سے ہم کلام ہو کر فرمایا کہ دیکھ، میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ سرگا اور تیرا نام پھر ابرام نہیں ہوگا بلکہ تیرا نام ابرام ہو گا کیونکہ میں نے تجھے بہت قوموں کا باپ ٹھہرا دیا ہے اور میں تجھے بہت برومند کروں گا اور قومیں تیری نسل سے ہوں گی اور بادشاہ تیری اولاد میں سے برپا ہوں گے۔ اور میں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ان کی سب پشتوں کے لئے اپنا عہد جو ابدی عہد ہوگا، باندھوں گا، تاکہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا رہوں۔ اور میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے، ایسا دوں گا کہ وہ دائمی ملکیت ہو جائے۔ اور میں ان کا خدا ہوں گا۔ (پیدائش ۱۶: ۱-۸)

اور خداوند کے فرشتے نے آسمان سے دوبارہ ابرام کو پکارا ا اور کہا کہ خداوند فرماتا ہے، چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے۔ دریغ نہ رکھا، اس لئے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجhe پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندروں کے کناروں کی ریت کی مانند کر دوں اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی۔ اور تیری نسل کے وسیلے سے زمین کی سب قومیں برکت کیوں کہ تو نے میری بات مانی۔ (پیدائش ۲۲: ۱۵-۱۸)

اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو یہ کہہ کر بلوایا کہ تم سب جمع ہو جاؤ تاکہ میں تم کو بتاؤں کہ آخری دنوں میں تم پر کیا

کیا گزرے گا۔ اے یعقوب کے بیٹو جمع ہو کر سنو اور اپنے باپ اسرائیل کی طرف کان لگاؤ (پیدائش ۴۹ : ۱-۲) یہوداہ سے سلطنت نہیں چھوٹے گی اور نہ اس کی نسل سے حکومت کا عصا موقوف ہوگا، جب تک کہ نہ آیا ہو بھیجا جانے والا ہے۔ اور قومیں اس کی مطیع ہوں گی۔ وہ اپنا جوان گدھا انگور کے درخت سے باندھا کرے گا۔ (موسیٰ نے کہا اے اسرائیلیو) خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی سننا۔ یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاؤں۔ اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا، وہی دُ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا، نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے (استثنا ۱۸ : ۱۵ - ۱۹)

اور مرد خدا موسیٰ نے جو دعائے خیر دے کر اپنی وفات سے پہلے بنی اسرائیل کو برکت دی، وہ یہ ہے۔ خداوند سینا سے آیا۔ اور شعیر سے ان پر آشکارا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا۔ اور دس ہزار قدوسیوں میں سے آیا۔ اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لئے آتی شریعت تھی۔ (استثنا ۳۳ : ۱ - ۲)

خدا ہم پر رحم کرے اور ہم کو برکت بخشے۔ اور اپنے چہرہ کو ہم پر جلوہ گر فرمائے۔ تاکہ تیری راہ زمین پر ظاہر ہو۔ اور تیری نجات سب قوموں پر۔ اے خدا لوگ تیری تعریف کریں۔ سب لوگ تیری تعریف کریں۔ امتیں خوش ہوں اور خوشی کیوں کہ تو راستی سے لوگوں کی عدالت کرے گا۔ اور زمین کی امتوں پر حکومت کرے گا۔ اے خدا ! تیری تعریف کریں۔ سب لوگ تیری تعریف کریں۔ زمین نے اپنی پیداوار دے دی۔ خدا یعنی ہمارا خدا ہم کو برکت خدا ہم کو برکت دے گا۔ اور زمین کی انتہا تک سب لوگ اس کا ڈر مانیں گے۔

