Al-Risala · October 1977

ہجرت

Al-Risala, October 1977, pp. 32–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اب ہجرت کو لیجیے ۔ ہجرت کے معنی ہیں چھوڑنا۔ ترک تعلق کرنا ۔ عام طور پر ہجرت کو ترک وطن کے معنی میں سمجھا جاتا ہے۔ یقیناً ہجرت کا لفظ مخصوص طور پر جس واقعہ کے لیے بولا جاتا ہے وہ یہی ہے مگر کسی واقعہ کو اس کے پس منظر سے الگ کر کے سمجھا نہیں جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ترک وطن جو مومن کی زندگی میں پیش آتا ہے یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوتا بلکہ ایک لمبی تاریخ کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو مومن کی زندگی میں پہلے دن سے شروع ہوتا ہے اور بالآخر ترک علائق تک پہنچ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک شخص پر حق کا انکشاف ہوتا ہے اور وہ اٹھ کر لوگوں کو اس کی طرف بلانا شروع کر دیتا ہے، وہ وقت کے خلاف ایک نئی آواز کا علَمبردار بن کر گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ اس نے ماحول کی بندگی چھوڑ دی ہے اور زمانہ کے خلاف اپنے لیے ایک راہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ ہجرت کا آغاز ہے۔

آدمی نامانوس زندگی کو چھوڑ کر جائزہ زندگی کو اپنانے کا عزم کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک مسلسل جدوجہد شروع ہو جاتی ہے جس میں اس کو بہت سی پرانی چیزوں کو چھوڑ دینا اور بہت سی نئی چیزوں کو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ کتنے ہی اپنے لوگوں سے کٹنا اور کتنے ہی غیروں سے جڑنا ہوتا ہے ۔ اندر سے باہر تک بے شمار پسندیدہ چیزوں کو ترک کرنا اور اس کے بجائے دوسری ناخوش گوار چیزوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ایمان لانے کے ساتھ ہی مومن کی زندگی میں ہجرت ۔ ایک نیا طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے بہت سی پرانی چیزوں کو چھوڑنے کی ابتدا ہو جاتی ہے۔ یہ ہجرت جو اس نے خود کی ہے دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا نا شروع کر دیتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں کچھ لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں اور کچھ مخالف بن جاتے ہیں۔ اس طرح ماحول میں دو بالکل مقابل گروہ ابھرنے لگتے ہیں جن میں سے ایک گروہ اس چیز سے چپٹا ہوا ر ہتا ہے جس کو دوسرا گروہ چھوڑنا چاہتا ہے یہ اختلاف صرف اس پہلو سے نہیں ہوتا کہ ایک گروہ دوسرے گروہ پر تنقید کرتا ہے اور اس کے رویہ کو غلط قرار دیتا ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دونوں کے درمیان ایک عملی کش مکش شروع ہو جاتی ہے انسانی معاشرہ ایک وحدت ہے جس میں کوئی شخص دوسرے تمام لوگوں سے الگ اپنے لیے کوئی راہ نہیں انسان اپنی عین فطرت کے اعتبار سے سماجی واقع ہوا ہے۔ اس کی تمام ضرورتیں دوسروں سے مل جل کر انجام پاتی ہیں اور اس کو دوسروں کے پھیلائے ہوئے نظریات کے درمیان زندگی بسر کرنی ہوتی کوئی شخص اپنے پسند کیے ہوئے نظریہ کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ جب تک وہ سماج کے تمام اداروں میں اسی نظریہ کو رائج نہ کرلے۔ اس کے بغیر نہ تو وہ مدرسہ میں اپنی مرضی کے مطابق تعلیم حاصل کر سکتا نہ بازار میں اپنی مرضی کے مطابق خرید و فروخت کر سکتا، نہ عدالتوں سے اپنے اصول کے مطابق فیصلے لے سکتا۔ حتی کہ وہ یہ بھی نہیں کر سکتا کہ جس چیز کو وہ حلال سمجھتا ہے اسے کھائے اور جو چیزیں اس کے نزدیک حرام ہیں ان کو اپنے حلق کے نیچے اترنے نہ دے۔ اس لیے جب کوئی شخص وقت کے خلاف کسی مسلک کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ لازمی طور پر ان لوگوں سے ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے جن کے بنائے ہوئے نظام کے اندر وہ زندگی گزار رہا ہے۔ انسانی معاشرہ کی مثال ایک جال کی سی ہے جس کے تمام افراد حلقوں کی مانند ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک حلقہ کو الگ کرنے کی کوشش پورے جال کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اس طرح ایک مستقل اختلاف شروع ہو جاتا ہے جو دن بہ دن نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے۔ قدم قدم پر ایک دوسرے سے مزاحمت پیش آتی ہے جس میں برسراقتدار طبقہ اہل حق کو ستانے اور ان کو ذرائع حیات سے محروم کرنے کی ساری تدبیریں کرتا ہے۔ دونوں طرف سے شدت بڑھتی چلی جاتی ہے ایک طرف مظالم کی شدت۔ دوسری طرف یہ شدت کہ سب کچھ سہیں گے مگر اپنے عزم کو ترک نہیں کریں گے۔ جس چیز کو خاوا ہے مگر ایک بار چھوڑ چکے ہیں اس کی طرف دوبارہ واپس نہیں جائیں گے۔ کیش کش بالآخر ایک ایسے نقطے پر پہنچ جاتی ہے جہاں معاشرہ حق پسندوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور یہ فیصلہ

کرتا ہے کہ ان کے وجود کو سرے سے ختم کر دیا جائے۔ اس وقت اہل حق یہ طے کرتے ہیں کہ اس بستی کو چھوڑ کر زمین کے کسی دوسرے ٹکڑے میں چلے جائیں۔ پہلے انھوں نے غلط خیالات اور حرام معاملات کو ترک کیا تھا۔ اب وہ اپنے مکان، اپنی جائیداد اپنے عزیزوں، غرض ساری متاع حیات کو چھوڑ دیتے ہیں یہ ہجرت کی آخری اور انتہائی شکل ہے۔

