”لائق شخص اور کامیاب نہ ہو، یہ جھوٹ ہے“
Al-Risala, October 1977, pp. 28–32
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی حال دوسری زندگی کی کامیابی کا بھی ہے جو انسان کی حقیقی منزل ہے جہاں تمام اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے حضور جمع کیے جائیں گے۔ اس دن عزت اور کامیابی ان لوگوں کے لیے ہوگی جو خدا کی رضا کو پالیں اور ذلت اور نامرادی ان کے لیے جو اس کی رضا کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ پہلے گروہ کے لیے دائمی عیش ہے اور دوسرے گروہ کے لیے دائمی عذاب جو شخص قرآن پر ایمان لائے اور اسلام کو اختیار کرے وہ گویا پہلے انجام کا امیدوار ہے اور دوسرے انجام سے بچنا چاہتا ہے۔ مگر اس مقام بلند کا حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ یہ ایک عظیم چڑھائی ہے جس کو عبور کرنے کے ایک لمبے عمل کے بعد آدمی اس کے اوپر پہنچتا ہے ۔ خدا کا انعام کسی پڑی ہوئی چیز کی طرح محض اتفاق سے کسی کو نہیں مل جاتا، بلکہ دنیوی کامیابی کی طرح وہ ایک زبردست جدوجہد کا قدرتی نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق کسی شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ آخرت میں انسان کی کامیابی دراصل ایک لیے امتحان سے پار اتر جانے کا دوسرا نام ہے۔ انسان کو پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا ہے جہاں طرح طرح کے باطل نظریات اور فاسد رجحانات ہیں جن سے اسے اپنے دل و دماغ کو پاک کرنا ہے۔ بہت سے غلط اور ناجائز طریقے ہیں جن سے اسے بچنا ہے۔ بہت سی شیطانی اور طاغوتی قوتیں ہیں جو انسان کو راہ حق سے پھیر دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ ان طاقتوں سے
اٹھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔ غرض دشواریوں سے بھرا ہوا ایک راستہ ہے جس کو طے کر کے اس کو اپنے رب تک پہنچنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ جہنم لذتوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جنت تکلیفوں الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ (متفق علیہ) سے ڈھکی ہوئی ہے۔
اسلام کی حقیقت کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو اس کے لیے "قربانی" سے زیادہ موزوں اور کوئی لفظ نہیں ہو سکتا۔ اسلام دراصل ایک زبردست جدوجہد ہے‘ وہ قربانی کا ایک مسلسل عمل ہے جو ایمان لانے کے بعد سے آدمی کی موت تک جاری رہتا ہے۔ یہ سب سے پہلی قربانی آدمی اس وقت دیتا ہے جب وہ اپنے پسندیدہ خیالات اور قلبی رجحانات کو خیر باد کہہ کر دینِ حق کو قبول کرتا ہے ، اس کے بعد دوسری قربانی وہ ہے جو عمل کی دنیا میں دی جاتی ہے۔ اخلاق و معاملات اور معیشت و تمدن میں وہ ان طریقوں کو چھوڑ دیتا ہے جو خدا کو ناپسند ہیں اور ان طریقوں کو اختیار کر لیتا ہے جو خدا کو محبوب ہیں۔ پھر جب وہ ان دونوں مرحلوں کو پار کر لیتا ہے تو وہ امتحان کے اس آخری میدان میں پہنچ جاتا ہے جہاں نہ صرف حرام چیزیں بلکہ زندگی کے جائز اثاثے بھی چھوڑ دینے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اپنی جان بھی قربان کر دینی پڑتی ہے۔ یہ جان کی قربانی اس سلسلہ امتحان کی تکمیل ہے اور عہد بندگی کو آخری طور پر ثابت کر دکھانا ہے جو ایمان لا کر آدمی نے اپنے رب سے کیا تھا۔ یہ تین دور جن سے گزر کر آدمی اپنے رب تک پہنچتا ہے اور اس کی رضا کا مستحق بنتا ہے، ان کو قرآن ہجرت اور جہاد۔ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي جو لوگ ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی اور سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ اپنی جانوں اور مالوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ ان کے لیے خدا کے یہاں بڑا درجہ ہے اور یہی لوگ الْفَائِزُونَ ٥ (توبہ - ۲۰) دراصل کامیاب ہونے والے ہیں۔
اس آیت میں ایمان سے مراد ان حقائق کو تسلیم کرنا ہے جو قرآن میں تلقین کیے گئے ہیں، اور ہجرت سے مراد اس اعتراف اور اس کے تقاضوں کے خلاف جو کچھ ہے اس کو چھوڑ دینا اور جہاد اس کوشش اور جدوجہد کا نام ہے جو ایمان اور مہاجرت کی زندگی کو آخری حد تک باقی رکھنے کے لیے اس دنیا میں آدمی کرتا ہے۔ اس طرح یہ ایمان، ہجرت اور جہاد۔ ایک دوسرے سے الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سلسلہ سفر کی اگلی پچھلی منزلیں ہیں۔ یہ ایک ہی کیفیت کے مختلف ارتقائی مراحل ہیں جن کو ممیز کرنے کے لیے جدا عنوان دے دیا گیا ہے۔ نیز ہجرت اور جہاد کی کوئی متعین صورتیں نہیں ہیں۔ ایمان کی حقیقت، مختلف حالات میں مختلف صورتوں میں ظہور کرتی ہے۔ کسی کے لیے ہجرت ترک وطن کے ہم معنی ہوتی ہے؛ کسی کے لیے صرف یہ کہ وہ اپنے اندر کے برے رجحانات کو چھوڑ دے۔ کسی کا جہاد اس کو بیرونی قوتوں سے ٹکراؤ تک لے جاتا
