Al-Risala · October 1977

ترجمہ کی غلطی

Al-Risala, October 1977, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

علامہ سخاوی کی ایک کتاب ہے ”القول البدیع“ کے آگے تھے ۔ حضرت علی نے مجھ کو بلایا اور فرمایا اٹھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں ۔ اٹھا اور حضرت کے دونوں آنکھوں کے درمیان چوما۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایک روٹی عنایت في الصلاۃ علی الحبیب الشفیع ،،۔ اس میں اٹھوں نے شیخ ابوالخیر اقطع کا ایک قصہ نقل کیا ہے۔ ترجمہ ایک اردو کتاب میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے : " شیخ ابوالخیر کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں وہاں پانچ دن قیام کیا۔ مجھ کو کچھ ذوق و لطف حاصل نہ ہوا۔ میں قبر شریف کے پاس حاضر ہوا، اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو سلام کیا۔ اور ع کیا۔ اللہ، آج میں آپ کا مہمان ہوں۔ پھر وہاں سے ہٹ کر منبر کے پیچھے سو رہا۔ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ حضرت ابوبکر آپ کے داہنی طرف اور حضرت عمر آپ کے بائیں طرف تھے۔ حضرت علی رض آپ میں نے آدھی کھائی۔ اور جاگا تو آدھی میرے ہاتھ میں تھی ۔

اس وقت ہمیں اس قصہ کی سند اور اس کی صداقت سے کوئی بحث نہیں ۔ اس کو ہم نے صرف ایک ادبی مقصد کے تحت نقل کیا ہے ۔ قصہ کا یہ جملہ مجھ کو کچھ ذوق و لطف حاصل نہ ہوا ، ترجمہ کی غلطی ہے۔ کے الفاظ یہ ہیں : اَقَمْتُ خَمْسَةَ اَيَّامٍ مَا ذُقْتُ اس فقرہ کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا : میں پانچ دن مجھے ان دنوں میں کوئی چیز چکھنے کو بھی نہیں ملی۔ اس قسم کی غلطیاں اردو ترجموں میں بہت عام

Printed page