اس ہجرت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک مقام کو چھوڑ کر آدمی دوسرے مقام چلا گیا۔ کو چھوڑ کر حق کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ شیطان اور طاغوت کی بندشوں سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا ہے۔ چنانچہ قرآن وحدیث میں مومنین کی ہجرت کو " ہجرت الی اللہ" کہا گیا ہے۔ یعنی خدا کی طرف ہجرت۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ زمین کو چھوڑ کر آسمان پر نہیں چلے جاتے بلکہ اسی دنیا میں رہتے ہیں، اب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ چھوڑنے کا یہ عمل خدا پرستی کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ خدا کی طرف ہجرت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جو کچھ مانع آئے جو چیز بھی اس کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنے اس کو چھوڑ دینا۔ یہ خدا پرستانہ زندگی کی بنیاد ہے جب تک آدمی اس ہجرت کے لیے تیار نہ ہو وہ ایمان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔ زندگی کو اسلامی زندگی بنانے میں وہی کامیاب ہو سکتا ہے جو اس قربانی کے لیے تیار ہو جب وہ دیکھے کہ اس کے اندر ایسے افکار اور رجحانات پر پرورش پا رہے ہیں جو خدا کی مرضی کے خلاف ہیں تو انھیں کھرچ کر نکال دے۔ اگر وہ غلط اعمال میں مبتلا ہو تو انھیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔ کسی کا تعلق دین کی طرف کھل کر آنے میں روک بن رہا ہو تو ایسے تعلق کو خیر باد کہہ دے۔ کسی معیار زندگی کو برقرار رکھنے کا مسئلہ دین کے کام میں اپنا حصہ ادا کرنے کا موقع نہ دیتا ہو تو ایسے معیار زندگی کو دفن کر دے۔ دین کے تقاضے پورے کرنے میں معاشی خوشحالی کو خطرہ لاحق ہو تو اس کو گوارا کرلے۔ اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے وقف کرنے میں اپنا اور بچوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہو تو اس کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ جائے ۔ غرض ہر بار جب آدمی کسی ایسی حالت میں مبتلا ہو کہ ایک طرف خدا طلبارہا ہو اور دوسری طرف کوئی دوسرا تقاضا آدمی کو کھینچ رہا ہو تو دوسرے تقاضوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف بڑھ جانا۔ اسی کا نام ہجرت الی اللہ ہے۔

اس ہجرت کے بہت سے مراحل اور اس کی بے شمار شمیں ہیں مگر اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے ہم اس کو دو بڑے عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک ناجائز اور حرام چیزوں کو چھوڑنا اور دوسرے ان چیزوں کو چھوڑنا جو فی نفسہ قابل اجتناب نہیں ہیں۔ مگر دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں ایسے مراحل آتے ہیں کہ مومن کو ان سے بھی دست بردار ہونا پڑتا ہے۔

ہجرت کی پہلی قسم میں خیالات اور اعمال کی وہ پوری فہرست آتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام اور قابل ترک قرار دیا ہے ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے ماحول نام ہے تاریخ، روایات، عادات اور چال چلن کے ایک مخصوص ڈھانچہ کا ۔ یہ افکار و اعمال کا ایک نظام ہے جو زندگی کے تمام گوشوں پر چھایا ہوا

رہتا ہے جس طرح زمین کے گولے کے گرد ہوا کا ایک غیر مرئی غلاف ہے جس میں ہم سب لوگ ڈوبے ہوئے ٹھیک اسےی طرح پیدا ہونے والا اپنے وقت کے ماحول میں ڈوبا ہوا پیدا ہوتا ہے۔ اسی کے اندر اس کی نشو و نما ہوتی ہے۔ ماحول کے افکار اور روایات اس کی رگ رگ میں پیوست ہو جاتے ہیں، اور اکثر اوقات ان کے خلاف سوچنا اس کے لیے دشوار ہو جاتا ہے جب آدمی پر حق کا انکشاف ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس "دین آباء" کو چھوڑنے کا مرحلہ سامنے آتا ہے۔ اس کو ان تمام غلط اثرات کو کھرچ کرا پنے اندر سے نکال نیا ہوتا ہے جو ماحول کے اثر سے اس نے قبول کر رکھے تھے۔ پھر ہر آدمی کے اندر ایک نفس ہوتا ہے، نفس مقر لذتوں کو ڈھونڈتا ہے۔ اس کے نزدیک کسی چیز کو پسند یا نا پسند کرنے کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ صحیح ہے یا غلط اچھی ہے یا بری۔ بلکہ اس کے نزدیک پسندیدگی کا معیار صرف یہ ہے کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے۔ اور اس کے ذریعے سے اس کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ آدمی اپنی جاہلی زندگی میں بہت سی ایسی چیزوں اور شوخیوں کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے جو اگر چہ غلط ہیں مگر اس کے نفس کو پسند آتے ہیں۔ اسی طرح وہ بہت سی ایسی ذمہ داریوں کو بھلا دیتا ہے اور انہیں ترک کر دیتا ہے جو اگرچہ اخلاقا اس کے لیے ضروری ہیں، مگر اس کے نفس کو پسند نہیں آتیں۔ اس لیے جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اس کو اپنی زندگی میں شکست و ریخت کا ایک مستقل عمل جاری کرنا پڑتا ہے، بہت سی چیزیں جو اس کو پچھلی زندگی میں نہایت عزیز تھیں انھیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور بہت سی چیزیں جن سے اسے نفرت تھی جن سے اس کوئی دلچسپی نہیں تھی، ان کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوتا ہے، اس طرح ایمان لانے کے بعد غلط جذبات، غلط تعلقات، اور غلط اعمال سے جدائی کی ایک مستقل مہم شروع ہو جاتی ہے زندگی کے تمام معاملات میں ناجائز طریقوں سے بچنے کا ایک پیہم عمل کرنا ہوتا ہے جو موت کی آخری گھڑی تک جاری رہتا ہے یہ ہجرت کی پہلی اور ابتدائی کلم ہے جو ماضی کے غلط عادات و اطوار سے اپنے کو پاک کرنے اور آئندہ اس طرح کی کوئی چیز قبول نہ کرنے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اس ہجرت کا ذکر قرآن میں سورہ مدثر میں کیا گیا ہے جو نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورہ ہے۔ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرُ (مدثر - ۵) گندگی سے ہجرت کر یعنی خیال اور عمل کی تمام برائیوں کو چھوڑ نک یہی بات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل الفاظ میں واضح فرمائی ہے۔

الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ مهاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ یہ ہجرت الی اللہ کا ایک پہلو ہے جس میں آدمی کو تمام ناجائز چیزیں چھوڑ دینی ہوتی ہیں۔ خدا کی مرضی کے مطابق بننے کے لیے ان چیزوں سے اپنے کو پاک کرنا ہوتا ہے جو خدا کی مرضی کے کے خلاف ہیں۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس میں آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اپنے جائز مفادات بھی خدا کی راہ میں قربان کر دے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اسلام آدمی کو کرنے کا اتنا بڑا کام دے دیتا ہے کہ اس کے بعد پھر اسے کچھ اور کرنے کا موقع باقی نہیں رہتا۔ اس کی تو جہات اپنی ذات سے ہٹ کر ہمہ تن اسلام کی طرف لگ جاتی ہیں۔

لیے کہا گیا ہے کہ دنیا کا اندر مومن کی صرف ذمہ داریاں ہیں۔ یہاں اسیی کا کوئی حق نہیں ہے اس کا جو کچھ حق ہے وہ خدا کے یہاں ہے اور وہیں وہ اسے پائے گا۔

اسلام کو قبول کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اس کو اختیار کرلے۔ بلکہ عین اس کے ساتھ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو اس کی طرف بلائے اور پورے معاشرے میں اس کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ دین کا یہ دوسرا تقاضا ہماری ذمہ داری کو صرف دگنا نہیں کرتا بلکہ اس کو انتہائی حد تک دشوار بنا دیتا ہے۔ اگر چہ انفرادی زندگی میں ممکن حد تک دین کو اختیار کرنا بھی کچھ آسان کام نہیں ہے۔ یہ فتنوں سے بھری ہوئی دنیا میں اپنے اختیار اور اپنے ارادہ کو صرف صحیح سمت میں استعمال کرنا ہے۔ یہ خود مختار ہو کر اپنی مرضی سے اپنے آپ کو پابند بنا لینا ہے اور موت کی آخری گھڑی تک پابند بنائے رکھنا ہے۔ مگر دین کا دوسرا تقاضا ۔ یعنی دوسرے بندگان خدا تک خدا کے پیغام کو پہنچانا اور اس کے دین کو عملاً زمین کے اوپر رایج کرنے کی جدوجہد کرنا۔ یہ اتنا گراں بار تقاضا ہے کہ اس کا تصور بھی آدمی کو لرزا دینے کے لیے کافی یہ ایک ایسا عظیم اور جاں گسل کام ہے جو اس کی ساری قوت اور اس کا سب کچھ مانگتا ہے۔ حق اور اشاعت دین کے علاوہ کسی کام میں وہ جتنا وقت اور قوت بھی صرف کرے گا اُس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بقدر وہ اصل فریضہ کی ادائیگی میں کمی کر رہا ہے۔

آدمی جب اس حیثیت سے دین کو قبول کرتا ہے تو وہ فوراً محسوس کرتا ہے کہ اس کام میں اپنا حصہ ادا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ میں اور کچھ نہ کروں۔ وہ اپنے لیے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں پاتا کہ اپنی ضرورتوں کو انتہائی حد تک مختصر کر دے۔ دنیا کے اندر اپنی تمناؤں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے اور اپنی ذات کے لیے کم سے مصروف رہ کر حق کی زیادہ سے زیادہ خدمت انجام دے۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ بالکل ناگزیر ضروریات کی فراہمی کے بعد جو وقت بھی ملے اس کو شہادت دین کی راہ میں لگادے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کو اپنی انفرادی زندگی میں اختیار کرنا ہو تو صرف حرام چیزوں کو چھوڑ کر بھی کوئی شخص دیندار بن سکتا ہے مگر اسلام کو اجتماعی زندگی میں قائم کرنے کی مہم شروع کیجیے تو آپ کو بہت سی حلال چیزوں سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ اس کے بغیر صحیح طور پر اس کام کی ابتدا بھی نہیں کی جاسکتی۔ اس کو انجام تک پہنچانا تو بہت دور کی بات ہے۔

پہلی صورت میں آدمی کے اوپر صرف اس کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے اور دوسری صورت میں وہ ساری خلق تک پیغام حق پہنچانے کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔ یہ چیز آپ کی مصروفیتوں اور دقتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپ اسلام کے برحق ہونے اور اس کے سوا دوسرے تمام افکار و نظریات کے ناحق ہونے کے بے پناہ یقین پیدا کریں تاکہ آپ اس کے پر جوش مبلغ بن سکیں ۔ آپ کو اسلام کا تفصیلی علم حاصل کرنا ہے تاکہ دوسروں کے سامنے اس کو واضح انداز میں پیش کر سکیں ۔ آپ کو ان غلط افکار و نظریات کے خلاف دلائل فراہم

کرنے ہیں جنجھوں نے انسانی ذہنوں کو متاثر کر رکھا ہے تاکہ باطل کو چھوڑ کر لوگوں کو حق کی طرف آنے پر آمادہ آپ کو ایک ایک شخص تک پہنچنا ہے اور اس کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی قوت فہم کے مطابق اسے بات سمجھانی ہے۔ آپ کو اسلامی اخلاق کا نہایت اعلیٰ نمونہ بننا ہے تاکہ آپ کی زندگی آپ کے دعوے کی تردید کرنے والی نہ ہو بلکہ اس کی صداقت پر گواہ ہو۔ بغرض فرائض کی ایک عظیم فہرست ہے جو آپ سے آپ کی پوری عمر اور آپ کا پورا اثاثہ مانگتی ہے۔ پھر ایسے فرض کو ادا کرنے کی ذمہ داری اوڑھنے کے بعد کسی دوسری چیز میں دلچسپی لینے کا موقع کہاں باقی رہتا ہے۔

