Al-Risala · October 1977

جب برائی ک نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جائے

Al-Risala, October 1977, pp. 3–7

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ تعالیٰ نے اپنے وفادار بندوں کے لئے جن انعامات کا وعدہ کیا ہے، ان میں سے ایک خصوصی وعدہ وہ ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے :

فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ (فرقان -۷۰) اللہ ان کی برائیوں کو بدل دیتا ہے بھلائیوں سے اس خدائی انعام کا تعلق اصلاً اس انفرادی یا فت سے ہے جو ایک بندہ مومن کو خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ تا ہم اس کا ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ یہاں ہم دونوں پہلوؤں کے بارے میں مختصر عرض کریں گے۔

انسان کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ لغزشوں اور کو تاہیوں سے پاک نہیں رہ سکتا۔ حتیٰ کہ بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بجائے خود مطلوب بھی ہے کہ انسان غلطی کرے ۔ ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی کہ انسان اگر گناہ نہ کرتا تو اللہ دوسری مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرے اور پھر اللہ سے معافی مانگے۔ حکمت یہ ہے کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے، وہ عجز ہے۔ یہ احساس کہ " میں نے غلطی کی " آدمی کے اندر عجز کا جذبہ زیادہ ابھارتا ہے بہ نسبت اس احساس کے کہ ” میری زندگی گنا ہوں سے پاک ہے“۔ قلب رکھنے والے ایک آدمی سے جب کوئی لغزش ہو جاتی ہے تو وہ فوراً تڑپ اٹھتا ہے۔ یہ سوچ کر وہ بیتاب ہو جاتا ہے کہ شیطانی ترغیبات اور نفسانی محرکات کے مقابلہ میں وہ کتنا کمزور و ثابت ہوا۔ بے چارگی اور شرمندگی کے جذبہ کے تحت وہ دوبارہ خدا کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ اپنی اس عاجزانہ حیثیت کو پال دیتا ہے کہ خدا اگر میری مدد نہ کرے تو میں اپنے کو سنبھال نہیں سکتا۔ میرے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ انسان اگر غلطی نہ کرے تو اندیشہ ہے کہ اس کے اندر گھمنڈ کی نفسیات پیدا ہو جائے اور نتیجہ وہ چیز (عجز) اس سے چھن جائے جو بندہ ہونے کی حیثیت سے اس کا اصل زیور ہے :

والذی نفسی بیدہ لو لم تذنبوا لخشیت علیکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس (رزین) کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو تمھارے بارے میں مجھے اس سے بھی زیادہ سخت چیز کا اندیشہ ہے، اور وہ عجب ہے۔

اللہ کے یہاں " نیکیوں " کی گنتی اور کارناموں کے انبار کی قیمت نہیں۔ اس کو ٹوٹے ہوئے دل درکار ہیں (انا عند المنكسرة قلوبهم) وہ ایسے بندوں کو پسند کرتا ہے جن کا کلمہ یہ ہو کہ میرے رب ! میں تو کچھ بھی نہ کر سکا۔ میری زندگی تو غفلتوں میں گزر گئی۔ محض مصنوعی طور پر نہ ہو بلکہ یہی آدمی کا واقعی احساس بن جائے۔ حتی کہ اس کا احساس عجز اتنا بڑھ جائے کہ یہ کلمہ بھی اس کی زبان سے ادا نہ ہو، وہ آنسو بن کر اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے ۔

کی لغزش اُس کے اندر اِس احساسِ عبدیت کو ابھارنے کا سبب بن جائے تو وہ خدا کی نظر میں اتنا محبوب ہو جاتی ہے کہ وہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے بندے کی اس لغزش کو اس کے اعمال نامہ میں حسنات کے خانہ میں لکھ دو۔ کیونکہ وہ میرے بندے سے قریب لے آئی ہے۔ اس کے برعکس جو نیکی آدمی کے اندر فخر کا احساس پیدا کرے، اس کے متعلق اندیشہ ہے کہ وہ سیئات کے خانہ میں نہ لکھ دی جائے۔ کیونکہ وہ بندے کو خدا سے دور کرنے کا سبب بنی۔

