موت کے اُس پار
Al-Risala, October 1977, pp. 8–15
By Maulana Wahiduddin Khan
ستارے اور سیارے کبھی اپنے مقررہ راستے سے نہیں بھٹکتے۔ درختوں اور پہاڑوں کے سامنے کبھی یہ مسئلہ نہیں آتا کہ وہ اپنی زندگی کے نظام کو کس طرح بہتر بنائیں، کسی جانور کو کبھی یہ سوال پریشان نہیں کرتا کہ وہ اپنی غیر حاصل شدہ تمناؤں کو کیسے پورا کرے۔ انسان کے سوا جتنی چیزیں اس کائنات میں ہیں، سب ویسی ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہئے۔ معلوم دنیا میں صرف انسان ہے جو اس احساس سے دوچار ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے، اس کو حاصل نہیں کر سکتا اور نہ موجودہ دنیا میں کبھی اس کا حصول ممکن ہے ۔
ہمارے اور موجودہ دنیا کے درمیان اس تضاد کو ہمیشہ لوگوں نے محسوس کیا ہے عام انسان صرف یہ سوچتا ہے کہ وہ بیماری، حادثہ، بڑھاپا، موت سے آزاد زندگی پانا چاہتا ہے مگر وہ اسے پا نہیں سکتا۔ علماء اور مفکرین زیادہ گہرائی تک جاتے ہیں اور زیادہ دور رس قسم کے ناموافق پہلوؤں کا انکشاف کرتے ہیں جو انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان فیصلہ کن طور پر حائل ہیں ۔
انسان خلاؤں کو ناپتا ہے اور اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ مگر وہ کس قدر عاجز اور حقیر ہے، اس کو ایک مثال میں دیکھئے ۔ زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جا سکتا ہے جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو وہ پانی کی گہرائی میں پہنچ کر گم ہو جائے گا ۔ صدیاں گزر جائیں گی مگر نسل انسانی دوبارہ زمین پر چلتی پھرتی دکھائی نہ دے گی۔ دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں انسان کی قسم کی کوئی مخلوق آباد تھی ۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے ، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا ۔ کرہ ارض اپنے محور پر بدستور گھومتا رہے گا۔ کائنات کی لا محدود پہنائیوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیا ئیں اتنے بڑے حادثہ کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی ۔ کے بعد ایک اونچا سامٹی کا ڈھیر زبانِ حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی ۔
سر جیمز جینز (۱۹۷۴ء ۔ ۱۸۸۰ء) کائنات کی بے پناہ وسعت کے مقابلے میں انسان اور اس کے وطن (زمین) کی معمولی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
" ریت کے ذرہ کے ایک خورد بینی ٹکڑے پر کھڑے ہو کر ہم کائنات کی فطرت اور اس کے مقصد کو معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ زمان و مکان کے اندر ہمارے وطن (زمین) کو گھیرے ہوئے ہے۔ ہمارا پہلا تاثر کچھ دہشت ناک قسم کا ہوتا ہے۔ ہم کائنات کو دہشتناک پاتے ہیں اس کے وسیع ناقابل فہم فاصلوں کی وجہ سے، دہشت ناک اس کے لامعلوم حد تک لمبے پھیلے ہوئے وقت کی وجہ سے جس کے مقابلے میں انسانی تاریخ محض پلک جھپکانے
