نیا عہد نامہ
Al-Risala, February 1977, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
یسوع نے ان سے کہا ، کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ " جس پتھر کو معماروں نے رد کیا ، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا۔ اور ہماری نظر میں عجیب ہے ! " اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو ، جو اس کے پھل لائے ، دے دی جائے گی ۔ جو اس پتھر پر گرے گا ، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔ (متی ۲۱ : ۴۲۔ اور یہ حنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لادی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انھوں نے اس سے پوچھا پھر کون کیا تو ایلیاہ ہے۔ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ پس انھوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا ، میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے، بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔ یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ انھوں نے اس سے یہ سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے، نہ ایلیاہ ، نہ وہ نبی، تو پھر یہ تبسمہ کیوں یہ وحنا نے جواب میں ان سے کہا کہ میں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں۔ تمھارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے جسے تم نہیں جانتے ۔ یعنی میرے بعد کا آنے والا جس کی جوتی کا تسمہ میں کھولنے کے لائق نہیں۔ (یوحنا ۱ : ۱۹- ۲۷) (یسوع نے کہا) اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمھیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمھارے ساتھ رہے ۔ (یوحنا ۱۴ : ۱۶) میں نے یہ باتیں تمھارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں ۔ لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہ ہی تمھیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمھیں یاد دلائے گا (۲۵۔ ۲۶) اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں (۳۰ : ۱۴) میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمھارے لئے فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمھارے پاس نہ آئے گا۔ لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمھارے پاس بھیج دوں گا۔ اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا (۱۶ : ۷، ۸) مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں۔ مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے ۔ لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا ۔ لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔ اور تمھیں آئندہ کی خبریں دے گا ۔ وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔ (۱۶ : ۱۳۔
خداوند فرماتا ہے دیکھ ، وہ دن آتے ہیں کہ میں اسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے سے ایک نیا عہد
یہ اس عہد کی مانند ہو گا جو میں نے ان کے باپ دادا سے اس دن باندھا تھا جب ملک مصر سے نکال لانے کے لئے ان کا ہاتھ پکڑا تھا۔ اس واسطے کہ وہ میرے عہد پر قائم نہیں رہے اور خداوند فرماتا ہے کہ میں نے ان کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ پھر خداوند فرماتا ہے کہ جو عہد اسرائیل کے گھرانے سے ان دنوں کے بعد باندھوں گا وہ یہ ہے کہ میں اپنے قانون ان کے ذہن میں ڈالوں گا اور ان کے دلوں پر لکھوں گا۔ اور میں ان کا خدا ہوں گا اور وہ میری امت (عبرانیوں کے نام ۸ : ۸ - ۱۰)
پھر میں نے ایک اور فرشتہ کو آسمان کے بیچ میں اڑتے ہوئے دیکھا۔ جس کے پاس زمین کے رہنے والوں کی ہر قوم اور قبیلہ اور اہل زبان اور امت کے سنانے کے لئے ابدی خوش خبری تھی، اور اس نے بڑی آواز سے کہا کہ خدا سے ڈرو اور اس کی تمجید کرو۔ کیونکہ اس کی عدالت کا وقت آپہنچا ہے اور اس کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے چشمے پیدا کئے، پھر اس کے بعد ایک اور دوسرا فرشتہ یہ کہتا ہوا آیا کہ گر پڑا۔ وہ بڑا شہر بابل گر پڑا جس نے اپنی حرام کاری کی غضب ناک مے تمام قوموں کو پلائی ہے۔ مکاشفہ ۱۴: ۷ - ۸) پھر میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید بادل ہے اور اس بادل پر آدم زاد کی مانند کوئی بیٹھا ہے جس کے سر پر سونے کا تاج اور ہاتھ میں تیز درانتی ہے۔ پھر ایک اور فرشتہ نے مقدس سے نکل کر اس بادل پر بیٹھے ہوئے سے بڑی آواز کے ساتھ پکار کر کہا کہ اپنی درانتی چلا کر کاٹ کیوں کہ کاٹنے کا وقت آگیا۔ کہ زمین کی فصل بہت پک گئی۔ پس جو بادل پر بیٹھا تھا، اس نے اپنی درانتی زمین پر ڈالی اور زمین کی فصل کٹ گئی (۱۴-۱۶) پھر میں نے آسمان کو کھلا ہوا دیکھا۔ اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اس پر ایک سوار ہے۔ سچا اور برحق کہلاتا ہے۔ اور وہ راستی کے ساتھ انصاف اور لڑائی کرتا ہے۔ اور اس کی آنکھیں آگ کے شعلے ہیں۔ اور اس کے سر پر بہت سے تاج ہیں اور اس کا نام لکھا ہوا ہے جسے اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ خون کی چھڑکی ہوئی پوشاک پہنے ہوئے ہے اور اس کا نام کلام خدا کہلاتا ہے۔ اور آسمان کی فوجیں سفید گھوڑوں پر سوار اور سفید اور صاف معین کتانی کپڑے پہنے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے ہیں۔ اور قوموں کو مارنے کے لئے اس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے۔ اور وہ لوہے کے عصا سے ان پر حکومت کرے گا اور قادر مطلق خدا کے سخت غضب کی مے کے حوض میں انگور رونردے گا۔ اور اس کی پوشاک اور ران پر یہ نام لکھا ہوا ہے : بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند (مکاشفہ ۱۹ : ۱۱ - ۱۶)
پھر میں نے ایک فرشتہ کو آسمان سے اترتے دیکھا، اس نے اثر دبا یعنی پرانے سانپ کو جو ابلیس اور شیطان ہے پکڑ کر ہزار برس کے لئے باندھا اور اسے اٹھا گڑھے میں ڈال کر بند کر دیا اور اس پر مہر کر دی تاکہ وہ ہزار برس کے پورے ہونے تک قوموں کو پھر گمراہ نہ کرے۔ اور جب ہزار برس پورے ہو چکیں گے تو شیطان قید سے چھوڑ دیا جائے گا اور ان قوموں کو جو زمین کی چاروں طرف ہوں گی یعنی جوج وماجوج کو گمراہ کرکے لڑائی کیلئے جمع کرنے کو نکلے گا ۔ اور وہ تمام زمین پر پھیل جائیں گی اور مقدسوں کی لشکر گاہ اور عزیز شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں گے اور آسمان پر سے آگ نازل ہو کر انہیں کھا جائے گی (مکاشفہ ۲۰ : ۱ - ۹)