Al-Risala · December 1977

ادارۃ الیاس

Al-Risala, December 1977, pp. 1–3

By Maulana Wahiduddin Khan

"الرسالہ کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بناؤ۔ اس کی مقبولیت بڑھے اور عوامی تعاون کے ذریعہ اس کو ہمارے جو ہمدرد اس قسم کی تجویزیں بھیج رہے ہیں، ان کی نیت خواہ کتنی ہی اچھی ہو، اس بے رحم دنیا میں بہر حال وہ قابل عمل نہیں۔ اس تجویز کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ دعوت حق کے اخراجات کو مدعو سے وصول کیا جائے۔ مگر ہمارے ہمدردوں کو جاننا چاہیے کہ کپڑے اور صابن کی قیمت اس کے صارفين بخوشی دینے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں، لیکن دعوت حق کا بل مدعو سے وصول نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر وہ وصول ہو سکتا ہے تو صرف جزوی شکل میں۔

تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو خالص حق کی سطح پر چلتی ہیں۔ دوسری وہ جو عوامی ذوق کی سطح پر چلائی عوامی ذوق کی سطح پر چلنے والی تحریکیں بہت جلد عوام میں یا کم از کم اس کے قابل لحاظ حصہ میں اپنی جگہ بنا لیتی کیونکہ وہ ان کو ان کی پسندیدہ چاشنی دے رہی ہوتی برکت کی چاشنی، سیاست کی چاشنی، تفریح کی چاشنی، سطحیات کی چاشنی، وغیرہ۔ الرسالہ میں اس قسم کی کوئی چاشنی پیدا کرنا ممکن نہیں ہے۔ الرسالہ کا مقصد یہ ہے کہ بے آمیز حق کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ الرسالہ اگر اپنے مدعو سے "اجر" کی توقع کرے تو وہ صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی اصل دعوت میں "تکلف" کرکے اس کو عام پسند بنا دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کوشش الرسالہ کی مقصدی حیثیت کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوگی :

قُلْ مَا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (ص - ۸۶) یہ ہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی خریداری کی مدت ختم ہوگئی براہ کرم سالانہ زر تعاون بذریعہ منی آرڈر روانہ فرمائیں تاکہ الرسالہ آپ کے نام جاری رکھا جاسکے۔

کبن میں اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اور میں بناوٹ کرنے والوں میں نہیں ہوں (لا ازید علیہ ولا انقص منہ، یہ تو صرف نصیحت ہے سارے عالم کے لئے۔ اس قسم کی تحریکیں ہمیشہ خواص کے تعاون سے چلتی ہیں نہ کہ عوام کے تعاون سے۔ مکہ میں اسلامی تحریک زیادہ تر دو تاجروں کے مالی تعاون سے چلتی رہی۔ ایک خدیجہ بنت خویلد، دوسرے ابو بکر بن ابی قحافہ ۔ یہی آج بھی ہوگا ۔ الرسالہ کی آواز اگر کچھ خواص کے اندر یہ حرارت پیدا کر سکے کہ وہ مالیاتی قربانی کی حد تک اعلانِ حق کی اس اسکیم کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو یقیناً وہ جاری رہے گا۔ اور اگر خدانخواستہ اس کے برعکس صورت پیش آئی تو مذکورہ بالا قسم کی تجویز میں اس کو چلانے والی نہیں ہو سکتیں ۔ تجویز میں اس ” ٢٥ پیسے “ کے بقدر افادیت بھی نہیں ہے جس سے ہمارا ایک ہمدرد ڈاک خانہ سے لفافہ خریدتا ہے اور اپنی تجویز کو اس میں ملفوف کر کے ہمارے نام روانہ کرتا ہے۔ ہمارے ہمدردوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ الرسالہ کے اجراء کا مقصد کوئی صحافتی چاٹ ہاؤس کھولنا یا ادبی شیریں بھون قائم کرنا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم "صحت" اور ”ادب“، جیسے الحاقات کے بغیر اس کو کرنا زیادہ پسند الرسالہ دراصل وقت کے معیارِ فکر پر اسلام کو اس کا مقام دلانے کی کوشش ہے۔ یہ دورِ جدید کی سطح پر اسلام کو از سرِ نو زندہ کرنے کی ایک مہم ہے۔ اس قسم کی آواز کو سمجھنے اور اس کو لے کر آگے بڑھنے والے قرآن کے الفاظ میں ”ملا قوم“ یہ ایک حقیقت ہے کہ الرسالہ کے مخاطب اصلاً عوام نہیں ہیں۔ بلکہ قوم کا وہ باشعور طبقہ ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے اور عملی یا فکری طور پر عوام الناس کو اپنے ساتھ چلانا ہے۔ عوام کے لئے قابلِ مطالعہ بنانے کی خاطر "الرسالہ" کے معیار کو بدلنا خواص کے لئے اس کو ناقابل مطالعہ بنانے کے ہم معنی ہوگا۔ اور یہ قربانی بہر حال کسی طرح نہیں دی جاسکتی۔

