Al-Risala · October 1977

فطرت کو اس کی تلاش کے جواب مل گیا

Al-Risala, October 1977, pp. 23–27

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر الطاف گوہر پاکستان کے چوٹی کے صحافی ہیں۔ وہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے۔

بھٹو حکومت (۷۱ء - ۱۹۷۱) نے اپنے اقتدار کے ابتدائی زمانہ میں الطاف گوہر کو جیل خانہ میں ڈال دیا، جیل کا مطلب، سیاسی قیدیوں کے لئے، اپنے میدان عمل سے محرومی کا ہم معنی ہوا ہے۔ ایسی حالت میں عام طور پر سب سے بہتر مشغلہ یہ رہ جاتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں مصروف کرلے۔ الطاف گوہر نے قرآن کو ترجمہ کی مدد سے پڑھنا شروع کر دیا۔

یہ مطالعہ، حیرت انگیز طور پر، ان کے لئے ایک نیا تجربہ ثابت ہوا۔ وہ زندگی کی نئی وسعتوں سے آشنا ہوئے جس سے اب تک وہ، اپنی سیاسی مشاغل کی ہماہمی میں بے خبر رہے تھے۔ وہ شخص جس کا قلم چند دن پہلے تک عالمی سیاست کا جائزہ لیا کرتا تھا، جو اپنی خدا داد ذہانت کے ساتھ قلم کا شہ سوار بنا ہوتا تھا، جیل خانہ میں اس نے اپنے آپ کو اچانک بالکل بے بس پایا۔ اس کی دنیا ایک محدود کوٹھری تھی جہاں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ تنہائی کی زندگی، ہر معاملہ میں دوسروں پر انحصار۔ تمام ظاہری سہاروں کا رخصت ہو جانا، ان واقعات نے جیل کے ماحول کو الطاف گوہر کے لئے ایک عظیم حقیقت کے ادراک کی تربیت گاہ بنا دیا۔ ان کی فطرت، غیر ارادی طور پر، ایک ایسی ہستی کو تلاش کرنے لگی جو ہر طاقت سے بڑھ کر طاقت ور ہو۔ جس کو آدمی ہر آن پا سکتا ہو۔ جو ہر حال میں آدمی کی چٹان بن سکے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ حالات اس کو دھکیل کر ایسے مقام پر پہنچا دیں جہاں اس کے اپنے کمزور وجود کے سوا کوئی اس کے پاس نہ ہو، جہاں اس کے تمام سہارے اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں۔ اس نازک لمحہ میں جب مسٹر الطاف گوہر نے قرآن کی سورہ فاتحہ کھولی اور اس کو پڑھتے ہوئے اس فقرہ تک پہنچے : اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ، تو اچانک ان پر کھلا کہ وہ ہستی فی الواقع کائنات میں موجود ہے جس کی تلاش ان کی فطرت کا سب سے بڑا سوال بنی ہوئی تھی۔ سورہ کی آیت مبہم میں ان کو انسان کی حقیقی عظمت اور آزادی کا راز مل گیا۔ یہاں بندہ اپنے خدا کے ساتھ ایک ایسے ابدی عہد میں وابستہ نظر آیا جو مکمل طور پر اس کے عجز کا بدل بن جاتا ہے، جو اس کو ایک اتھاہ طاقت کی دائمی سر پرستی میں دے دیتا ہے الطاف گوہر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

I REMEMBER VIVIDLY THE MOMENT WHEN I FIRST REALIZED THE SIGNIFICANCE OF THIS VERSE. 'WE WORSHIP YOU ALONE, AND TO YOU ALONE WE TURN FOR HELP.IT WAS A DRAMATIC MOMENT OF FREEDOM,A MOMENT IN WHICH FEAR DIS- APPEARED, AND WITHIN ME I FELT A RESURGENCE OF CONFIDENCE AND FAITH. مجھے وہ لمحہ خوب یاد ہے جب کہ میں نے پہلی بار اس قرآنی فقرہ کی معنویت کو سمجھا " ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم صرف تجھی سے مدد چاہتے ہیں " یہ آزادی کا ایک ڈرامائی لمحہ تھا، ایک ایسا لمحہ جس کے بعد خوف مٹ گیا۔ اور میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر ایک نیا اعتماد ویقین ابھر آیا ہے۔