کے بقدر معلوم ہوتی ہے ، دہشت ناک ہماری انتہا درجہ کی تنہائی کی وجہ سے ، اور خلا میں ہمارے وطن کے مادی طور پر بالکل بے حقیقت ہونے کی وجہ سے ۔ ساری دنیا کے سمندروں میں پائے جانے والے ریت کے ذروں میں سے ایک ذرہ کا دس لاکھواں حصہ۔ مگر ان سب سے بڑھ کر کائنات کو ہم اس لئے دہشت ناک پاتے ہیں کہ وہ ہماری جیسی ایک زندگی کے معاملہ میں غیر جانب دار ہے : جذبات ، حوصلے ، کامیابیاں ، آرٹ اور مذہب ، سب اس کے منصوبے میں اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ شاید ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری جیسی زندگی کی دشمن ہے کیوں کہ خالی خلا کا بیشتر حصہ اس قدر سرد ہے کہ تمام زندگی اس کے اندر منجمد ہو جائے گی۔ خلا کے اندر مادہ کا بیشتر حصہ اس قدر گرم ہے کہ اس کے اوپر زندگی کا وجود نا ممکن ہے۔ خلا خم دار ہے اور فلکیاتی اجسام پر مسلسل مختلف قسم کی ریڈیائی بمباری ہوتی رہتی ہے، جن میں سے اکثر غالباً زندگی کے لئے مخالف یا تباہ کن ہیں۔ اس قسم کی ایک دنیا میں ہم ٹھیک پڑے ہیں ، اگر غلطی سے نہیں تو کم از کم اس چیز کے نتیجہ میں جس کو اتفاق کہا جا سکتا ہے۔ سیاراتی نظام (جس میں ہماری زمین ہے) انتہائی نادر خلائی واقعہ ہے۔ سیاراتی نظام کا اس قدر نادر ہونا بے حداہم ہے۔ کیونکہ زندگی کی جس قسم سے ہم زمین پر واقف ہیں ، وہ زمین ہی جیسے کسی سیارہ پر وجود میں آسکتی ہے۔ اس کو اپنے ظہور کے لئے موافق طبعی حالات درکار ہیں جن میں سب سے اہم وہ پتھر بچہ ہے جس میں اشیاء رقیق شکل میں باقی رہ سکیں۔
ان وجوہ سے یہ ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے کہ کائنات ابتدائی طور پر ہماری جیسی زندگی کے لئے بنائی گئی ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو یقینی طور پر ہم میکانزم کے حجم اور پیداوار کی مقدار میں زیادہ بہتر تناسب کی توقع کر سکتے تھے۔ کم از کم پہلی نظر میں زندگی انتہائی غیر اہم ضمنی پیداوار دکھائی دیتی ہے۔ ہم زندہ لوگ شارع عام سے کچھ ہٹے ہوئے ہیں۔ WE LIVING THINGS ARE SOMHOW OFF THE MAIN LINE (P.5)
سائنس نے اب تک جو معلومات دی ہیں، ان کے مطابق ہم نہایت تعجب انگیز طور پر وجود میں آئے ہیں۔ حیرانی میں صرف اضافہ ہوتا ہے جب ہم اپنی ابتدا کے مسئلہ سے آگے بڑھ کر اپنے وجود کی معنویت کو سمجھنا چاہتے ہیں یا یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ قسمت نے مستقبل میں ہماری نسل کے لئے کیا چیز ذخیرہ کر رکھی ہے (۱۰) فزکس اور فلکیات دونوں ایک ہی کہانی بتاتے ہیں۔ وہ یہ کہ کائنات کا صرف ایک ہی انجام ہو سکتا ہے۔ اور وہ ہے حرارتی موت (HEAT DEATH)۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ اس آخری انجام تک پہنچنے کا راستہ کیا کائناتی موت کے سوا اس سفر کا دوسرا کوئی انجام نہیں ہو سکتا :
END OF THE JOURNEY CANNOT BE OTHER THAN UNIVERSAL DEATH (P.11)
پھر کیا ایسا ہے کہ زندگی محض اتفاق سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک آئی ہے جو واضح طور پر زندگی کے کے لئے نہیں بنائی گئی تھی۔ اور جو تمام مظاہر کے مطابق یا تو مکمل طور پر غیر جانب دار ہے یا قطعی طور پر اس کے ایک ذرے کے محض ایک ٹکڑے پر ہمیں اس وقت تک چمٹے رہنا ہے جب کہ ہم منجمد ہو جائیں، اپنے مختصر