غلطیاں ہر ایک سے سرزد ہوتی ہیں۔ مومن سے بھی غیر مومن سے بھی۔ مگر جس کو حقیقی معنوں میں عبدیت کا مقام حاصل ہوتا ہے، اس سے جب کوئی لغزش ہو جاتی ہے تو وہ فوراً چونک اٹھتا ہے۔ اس کا احساس گنہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دگنی شدت کے ساتھ اپنے رب کی طرف دوڑے۔ اس کی غلطی اس کوئی نئی اًل ترقی کی ایمانی کیفیات سے لبریز کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اللہ سے خوف و محبت کا نیا طوفان اس کے اندر امڈ آتا ہے۔ اللہ کی طرف رجوع، جو تمام عبادات کی روح ہے، اس کے اندر پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ہے کہ وہ گناہ جو اپنے بعد خشیت اور تضرع کے آنسو لے آئے، وہ نہ صرف گناہ کی سیاہی کو دھو دیتا ہے، بلکہ خود گناہ کو نیکی کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ کیونکہ نتیجہ اس نے جو چیز پیدا کی، وہ وہی تھی جو تمام نیکیوں کا اصل مقصود ہے۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جن کے اندر عبدیت کا احساس بیدار نہ ہو اور جن کا حال یہ ہو کہ گناہ کرنے کے بعد بھی شرمندگی اور گناہ گاری کا جذبہ ان کے اندر نہ ابھرے۔ ایسے لوگ غلطیوں کے اندھیرے میں گم رہتے ان کی لغزشیں ان کو عجز اور انابت کی خوراک نہیں دیتیں بلکہ ان کی قساوت کو بڑھاتی رہتی ہیں وہ ہر گناہ کے بعد اگلے گناہ کے لئے کچھ اور جری ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انھوں نے اپنی باگ شیطان کے ہاتھ میں دے دی ہے، اور وہ جدھر چاہتا ہے، انھیں کھینچے لئے پھرتا ہے :

اِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُم طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں، جب شیطان کا کوئی گروہ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ O وَاِخْوَانُهُمْ انھیں چھوتا ہے تو وہ چونک جاتے ہیں۔ پھر ان کو سوجھ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَى ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ O جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ ان کو اعراف - ۲۰۲ گمراہی میں کھینچتے رہتے ہیں، پھر کمی نہیں کرتے۔

مومن کی سیئات کو حسنات سے بدل دینے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اجتماعیات سے متعلق ہے۔ یہ اہل ایمان کے ساتھ اللہ کا وہ خاص معاملہ ہے جب کہ وہ ان کے ناموافق حالات (DISADVANTAGE) کو موافق حالات (ADVANTAGE) میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ مدد چونکہ ایک اعتبار سے دنیوی ہے، اس لئے، پہلی قسم کی مدد کے برعکس، وہ بعض اوقات غیر اہل ایمان کے حصہ میں بھی آجاتی ہے۔ تاہم دونوں گروہوں میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک خدا کے مومن بندوں کا تعلق ہے، ان کے لئے اس قسم کی مدد کی یقینی ضمانت ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب یہ مدد انھیں مخالفینِ اسلام کے مقابلہ میں درکار ہو۔ جب کہ غیر اہل ایمان کے لئے اس طرح کی کوئی ضمانت نہیں۔

اسلام کی تاریخ اس قسم کی مدد سے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔

اسلام کے ابتدائی زمانہ میں، مکہ میں مسلمانوں کے حالات اتنے سخت ہوگئے کہ ان کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ رہی کہ اپنا وطن چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔ انھوں نے حبش کا انتخاب کیا جو عرب کی سرحد پر تھا اور اس وقت وہاں ایک عیسائی بادشاہ (نجاشی) حکومت کرتا تھا جس کی نیک نفسی مشہور تھی۔ ۶۱۵ء میں پندرہ آدمی جدہ پہنچے اور کشتیوں کے سفر کر کے حبش کے ساحل پر اتر گئے۔ دوسری بار ۶۱۶ء میں ایک سو مسلمانوں کا قافلہ حبش گیا۔

