م۔ احمد ایم۔ لے
Al-Risala, January 1977, pp. 57–63
By Maulana Wahiduddin Khan
صحت مند انسان اپنے مسائل کا حل جذبات سے بالا ہو کر اس طرح کرتے ہیں جیسے یہ ریاضی کے سوال ہوں ۔ ایک سیاست داں نے ایک کیمیا کے متلاشی سے کہا: تانبے کو سونا بنانے کا سب سے آسان اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ تانبے کے اوپر سونے کا طلیح چڑھادو۔
سیٹھ مایا رام اپنا دل بلا سوچے ہوئے دینے کو تیار ہیں۔ مگر ادھار دینا ہو تو خوب سوچ سمجھ کر دیں گے ۔ ایسی بھی مچھلیاں ہوتی ہیں جو صرف گندے پانی میں پروان چڑھتی ہیں ۔
تعصب زدہ انسان خود اپنے ذہن میں اپنی ایک دنیا بنا لیتا ہے، وہ دن کی روشنی میں سامنے کھڑے ہوئے پہاڑ کو نہیں دیکھتا اور اس کے وجود سے انکار کر دیتا ہے ۔ گاندھی جی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان کو جو شیلی تقریر کرنا نہیں آتا تھا ۔
انسان کی فطرت افسانہ پسند ہے۔ وہ حقیقت کو بھی بہت جلد افسانہ بنا دیتی ہے ۔
مجبوری سے آدمی مظلوم تھا۔ موقع ملتے ہی ظالم بن گیا ۔
آدمی جب سانس لیتا ہے تو وہ آکسیجن اندر لے جاتا ہے اور کاربن خارج نباتات کے لئے اس کے برعکس اصول ہے۔ وہ کاربن لیتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ اس دو طرفہ عمل کے ذریعے فطرت کا توازن قائم رہتا ہے۔ مگر انسان اپنے اندھا دھند عمل سے اس توازن کو بگاڑ اس نے خشکی اور تری میں فساد پیدا کر رکھا ہے۔ روایتی اقتصادیات میں اب تک یہ پڑھایا جاتا رہا ہے کہ اگر وسائل کی قلت نہ ہو یا وسائل متبادل اغراض کے لئے استعمال کے قابل نہ ہوں تو وہ اقتصادیات کے دائرہ بحث میں نہیں آئیں گے۔ اس سلسلہ میں ہوا کی مثال دی جاتی ہے کہ یہ ایک مفت وسیلہ فطرت ہے، اس لئے یہ اقتصادی تحقیق کے دائرہ سے باہر ہے۔ آج ٹوکیو کی سڑکوں پر تازہ ہوا خریدنی پڑتی ہے اور لندن کے اوپر کی ہوا کو صاف کرنے کے لئے لاکھوں پونڈ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ توازن فطرت اور اقتصادیات آج ایک دوسرے سے کتنا قریب ہو چکے ہیں۔ ایک ماہر ماحولیات نے کہا: "ممکن ہے تحفظ فطرت ہی مستقبل کا مذہب جائے۔
ایشیا میں ایک نہایت مضرت رساں زرعی طریقہ جنگل کاٹ کر کھیتی کرتے ہیں۔ ایک اور نقصان دہ طریقہ گھریلو جانوروں کو پہنچائی زمینوں پر چرنے کے میں بہت سی زمین خستہ حالت میں نظر آتی ہے اور کچھ پیدانہیں کرتی ۔ اس کی وجہ محض انسانوں اور جانوروں کے ذریعے اس کا حد سے زیادہ استعمال ہے۔ دس کروڑ مویشی جن میں سے بیشتر ناکارہ ہیں وہ اس ملک کے قدرتی سرمایہ پر زندہ رہتے ہیں۔ گیر کے محفوظ جنگل پر کئے گئے ایک سروے سے ثابت ہوا تھا کہ جب یہاں کی زمین مویشی کے کھروں اور انسانوں کے پیروں تلے روندی نہیں جاتی تو گھاس کی سالانہ فصل تقریباً ۴۵۰ کلوگرام فی ہیکٹر بیٹھتی ہے۔ لیکن دیہات کے ارد گرد کی زمین پر جہاں مویشی پھرتے ہیں، یہ فصل صرف ۷۴۵ کلوگرام فی ہیکٹر ہوتی ہے۔ گویا زمین کے مناسب انتظام سے ہندوستان اب کی نسبت دس گنی زیادہ گھاس پیدا کر سکتا ہے ۔