عصو یاتی ارتقار کے مطابق زندگی کی مختلف شکلیں الگ الگ پیدا نہیں ہوئیں ، بلکہ سب ایک ہی ابتدائی جراثومہ حیات کی مختلف ترقی یافتہ صورتیں ہیں جانوروں میں سے دودھ پلانے والے جانوروں کی بعض قسموں نے ترقی کرتے کرتے بالآخر انسان مانس کی شکل اختیار کی ۔ اس کے بعد لاکھوں برس تک مختلف انسان نما مخلوقات پیدا ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ انسان بنا جس کو ہم آج دیکھتے ہیں ۔ اس نظریہ کی سب سے بڑی بنیاد تجرد ڈھانچے قدیم زمانہ کی ذی حیات اشیاء زلزلوں وغیرہ میں زمین کی تہوں میں دب گئیں۔ مختلف کیمیاوی عمل سے ان کے پنجر پتھر کی شکل اختیار انہیں پتھرائے ہوئے اجزاء کے ذریعہ قدیم زمانہ کے انسانوں کی تاریخ مرتب کی گئی ہے ۔ اس نظریہ کے حق میں اگر چہ ابھی تک چند منتشر ہڈیوں کے سوا اور کوئی چیز نہیں ملی ہے ، مگر نظریہٴ عضو یاتی ارتقار کا نظریہ جو سائنسی حقیقت سے زیادہ ایک سائنسی لطیفہ ہے ذیل کی تصویر نیچرل ہسٹری میو زیم (تاریخ فطرت کے عجائب خانہ) سے لی گئی ہے ۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ موجودہ انسان سے پہلے بن مانس کی شکل کی مخلوق زمین پر پائی جاتی تھی ۔ اس سے ترقی کرتے کرتے موجودہ شکل وصورت کا انسان بن گیا۔ اس طرح کے کسی چارٹ کو دیکھ کر بیٹھا ہر سمجھے گا کہ ارتقار فی الواقع کوئی تاریخی واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تصویریں محض قیاسی عالم واقعہ میں ان کا وجود ثابت نہیں ۔

ارتقاءءء کے علماء کو اس پر اتنا یقین ہے نہ انہوں نے انھیں منتشر ہڈیوں کے ساتھ اپنے قیاس کا اضافہ کرکے انسانیت کی ایک مکمل ارتقائی تاریخ بناڈالی ہے۔ بعض اوقات چٹان میں دبی ہوئی ایک کھوپڑی پتھروں سے کاٹ کر نکالنے میں اس کے ریزے ریزے ہوجاتے ہیں۔ کئی ٹن سنگ ریزے اور مٹی کو چھاننے کے بعد جب کھوپڑی کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تلاش کرنے والوں کو کھوپڑی کا صرف ایک حصہ ملا ہے اور وہ بھی چار سو ٹکڑوں کی شکل میں۔

نظریہ ارتقار کی تاریخ دلچسپ لطیفوں سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر برطانوی سائنس داں ہکسلے (۱۸۹۵ ۔ ۱۸۲۵) اور جرمن پروفیسر پرپز ایریا مرے سے۔ زیرِ اَسماں اور دُھن سے ایسا اِیہام خیز کا اِنکشاف تھا) مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ یہ محض ایک غلط فہمی تھی۔ اصل یہ ہے کہ سمندری بگلوں کی ایک قِسم ہے جس کی چونچ اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ وہ سیپ کو توڑ کر اندر دبا ہوا گھونگھا کھا سکے۔ آسٹریلیا کے ساحل پر سیپ بافراط پائی جاتی ہے۔ سمندری بگلا اس مشکل کا حل قدرت کے بتائے ہوئے طریقہ پر کرتا ہے۔ کو اپنی چونچ میں پکڑ کر کافی بلندی تک جاکر ساحلِ پر واقع چٹانوں پر گرا دیتا ہے۔ نتیجہ میں سیپ ٹوٹ جاتی ہے اَور گھونگھا باہر نکل آتا ہے جسے سمندری بگلا ایک ہی نوالے میں ہڑپ کر جاتا ہے۔ برسہا برس سے جمع شدہ خالی سیپوں کے یہ ڈھیر جب ماہرین نے دیکھے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ کسی قدیم تہذیب کا نشان ہے، حالاں کہ اس ارنسٹ ہیکل (1919ء - 1834ء) نے جب پہلی بار سمندر کی تہ کی کیچڑ کا معائنہ کیا تو انھوں نے پورے یقین کے ساتھ اعلان کر دیا نہ یہی وہ مادہ ہے جس سے زندگی کے ابتدائی جراثومہ کا آغاز ہوا۔