گھر بار، جائداد، اعزہ اقربا کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں جانا بڑا ناپسندیدہ واقعہ تھا۔ مگر اس کے اندر اللہ تعالی نے خیر کی صورت پیدا کر دی مسلمانوں کا حبش پہنچنا، سمندر پار کے ایک ملک میں اسلام کو موضوع بحث بنانے کا سبب بن گیا۔ پیغمبر اسلام کی بعثت اور آپ کی دعوت کی خبریں حبش میں پھیلنے لگیں۔ قریش کے ایک مخالفانہ وفد کی آمد کی وجہ سے مسلمانوں کے سردار جعفر بن ابی طالب کو موقع ملا کہ وہ شاہی دربار میں اسلام کی دعوت پر مفصل تقریر کر سکیں ۔ ان واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حبش سے ۴۰ عیسائی علماء کا وفد تحقیق حال کے لئے مکہ آیا۔ اسلام قبول کر کے اپنے ملک واپس ہوا۔ (قصص ۵۵-۵۲) اس طرح وہ تحریک جو ہجرت حبش سے پہلے مکہ کی ایک قصباتی تحریک کی حیثیت رکھتی تھی، ہجرت حبش کے بعد اس نے بین الالاقوامی تحریک کی حیثیت حاصل کرلی۔ اسلام جب عرب میں ظاہر ہوا ، اس وقت عرب کے شمال اور جنوب میں تمام علاقے اس زمانہ کی دو بڑی شہنشاہیتوں، ساسانی سلطنت اور باز نطینی سلطنت کے ماتحت تھے۔ یہ سلطنتیں اس کو برداشت نہ کر سکتی تھیں کہ قلب عرب میں کوئی آزاد اقتدار قائم ہو۔ اور ترقی کرے۔ ان کے اس جذبہ کا اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا اسی کی ایک مثال ۹ھ کا وہ واقعہ ہے جب کہ بُصری کے گورنر شرحبیل بن عمرو غسانی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کو شام کے سرحدی قصبہ موتہ میں قتل کر دیا۔ یہ حارث بن عمیر از دی تھے جو آپ کی طرف سے دعوت اسلام کا مکتوب لے کر حاکم بُصری کے پاس گئے تھے۔

بین اقوامی روایت کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کے ہم معنی تھا۔ یہ خبریں بھی آنے لگیں کہ شام کی طرف سے رومی فوجیں پیش قدمی کر کے مدینہ میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔ پیغمبر اسلام نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ آپ نے تین ہزار کا ایک لشکر تیار کیا اور زید بن حارثہ کو اس کا سردار مقرر کر کے شام کی طرف روانہ کیا۔ موتہ کے مقام پر مقابلہ ہوا۔ مگر مسلمانوں کے تین ہزار فوجیوں کے مقابلہ میں رومیوں کی ایک لاکھ سے بھی زیادہ فوج اکٹھا ہو گئی۔ حضرت زید سمیت تقریباً دو ہزار مسلمان شہید ہو گئے اور بقیہ فوج اس حال میں واپس ہوئی کہ مدینہ والوں نے ان کا استقبال یافتہ (اے بھاگنے والو) کہہ کر کیا۔

پیغمبر اسلام کی پوری ۲۳ سالہ نبوی زندگی میں یہ سب سے بڑا نقصان کا واقعہ تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طور پر اس کے اندر سے ایک عظیم الشان خیر کا پہلو پیدا کر دیا۔ عرب کے مسلمان جن قبائل سے تعلق رکھتے تھے، وہ صدیوں

سے آپس میں لڑتے چلے آرہے تھے، جنگ ان کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی ۔ شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کے اظہار کا کوئی میدان نہ پا کر وہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں غزوہ موتہ کے حادثہ نے اس کا بہترین حل فراہم کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے دوبارہ ایک عظیم ترفوج ترتیب دی اور اس کا سالار اسامہ بن زید کو بنایا جن کے دل میں رومیوں سے انتقام کا شدید جذبہ بھرا ہوا تھا، کیونکہ انھوں نے آپ کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا۔