یہ ہجرت کی دوسری قسم ہے یعنی دین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنی ذات کے تقاضوں کو چھوڑ دینا جب دین کی ضروریات اور اپنی ضروریات میں ٹکراؤ ہو، جب دین کا کام آپ سے کا پورا وقت اور آپ کی ساری صلاحیتیں مانگتا ہو۔ جب دین کا تقاضا یہ ہو کہ آپ اپنی خوشی اپنا آرام اور اپنے عزیز و اقارب تک کو چھوڑ کر اس کی طرف بڑھیں تو آپ اپنا سب کچھ اس کے لیے قربان کردیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہ ہو جس کا تعلق آپ کو دین کی طرف جانے میں روک بن جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مندرجہ ذیل آیت میں بیان کی مومن، مہاجر اور مجاہد فی سبیل اللہ کے بلند درجات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ قُلْ اِنْ كَانَ اَبَاؤُكُمْ وَاَبْنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ اے نبی کہہ دو، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ اَقْتَرَفْتُمُوهَا بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہاری برادری کے لوگ وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِيْ پڑنے کا تمہیں ڈر لگا رہتا ہے اور مکانات جو تم کو پسند ہیں سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوْا حَتَّى يَاْتِيَ اللَّهُ بِاَمْرِهِ وَاللَّهُ اگر یہ تم کو خدا اور رسول سے زیادہ محبوب ہیں اور خدا کی لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ . راہ میں جہاد کرنے کے مقابلے میں تم کو ان چیزوں سے زیادہ ( توبه - ۲۴ )

نفعنگی ہے تو انتظار کرو، یہاں تک کہ خدا کا فیصلہ آجائے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس آیت میں جن چیزوں کا ذکر ہے وہ سب کی سب حلال ہیں اور ان میں سے کوئی بھی فی نفسہ حرام نہیں ہے مگر مومنین سے کہا گیا ہے کہ ان سب کو چھوڑ کر خدا کی طرف بڑھیں اور جو لوگ ایسا کریں وہ فاسق یعنی عہد شکن، قرار دیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ ہمارے پیشِ رو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے کیا تھا جنجھوں نے بنی آخر الزماں کے ذریعہ اپنے رب سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دین کو سر بلند کرنے کی جدوجہد میں اپنی ساری قوت لگا دیں گے۔ جب صحابہ کرام کے اس عہد پر بیس سال کی مدت گزر گئی اور انھوں نے مسلسل قربانیوں کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ وہ دین کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں تو غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد ۹ ھ میں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں ان کی کوششوں کی قبولیت کا اعلان فرمایا:-

اِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۝ (توبه - ۱۱۱)

اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لاپناد ہے اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے رہے ہیں ، پھر مارتے رہے ہیں اور مارے جاتے رہے ہیں ۔

یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے ، تورات میں ، انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ خوش ہو جاؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔

یہ ہجرت یا دوسرے لفظوں میں جائز مفادات کی قربانی انسان کی خدا پرستی کا امتحان بھی ہے اور اسی کے ذریعہ سے خدا کا دین بھی خدا کی زمین پر قائم ہوتا ہے۔ یہ اعلاء کلمۃ اللہ کی جد و جہد کا لازمہ ہے۔ جو لوگ اس کام میں حصہ لینے کے لیے آگے بڑھیں ، مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ دنیا میں ، یا مقام محفوظ کر لینے کے بعد آخریت کا کام کرنا چاہتے ہوں ، جو اپنے معیار زندگی کو گھٹانے پر تیار نہ ہوں ، جو اپنے بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنا گوارا نہ کریں ، جو دنیوی زندگی میں اپنی تمناؤں اور خواہشوں کو قربان نہ کریں ، جو یہ نہ سوچیں کہ اپنی معاشی مصروفیات میں کمی کر کے دین کی خدمت کے لیے اور زیادہ وقت نکالنا چاہیے ، بلکہ اس کے برعکس جو ہمیشہ یہ سوچتے ہوں کہ کس طرح اور کوئی بڑا کام مل جائے تاکہ اپنے بڑھے ہوئے اخراجات کو پورا کیا جا سکے ، مختصر یہ کہ جن کے اندر اتنا حوصلہ نہ ہو کہ وہ آج کے فائدے پر کل کے فائدے کو ترجیح دے سکیں ، ایسے لوگوں نے کبھی تاریخ میں دین کو سربلند نہیں کیا ہے اور جب تک یہ زمین و آسمان قائم ہیں آئندہ بھی ایسے لوگوں کے ہاتھوں یہ کام نہیں ہو سکتا۔ اب جہاد کو لیجیے ۔ جہاد کے معنی ہیں کسی چیز کے لیے اپنی آخری کوشش صرف کرنا ۔ اتنی کوشش کرنا کہ آدمی تھک ہجرت کی طرح یہ جہاد بھی کسی وقتی کارروائی کا نام نہیں ہے بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق ساری زندگی سے ہے۔ جہاد صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ ایمان لانے کے بعد ہی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور زندگی کے آخر لمحات تک جاری رہتا ہے۔ ایک غیر اسلامی معاشرہ میں جہاد کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسی مارکس کے جدلیاتی فلسفہ میں ایک نظام کے اندر اس کے ضد کی ہوتی ہے۔ یہ ایک زبردست چیلنج ہے جو کسی نظام کے اندر اس کے عدو کی حیثیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ جاہلی معاشرہ میں کسی کا اسلام قبول کرنا دراصل وقت کے خلاف فیصلہ یہ فیصلہ اگر صحیح شعور اور مکمل عزم کے ساتھ ہو تو بالکل لازمی نتیجہ کے طور پر معاشرہ کے ہر فرد اور اس کے تمام اداروں سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک طرف وقت کا معاشرہ ہوتا ہے جو اپنے تمام نظری اور عملی پہلوؤں کے اعتبار سے زندگی کے تمام شعبوں پر چھایا ہوا ہوتا ہے دوسری طرف یہ صاحب ایمان ہوتا ہے جو اس سے مختلف ایک اور ہی طرز زندگی کو اپنے گرد و پیش کی دنیا میں دیکھنا چاہتا ہے۔ ماحول کے ساتھ اس کا یہ اختلاف اس کو ایک