ہے کسی کا جہاد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی داخلی ترغیبات کا مقابلہ کر کے اس کو زیر کرے۔ سب سے پہلے ایمان کو لیجیے، یہ اس عظیم امتحانی مہم میں شریک ہونے کا فیصلہ کرنا ہے جس کی ابتدا زبان کے اقرار سے ہوتی ہے اور جس کی انتہا یہ ہے کہ اسی پر قائم رہتے ہوئے آدمی اپنی جان دے دے یہ وہ عہد ہے جو بندہ اپنے خدا سے اس بات کے لیے کرتا ہے کہ وہ ساری عمر اس کا وفادار رہے گا۔ اس کیفیت کا نام ہے جو حقیقت کے صحیح اور مخلصانہ شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ جب آدمی اس حیرت انگیز کائنات کے پیچھے ایک لامحدود قوت کا مشاہدہ کر لیتا ہے جب وہ خدا کے رسول کو تسلیم کر کے اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہو جاتا ہے، جب اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ تخلیق کا یہ عظیم منصوبہ بے مقصد نہیں ہے بلکہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب ماضی اور مستقبل کے تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کا حساب لیا جائے، تو اسی کیفیت کے مجموعہ کو ہم ایمان سے تعبیر کرتے ہیں۔
ایمان کی اصل روح اعتماد کرنا ہے۔ یہ اعتماد ایک ایسی ہستی کے بارے میں ہوتا ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔ اس لیے اس میں یقین کا مفہوم پیدا ہوا۔ اسی طرح خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ ماننے کے لازم معنی یہ ہیں کہ اس کے غضب سے ڈرا جائے اور اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کی جائے اس لیے اس کے ساتھ تقویٰ اور خوف کا ہونا ضروری ہے۔ اس طرح اگر قرآن کے تصور ایمان کی تشریح کے لیے تین الفاظ۔ یقین، اعتماد اور خوف۔ کو اکٹھا کر دیں تو ہم اس کی روح کے بالکل قریب پہنچ جاتے ایمان اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خدا اور اس کے رسول پر اس کلی اعتماد کا نام ہے جو یقین کامل سے پیدا ہوتا ہے، اور خدا سے اس خوف کا نام ہے جو آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ کسی پولیس اور فوج کے تسلط کے بغیر خود سے اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر لے۔
یقین جو ایمان کا پہلا جزو ہے، یہ خارج سے درآمد کی ہوئی کسی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا زندہ شعور ہے جو خود انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی ہے۔ انسان کائنات پر غور کرتا ہے۔ تعلیمات کو دیکھتا ہے اور اپنے اندر سے اٹھنے والی آواز پر کان لگاتا ہے تو یہ تینوں چیزیں بالکل ایک معلوم ہوتی اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی ایک ہی پیغام ہے جو ایک وقت میں تین مختلف مقامات سے نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا رسول جس حقیقت کی خبر دیتا ہے، کائنات پوری کی پوری بالکل اس کی ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے اور انسان کی اندرونی آواز ہمہ تن اس کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ کتاب الہی میں جو کچھ پڑھتا ہے زمین و آسمان کے اندر اسی کو دیکھتا ہے اور جو کچھ پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے اس کی فطرت اس کو اس طرح قبول کر لیتی ہے جیسے کسی خانے میں بالکل اسی سائز کی چیز رکھ دی گئی ہو۔ مگر یقین کی یہ کیفیت کسی کو خود بخود حاصل نہیں ہوتی۔ جس طرح فطرت کی ہر صلاحیت اسی وقت بروئے کار آتی ہے جب اس کو نشوونما دے کر
اجاگراجائے، کائنات کا ہر راز اسیی وقت انسان کے اوپر بے نقاب ہوتا ہے جب اس کی تلاش میں وہ اپنے آپ کو گم کر چکا ہو۔ اور کسی کتاب کے مضامین اسی وقت آدمی پر کھلتے ہیں اور اسے فائدہ پہنچاتے ہیں جب اس کا گہرا مطالعہ کر کے اس کے مطالب کو اخذ کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح یہ یقین بھی آدمی کو اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنی قوت ارادی کو اس کے لیے کام میں لائے۔ یہ اگرچہ کائنات کی واضح ترین حقیقت ہے مگر اس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ آدمی کو وہی کچھ ملے جس کے لیے اس نے جدوجہد کی۔