اسٹیج پر مختصر تر لمحات کے لئے ارادہ کر لینا چاہیے کہ ہمارے تمام حوصلے بالاخر فنا ہو جانے والے ہیں، اور یہ کہ ہماری کامیابیاں ہماری نسل کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہو جائیں گی، کائنات کے باقی رہتے ہوئے جہاں ہم موجود نہ ہوں گے (۱۲) 3-12 .THE MYSTERIOUS UNIVERSE, PP ان احساسات کا اظہار تاریخ کے ہر دور میں مختلف سوچنے والے لوگ مختلف انداز میں کرتے رہے ہیں۔ مارسین (۱۹۳۷ء - ۱۸۸۸ء) زندگی کا سائنسی مطالعہ کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے : WHENCE LIFE COME, WHERE LIFE GOES, SCIENCE ANSWERS NOT زندگی کب اس زمین پر آئی ، زندگی کہاں جارہی ہے، سائنس ہمیں اس کا کوئی جواب نہیں دیتی۔ آئن سٹائن (۱۹۵۵ء - ۱۸۷۹ء) اپنے سائنسی علم کی روشنی میں جب انسان پر غور کرتا ہے تو اس کے پاس اس اقرار کے سوا کوئی اور بات کہنے کے لئے نہیں ہوتی :
MAN IS OUT OF PLAN. HE HAS COME WHERE HE WAS NOT WANTED آدمی اس دنیا میں بے جگہ معلوم ہوتا ہے، وہ ایسے مقام پر آ گیا ہے جہاں وہ مطلوب نہ تھا۔ انسان جو کچھ پانا چاہتا ہے، وہ موجودہ دنیا کے ڈھانچہ میں ممکن نہیں۔ انسان ابدی زندگی چاہتا ہے مگر اس کو ابدی دنیا نہیں دی گئی۔ وہ اپنے لئے ایک بہتر کل (BETTER TOMORROW) پیدا کرنا چاہتا ہے، مگر آنے والا کل اس کے لئے جو چیز لے کر آرہا ہے، وہ حادثہ، بڑھاپا اور موت ہے۔ وہ ایک آزاد، برائیوں سے پاک اور خوشیوں سے بھری دنیا دیکھنا چاہتا ہے، مگر ایسی دنیا اس زمین پر کسی طرح بننے نہیں پاتی۔ ابدی اب دو ہی متبادل قیاسات ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ زندگی، برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰ء - ۱۸۷۲ء) کے الفاظ میں، نظام شمسی کے وسیع قبرستان میں اپنی تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ بالاخر ہمیشہ کے لئے دفن ہو جانے والی اس کے بعد مدفن (مادی دنیا) شاید کسی شکل میں باقی رہے مگر دفن ہونے والے (انسان) کا اس میں کہیں وجود نہ ہوگا. دوسرے یہ کہ موجودہ دنیا کے علاوہ یا اس کے بعد کوئی اور زیادہ مکمل دنیا ہے جہاں انسان اپنے خوابوں کی زندگی کو پاسکتا ہے ۔ موت اگلی وسیع تر زندگی کی طرف سفر ہے نہ کہ اس کا خاتمہ۔ گویا ہمارے اور ہماری آرزوؤں کے درمیان وہی نسبت ہے جو بچہ اور انسان کے درمیان پائی جاتی ہے۔ بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں یہ آرزو لئے ہوئے بند رہتا ہے کہ وہ ایک وسیع کائنات کے اندر ایک پورے قد کا انسان بن کر ظاہر ہو۔ پیٹ کے اندر کی محدود دنیا میں یہ محض ایک موہوم خواب معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب وہ ایک دن ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اچانک وہ پا تا ہے کہ اس کا خواب ایک انتہائی حقیقی خواب تھا جو مکمل تعبیر کی صورت میں اس کے قریب ہی موجود تھا، اگرچہ پیٹ کے اندر رہتے ہوئے وہ اس کو براہ راست نہیں جان سکتا تھا یا کم از کم نہیں جان سکتا تھا۔
پہلے قیاس کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ وہ چیز جس کو ہم انسان کہتے ہیں، وہ صرف ایک جسم کا نام ہے جسم کی موت کے بعد لازمی طور پر انسان کی موت بھی ہو جاتی ہے۔ مگر اس مفروضہ کے حق میں کوئی قطعی دلیل اب تک