اس کے بعد 1870ء میں جغرافی سوسائٹی نے اس مسئلہ کی علمی تحقیقات کی تو اس کو اعلان کرنا پڑا کہ یہ بالکل باطل ہے اس قسم کے مفروضہ کے لئے کوئی حقیقی قرینہ نہیں ملتا۔ حتی کہ علم الانسان کے ایک پروفیسر نے کہا کہ یہ خود فریبی (SELF DELUSION) کی ایک انوکھی مثال تھی۔

آسٹریلیا کے ساحل پر ماہرین کو ایک چٹان نظر آئی جہاں خالی اور ٹوٹی ہوئی سیپوں کا ایک ڈھیر جمع انھوں نے سمجھا کہ وہ ایک ایسی قدیم تہذیب کی جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں جس کے لوگ زیادہ تر گھونگھوں کا انسانی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ارتقا کے حامیوں کا خیال ہے کہ ارتقا کی سیڑھی پر چمپینزی (بن مانس) انسان سے سب سے زیادہ جنگل میں آزاد چمپینزی تقریباً ۲۰ قسم کی آوازیں نکالتا ہے جس سے مختلف قسم کے جذبات - خطرہ، غصہ، خوشی، پسند، نفرت، وغیرہ۔ کی ترجمانی ہوتی چمپینزی کو تربیت دی جائے تو کیا وہ انسان جیسی آوازیں بھی نکال سکتا ہے؟ علمائے حیاتیات کے نزدیک اس کا جواب اثبات میں تھا۔ ان کے نزدیک چمپینزی کے حلق میں اس کی صلاحیت موجود تھی کہ اس کو بولنا سکھایا اسی طرح دوسری انسانی خصوصیات بھی۔ ۱۹۷۴ء میں فلوریڈا کی تجربہ گاہ میں ایک چمپینزی کو رکھا گیا۔ باقاعدہ منصوبے کے تحت اس کو ایک تربیتی کورس سے گزارا گیا۔ مگر ساری کوشش کے بعد وہ صرف

حیاتیاتی حقائق نظریہ ارتقا کے قیاسات کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں چار الفاظ سیکھ سکا۔ اس قسم کی کوششیں پچھلے ۳۰ برسوں میں مسلسل کی جاتی رہی ہیں۔ مگر چمپینزی کے اندر انسانی اوصاف پیدا کرنے میں کوئی کامیابی نہیں

۶۰ء میں اوکلا ہاما یونیورسٹی میں کثیر رقم کے خرچ سے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا اور سات چمپینزیوں کو غیر معمولی اہتمام کے ساتھ بالکل انسانی ماحول میں رکھ کر تربیت دی گئی۔ وہ کچھ وقت لیبارٹری میں گزارتے اور اس کے بعد پروفیسروں کے گھروں میں ان کے فردِ خانہ کی طرح رہتے۔ ان کو انسانی کپڑے پہنائے جاتے، میز کرسی پر کھانا کھلایا جاتا۔ رات کو مسہریوں پر سلایا جاتا۔ انسان کے مفروضہ جدا علیٰ (چمپینزی) کو انسانی آداب کے مطابق پانی پینے کی مشق کرائی جارہی ہے۔ صفائی ستھرائی کے تمام آداب سکھائے جاتے، مگر تربیتی کورس کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ بدستور "چمپینزی" ان کے اندر کوئی قابلِ لحاظ تبدیلی پیدا کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی ـــــ حیاتیاتی حقائق نے ارتقائی مفروضہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

پانڈیچری سے ۱۳ میل کے فاصلہ پر ایک مقام ہے ترود کاری، یہاں قدیم زمانہ سے درختوں کے تنہ کی شکل کے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ عوام کا خیال تھا کہ یہ بھوتوں یا راکشسوں کی ہڈیاں ہیں جن کو کبھی وشنو بھگوان نے ہلاک کیا تھا۔ لوگ ان کے پاس جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔ حال ہی میں ماہرین نے دریافت کیا کہ یہ در اصل فالس یعنی قدیم زمانہ کے درختوں کے پتھرائے ہوئے تنے۔ اندازہ ہے کہ یہ درخت ۲۰ ملین سال پہلے پائے جاتے تھے۔ اس قسم کا ایک شجری فانسل نومبر ۷ ۱۹ء میں نئی دہلی لایا گیا اور یہاں نیشنل میوزیم میں عام نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ یہی صورت حال، بدلی ہوئی شکل میں، ارتقا پسندوں کے ساتھ پیش آئی ہے۔ انھوں نے بعض جزوی آثار پر اپنے قیاسات کا اضافہ کر کے ایک پورا حیاتیاتی نظریہ مگر موجودہ زمانہ میں جس طرح عوامی توہمات ختم ہوتے چلے جارہے ہیں اسی طرح معلوماتِ انسانی میں اضافہ اس "سائنٹفک قیاس کی واقعیت کو بھی دن بدن مشتبہ کرتا جارہا ہے۔

