Al-Risala · February 1977

ایک فتنہ

Al-Risala, February 1977, pp. 53–54

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲۲ میں ارشاد ہوا ہے: ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، سب کے ساتھ یہ قصہ ضرور پیش آیا کہ جب اس نے اللہ کا کلام پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں شبہ ڈال دیا۔ اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے خیال کو مٹا دیتا ہے۔ کے بعد اللہ اپنی آیات کو اور مضبوط کر دیتا ہے۔ اللہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے۔ اس واسطے تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ ان لوگوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور بلا شبہ یہ ظالم مخالفت میں دور جا پڑے ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ جن لوگوں کو سمجھ ملی ہے، وہ جان لیں کہ نبی جو کچھ سنا رہا ہے، وہ یقیناً رب العالمین کی طرف سے پھر وہ اس پر یقین کریں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں۔ اور حقیقت ہے کہ ایمان والوں کو اللہ ہی راہ راست دکھاتا ہے۔

اصل متن میں تمنی اور امنیہ کا لفظ ہے۔ لفظ یہاں بمعنی قرأت اور امنیہ بمعنی تلو استعمال ہوا ہے۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ایک شاعر نے

تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَتِهِ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ شروع رات میں آپ نے کتاب اللہ کی تلاوت کی اور آخر رات میں مقدر موت سے جا ملے۔ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کی ہدایت کے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ وہ اپنے نمائندے بھیجتا ہے جو لوگوں کو اس کے احکام سناتے ہیں، اسی طرح اللہ نے شیطان کو بھی پورا موقع دے رکھا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسا ہوا کہ جب پیغمبر نے اللہ کی بات کا اعلان کیا تو شیطان نے لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کی باتیں ڈال کر انھیں شبہ میں مبتلا کر دیا۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیت سنائی انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم ، تو شیطان نے یہ شبہ ڈالا : "ما تعبدون من دون اللہ میں تو مسیح اور عزیر اور ملائکہ بھی شامل ہیں ، تو کیا یہ سارے جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔

جب کوئی سچی بات پیش کی جائے تو ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرے اور سیدھی طرح اس کو مان لے۔ یہ سچے طالبان حق کا طریقہ ہے۔ مگر جن لوگوں کے دلوں میں سچی طلب نہیں ہوتی ان کا ذہن ، شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ داعی کی بات میں کوئی نہ کوئی ایسی غلطی نکالی جائے جس سے اپنے موقف کا جواز ثابت ہو جائے۔ اب ان کا ذہن الٹی طرف کام کرنے لگتا ہے وہ اصل بات میں طرح طرح کے شوشے نکالنا شروع کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں اس کی صداقت کو مشتبہ کر دیں۔ نیز خود بھی یہ جھوٹی تسکین حاصل کریں کہ ہم جس دعوت کے مخالف ہیں، وہ اسی قابل ہے کہ اس کی مخالفت کی جائے۔

اس کی بے آمیز صداقت کو یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ اسلاف کی تحقیق ہے۔ (انت تسفہ آباءنا) اس کی تاثیر یہ کہہ کر گھٹاتے ہیں کہ یہ ادبی سحر کاری ہے (بل ھو شاعر) داعی کے یقین اور حوصلہ کو یہ کہہ کر بے قیمت ٹھہراتے ہیں کہ یہ

سارا زور اس لیے ہے کہ فلاں شخص سے ان کو مدد مل گئی ہے رِاعانہ علیہ قوم آخرون) کبھی یہ کہہ کر معاملہ کو مشتبہ کرتے ہیں کہ یہ تو ایک آدمی کی بات ہے ان ھذا الا قول البشر) کبھی کہتے ہیں کہ یہ تو محض کچھ عبراہم لوگوں کا قصہ ہے (اراذلنا بادی الری)

اس قسم کی باتوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ داعی کی حیثیت کو مشتبہ اور اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا جائے۔ مگر داعی حق کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے اور نتیجہ بالکل برعکس نکلتا ہے ۔

Printed page