اس کے دشمن پراگندہ ہوں۔ اس سے عداوت رکھنے والے اس کے سامنے سے بھاگ جائیں۔ جیسے دھواں اڑ جاتا ہے، ویسے ہی تو ان کو اڑا دے۔ جیسے موم آگ کے سامنے پگھل جاتا ہے، ویسے ہی شریع خدا کے حضور فنا ہو جائیں۔ لیکن صادق خوشی منائیں ۔ وہ خدا کے حضور شادماں ہوں۔ بلکہ وہ خوشی سے پھولے نہ سمائیں ۔ خدا کے لئے گاؤ۔ اس کے نام کی مدح سرائی کرو۔ صحرا کے سوار کے لئے شاہراہ تیار کرو۔ (زبور ۶۸: ۴ - ۷) اے خدا ! بادشاہ کو اپنے احکام اور شہزادہ کو اپنی صداقت عطا فرما۔ وہ صداقت سے تیرے لوگوں کی اور انصاف سے تیرے غریبوں کی عدالت کرے گا۔ ان لوگوں کے لئے پہاڑوں سے سلامتی کے اور پہاڑیوں سے صداقت کے پھل پیدا ہوں گے۔ وہ ان لوگوں کے غریبوں کی عدالت کرے گا۔ وہ محتاجوں کی اولاد کو بچائے گا۔ اور ظالم کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ جب تک سورج اور چاند قائم ہیں، لوگ نسل در نسل تجھ سے ڈرتے رہیں گے۔ وہ کٹی ہوئی گھاس پر مینہ کی مانند اور زمین کو سیراب کرنے والی بارش کی طرح نازل ہوگا۔ اس کے ایام میں صادق برومند ہوں گے۔

اور جب تک چاند قائم ہے، خوب امن رہے گا۔ اس کی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریائے فرات سے زمین کی انتہا تک ہوگی۔ بیابان کے رہنے والے اس کے آگے جھکیں گے۔ اور اس کے دشمن خاک چاٹیں گے۔ ترسیس کے اور جزیروں کے بادشاہ نذریں گزرانیں گے۔ سبا اور سیبا کے بادشاہ ہدیئے لائیں گے۔ بلکہ سب بادشاہ اس کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔ کل قومیں اس کی مطیع ہوں گی۔ کیونکہ وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے اور غریب کو جس کا کوئی مددگار نہیں، چھڑائے گا۔ اور غریب اور محتاج پر ترس کھائے گا اور محتاجوں کی جان کو بچائے گا۔ وہ فدیہ دے کر ان کی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائے گا اور ان کا خون اس کی نظر میں بیش قیمت ہوگا۔ وہ جیتے رہیں گے اور سبا کا سونا اس کو دیا جائے گا۔ لوگ برابر اس کے حق میں دعا کریں گے۔ وہ دن بھر اسے دعا دیں گے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی افراط ہوگی۔ ان کا پھل لبنان کے درختوں کی طرح جھومے گا۔ اور شہر والے زمین کی گھاس کی مانند ہرے بھرے ہوں گے ۔ اس کا نام ہمیشہ قائم رہے گا۔ جب تک سورج ہے، اس کا نام رہے گا۔ اس کے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔ سب قومیں اسے خوش نصیب کہیں گی۔

مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہتے ہیں۔ وہ سدا تیری تعریف کریں گے۔ مبارک ہے وہ آدمی جس کی قوت تجھ سے جس کے دل میں صیہون کی شاہراہیں ہیں۔ وہ وادی بکا (BACA) سے گزر کر اسے چشموں کی جگہ بنا لیتے ہیں بلکہ پہلی بارش اسے برکتوں سے معمور کر دیتی ہے۔ وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک صیہون میں خدا کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ (زبور ۸۴ : ۴ - ۷)