ہمارے لئے عملاً اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ "الرسالہ" کو نفع نقصان سے بے نیاز ہوکر چلائیں۔ کا مخاطب سب سے زیادہ جو گروہ ہے، وہ وہی ہے جو کسی رسالہ یا کتاب کو خرید کر پڑھنے میں ہمیشہ سب سے پیچھے ہوتا دوسرے لفظوں میں "الرسالہ" کے خریداروں کی تعداد بالفرض بہت بڑھ جائے، تب بھی کم از کم ابتدائی کچھ برسوں تک، وہ خسارہ ہی پر چلے گا۔ اس خسارہ کو کون پورا کرے ۔ اس قسم کی فکری مہم کے خسارہ کو پورا کرنے والے پہلے بھی چند دردمند لوگ ہوتے تھے ، آج بھی ایسے ہی کچھ لوگ ہوں گے۔ "الرسالہ" اگر اپنے پیچھے دردمندوں کی ایسی تعداد جمع نہ کر سکے تو اس کو بند کر دینا اس سے بہتر ہے کہ دوسرے جرائد کی طرح اس کو عوامی ذوق کی دکان بنا دیا جائے۔

"الرسالہ" کے جو ہمدرد ہمیں اس قسم کی تجویزیں بھیج رہے ہیں کہ "الرسالہ" کے معیار کو عوامی بناؤ تاکہ عوامی خریداری میں اضافہ ہوسکے ان سے ہم کہیں گے کہ "الرسالہ" کے ساتھ آپ کی زیادہ بڑی خیر خواہی یہ ہوگی کہ آپ اپنی تنہائیوں میں یہ دعا کریں کہ خدایا ! "الرسالہ" کے موجودہ علمی معیار کو برقرار رکھ، بلکہ اس کو اور زیادہ بلند کر تاکہ وہ خواص امت کے لئے قابل مطالعہ بن سکے اور کچھ صاحب خیر افراد کو اس کی مدد کے لئے کھڑا کر دے تا کہ نفع نقصان سے بے نیاز ہوکر وہ امت کے باشعور اور تعلیم یافتہ افراد تک حق کا پیغام پہنچانے کا کام جاری رکھے "الرسالہ" کی کامیابی یہ ہے کہ امت کے باشعور طبقہ تک اسلام کا اصل پیغام مؤثر شکل میں پہنچادے، خواہ یہ طبقہ اس کا کوئی "اجر" دینے کے لئے تیار ہو یا نہ ہو۔

ایک بزرگ راستہ چل رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے معتقدین کی ایک بڑی جماعت راستہ میں ایک فقیر نے روکا :

" آپ نے بہت کچھ پڑھا اور جانا ہو گا۔ ایک بات میری بھی سن لیجیے "۔ اس نے کہا اور پھر ایک وقفہ کے بعد بولا : " سنئے ! وہاں کسی کی ساری پوتھی نہیں دیکھیں گے۔ آدمی سچ مچ جہاں ہے، بس وہیں انگلی رکھ دی جائے گی ؛ اتنا کہا اور خاموشی سے غائب ہو گیا ۔ آدمی لوگوں کے درمیان اس سے جانا جاتا ہے کہ وہ مقرر ہے، مصنف ہے، فلاں عہدہ اس کے پاس ہیں ۔ فلاں فلاں ملکوں کی اس نے سیاحت کی ہے ۔ اتنے آدمیوں کی جماعت اس کے ساتھ ہے۔ اس نے فلاں فلاں کارنامے انجام دیئے ہیں۔ مگر اکثر یہ تمام چیزیں مصنوعی ہوتی ہیں۔ انسان حقیقتًا کہیں اور ہوتا ہے، مگر دیکھنے میں کہیں اور نظر آتا ہے۔ اس کی تمام سرگرمیاں اپنی ذات کے گرد گھومتی ہیں ۔ اگر چہ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ خدا اور اس کے دین کے لئے سرگرم عمل ہے۔

کوئی انسان کہاں ہے ، یہ ہم نہیں جان سکتے ۔ مگر خدا اس کو اچھی طرح جانتا ہے ۔ آخرت میں کسی آدمی کی زندگی کے ٹھیک اسی مقام پر وہ انگلی رکھ دے گا جہاں وہ حقیقتًا جی رہا تھا۔

ایک وزیر اعظم جب اقتدار کی کرسی پر ہو تو ملک کی تمام رونقیں اس کے جلو میں چلتی ہیں ۔ ہر طرف بس اسی کے شان دار کارناموں کی دھوم ہوتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس سے بڑھ کر انسانیت کا پیکر اور کوئی نہیں ۔ مگر جب عوام کی عدالت اس کو بے نقاب کرتی ہے اور اس کو مصنوعی رونقوں کے تخت سے اتار کر وہاں رکھ دیتی ہے جہاں وہ فی الواقع تھا تو اچانک دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس کی بظاہر روشن زندگی مکمل طور پر ایک تاریک زندگی تھی۔ وہ تمام تر اپنی ذات کی سطح پر جی رہا تھا۔ اگر چہ اس کے تحت ابلاغ کے تمام محکمے رات دن اس پروپیگنڈے میں مصروف تھے کہ وہ خدمت قوم اور تعمیر ملک کی سطح پر زندگی گزار رہا ہے۔

Printed page