یہ بے معنی بات ہوگی کہ کسی بھوکوں مرتے آدمی سے یہ کہا جائے کہ وہ استحصال کے بجائے تحفظ کرے ۔ لیے چھوڑنے کا ہے۔ قدیم ترین زمانے سے یہاں کے غریب لوگوں نے اپنا یہ حق سمجھا ہے کہ وہ بکریوں کے ریوڑ رکھیں جب کہ انھیں کھلانے کا کوئی انتظام ان کے درختوں کو جو بھاری پیمانے پر ایندھن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہ نباتات اور مٹی کے لئے زبردست نقصان مگر اکثر جگہوں پر درختوں کی کٹائی صرف اسی پاس نہ ہو۔ اس کا نتیجہ انسان کے ہاتھوں وجود میں آنے والے ریگستان کی شکل میں ظاہر ہوا ہے ۔ صورت میں رک سکتی ہے جب لوگوں کو مٹی کا تیل مفت سپلائی کیا جا سکے ۔ جنگلات ہمارے سیارہ کی صحت کے
لئے اتنے ہی ضروری ہو سکتے ہیں جتنا کہ ماہرین تو اززن فطرت بتاتے ہیں۔ مگر یہ ایک انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں صرف پ ۲ ارب بیرل تیل کا ذخیرہ اور رہ گیا ہے اور مانگ کا یہ حال ہے کہ دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔
حکومت ہند نے ۱۹۵۲ میں ایک قومی جنگلاتی پالیسی وضع کی تھی جس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ ۳۰ ارب روپے کا ہوا ہے۔ جنگلات کاٹ کر جو زمین زیر کاشت لائی جارہی ہے، وہ اکثر زراعت کے لئے غیر موزوں اس سے زیادہ موجودہ زمین پر زیادہ گھنی کھیتی کرکے حاصل کیا جاسکتا تھا۔
الرسالہ کوئی کاروبار زریں۔ اس کا مقصد اسلام کا احیاء اور ملت کی تعمیر ہے۔ ملت اسلامیہ کے مستقبل کو بدلنے کے لئے اس قسم کی اشاعتی مہم جتنی ضروری ہے، اتنی ہی یقینی یہ بات ہے کہ الرسالہ جیسے پرچہ کو تجارتی بنیادوں پر نہیں چلایا جا سکتا۔ الرسالہ کی مہم کو مسلسل جاری رکھنے اور اس کو کامیابی تک پہنچانے کی صورت صرف یہ ہے کہ ہم کو خصوصی معاونین کی ایک معقول تعداد حاصل ہو جائے۔ عمومی اصلاح کا یہ کام خصوصی تعاون ہی کے ذریعہ انجام پاسکتا ہے۔ تعاون کی صورتیں ۱- کچھ لوگ اس کے لئے تیار ہو جائیں کہ پانچ سال تک وہ الرسالہ کا زر تعاون کم سے کم ایک ہزار ایک روپیہ سالانہ ادا کریں گے ۔
۲- ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی تیار ہو جو پانچ سال تک الرسالہ کا نہ تعاون کم سے کم ایک سو ایک روپیہ سالانہ ادا کرے نوٹ: زر تعاون کی ان دونوں صورتوں میں وہ لوگ بھی شریک ہو سکتے ہیں جو مجوزہ رقم کو یک مشت دینے کے بجائے ماہانہ اقساط کی صورت میں ادا کریں۔
و کسی صاحب ذوق کے مطالعہ کی میز اس سے خالی نہ ہو 6 ترجمان (دہلی) مرکزی جمعیت اہل حدیث کا آرگن ہے۔ دسمبر 1961 میں اس نے حج نمبر شائع کیا ہے، اس شمارہ میں ماہنامہ رسالہ پر تبصرہ شامل ہے یہ تبصرہ ماہنامہ ترجمان کے شکریہ کے ساتھ یہاں نقل کیا جاتا ہے مولانا وحیدالدین خاں کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ موصوف ایک اچھے اسلامی آپ کے سوچنے اور لکھنے کا انداز بڑا مؤثر و دل کش ہوتا ہے۔ جن دنوں ہفت روزہ الجمعۃ آپ کی ادارت میں نکل رہا تھا، موصوف کے مؤثر و دل کش و معیاری انداز تحریر واسلوب نگارش نے اس پر چہ کو مقبول بنا ہم لوگ اس کے ہر نئے شمارہ کا انتظار کیا کرتے تھے۔ برکت دے اور ان عزائم کی تکمیل مقدر فرمائے۔ اب موصوف نے الرسالہ کا اجرا کیا ہے۔ اس کا پہلا شمارہ " اس بات کو واضح کر دینے کے بعد کہ الرساله مولانا اس وقت میرے سامنے ہے ہر لحاظ سے پسندیدہ و معیاری۔ وحیدالدین خاں صاحب کی نگرانی میں نکل رہا ہے میں اس کے اجرا کا مقصد کیا ہے اسے خود مولانا کے لفظوں یہ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ پر چہ ہر لحاظ سے معیاری ہے اور اس لائق ہے کہ اسے ضرور منگایا جائے اور کسی صاحب ذوق کے مطالعہ کی میز اس سے خالی نہ ہو۔ " مولانا کی سرپرستی اس کے معیاری ہونے کی گارنٹی ہے۔ کسی گروه کو طاقت ور بنانے والی سب سے بڑی چیز باہمی اعتراف هے اگر چه یہی وه چیز هے جو کسی گروه میں سب سے کم پائی جاتی هے
کیا تاریخ دوبارہ مذہب کی طرف لوٹنے والی ہے ۱۷۸۹ء میں جب جارج واشنگٹن کو امریکہ کا پہلا صدر چنا گیا تو ایک گھوڑ سوار پیغام برنے یہ خبر انہیں پہنچائی ریاست ور جینا میں واقع موصوف کے مکان تک پہنچنے میں اس امریکی افسر کو سات دن لگ گئے تھے۔ کے بر عکس ۳ نومبر ۱۹۷۶ء کو جب امریکہ کا ۳۹ واں صدارتی انتخاب ہوا تو ووٹنگ ختم ہونے کے صرف چند منٹ بعد ساری دنیا نے جان لیا کہ مسٹر جمی کارٹر کو امریکہ کا نیا صدر چن لیا گیا ہے۔
۱۹۳۲ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ایک صدر کو اپنے حریف سے شکست کھانی اس واقعہ کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ جمی کارٹر (پیدائش ۱۹۲۴ء) کی اس تاریخی کامیابی میں بڑا دخل مذہب کا ہے۔ جمی کارٹر اپنی انتخابی تقریروں میں یہ بتانا کبھی نہیں بھولتے کہ وہ ایک راسخ العقیدہ عیسائی ہیں۔ ان کی تقریریں روحانیت اور بائبل کے اقتباسات سے بھری ہوتی تھیں۔ وہ صاف لفظوں میں کہتے تھے کہ وہ موجودہ مسائل کا حل مذہب کی روشنی میں کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم امریکہ کے موجودہ مایوس معاشرہ کو مذہب کے اندر امید کی نئی کرن دکھانے کی قیمت ۲۵ ملین ڈالر تھی۔ کو اپنی انتخابی مہم کی کامیابی کے لئے نہ صرف یہ بھاری رقم خرچ کرنی پڑی بلکہ انھوں نے دوڑ دھوپ کا بھی ریکارڈ انھوں نے چار لاکھ ۶۱ ہزار میل کے ہوائی سفر کئے ۔ ۱۰۲۹ شہروں میں گئے اور ۹۵۴ تقریریں کیں ۔ پانچ برس سے وہ روزانہ اوسطاً ۸۰۰ آدمیوں سے مصافحہ کر رہے تھے۔
یہاں ایک امریکی اخبار کا کارٹون نقل کیا جا رہا اس کارٹون میں ترازو کے ایک طرف فورڈ اور ریگن دوسرے لفظوں میں اقتدار اور الحاد : دونوں نے مشترکہ طور پر اپنا وزن ایک پلّہ میں ڈال دیا ہے۔ طرف کارٹر ہیں جو اپنے ہاتھ میں مقدس بائبل لئے ہوئے شدید مقابلہ کے باوجود کارٹر کا پلّہ بھاری ہو جاتا ہے۔ بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک میں یہ واقعہ ہونا کہ ایک شخص مذہب کا نام لے کر الیکشن جیت جائے ، دراصل دنیا میں ایک نئی تبدیلی کا اعلان ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ انسان مادی ترقی کی آخری انتہا پر پہنچ کر دوبارہ فطرت کی طرف لوٹ رہا ہے ۔ پنڈولم کا رخ مذہب کی طرف ہو چکا ہے۔ اب یہ مذہب کے نمائندوں کا امتحان ہے کہ وہ اس نئے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا دوبارہ اسے ضائع کرتے ہیں۔