قائم نہ ہو سکی۔ تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ مگر یہ دلیل اصل دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ موت کے دن جو "انسان" جسم سے الگ ہوتا ہے، وہ موت سے پہلے بھی ہمارے لیے قابل مشاہدہ نہیں ہوتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے سوچنے اور محسوس کرنے والے انسان کو دیکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم انسان کے صرف اس جسم کو دیکھتے ہیں جو نمکیات و معدنیات سے مل کر بنا ہے۔ ماورا ئے جسم انسان، جو موت کے دن خاموش ہو جاتا ہے، اس کو ہم مرنے سے پہلے بھی نہیں دیکھتے۔ پھر مرنے کے بعد اگر وہ دکھائی نہ دے تو اس سے اس کا عدم وجود کیسے ثابت ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ جدید سائنس یہ ثابت کر رہی ہے کہ مادہ جب "فنا" ہوتا ہے تو وہ فنا نہیں ہوتا۔ بلکہ زیادہ حقیقی اور ترقی یافتہ شکل اختیار کر لیتا ہے، یعنی انرجی کی شکل۔ فلاسفہ و مفکرین موت کے بعد زندگی کے عقلی و منطقی ثبوت دیتے رہے ہیں۔ بعض ثبوت ان میں بجائے خود وزنی مثلاً فرد جاف شوان (FRITHJOF SCHUAN) کا یہ قول کہ روح جو دراصل ذہن یا شعور ہے اس کے غیر فانی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس کا اختتام اپنے سے کم درجہ پر نہیں ہو سکتا، دوسرے لفظوں میں مادہ یا مادہ کا ذہنی انعکاس کی صورت میں۔ کوئی برتر چیز کم چیز کا محض فعل نہیں ہو سکتی۔ وہ اس چیز کا صرف ذریعہ نہیں ہو سکتی جس سے وہ بڑھ جاتی ہے:
تاہم، اپنی تمام تر معقولیت کے باوجود، اس قسم کے استدلالات قیاسی استدلالات تھے، اس لئے جدید ذہن کے لئے ان میں زیادہ اپیل نہ تھی۔ جدید ذہن جس استدلال کو اہمیت دیتا ہے۔ وہ اسی دلیل کو دلیل سمجھتا ہے جس کو وہ چھوئے، دیکھے اور تجربہ کرے۔ قیاسی منطق پر قائم ہونے والی دلیل اس کے نزدیک معتبر نہیں۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے حیرت انگیز طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ قیاسی دلائل کے علاوہ خالص تجرباتی نوعیت کے شواہد بھی قدیم زمانہ سے یہاں موجود تھے۔ مگر علمی اصولوں پر ان کا منظم مطالعہ نہیں کیا گیا اور بلا تحقیق یہ فرض کیا جاتا رہا کہ موت کے بعد زندگی کے حق میں کوئی تجرباتی دلیل موجود نہیں ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۳۹ میں بتایا گیا ہے : اللہ موت کے وقت جانوں کو کھینچ لیتا ہے۔ اور جن کے مرنے کا وقت نہیں آیا، ان کی نیند میں۔ پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن پر مرنا ٹھہرا دیا ہے اور باقی جانوں کو ایک میعاد تک کے لئے رہا کر دیتا ہے (زمر - ۴۲) قدیم ترین زمانہ سے خواب اس قرآنی بیان کی تصدیق کر رہے تھے۔ زمانہ میں خواب کے فلسفیانہ پہلوؤں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا ۔ موجودہ زمانہ میں جب ان کا علمی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ واقعات، حیرت انگیز طور پر، یہ ثابت کر رہے ہیں کہ روح یا شعور جسم سے الگ ایک مستقل حقیقت ہے۔
جسم سے الگ ہو کر بھی پوری طرح باقی رہتا ہے۔ خواب موت نے بعد زندگی کو تجرباتی سطح پر ثابت کر رہے ہیں۔ عام تجربہ ہے کہ خواب میں ایک شخص دور کے کسی واقعہ یا مستقبل میں پیش آنے والے حادثہ کو دیکھ لیتا ہے۔ یہ تجربات جو تقریباً ہر شخص کو پیش آتے ہیں، ثابت کرتے ہیں کہ خواب کی حالت میں آدمی کا شعور موجودہ مادی دنیا سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں زمان و مکان کی حد بندیاں نہیں پائی نیند کے وقت سونے والے آدمی پر جو بے خبری طاری ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی روح جُزوی طور پر، اس کے جسم کو چھوڑ دیتی ہے۔ وہ انسان کی محدود دنیا سے نکل کر خدا کی ابدی دنیا میں پہنچ جاتی ہے۔ راقم الحروف کی لڑکی فریدہ خانم (پیدائش ۱۹۵۲) نے ۲۴ جنوری ۱۹۷۱ء کو دہلی میں خواب دیکھا کہ اس کے بھائی ظفر الاسلام خاں (پیدائش ۱۹۴۸) نے اس کے لئے دس روپے بھیجے ہیں۔ یہ خواب انتہائی غیر معمولی تھا۔ چونکہ خواب دیکھنے والی کے بھائی ۱۹۶۶ سے قاہرہ میں تھے، اور باہر سے کوئی بھائی اپنی بہن کو دس روپے بھیجے، کسی طرح قابل قیاس نہیں ہوسکتا۔ مگر چند ہی روز بعد ظفر الاسلام کا لفافہ قاہرہ سے ملا جس کے اندر دس روپے کا ایک ہندوستانی نوٹ رکھا ہوا تھا۔ ظفر الاسلام کو یہ نوٹ قاہرہ میں اپنے بکس میں پڑا ہوا ملا۔ کیونکہ عرب دنیا میں یہ نوٹ ان کے لئے بے کار تھا، انھوں نے ہندوستان میں اپنی بہن کو خط بھیجتے ہوئے اس کو لفافہ میں ڈال دیا۔ اس کی توجیہہ اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتی کہ نیند کی حالت میں آدمی کی روح جسمانی محدودیتوں سے آزاد ہو کر ایک بلند تر آفاقی سطح حاصل کر لیتی ہے۔ اس وقت وہ اشیاء کو ایسے مقام سے دیکھنے لگتی ہے جہاں وہ اپنی جسمانی قیام گاہ کی حد بندیوں سے نہیں دیکھ سکتی۔
اسی طرح سویا ہوا آدمی خواب میں بعض اوقات کسی مرے ہوئے شخص کو دیکھتا ہے۔ یہ مرد شخص اپنے زندہ ساتھی کو خواب میں ایسی باتیں بتاتا ہے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ شخص اب بھی پورے شعور کے ساتھ موجود ہے، اور خواب دیکھنے والے کی فی الواقع اس سے’’ملاقات‘‘ ہوئی ہے۔ گویا سوئے ہوئے آدمی کے شعور کی سطح، ایک خاص حد تک، مرے ہوئے آدمیوں کے شعور کی سطح کے برابر ہو جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر، نیند کی حالت میں آدمی، محدود معنوں میں، زندگی بعد موت کا تجربہ کرتا ہے۔ نیند کی حالت، جزوی طور پر موت کی حالت کے
ڈاکٹر کیسل نے شمالی کیرولینا کے ایک امیر شخص کے واقعہ کی تحقیق کی ہے۔ اس کے چار بیٹے تھے۔ بات پر تین لڑکوں سے ناراض ہو گیا اور ایک وصیت نامہ کے ذریعہ اپنے ان تین لڑکوں کو جائداد میں حصہ دار بننے کے حق سے محروم کر دیا۔ جب وہ مر گیا تو اس کے جلد ہی بعد اس کے چوتھے لڑکے نے، جس کو از روئے وصیت جائداد مل رہی تھی، اپنے باپ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں اس کے باپ نے اپنی پسندیدہ برساتیوں میں سے ایک برساتی اوڑھ رکھی تھی۔ وہ سراپا احتجاج دکھائی دیتا تھا اور دوران گفتگو بار بار برساتی نما کوٹ کی اندرونی جیب کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ نیند کھلی تو لڑکے نے اپنے باپ کی اس کوٹ کو، جو اس کے خواب کے درمیان پہن
نکالا اور اس کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جیب میں باپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک وصیت نامہ موجود تھا۔ اس کے تحت پچھلی وصیت کو منسوخ کرتے ہوئے بقیہ تینوں لڑکوں کو بھی حق دیا گیا تھا کہ وہ ہونے حصہ کی جائیداد وصول کر سکتے ہیں۔ باپ نے موت سے تھوڑی دیر پہلے جائیداد کی وراثت کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل لیا تھا۔ اس نے دوبارہ اپنا وصیت نامہ تیار کرایا اور اس کو مکمل کر کے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈال لیا۔ پھر اس سے پہلے کہ اپنے تمام لڑکوں کو اس تبدیلی فیصلہ سے آگاہ کرے، انتقال کر گیا۔ ظاہر ہے کہ اس واقعہ کو مردہ شخص کے سوا کوئی اور نہیں جانتا تھا۔ اس لیے یقین کرنا پڑے گا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ تھا اور اس نے اپنے لڑکے کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