تجھ سا زبردست کون ہے، میرا ہاتھ اس کے ساتھ رہے گا۔ میرا بازو اسے تقویت دے گا۔ دشمن اس پر جبر نہ کرنے پائے گا۔ اور شرارت کا فرزند اسے نہ ستائے گا۔ میں اس کے مخالفوں کو اس کے سامنے مغلوب اور اس سے عداوت رکھنے والوں کو ماروں گا۔ پر میری وفاداری اور شفقت اس کے ساتھ رہیں گی۔ میرے نام سے اس کا سینگ بلند ہوگا۔ میں اس کا ہاتھ سمندر تک بڑھاؤں گا۔ اور اس کے داہنے ہاتھ کو دریاؤں وہ مجھے پکار کر کہے گا تو میرا باپ، میرا خدا اور میری نجات کی چٹان ہے۔ میں اسی کو اپنا پہلوٹھا بناؤں گا۔ دنیا کا شہنشاہ۔ میں اپنی شفقت کو اس کے لئے ابد تک قائم رکھوں گا۔ اور میرا عہد اس کے ساتھ لا تبدیل رہے گا۔ میں اس کی نسل کو ہمیشہ تک قائم رکھوں گا۔ اور اس کے تخت کو جب تک آسمان ہے۔ اگر اس کے فرزند میری شریعت کو ترک کر دیں اور میرے احکام پر نہ چلیں، اگر وہ میرے آئین کو توڑیں اور میرے فرمان کو نہ مانیں تو میں ان کو چھڑی سے خطا کی اور کوڑوں سے بدکاری کی سزا دوں گا۔ لیکن میں اپنی شفقت اس پر سے ہٹا نہ لوں گا۔ اور اپنی وفاداری کو باطل ہونے نہ دوں گا۔ میں اپنے عہد کو نہ توڑ دوں گا۔ اور اپنے منہ کی بات کو نہ بدلوں گا۔ اس کی نسل ہمیشہ قائم اور اس کا تخت آفتاب کی مانند میرے حضور قائم رہے گا۔ وہ ہمیشہ چاند کی طرح اور آسمان کے سچے گواہ کی مانند قائم رہے گا۔ (زبور ۸۹ : ۸، ۲۱ - ۳۷)

اے سب اہل زمین! اس کے حضور کانپتے رہو۔ قوموں میں اعلان کرو کہ خداوند سلطنت کرتا ہے۔ جہان قائم ہے

اور اسے جنبش نہیں۔ وہ راستی سے قوموں کی عدالت کرے گا۔ آسمان خوشی منائے اور زمین شاداں ہو۔ سمندر اور اس کی معموری شور مچائیں۔ میدان اور جو کچھ اس میں ہے، باغ باغ ہوں۔ تب جنگل کے سب درخت خوشی سے گانے لگیں گے۔ خداوند کے حضور، کیونکہ وہ آرہا ہے۔ وہ زمین کی عدالت کرنے کو آرہا ہے۔ وہ صداقت سے جہان کی اور اپنی سچائی سے قوموں کی عدالت کرے گا (زبور ۹۶: ۱۱-۱۳)

خداوند سلطنت کرتا ہے۔ زمین شاداں ہو۔ بے شمار جزیرے خوشی منائیں ۔ بادل اور تاریکی اس کے ارد گرد صداقت اور عدل اس کے تخت کی بنیاد ہیں۔ آگ اس کے آگے آگے چلتی ہے۔ اور چاروں طرف اس کے مخالفوں کو بھسم کردیتی ہے۔ اس کی بجلیوں نے جہان کو روشن کر دیا۔ زمین نے دیکھا اور کانپ گئی۔ خداوند کے حضور پہاڑ موم کی طرح پگھل گئے۔ یعنی ساری زمین کے خداوند کے حضور ۔ آسمان اس کی صداقت ظاہر کرتا ہے۔ سب قوموں نے اس کا جلال کھڑی ہوا عورتوں کے سب پوجنے والے بتوں پر فخر کرتے ہیں، شرمندہ ہوں۔ - - - وہ ان کو شریروں کے ہاتھ سے چھڑاتا ہے۔ صادقوں کے لئے نور بویا گیا ہے۔