ایسی تیز گیس کی مانند بنا دیتا ہے جو کسی محدود خول کے اندر بند ہو اور ہر آن اس سے نکلنے کے لیے بے قرار ہو۔ مکش کش اور جد و جہد کا عمل آدمی کے اپنے نفس سے شروع ہوتا ہے اور تمدن کے مختلف گوشوں میں پھیلتا ہوا ہر اس معاملہ تک پہنچ جاتا ہے جس کا تعلق انسانی زندگی سے ہو۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور دن بہ دن تیز سے تیز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کش مکش اپنے آخری نقطے پر پہنچ جاتی ہے، باول کا بند ٹوٹ جاتا ہے اور جاہلی نظام شکست کھا کر اسلام کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے۔

جہاد کی اصل حقیقت خدا کی راہ میں چلنے کے لیے اپنے آپ کو تھکانا ہے۔ قرآن میں خدا کے دین کو "نجد" " کہا گیا ہے جس کے معنی بلند مقام کے ہیں۔ اور اس دین پر عمل کرنے کو اونچائی پر چڑھنے سے تشبیہ دی گئی ہے (بید -۱۱) اس مثال سے ہم جہاد کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ دنیا میں زندگی گزارنے کی صرف دو راہیں ہیں۔ ایک نفس کی خواہش کے مطابق اور دوسری خدا کی مرضی کے مطابق۔ ایک غیر ذمہ دارانہ زندگی ہے اور دوسری ذمہ دارانہ پہلی راہ بے حد آسان ہے اور دوسری راہ بے حد دشوار پہلی صورت میں اوپر سے نیچے آنا ہوتا ہے اور دوسری صورت میں نیچے سے اوپر جانا۔ گاڑی کو ڈھلوان راستے پر چھوڑ دیجیے تو وہ خود بخود لڑھکتی چلی جائے گی، اس کے لیے کسی غیر معمولی کوشش کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر اسی گاڑی کو کسی بلندی پر چڑھانا ہو تو مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ ایک تھکا دینے والی مشقت کے بغیر کوئی شخص اپنی گاڑی کو نیچے سے اوپر نہیں لے جا سکتا۔ یہی عمل جب وقت اور خواہش کے خلاف اپنی زندگی کو خدا کی طرف لے جانے کے لیے کیا جائے تو اس کو ہم جہاد

انسان جب یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرے گا، تو اس کو فوراً معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دو ایسی طاقتیں ہیں جو اس کے اس ارادہ کی راہ میں زبردست روک ہیں۔ ایک خود اس کا اپنا نفس دوسرے نفس سے مراد انسان کا یہ جذبہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے لیے لذت اور آرام کو پسند کرتا ہے۔ اس کو ہمیشہ آسانی کی تلاش رہتی ہے وہ عزت اور برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے بلکہ جدھر اس کا جی چاہتا ہے اس طرف نکل جاتا ہے۔ یہ جذبہ اس کو اکساتا ہے کہ ہر وہ کام کرے جس سے اس کی ان خواہشوں کو تسکین ملتی ہو اور ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے اس کی ان خواہشوں پر ضرب پڑے۔ سے مراد خارج کا وہ غلط اقتدار ہے جو ماحول کی روایات، وقت کے نظریات اور عوام الناس کی خواہشوں کی صورت میں آدمی کے اوپر دباؤ ڈالتا ہے۔ یہ طاغوت افراد کی زندگی میں متکبرانہ روش کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اجتماعی زندگی میں غیر خدائی اقتدار کی صورت میں۔ یہ خارجی قوتیں براہ راست بھی مزاحمت کرتی ہیں اور بالواسطہ بھی۔ بالواسطہ اس طرح کہ سوسائٹی پر عملاً قابض ہونے کی وجہ سے زندگی کے تمام گوشوں میں انھیں کے نظریات کھیل جاتے انسان کے لیے اس کے سوا کوئی شکل نہیں ہوتی کہ ان کو مانے اور اپنے آپ کو ان سے ملوث کرے، اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور براہ راست اس لیے کہ اس طرح کے ایک ماحول میں حق پر چلنے کا ارادہ ان قوتوں

ہے، یہی وہ رُعب ہے وہ لانِ اونٹ لغام سے لیے موت کی بین لوٹی ہے۔ اس لیے جو لوگ اس قسم کا ارادہ لے کر اُٹھتے ہیں وہ ان کو روکنے اور ان کو کچل دینے کے لیے اپنا پورا زور صرف کرتی ہیں اور اپنے دائرہ میں ان کو زندگی کے مواقع سے محروم کرکے رکھ دیتی ہیں۔

ان حالات میں جب کوئی شخص خدا کی طرف بڑھتا ہے تو اس کو اپنے اندر سے لے کر باہر تک خیالات سے لے کر عمل کی دنیا تک قدم قدم پر بیشمار رکاوٹوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کہیں آرام کے مقابلہ میں تکلیف گوارا کرنا ہوتا ہے، کہیں ایک لذتیر رجحان کو چھوڑنے اور ایک خشک عقیدہ کو قبول کرنے کے لیے مکش مکش کرنی پڑتی ہے۔ کہیں ملتے ہوئے ناجائز فائدوں کے ڈھیر کے بجائے ایک حقیر حاصل پر آمادہ ہونے کے لیے اپنے آپ سے زبردستی کرنی پڑتی ہے۔ کہیں عزت اور ناموری کے بجائے گم نامی اور ذلت پر قانع ہونے کے لیے مجاہدہ کرنا ہوتا ہے۔ کہیں اپنے جائز حقوق اور اپنے واقعی مفادات سے محرومی پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ غرض اس کے سامنے دو مختلف راہیں کھلی ہوتی ہیں اور اس کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ جدھر چاہے چلا جائے ۔ ایک طرف جانے میں دنیا کی ہرچیز ملتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ اور دوسری طرف جانے میں بظاہر کچھ کبھی ملتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا نفس مجبور کرتا ہے کہ آسان راستہ کی طرف جائے ۔ خارجی قوتیں اس مقصد کے لیے اپنا پورا وزن اس کے اوپر ڈال دیتی مگر وہ ان ساری مزاحمتوں کے باوجود آسان اور پر لطف راستے کو چھوڑ دیتا ہے اور کھینچ کر اپنے کو مشکل راستہ کی طرف لے جاتا ہے ۔ اسی کش مکش کا نام جہاد ہے۔

