کسلام ایک عظیم جدوجہد
Al-Risala, October 1977, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن مالک کائنات کا فرمان ہے، جو اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ عزت کس کے لمبے ہے اور ذلت اس کے لیے۔ کامیاب کون ہے اور نامراد کون۔ دنیوی اعتبار سے جب ہم کامیابی کا لفظ بولتے ہیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی سوسائٹی میں ایک شہری کو ترقی کے جو مواقع دیے گئے ہیں ان کو استعمال کر کے اونچے درجات تک پہنچنا ۔ ایک شخص بڑا تاجر، اونچا عہدیدار اور اعلیٰ اعزازات کا مالک ہو تو اس کو کامیاب انسان کہا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماحول کے اندر تجارت کو بڑھانے کی جو ممکن صورتیں ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کے لیے جو صفات مقرر کی گئی ہیں اعزازات کے حصول کے لیے جو راستے بنے ہوئے ہیں وہ شخص ان کو عبور کر گیا ہے اور اپنی جدوجہد کے نتیجہ میں اس نے اس بلند مقام کو پالیا ہے جو قانون وقت کے تحت اس کے لیے ممکن تھا۔ کامیابی کے معنی الہ دین کا چراغ پا لینے کے نہیں ہیں، بلکہ کامیابی اس واقعہ کا نام ہے کہ ایک شخص نے اپنی صلاحیت اور کام کے مواقع کو ان راہوں میں صرف کیا جو اس کے لیے کھلی ہوئی تھیں اور بالآخر اپنی کوششوں کے نتیجہ میں اس منزل تک پہنچ گیا جہاں ان راستوں کا کوئی چلنے والا پہنچتا ہے۔ خوش قسمتی سے پیش آنے والا اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ وہ صحیح جدوجہد کا فطری نتیجہ ہے۔ اسی بات کو ایک مفکر نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے :۔