ایمان کا دوسرا جزو اعتماد ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کا مطالعہ جہاں آدمی کو ایک طرف یہ بتاتا ہے کہ ایک عظیم خالق اور کارساز ہے جو اس کارخانے کے تمام واقعات کا حقیقی سبب ہے۔ ساتھ اور عین اسی وقت اس کو دو اور باتوں کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ایک اپنی انتہائی بے چارگی کا اور دوسرے خدا کے بے پایاں احسانات کا۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے وجود کے لیے بے شمار چیزوں کا قرضہ مگر وہ کسی ایک چیز کو بھی خود سے نہیں بنا سکتا۔ وہ ایک کمزور بچہ کی شکل میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ وہ ایک ایسی زمین کے اوپر کھڑا ہے جو فضا کے اندر معلق ہے جس کے توازن میں معمولی بگاڑ بھی آ جائے تو اس کو تباہ کر دینے کے لیے کافی ہے، وہ اپنے کو ایک ایسی عظیم کائنات کے اندر گھرا ہوا پاتا ہے جس پر اسے کوئی اختیار نہیں۔ ان حالات میں اس کو اپنا وجود بالکل بے بس اور حقیر معلوم ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ وہ سب کچھ جس کی اسے ضرورت تھی، اس کے لیے مہیا کر دیا گیا ہے۔ اس کو ایسا جسم دیا گیا ہے جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو بولتا ہے، جو سوچتا ہے، اس کی قوتوں کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خود بخود چلنے والی مشین کی طرح مسلسل کام کر رہا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں پوری ہم آہنگی کے ساتھ اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ اس کو اپنا وجود مجسم احسان نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے اور وہ احسان مندی کے جذبہ سے لبریز ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ اس ہستی کو اپنا سب کچھ قرار دے جس نے یہ سارا انتظام اس کے لیے کیا ہے پہلی چیز اس کو اپنی مکمل بے بسی کا یقین دلاتی ہے اس کو شدید احساس ہوتا ہے کہ کوئی بلند تر قوت ہو جو اس کی دستگیری کرے۔ اور دوسرا احساس اس کی اس طلب کا جواب بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کو اپنے اندر خلا کا احساس دلاتا ہے وہی مطالعہ بیک وقت اس خلا کو پر بھی کر دیتا ہے۔ ایمان کا تیسرا جزو ”خوف“ ہے۔ یہ خوف ایمان کے ابتدائی دواجزاء ۔ یقین اور اعتماد سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا لازمی نتیجہ اور اس کی تکمیل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کو دیکھتا ہے جو عدل و حکمت کا دوسری طرف کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ اتنا بڑا تخلیقی منصوبہ بے مقصد نہیں ہو سکتا۔ پھر جب وہ زمین پر بسنے والے انسانوں کو دیکھتا ہے جن میں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی۔
کبھی ہیں اور برسے بھی، تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ محاسبہ کا ایک دن آنا ضروری ہے جہاں سچوں کو ان کی کہانی کا اور برُوں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے : رب العالمین پر اعتماد ہی اس کے لیے رب العالمین سے خوف کی بنیاد بن جاتا ہے۔
یہ خدا کا خوف اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو کسی ڈراؤنی چیز کو دیکھ کر آدمی کے دل میں پیدا ہوتا حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو کسی بھی ایک لفظ سے صحیح طور پر تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ امید اور انتہائی اندیشہ کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت ہے جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کر پاتا کہ دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ سب کچھ کر کے اپنے کو کچھ نہ سمجھنے کا وہ اعلیٰ ترین احساس ہے جس میں آدمی کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہتی ہیں اور اپنے حقوق کو وہ بالکل بھول جاتا ہے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھینے کا خطرہ محسوس کرتا ہے اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سراپا
یہ ایمان کے تین نمایاں پہلو ہیں۔ ایمان دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو خدا کے خوف، اس پر مکمل اعتماد اور اس کے بارہ میں کامل یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر اور اس کے احکام پر ایمان لائے، اپنا سب کچھ اس کو سونپ دے، اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہو جائے وہ ایمان عقل کے لیے ہدایت اور روشنی ہے اور دل کے لیے طہارت اور پاکیزگی۔ اس لیے یہ عقل اور ارادہ دونوں کو ایک ساتھ متاثر کرتا ہے اور خیالات واعمال سب پر حاوی ہو جاتا ہے۔ قرآن کی زبان میں مومن وہ شخص ہے جو خدا کا خالص اور وفادار بندہ ہے اور اس کے احکام پر یقین و اعتماد کی ساری کیفیت کے ساتھ اطاعت کا معاہدہ کرتا ہے۔