اس طرح پیغمبر اسلام کو موقع ملا کہ اپنے آخری ایام میں عربوں کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے ان کی جنگجو فطرت کے لئے عمل کا ایک میدان فراہم کردیں ۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ، اپنے ہم وطنوں کی قتل و غارتگری کے سوا اور کچھ نہ جانتے تھے، انھوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا میں اسلام کا اقتدار قائم کر دیا۔ اسی قسم کی ایک مثال تیرہویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر مغلوں اور تاتاریوں کا حملہ بھی ہے ۔ قبائل نے مشرق کی جانب سے عالم اسلام پر حملہ کیا اور اس کے بڑے حصہ کو تاراج کر ڈالا۔ ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کو مکمل شکست ہوئی ۔ یہ سب سے بڑی سیاسی آفت تھی جو مسلمانوں کی پوری تاریخ میں ان کے اوپر نازل ہوئی۔ کے اندر سے حیرت انگیز طور پر ایک نیا امکان پیدا ہو گیا ۔ فتح نے تاتاریوں کے انتقامی جذبہ کو ختم کر دیا۔ اب وہ نفسیاتی طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ مفتوح کے مذہب و عقائد پر بے لاگ رائے قائم کر سکیں مسلمانوں سے اختلاط نے ان کو ایک صحیح آسمانی مذہب سے واقف کرایا جو اب تک مذہب کے نام سے جاہلانہ اوہام پرستی کے سوا اور کچھ نہ جانتے انھیں نظر آیا کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور اس میں خود ان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی شکست پر ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ تمام تاتاری مسلمان ہو گئے ۔

اس فتح کا یہی فائدہ نہیں ہوا کہ وہ تمام مسجدیں جن کو ہلاکو نے سمر قند سے حلب تک اپنے راستہ میں تباہ کی تھیں، اس کے پوتوں نے دوبارہ ان کی تعمیر کی اور ان کی چھتوں کے نیچے خدائے واحد کے آگے سجدہ کیا، اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عرب اور ایرانی قو میں جواب تک اسلام کی علم برداری کر رہی تھیں، عیش اور حکمرانی نے انھیں کمزور کر دیا تھا ۔ اب ایک تازہ دم گروہ کی ضرورت تھی جو اسلام کی پاسبان بنے ۔ مغل اور تاتاری، جو در اصل وحشی قبائل تھے، ان صلاحیتوں سے بھر پور تھے ۔ انھوں نے اسلام قبول کر کے اسلام کا علم اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس کے بعد چھ سو برس تک اسلام کے طاقتور محافظ بنے رہے ۔

اسلام کی تاریخ میں اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جب کہ ہمارا رب ہمارے ناموافق حالات کو ہمارے لئے موافق بناتا رہا۔ یہ تاریخ آج بھی دہرائی جاسکتی ہے بشر طیکہ ہم اپنی طرف سے استحقاق کی وہ شرط پوری کرنے کے لئے تیار ہوں جس کا پورا کرنا خدا کی سنت کے مطابق ضروری ہے۔

جو اپنے کو جہنم کے دروازہ پر کھڑا ہوا پائے وہی جنت میں داخل ہوگا۔ جو چپ رہنے لگے اس کو بولنا آگیا جو بے عزتی پر راضی ہو جائے اس نے اپنی عزت کو بچا لیا ۔ جو خاموش آوازوں کو سننے لگے وہی کان والا ہے ۔ جس کو اپنی برائیاں دکھائی دینے لگیں وہی قابلِ تعریف ہے۔ جو اپنے سے آغاز کرے وہی دوسروں تک پہنچے گا ۔ جو اپنی غلطی کو مان لے وہی صحیح راستہ پر ہے جس کی نظر میں تمام چیزیں بے لذت ہو جائیں اس نے لذت کا راز پالیا ۔ جو اپنے کو بے علم جانے وہی علم والا ہے ۔ وہی آدمی باشعور ہے جس نے اپنے لاشعور کو جان لیا ۔ جو کمزوروں سے ڈرے وہی طاقت ور کی پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ جو دوسروں کو دیتا ہے اسی نے اپنے آپ پر خرچ کیا۔ جو اپنے معاملات میں نادان ہو جائے وہی ملت کے معاملات میں ہوشیار ثابت ہوگا ۔ جس کو اپنے منافق ہونے کا اندیشہ ہو وہی ایمان والا ہے ۔ جو کھونے والا ہے اسی نے در اصل پایا ۔

جس کو ہارنا آجائے اس کو کوئی ہرا نہیں سکتا ۔

Printed page