نیند ہی سے ملتا جلتا وہ واقعہ ہے جب کہ حادثہ وغیرہ کے موقع پر ایک شخص وقتی طور پر "مر جاتا ہے، اور پھر کچھ دیر بعد جی اٹھتا ہے۔ قدیم زمانہ سے اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں کہ ایک شخص طبی اعتبار سے مکمل طور پر گیا۔ چند منٹ بعد پھر اس کے قلب کی حرکت جاری ہوگئی۔ وہ دوبارہ "زندہ" ہو گیا۔ اس قسم کے واقعات بظاہر اس بات کا ثبوت ہیں کہ آدمی '' نے کچھ لمحات کے لئے اپنا جسم چھوڑ دیا تھا اور پھر دوبارہ اپنے جسم میں واپس آگیا۔ قدیم زمانہ میں ان واقعات کا ذکر صرف عجوبہ کے طور پر کیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ان کو علمی انداز سے جانچا گیا تو معلوم ہوا کہ ان سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ انسان، جسم سے ماورا اپنی ایک مستقل ہستی رکھتا ہے جو اس وقت بھی باقی رہتی ہے جب کہ وہ اپنے دنیوی جسم سے الگ ہو گیا ہو۔
بعض ایسے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں کہ ایک بیمار شخص آپریشن ٹیبل پر تھا۔ آپریشن کے دوران اس کے دل کی حرکت بند ہوگئی۔ طبی طور پر وہ مر گیا۔ کچھ دیر بعد اس کو ہوش آیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ "موت" کے دوران تم نے کیسا محسوس کیا۔ اس نے بتایا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنے جسم سے الگ ہو کر فضا میں تیر رہا ہوں۔ میں فضا سے اپنے جسم کو دیکھ رہا تھا جو آپریشن ٹیبل پر پڑا ہوا تھا اور اس کے گرد ڈاکٹر جھکے ہوئے تھے۔ اس نے اس دوران میں اپنے والی ڈاکٹروں کی بعض باتوں کو اس طرح بتایا جیسے کہ وہ "موت" کے وقت بھی ان کو دیکھ اور سن رہا تھا۔ محض ایک جسم کا عمل (FUNCTION) ہو تو وہ جسم سے الگ ہو کر کیسے اس طرح باقی رہ سکتی ہے۔ جسم سے الگ ہو کر بھی شعور ذات کا ختم نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان ایک مستقل ہستی ہے جو جسم سے علیحدگی کے بعد بھی پوری طرح باقی رہتا ہے۔
ڈاکٹر گریفیلڈ بتاتے ہیں کہ میں ایک بوڑھی عورت کا معائنہ کر رہا تھا۔ یہ عورت ہڈی کے کینسر کی مریض تھی۔ کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔ ہم نے مریضہ کے درد کو دور کرنے کی جتنی تدبیریں کیں سب بے سود ثابت ہوئیں۔ وہ بے ہوش سی ہو گئی۔ اس کے بعد جب ہوش میں آئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کو بہت افاقہ ہو گیا ہو۔ عورت سے اس کی اچانک تبدیلی کا سبب پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ابھی اس کی مردہ ماں اس سے ملنے آئی تھی اور اس کو بتا گئی ہے کہ بہت جلد دونوں اکٹھا ہو جائیں گی۔ اپنی ماں سے اس گفتگو کے بعد وہ بہت پر سکون ہوگئی اور تھوڑی دیر
کے بعد مرگئی ـــــــــ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مریضہ کی ماں ، اپنی موت کے بعد بھی پورے شعور کے ساتھ موجود تھی۔ ورنہ کس طرح وہ اپنی بیٹی کے پاس آتی ۔ نیز ماں کی خبر کے مطابق ٹھیک وقت پر اس کا مر جانا ثابت کرتا ہے کہ مریضہ کا تجربہ حقیقی تھا نہ کہ محض خیالی۔