اگر چہ اب بھی نصاب کی کتابوں میں قدیم نظریہ ہی پڑھایا جاتا ہے، مگر وہ دن دور نہیں جب ارتقاء کے نظریہ کو تاریخ کی الماری کے سوا اور کہیں جگہ نہیں ملے گی۔

یہ ایک خدائی تاکہ ظالموں اور متکبروں کا مجرم منصوبہ تھا ہونا ثابت ہو جائے اور اللہ کے وفادار بندوں کو خدائی گواہ بننے کا اعزاز حاصل ہو ہجرت کے تیسرے سال احد کا معرکہ پیش آیا۔ (آل عمران - ۱۴۰) گویا احد کی جنگ میں اس جنگ میں ابتدا ع مسلمانوں کو کامیابی ہوئی، مسلمانوں سے جو ایک اتفاقی غلطی ہوئی اور جس کی وجہ مگر بعد کو اہل ایمان کی ایک اتفاقی غلطی سے فائدہ اٹھا سے خدا کے دشمنوں کو موقع ملا کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کر خدا کے دشمن ان کے اوپر ٹوٹ پڑے اور انہیں نقصان کے اوپر پیچھے سے چڑھ آئیں، وہ بھی خدائی منصوبہ کا اس واقعہ سے اہل ایمان کے درمیان طرح طرح ایک جزو تھا۔ اس طرح خدا ظالموں اور سرکشوں کو ننگا کے سوالات پیدا ہو ہونے لگے۔ انہوں نے کہا : ہم حق پر ہیں کرنا چاہتا تھا، ان کے ہاتھوں اہل ایمان کو زخمی کر کے پھر یہ مصیبت کہاں سے آگئی (آل عمران - ۱۶۵) جواب ان کی درندگی اور سرکشی کا ثبوت فراہم کرنا مقصود تھا۔ ملا کہ یہ وقتی نقصانات ہیں، ان کی پروا مت کرو۔ خدا کی اللہ چاہتا تھا کہ اس واقعہ کے ذریعہ ایک طرف ظالموں نصرت حق پرستوں کے ساتھ ہے اور آخری کامیابی اور متکبروں کو مجرمین کے کٹہرے میں کھڑا کر دے، دوسری بہ حال انھیں کو حاصل ہوگی۔ طرف اپنے وفادار بندوں کو ان کے مقابلہ میں عدالت ” یہ اس واسطے ہوا تاکہ اللہ ایمان والوں کو الہی کا گواہ بننے کا اعزاز عطا کرے۔ یہ ایک خدائی جان لے اور تم کو ظالموں کے اوپر گواہ بنائے ۔ ‘‘ معاملہ تھا نہ کہ محض ایک انسانی واقعہ (آئمہ طرانی ، ۱۹) انسان صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے ایک سب سے بڑی بات جس کو انسان سب سے لئے ہے۔ ارادہ کے سوا انسان کے بس میں اور کچھ زیادہ بھولا رہتا ہے، یہ کہ اس دنیا میں کسی انسان کو نہیں۔ واقعات اس لئے اس کے سامنے لائے جاتے کوئی ذاتی طاقت حاصل نہیں۔ کوئی شخص نہ کسی کو کچھ ہیں کہ اس کی جانچ ہو تاکہ اس کا خدا یہ دیکھے کہ اس کا دیتا، نہ کوئی شخص کسی سے کچھ چھینتا۔ ہر واقعہ جو اس بندہ مختلف رویوں میں سے کس رویہ کا اپنے لئے انتخاب زمین پر ہوتا ہے وہ خدا کی اجازت سے ہوتا ہے۔ انسان کر رہا ہے۔ واقعات کا اہتمام مالک کائنات کی طرف سے کی ساری حیثیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں امتحان کے ہوتا ہے۔ انسان تو صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے

Printed page