تعارف و تبصرہ از مولانامجیب الله ندوی صفحات ۸۰۰ ، قیمت مجلد روکسین ۲۵ روپے پتہ : مکتبہ الحسنات، رام پور، یوپی کتاب کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ عبادات ، دوسرا معاشرت، تیسرا معاملات۔ اس طرح اس کتاب میں زندگی کے تمام امور سے متعلق اسلامی احکام کی تفصیل
فيه هدى للناس مجیب اللہ ندوی مکتبہ الحسنات رام پور یوپی اسلامی فقہ پر اردو زبان میں متعدد مختصر اور مطول کتابیں موجود ہیں، تاہم یہ کتاب بعض پہلوؤں سے ممتاز ہے ہند و پاک کے مسلمان زیادہ تر حنفی المسلک ہیں، اس لئے یہ کتاب اگر چہ اصلاً اسی مسلک کے مطابق لکھی گئی ہے، تاہم اس میں دوسرے متداول فقہی مسالك مثلاً مالکی، شافعی اور حنبلی کا ذکر بھی آگیا ہے۔ دوسرے یہ کہ فقہی تشدد کے بجائے اس میں بعض مسائل خصوصاً معاملات میں حسب ضرورت دوسرے مسالک کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ کہ ہر بیان کے آغاز میں قرآن وحدیث کے حوالے بھی درج ہیں تاکہ قاری کا ذہن اصل اسلامی ماخذ سے جڑا رہے، اس طرح کی دوسری خصوصیات نے اس کتاب کو اپنے موضوع پر ایک مفید اور جامع کتاب بنا دیا ہے۔ جامعہ دارالسلام، عمر آباد، ضلع شمالی ارکاٹ۔ یہ جامعہ دارالسلام کے طلبہ کا رسالہ ہے۔ میں طلبہ کی انجمن کے تحت طلبہ کو تحریر کی مشق کرائی جاتی ہے اور تعلیمی سال کے اختتام پر باقاعدہ طرف سے ایک میگزین شائع کیا جاتا ہے. یہ اسی قسم کا ۱۹۷۶ کا میگزین اب تک یہ میگزین قلمی ہوتے تھے۔ اس سال اس کو عمومی افادیت کے پیش نظر شائع کر دیا گیا ہے۔ میں دینی، علمی اور اصلاحی مضامین ہیں نیز غزلیں بھی شامل ہیں ۔
طلبہ کے میگزین نکالنے کا رواج بہت مفید ہے۔
مگر زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ اس قسم کے میگزین میں دوسرا نمتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ جو لوگوں کو خدا پرست بنانے کی کوشش میں اپنے کو ہلاک کئے دے تھے ۶) دوسرے آپ سے قبل کے کچھ صالح نوجوان (اصحاب کہف) کا اسوہ جنھوں نے یہ دیکھ کر کہ وہ لوگوں کے درمیان اپنے دین کو بچا نہیں سکتے، بستی سے نکل کر غاروں میں جا چھپے (کہف۔
کہ سورہ کہف کی ابتدائی دس آیتوں کا سبق یہ ہے کہ جب زمین پر فتنہ کی حالت پیدا ہو جائے اور خدا کی خلاف ورزی ہونے لگے ، تو اہل ایمان کے لئے دو ہی راستے ہیں۔ اول یہ کہ غافل اور سرکش لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں اور اس میں اپنی پوری طاقت صرف دوسرے یہ کہ اگر وہ دیکھیں کہ معاملہ اس نوعیت کو پہنچ چکا ہے کہ دوسروں کی اصلاح کے بجائے وہ خود اپنے آپ کو آزمائش میں مبتلا کر لیں گے تو ایسی حالت میں نہیں چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو عوام الناس سے الگ کر لیں اور کسی گوشے میں سمٹ کر زندگی کے بقیہ ایام پورے کر کے پہلی صورت اقدام کی ہے، دوسری