صداقت کے پھاٹکوں کو میرے لئے کھول دو۔ میں ان سے داخل ہو کر خداوند کا شکر کروں گا۔ خداوند کا پھاٹک صادق اس سے داخل ہوں گے۔ میں تیرا شکر کروں گا کیونکہ تو نے مجھے جواب دیا۔ اور خود میری نجات بنا ہے۔ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا۔ اور ہماری نظر میں عجیب ہے، یہ وہی دن ہے جسے خداوند نے مقرر کیا۔ ہم اس میں شاداں ہوں گے اور خوشی منائیں گے۔ (زبور ۱۱۸: ۱۹-۲۴) دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے۔ میں نے اپنی روح اس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔ وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اس کی آواز سنی جائے گی۔ ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور نشمانی ہوئی بتی کو نہ بجھائے گا۔ وہ راستی سے عدالت کرے گا۔ وہ ماندہ نہ ہوگا اور نہ ہمت ہارے گا، جب تک عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے۔ جزیرے اس کی شریعت کا انتظار کریں گے (یسعیاہ ۴۲: ۱-۳) گزر جاؤ، پھاٹکوں میں سے گزر جاؤ۔ لوگوں کے لئے راہ درست کرو اور شاہراہ اونچی اور بلند کرو۔ پتھر چن کر صاف کرو۔ لوگوں کے لئے جھنڈا کھڑا کرو۔ دیکھ خداوند نے انتهای زمین تک اعلان کر دیا ہے۔ دختر صیون سے کہو، دیکھ تیرا نجات دینے والا آتا ہے۔ دیکھ اس کا اجر اس کے ساتھ اور اس کا کام اس کے سامنے ہے اور وہ مقدس لوگ اللہ خدا وند کے خریدے ہوئے کہلائیں گے۔ اور تو مطلوبہ یعنی غیر متروك شہر کہلائے گی۔ (یسعیاہ ۶۲: ۱۱-۱۲)

تیرے لوگوں اور تیرے مقدس شہر کے لئے ستر ہفتے مقرر کئے گئے کہ خطا کاری اور گناہ کا خاتمہ ہو جائے۔ بد کرداری کا کفارہ دیا جائے، ابدی راست بازی قائم ہو، رویا د نبوت پر مہر ہو اور پاک ترین مقام مسوح کیا جائے۔ (دانی ایل ۹: ۲۴) صیون میں ترسنگا پھونکو۔ میرے کوہ مقدس پر سانس باندھ کر زدر سے پھونکو۔ ملک کے تمام باشندے تھر تھرائیں ۔ کیوں کہ خداوند کا نہ ز چلا آتا ہے، بلکہ آ پہنچا ہے۔ اندھیرے اور تاریکی کار روز ۔ ابر سیاه اور ظلمات کا روز ہے۔ اللہ زبر دست امت جیسی کی مانند نہ کبھی ہوئی اور نہ سالہائے دراز تک اس کے بعد ہوگی۔ پہاڑوں پر صبح صادق کی طرح

