سبق آموز
Al-Risala, February 1977, pp. 54–55
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی رہنمائی کے کام کے لیے صرف انھیں لوگوں کو اٹھنا چاہیے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکتے ہوں۔ اندر یہ صلاحیت نہ ہو، ان کا قومی رہنما بن کر اٹھنا، قومی جرم ہے نہ کہ قومی خدمت چودھری خلیق الزماں (۱۹۴۳- ۱۸۸۸)
پاکستان تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ اور پر اتنا اعتماد تھا کہ انھوں نے کہا: "نہرو سے زیادہ سیاست میرا کو جوان جانتا ہے۔ " انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں دکھایا ہے کہ پاکستان کے اصل بانی وہی تھے۔ یہ انھیں کا تخیل تھا اور اس وقت تھا جب کہ مسٹر جناح بھی اس کے خلاف تھے۔
مگر آخر عمر میں چودھری صاحب کو یہ احساس ہو گیا کہ انھوں نے تقسیم ملک کی جو تحریک چلائی وہ غلط ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور (۲۱ اپریل ۱۹۷۲ء) میں ان کا ایک انٹرویو چھپا تھا، اس سے پھر روزنامہ جنگ میں نقل ہوا۔ اس انٹرویو کا ایک حصہ یہ تھا: "متماز مسلم لیگ لیڈر چودھری خلیق الزماں نے روزنامہ جنگ کے نمائندہ کو ایک ملاقات میں انٹرویو دیا اور برصغیر کی تقسیم کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے یہ تقسیم کرا کر ہندوستان کے مسلمانوں کو کمز در کیا اور جن عظیم مقاصد کے لیے پاکستان قائم کیا تھا وہ بھی حاصل نہ ہو سکے۔ اب ہم ایک کوزہ میں بند ہو گئے ہندوستان میں اب بھی 8 کروڑ مسلمان ہیں، جن کی ہم کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ اس صورت میں کون کہہ سکتا ہے کہ تقسیم ہند کرا کر ہم نے کوئی فائدہ حاصل کیا۔ روزنامہ جنگ ، راولپنڈی ۔ ۳۰ اپریل ۱۹۷۲ء مسفوم ( ماخوذ از الفرقان ، جنوری فروری ۱۹)
اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے تمام قائدین، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیرمذہبی چودھری خلیق الزماں ہی کی مثال ثابت ہوئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بعض لوگ مرتے ہوئے چودھری صاحب کی طرح اپنا اقرار نامہ لکھ کر قوم کو دے گئے۔ کا حال یہ رہا کہ آخر وقت تک وہ یہی کہتے رہے یا کہبہ رہے ہیں کہ انھوں نے جو راہ اختیار کی وہی صحیح ترین حالات کے بگاڑ میں ان کا اپنا کوئی حصہ نہیں۔
گنگاپور راجستھان کا ایک شہر ہے جو دہلی سے حد تک فضائی بارش پر ہے۔ بارش کے فضائی انتظام کی سے ٣٠ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ۱۹ اگست، ۱۹۹۱ وجہ سے یہ تمام مسائل پیدا ہوتے ہیں، اور اس کی مصلحت کو ہم دہلی سے پتھروں کے اس شہر کے لئے روانہ ہوئے یہ ہے کہ انسان ایک نعمت کو پا کر اس میں ملن نہ ہو جائے جہاں چہر بھی پتھر کے ہوتے ہیں۔ راستہ میں مسلسل سرسبز بلکہ اس کی تلخیوں کو بھی سمجھے۔ تاکہ خدا کی یاد اس کے ذہن شاداب مناظر آنکھوں کے لئے جنت نظارہ بن رہے میں تازہ رہے۔ آخرت میں اس کی ضرورت نہ ہوگی۔ سڑک کے دونوں طرف ساری زمین سبز چادر اور بڑھے اس لئے وہاں سرسبزی کو قائم رکھنے کے لئے غالباً فضائی جگہ جگہ ابھرے ہوئے درخت قدرتی گل بوٹے بارشوں کا انتظام ختم یا محدود کر دیا جائے گا۔ اور زیر زمین کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ کھلے آسمان کا منظر اندر اس میں آبی اہتمام کو زیادہ کامل بنا دیا جائے گا۔ شاید یہی وجہ بادلوں کی حسین ٹکڑیاں آفاقی حسن کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ہے کہ قرآن میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ جنت میں سرسبز باغا " یہ شاداب من کس قدر لذت بخش ہے"، میں نے ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (جنت تجری مگر وہ اپنے اندر تلخیاں بھی لئے ہوئے ہے۔ ہر سال من تحتہا الانہاء) گویا جنت میں آب رسانی کا نظام جب بارش ہوتی ہے تو زمین پر سرسبزی اور شادابی کا ایک تحق زمینی ہوگا نہ کہ بالائے زمینی۔ اتھاہ حسن آگ آتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ وہ کیچڑ اور سیلا گنگاپور میں تقریبا چھ ہزار مسلمان ہیں اور آٹھ بھی لاتا ہے۔ مکانات گرتے ہیں۔ فصلیں تباہ ہوتی ہیں۔ مسجدیں ہیں، یہاں ایک رات گزری تیلیوں والی مسجد بارش میں بھیگنے سے کتنی چیزیں خراب ہو جاتی ہیں۔ میں فجر کی نماز کے بعد چند احادیث کی روشنی میں آخرت مچھر مکھی، کیڑے مکوڑے وغیرہ طرح طرح کے مسائل پیدا کی طرف توجہ دلائی گئی۔ انسان اپنے دنیا کے گھر کو بہتر ہو تر میں دیا بنانے میں مصروف رہتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ زندگی سرسبز درخت قدرت کی اتنی حسین نعمت ہیں کہ سے زیادہ موت سے قریب ہے۔ کسی بھی وقت خدا کا فیصلہ آخرت میں بننے والی بے پایاں نعمتوں کی دنیا کا نام ہی جنت آگر اس کے گھر دو ندے کو منتشر کر سکتا ہے۔ اس کے بعد (باغ) رکھ دیا گیا۔ انسان کی حسین ترین تمنا ہمیشہ یہ رہی نہ وہ ہوگا نہ اس کی بنائی ہوئی دنیا جس کے بل پر وہ ہے کہ سرسبز درختوں کے جھرمٹ میں عمدہ رہائش گاہ گھمنڈ کرتا تھا۔
(مساكن طيبة في جنات عدن) اسے حاصل ہو۔ زمین پر ۹ اگست کی صبح کو ہم اگلے سفر کے لئے گنگاپور سرسبزی کا انحصار زیر زمین آبی اہتمام کے ساتھ بڑی اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