Al-Risala · February 1977

کام میں انہماک

Al-Risala, February 1977, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

سر جادو ناتھ سرکار ( ۱۹۵۸ء ۔ ۱۸۷۰ء) کو مغل تاریخ کا کولمبس کہا جاتا ہے۔ یہ مقام انھیں کس غیر معمولی انہماک کے ذریعہ ملا، اس کا ایک ہلکا سا اندازہ ان کے خطوط سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے استاد ڈاکٹر رگھو بیر سنہ کو اپنی عمر کے آخری ۷ ۲ برسوں ۸۰ برس کی عمر کو پہنچ کر بھی ان کے کام کا شوق اتنا بڑھا ہوا تھا کہ کلکتہ میں اپنے وسیع مکان کو چھوڑ کر وہ صرف اس لئے کام کی نیت چلے گئے کہ کلکتہ کے ناموافق موسم کی وجہ سے وہ وہاں پوری طرح کام نہیں کر سکتے تھے۔ یہ منتخب ۳۲۹ خطوط جس زمانہ ( ۱۹۵۸ء ۔ ۱۹۳۲ء) سے تعلق رکھتے ہیں، اس میں ملک کے اندر اور باہر زبردست واقعات دوسری جنگ عظیم، ہندوستان کی آزادی، مہاتما گاندھی کا قتل، وغیرہ۔ مگر خطوط میں ان واقعات کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ تاہم دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کی خبر انھیں متاثر کرتی ہے ۲۸ جون ۱۹۴۵ء کو وہ اپنے ایک دوست کو لکھتے ہیں: ”اگر تم اپنے لندن کے فوٹو گرافر کو خط لکھو تو اس کو ہدایت کرو کہ وہ برٹش میوزیم کے (دفتلاں) مخطوطہ کی فوٹو اسٹیٹ کاپی لے لے۔ یورپ میں امن قائم ہو جانے کی وجہ سے برٹش میوزیم نے اپنے مخطوطات کے ذخیرہ کو شاید دوبارہ نکال لیا ہو جو جنگ کے زمانہ میں تہ خانوں میں رکھ دئے گئے تھے “۔

Printed page