پھیل جائے گی گو یا ان کے آگے آگے بھسم کرتی جاتی ہے۔ اور ان کے پیچھے پیچھے شعلہ چلا جاتا ہے۔ ان کے آگے زمین باغ عدن کی مانند ہے اور ان کے پیچھے ویران بیابان ہے۔ ہاں ان سے کچھ نہیں بچتا۔ ان کی نمود گھوڑوں کی کلمہ ہے اور سواروں کی مانند دوڑتے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر رتھوں کے کھر کھٹڑ اٹھانے اور بھبو سے کو بھسم کرنے والے شعلہ آتش کے شور کی مانند بلند ہوتے ہیں۔ وہ جنگ کے لئے صف بستہ زبر دست قوم کی مانند ہیں۔ ان کے روبرو لوگ ستھتراتے ہیں۔ چہروں کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔ وہ پہلوانوں کی طرح دوڑتے اور جنگی مردوں کی طرح دیواروں پر چڑھہ جاتے۔ سب اپنی اپنی راہ پر چلتے ہیں اور صف نہیں توڑتے۔ وہ ایک دوسرے کو نہیں دھکیلتے۔ ہر ایک اپنی راہ پر چلا جاتا ہے۔ وہ جنگی ہتھیاروں سے گزر جاتے ہیں اور بے ترتیب نہیں ہوتے۔ وہ شہروں کو دوڑتے اور دیواروں اور گھروں پر چڑھ کر کھڑکیوں سے گھس ان کے سامنے زمین و آسمان کا نپتے اور تھہ تھراتے ہیں۔ سورج اور چاند تاریک اور ستارے بے نور ہو جاتے ہیں اور خداوند اپنے لشکر کے سامنے للکارتا ہے۔ کیونکہ اس کا لشکر بے شمار ہے اور اس کے حکم کو انجام دینے والا زبر دست کیونکہ خداوند کا روز عظیم نہایت خوفناک ہے۔ کون اس کو برداشت کر سکتا ہے۔ (یوایل ۲ : ۱ - ۱۱) رب الافواج اسرائیل کا خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم ، یقیناً مو آب، سدوم کی مانند ہو گا اور بنی عمون عمورہ کی مانند۔ وہ پر خار و نمک زار اور ابدالآباد بر باد رہیں گے۔ میرے لوگوں کا بقیہ ان کو غارت کرے گا۔ اور میری قوم کے باقی لوگ ان کے وارث ہوں گے۔ یہ سب کچھ ان کے تکبر کے سبب سے ان پر آئے گا۔ کیوں کہ انہوں نے رب الافواج کے لوگوں کی علامت کی اور ان پر زیادتی کی ۔ خدا وند ان کے لئے مہیبت ناک ہو گا اور زمین کے تمام معبودوں کو لاضر کر دے گا اور بحری ممالک کے سب باشندے اپنا اپنی جگہ میں اس کی پرستش کریں گے۔ (صفنیاہ ۲ : ۹ - ۱۱) جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے، اسی طرح زمین خداوند کے جلال کے عرفان سے معمور ہوگی (۲ : ۱۴) خدا تبان سے آیا۔ اور قدوس کوہ فاران سے ۔ اس کا جلال آسمان پر چھا گیا، اور زمین اس کی حمد سے معمور ہو گئی۔ اس کی جگہ ہاہٹ نور کی مانند تھی ۔ اس کے ہاتھ سے کرنیں نکلتی تھیں۔ اور اس میں اس کی قدرت نہاں تھی۔ اس کے آگے آگے چلتی تھی۔ اور آتشین تیر اس کے قدموں سے نکلتے تھے۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھر آئی ۔ نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں (حبقوق ۳: ۳-۴) دیکھو، میں اپنے رسول کو بھیجوں گا۔ اور وہ میرے آگے راہ درست کرے گا اور خداوند جس کے تم طالب ہو، نا گہاں اپنی ہیکل میں آمود ہو گا ۔ ہاں عہد کار سول جس کے تم آرزو مند ہو، آئے گا ، رب الافواج فرماتا ہے، پر اس کے آنے کے دن کی کس میں تاب ہے۔ اور جب اس کا ظہور ہو گا تو کون کھڑارہ سکے گا۔ کیونکہ وہ سنار کی آگ اور دھوبی کی صابون کی مانند ہے۔ اور وہ چاندی کو تانے اور پاک صاف کرنے والے کی مانند بیٹھے گا۔ اور بنی لادی کو سونے اور چاندی کی مانند پاک صاف کرے گا تا کہ وہ راستبازی سے خدا وند کے حضور ہدے گذرانیں (ملاکی ۳: ۱-۳) رب الاحکام فرماتا ہے، اس روز وہ میرے لوگ بلکہ میری خاص ملکیت ہوں گے۔ اور میں ان پر ایسا رحیم ہوں گا جیسا باپ اپنے خدمت گزار بیٹے پر ہوتا ہے۔ تب تم رجوع لاؤ گے اور صادق اور شریر میں، اور خدا کی عبادت

کرنے والے اور نہ کرنے والے میں امتیاز کرو گے۔ کیونکہ وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزاں ہوگا ۔ مغرور اور بدکردار بھو سے کی مانند ہوں گے ۔ اور وہ دن ان کو ایسا جلائے گا کہ شاخ و بن کچھ نہ چھوڑے گا۔ (ملائی ۱۴: ۱۴۔ ۱۸ ، ص : ۱)

Printed page