جس چیز کو ہم اجتماعی انقلاب کہتے ہیں وہ بھی اسی کش مکش کا ایک قدرتی نتیجہ ہے جس کے بعد ماحول پر اسلام کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اجتماعی انقلاب برپا کرنا اسلام کا اصل مقصود ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ مقصد نہیں بلکہ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مسلسل عمل کا آخری انجام ہے۔ اسلام کے مطابق جینے اور مرنے کا ارادہ جو ابتدا قلب کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ وہ جب عمل کی صورت اختیار کرتا ہے اور ذہن سے نکل کر ماحول میں پھیلنا شروع ہوتا ہے تو اسی پھیلاؤ کے ایک مخصوص دائرہ کو ہم اجتماعی انقلاب کہتے ہیں۔ انقلاب کو مصنوعی درخت کی طرح لگایا نہیں جاسکتا اور نہ اس کو بوریوں میں بھر کر کہیں باہر سے لایا جاتا ہے بلکہ وہ ایک عمل کے طبعی نتیجہ کے طور پر خود اپنی زمین سے ابھرتا ہے۔ جس طرح انڈے کے اندر ایک زندہ بچہ کا وجود یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک روز اوپر کا خول ٹوٹ جائے اور عقتا جاگتا بچہ اس کے باہر آ جائے ۔ ٹھیک اسی طرح مخالف ماحول کے اندر ایک اسلامی گروہ کی موجودگی اس کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ اگر یہ گروہ اپنے ایمان میں مخلص ہے اور عقیدہ کو عمل کی شکل دینے کا سچا عزم رکھتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ آن باطل کی دیوار کو متزلزل کر رہا ہے۔ ایسا ایک گروہ لازمی طور پر دیوار کو توڑ دے گا۔ وہ اس کے اندر نہیں ٹھہر سکتا۔

جہاد ہر اس رکاوٹ سے لڑنے اور اس سے کش کش کرنے کا نام ہے جو دین پر عمل کرنے کے سلسلے میں پیش آئے اور چونکہ یہ رکاوٹ انسان کے اندر سے بھی ہوتی ہے اور باہر سے بھی ، اس لیے جہاد میں آدمی بھی خود

اپنے نفس کے بالمقابل ہوتا ہے اور کبھی خارجی دنیا سے کش مکش کرتا ہے۔ اس کو بھی خود اپنی خواہشوں سے لڑنا ہوتا ہے، کبھی زبان سے دوسروں کے طرزِ اصل پر گرفت کرنی ہوتی ہے اور کبھی ہاتھ کی قوت سے راہِ حق کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :۔

جَاهِدُوا أَهْوَاءَكُمْ كَمَا تُجَاهِدُونَ اپنی خواہشوں سے جہاد کرو جس طرح تم اپنے دشمنوں اعداء کم (مفردات امام راغب) سے جہاد کرتے ہو۔

مگر جہاد اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے صرف کسی ظاہری عمل کا نام نہیں ہے بلکہ اس مخصوص کیفیت کا نام ہے جو کسی عمل کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہے ۔ ظاہری شکلیں اسی کیفیت جہاد کو پیدا کرنے کے لیے ہیں نہ کہ خود ان ظاہری شکلوں کا نام جہاد ہے۔ ایک شخص رات دن کی کوشش سے اسلام پر ایک اعلیٰ درجے کی کتاب لکھتا ہے۔ یہ جہاد کی ایک شکل ہے۔ لیکن اس کا مقصد اگر یہ ہے کہ اس کتاب سے اس کی شہرت ہوگی یا اس کو مالی فوائد حاصل ہوں گے تو اس کے اس عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں وہ جہاد کہے جانے کا مستحق نہیں ہے۔ اس کے برعکس کوئی نیک کام کرتے ہوئے جب اس کے دل میں ایک غلط خیال گزرتا ہے اور اس تصور سے وہ کانپ اٹھتا ہے کہ اس طرح اس کا سارا کیا کرایا مٹی ہو جائے گا، اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں اور بے اختیار وہ کہہ اٹھتا ہے مجھے شیطان کے حوالے نہ کر ورنہ میں تباہ ہو جاؤں گا۔ تو یہ جہاد ہے۔

یہ بات صرف جہاد ہی سے متعلق نہیں ہے بلکہ دوسری عبادات کا بھی یہی معاملہ ہے۔ دین میں جو کام بھی کرنے کے لیے بتائے گئے ہیں وہ محض اپنی شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت کے اعتبار سے مطلوب جن اذکار اور دعاؤں کی فضیلت بیان کی گئی ہے جن عبادات کے ادا کرنے کو فرض قرار دیا گیا ہے، جن اخلاق واعمال کو یہ اہمیت دی گئی ہے کہ ان کو اختیار کیے بغیر سرے سے دعوے سے دعوے ایمان ہی معتبر نہیں ہوتا۔ کا مطلب دراصل یہ بتانا ہے کہ خدا پرستانہ زندگی کے مظاہر کیا ہوتے ہیں نہ یہ کہ کن مظاہر کا نام خدا پرستی ہے۔ میں خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ یہ نہیں ہے کہ زبان سے اس کے لیے چند تعریفی کلمات کا ورد کر لیا جائے، نماز روزہ اور حج کے نام پر کچھ مخصوص عبادتی افعال انجام دیدیئے جائیں۔ مال میں سے ایک مقررہ حصہ نکال کر غریبوں میں بانٹ دیا جائے۔ یا زبان و قلم کے ذریعہ سے خدا کے دین کی تبلیغ کردی جائے۔ بے شک یہی وہ اعمال ہیں جو خدا پرستانہ زندگی کے لیے لازمی پروگرام کی حیثیت رکھتے ہیں اور خدا پر ایمان جب بھی انسانی زندگی میں ظہور کرے گا وہ انہی شکلوں میں ظہور کرے گا۔ ان کے ظاہر ہونے کا کوئی اور قالب اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا ہے۔ مگر ان خارجی شکلوں کے پیچھے وہ اصل چیز جو خدا کو مطلوب ہے اور جس کی موجودگی کسی آدمی کو اس بات کا مستحق بناتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اسے حاصل ہوں، وہ دراصل دل کی یہ اندرونی کیفیت ہے کہ آدمی کے جذبات و خیالات بالکل خدا کی مرضی کے تابع ہو جائیں۔ اس کو وہی چیز پسند ہو جس کو خدا پسند کرتا ہے، اور وہی چیز ناپسند ہو جس کو خدا ناپسند کرتا ہے۔ چیز خدا کی مرضی کے خلاف ہو اس کا وہ دشمن بن جائے اور جو چیز خدا کو محبوب ہو اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنا

آخری سرمایہ تک قربان کر دے۔

قرآن کی اسی بتائی ہوئی زندگی کو پورا کرنے یا نہ کرنے پر ہمارے مستقبل کا انحصار ہے۔ ایک شخص جو اس حقیقت کو جان چکا ہو کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے، اور پھر جو اس واقعے پر بھی ایمان لایا ہو کہ آخرت کا ایک عظیم دن آنے والا ہے جب پوری نسل انسانی خدا کی عدالت میں کھڑی کی جائے گی۔ اس کی خواہش اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ قیامت کے اس ہولناک دن، جب وہ مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہو تو اس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ یہ کہہ دے کہ یہ میرا بندہ ہے جو دنیا کی زندگی میں میرا وفادار رہا۔ مگر یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ یہ مقام کسی کو محض خواہش کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی معمولی حکومتوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی کو وفاداری کا سرٹیفکٹ صرف اس وقت دیتی ہیں جب کہ وہ اس کا دین، اخلاق اور ضمیر سب کچھ اس سے خرید لیتی ہیں۔ پھر خدا جو تمام حاکموں کا حاکم ہے، جو بے حد غیرت مند ہے جو اپنی خدائی میں کسی کی معمولی شرکت بھی گوارا نہیں کرتا، وہ کیا محض دل کی ایک خواہش یا زبان کی حرکت سے خوش ہو جائے گا اور کسی کو محض اس بنا پر وفاداری کا اعزاز بخش دے گا کہ وہ ایسا چاہتا ہے، خواہ اس نے اپنی وفاداری کو عملاً اس کے لیے خاص کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری تمام وفادار یوں کی طرح خدا کا وفادار بننے کی خواہش بھی ایک عظیم جد وجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کے اداروں میں کسی کی اہمیت صرف اس وقت تسلیم کی جاتی ہے جب وہ اپنی بہترین صلاحیتیں اس کے لیے وقف کر دے۔ ایک دکان اپنے اندر نفع کے امکانات کسی کے اوپر صرف اس وقت ظاہر کرتی ہے جب آدمی اپنا سب کچھ اسے دے دیتا ہے۔ حکومتوں کے نزدیک کوئی شخص صرف اسی وقت اعتماد اور احترام کا مستحق بنتا ہے جب وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس کی نذر کر چکا ہو۔ ٹھیک اسی طرح اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی وفاداری کا مقام صرف اسے حاصل ہوتا ہے جو اپنی قربانیوں کے ذریعہ اس کا استحقاق ثابت کر دے۔ شرک نہ دنیا کے معبودوں کو پسند ہے اور نہ خدا کو۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر اس دن کا تصور کیجیے جب ہم اور آپ اور تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کیے جائیں گے کہ ایک رب العالمین کے سوا سب کی آوازیں پست ہو چکی ہوں گی۔ جس دن آدمی اپنے سوا ہر ایک کو بھول جائے گا۔ خواہ وہ اس کا دوست اور قریب ترین عزیز کیوں جس دن صرف حق بات میں وزن ہوگا اور اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو چکی ہوں گی۔ آدمی حسرت کرے گا کہ کاش اس نے ساری عمر صرف آج کی تیاری میں صرف کر دی ہوتی۔ یہ فیصلہ کا دن ہو گا۔ ہمارے درمیان اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ وہ موت جس کے متعلق کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب آجائے گی۔ آج جو لمحات ہم گزار رہے ہیں اس کے ہر لمحہ کا انجام ہم کو آئندہ کروڑوں سال تک بھگتنا ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اس کے لیے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی زندگی کی مثال ایک ڈھلوان کی ہے جس پر سارے انسان نہایت تیزی کے ساتھ بھاگے چلے جا رہے ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب تر کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقدر ہے۔

ہم کو زندگی کے صرف چند دن حاصل ہیں۔ ایسے چند دن جن کا انجام کروڑوں اور اربوں سال نہیں بلکہ ابد الآباد تک بھگتنا پڑے گا۔ جس کا آرام بے حد خوش گوار ہے اور جس کی تکلیف بے حد درد ناک ۔ ہر بار جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ آپ کی عمر میں ایک دن اور کم کر دیتا ہے۔ اس عمر میں جس کے سوا آنے والے ہولناک دن کی تیاری کا اور کوئی موقع نہیں ۔ ہماری زندگی کی مثال برف بیچنے والے دوکان دار کی ہے، جس کا اثاثہ ہر لمحہ گھل کر کم ہوتا جا رہا ہو اور جس کی کامیابی کی شکل صرف یہ ہو کہ وہ وقت گزرنے سے پہلے اپنا سامان بیچ ڈالے ورنہ آخر میں اس کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا اور دکان سے اس کو خالی ہاتھ اٹھ کر جانا پڑے گا۔ پھر قبل اس کے کہ موت آکر ہم کو اس دنیا سے جدا کر دے، جہاں صرف گزرنا ہے اور اس دنیا میں پہنچا دے جہاں کرنا نہیں بلکہ صرف پانا ہے، ہمارے لیے ضروری ہے کہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کا صحیح مصرف سوچ لیں۔ ہم سب کو ایک روز مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ پھر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے رب کے پاس اس حال میں پہنچیں کہ دنیا میں وہ حق کے لیے اپنا سب کچھ لٹا چکے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے انھیں پر نظر کرے گا۔ (تقریر اجتماع جماعت اسلامی ہند بمقام لکھنو ، یکم مارچ ۱۹۵۸ ) گلاب کی سات سو قسمیں شمالی ہند کی سردیوں کے موسم میں گلاب کے پھول سب سے زیادہ اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ یہاں ایک عمدہ پھول ۲۵ پیسے میں مل جاتا ہے مگر اس پھول کی قیمت یورپ میں آٹھ روپے ہو جاتی ہے۔ یورپ کی پھول منڈیوں میں کروڑوں ڈالر کے گلاب فروخت ہوتے ہیں، تاہم ہندوستان کی برآمدات میں گلاب کا کوئی حصہ نہیں۔

اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن نے ۱۹۶۹ء میں گلاب کے پھول یورپ بھیجنے کی کوشش کی تھی۔ مگر گلاب کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ وہ اپنی فطری شادابی کی حالت میں اپنی منڈی میں پہنچ جائے اس لیے کہ روانگی کا خصوصی اہتمام کرنا ہوتا ہے جس میں ہم کو کامیابی نہ ہوسکی۔ اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: ”گلاب کے پھولوں کی یہ برآمد آزمائشی تھی مگر جب ہم کوالٹی، تازگی، پیکنگ اور ہوائی سفر کے مسائل کو حل کریں گے تو اس تجارت میں ہماری کامیابی یقینی ہے۔ انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے باغبانی کے شعبہ نے گلاب کی تقریباً ایک درجن قسموں کی نشاندہی کی ہے جو یورپ کی منڈیوں میں عام طور پر دوسرے ملکوں سے اس ادارہ نے گلاب کی پیدائش کے بعض ترقی یافتہ طریقے بھی معلوم کیے ہیں جو یورپی منڈیوں کی ضروریات کے لیے کارآمد ہو سکتے ہیں۔

گلاب کے برآمدی امکانات کو دیکھ کر دہلی کے اطراف کے تقریباً ۲۰ کسانوں نے اس کی کاشت میں دلچسپی لینا شروع کر دیا ہے۔ ذاکر حسین روزگارڈن، جس کو چڈی گڑھ ایڈمنسٹریشن چلاتا ہے، اس نے بھی اس سلسلے میں کام شروع کیا ہے۔ ملراج اروڑا کے فارم میں ۷۰ ہزار گلاب کے پودے لگائے گئے ہیں۔ گلاب کا پھول قدیم زمانہ میں صرف شاعروں کے لیے مضمون بندی کا ذریعہ تھا، مگر آج وہ قیمتی زر مبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

اسلام کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کے آگے سپرد (SURRENDER)

مسلمان وہ ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ مرنے کے بعد ہر ایک سے اس کے کارنامہ زندگی کا حساب لے گا۔ کے بعد اپنے وفادار بندوں کے لئے دائمی جنت کا فیصلہ کرے گا، اور غیر وفادار بندوں کو دائمی جہنم میں ڈال دے گا۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو ایک لفظ میں آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کہہ سکتے ہیں۔ یہ احساس جب کسی دل میں پیدا ہو جائے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی وہ ہر وقت خدا سے ڈرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ خدا اس کو کھلے اور چھپے ہر حال میں دیکھ رہا ہے، بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ہر انسان کے پیچھے اس کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ وہ کبھی اس بات کو نہیں بھولتا کہ بالآخر وہی چیز صحیح قرار پائے گی جس کو خدا صحیح کہے اور وہ سب کچھ غلط ٹھہرے گا جس کو خدا غلط ٹھہرائے۔ اسی کے ساتھ مسلمان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ زندگی کی اس حقیقت کو دوسری تمام قوموں تک پہنچائے۔ اس سنگین واقعہ سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لئے پہلے انبیاء آتے تھے۔ ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری نبی آخر الزماں کی امت پر ڈال دی گئی ہے، مسلمان پر جس طرح خود عمل کرنے کی ذمہ داری ہے ، اسی طرح دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک کام، دوسرے کام کے لئے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتا۔

اسلامی مرکز کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو دنیوی مہم کے بجائے اُخروی مہم کے طور پر سامنے اس کا منصوبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر ان احساسات کو جگائے، اور دوسری قوموں تک حق کا پیغام پہنچانے کی تدبیریں اختیار کرے۔

اسلامی مرکز کے سامنے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو وقت کے اسلوب اور زمانہ حاضر کی زبان میں لوگوں کے سامنے لایا جائے ۔ تاکہ جس اسلام کو وہ تقلیدی طور پر مانتے ہیں ، وہ ان کے ذہن کی غذا بن سکے ، وہ ان کے اندر عمل کی حرارت پیدا کرنے لگے۔ وہ ان کی زندگی کا محض ایک ضمیمہ نہ ہو ، بلکہ وہی ان کی کل زندگی بن جائے۔ ہر عہد کا ایک فکری معیار ہوتا ہے ، اور کسی انسان کی زندگی میں کوئی فکر اسی وقت غالب فکر بن کر داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اس کو اِس فکری معیار پر ملے جس کے اندر وہ سانس لے رہا ہے۔ اسلامی مرکز کے سامنے دوسرا کام ، مسلمانوں کو داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھانا ہے۔ دعوت ہی واحد کام ہے جو مسلمانوں میں عمل کا حوصلہ ابھار سکتا ہے ، ان کے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کرتا ہے ، ان کو خدا کی اجتماعی نصرتوں کا مستحق بناتا ہے۔ ان کو آخرت میں خدا کے گواہ کا درجہ عطا کرتا ہے جس سے بڑا کوئی درجہ انسان کے لئے نہیں ۔ اسلامی مرکز انھیں دونوں مقاصد کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ کسی قسم کی سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ مسلمانوں کو اور تمام انسانوں کو آنے والے یومِ الحساب سے ہوشیار کرنے کی ایک مہم ہے۔ زندگی میں آدمی کو بے شمار مسائل نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد ایک ہی مسئلہ اس کے سامنے ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ موت سے پہلے آدمی اس مسئلہ سے آگاه ہو جائے ، موت سے پہلے وہ اس کی تیاری میں اپنے کو لگا دے۔

Printed page