قرآن کی سورہ نمبر ۵۶ میں ارشاد ہوا ہے : جب مرنے والے کی جان حلق تک آ جاتی ہے اور تم دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے۔ اس وقت تمھاری بہ نسبت ہم مرنے والے کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں ۔ مگر تم نہیں دیکھتے (واقعہ)۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی جب مرنے کے قریب ہوتا ہے تو جان کی جسم سے علیحدگی سے پہلے موت کے اس پار کی بعض کھڑکیاں اس پر کھول دی جاتی ہیں۔ دوسری دنیا کا پردہ ایک خاص حد تک ، اس سے ہٹا لیا جاتا ہے ۔ میں رہتے ہوئے وہ عالم آخرت کی بعض چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے۔
ان میں سب سے عام اور کثیر الوقوع مشاہدہ اپنے مردہ عزیزوں کو دیکھنا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب کہ آدمی نزع کے عالم میں پہنچ گیا ہو۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ نزع کے وقت آدمی اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں کو پکارنے لگتا ہے۔ اپنے مرے ہوئے اعزہ اور دوستوں کو وہ اس طرح آواز دیتا ہے جیسے وہ اس کے قریب کھڑے راقم الحروف کی بڑی بہن طاہرہ خانم کا انتقال تقریباً ۷۰ سال کی عمر میں اگست ۱۹۷۹ء میں ہوا۔ وہ اعظم گڑھ کے اسپتال میں تھیں ۔ انتقال کے وقت میں خود بہن کے پاس موجود نہ تھا۔ تاہم میری والدہ زیب النساء خاتون نے مجھے بتایا کہ آخر وقت میں مرحومہ کی زبان سے یہ کلمات سنے گئے ۔ ” ابا اتنی دیر سے کھڑے ہیں کوئی ان کو بیٹھنے کے لئے نہیں دیتا۔ ہمارے والد کا انتقال ۱۹۲۹ میں ہو چکا ہے۔ اس لئے لوگوں کو یہ سن کر تعجب ہوا۔ مرحومہ کی لڑکی نے کہا: ” ابا یہاں کہاں ہیں ! مرحومہ نے دوبارہ کہا: ” وہ کیا سامنے کھڑے ہیں“ اور پھر چند لمحہ بعد ان کا خاتمہ ہو گیا۔
ڈاکٹر الزبتھ کیو بلر روز نے بطور مہم یہ کام شروع کیا کہ وہ نزع میں گرفتار لوگوں سے ملیں اور آخر وقت میں ان کی آوازوں کا ٹیپ لیں ۔ انھوں نے ایک ہزار سے زیادہ ایسے لوگوں کا قریب سے مشاہدہ اور مطالعہ کیا جو عالم نزع میں گرفتار تھے۔ اور گویا موجودہ دنیا اور اگلی دنیا کے درمیان پہنچ چکے تھے۔ ان لوگوں نے انھیں بتایا کہ نزع کی حالت میں ان کے کئی ایسے دوست اور رشتہ داران کے پاس آئے جو پہلے مر چکے تھے۔ ”تاکہ سفر آخرت کے وقت ان کی امداد کر سکیں“ یہ لوگ اگر اس دنیا میں اپنے بدن کے کسی عضو سے محروم تھے تو نزع کی حالت میں انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا بدن ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ مثلاً جو شخص لنگڑا تھا اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کے دونوں پاؤں صحیح و سالم موجود ہیں ۔ گویا جسم میں کسی حادثہ سے کمی واقع ہو جائے تو اس کی وجہ سے اصل انسانی ہستی میں کوئی کمی
اس قسم کے خواب اور واقعات اگر چہ ہمیشہ سے پیش آرہے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ میں پہلی بار ان کا منظم مطالعہ کیا گیا ہے، ضروری اعداد و شمار کے ساتھ ہزاروں واقعات جمع کئے گئے ہیں خاص طور پر امریکہ میں جدید ترین کلینک
و سائنسی اہتمام کے ساتھ ان کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان تحقیقی نتائج پر متعدد کتابیں چھپی ہیں، حال میں امریکہ سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے زندگی کے بعد زندگی :
LIFE AFTER LIFE (U.S.A. 1976)