Al-Risala · December 1977

اقدام سے پہلے تیاری ضروری ہے

Al-Risala, December 1977, pp. 7–13

By Maulana Wahiduddin Khan

عربی کا ایک مثل ہے: قبل الرمی تراش السهم تیر مارنے سے پہلے تیر کو کمان میں ٹھیک طریقہ سے جمایا جاتا ہے ، تیر کو کمان میں اچھی طرح بٹھائے بغیر یونہی چلا دیا جائے تو وہ کبھی نشانہ پر نہیں لگے گا۔ کوئی اقدام ضروری تیاری کے بغیر کیا جائے تو اس کا ناکام ہونا یقینی ہے۔

لفظی تسکین کی قیمت بہت مہنگی دینی پڑی جنگ عظیم ثانی میں آخری شکست سے کچھ ماہ پہلے جاپانی لیڈر یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ بازی ہار چکے ہیں۔ طاقتوں کی طرف سے ۲۶ جولائی ۱۹۴۵ کو پوٹسڈم ڈیکلریشن جاری کیا گیا تو وہ ذہنی طور پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہو چکے تھے۔ جاپانی پارلیمنٹ کی خواہش تھی کہ اس ڈکلیریشن کی بنیاد پر اتحادی طاقتوں سے امن کی گفتگو شروع کی جائے۔

باضابطہ فیصلہ سے پہلے ۲۸ جولائی کو جاپانی وزیر اعظم سوزوکی (SUZUKI) نے ایک پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے پریس کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی کابینہ میکوستسو (MOKUSATSU) کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ مو کو ستسو ایک جاپانی لفظ ہے جس کا کوئی قطعی متبادل انگریزی زبان میں نہیں ہے۔ خود جاپانی میں بھی وہ ایک غیر واضح لفظ ہے۔ ایک مفہوم "تبصرہ سے رکنا" ہے۔ اور اغلبًا جاپانی وزیر اعظم کی مراد یہی تھی۔ مگر خود جاپانی زبان ہی میں اس لفظ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، اور وہ ہے نظر انداز کرنا۔ جاپانی وزیر اعظم کو کابینہ کی طرف سے جس بیان کی ہدایت کی گئی تھی، وہ یہ تھا کہ جاپانی کابینہ پوٹسڈم ڈکلیریشن کے معاملہ میں ابھی کسی فیصلہ پر نہیں پہنچی ہے۔ انھوں نے پریس کانفرنس میں جو لفظ استعمال کیا وہ سننے والے اخبار نویسوں کے لئے مبہم ثابت ہوا۔ جاپان کی ڈومی نیوز ایجنسی نے وزیر اعظم کے بیان کا جو انگریزی ترجمہ نشر کیا اس میں موکوستسو کا ترجمہ IGNORE کے لفظ سے کیا ایک لفظ کے دو ممکن مفہوم میں سے سخت تر مفہوم کے انتخاب کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ ۱۹۴۵ء کے جاپان میں جنگی جنون کا جو ماحول تھا، اس میں ”نظراندازی“ کا تصور عوامی ذوق کے زیادہ مطابق تھا۔ جاپان کے قومی حوصلوں کے لئے اس میں زیادہ تسکین مل رہی تھی۔ لفظی تسکین کی قیمت جاپان کو بہت مہنگی ادا کرنی پڑی۔ اتحادی طاقتوں کے دفاتر میں جب یہ نشر یہ سنا گیا تو انھوں نے سمجھا کہ جاپانیوں نے پوٹڈم ڈکلریشن کو نظر انداز کر دیا ہے۔ چند دن بعد ہی جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے اور ہیروشیما اور ناگاساکی تباہ ہو گیا۔ دو لاکھ انسان فوراً مر گئے اور بے شمار لوگ خطر ناک طور پر زخمی ہوئے۔

یہ انکشاف کاسوکوائی (KASUO KAWAI) نے کیا ہے جو اس سے پہلے جاپان کے طاقتور اخبار نپن ٹائمس (NIPPON TIMES) کے ایڈیٹر تھے۔

پلین ٹروتھ، دسمبر ۱۹۷۰ء دور نبوت (۶۳۲ - ۶۲۲)

خلافت راشدہ (۶۶۱ - ۶۳۲)

بنوامیہ (۷۵۰ - ۶۶۱)

بنو عباس (۱۵۱۶ - ۷۵۰)

عثمانی خلافت ترکی (۱۹۲۲ - ۱۵۱۷)

مغل سلطنت (۱۸۵۶ - ۱۵۳۶)

لفظی تسکین کی قیمت بہت مہنگی دینی پڑی جنگِ عظیم ثانی میں آخری شکست سے کچھ ماہ پہلے جاپانی لیڈر یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ بازی ہار چکے ہیں۔ طاقتوں کی طرف سے ۲۶ جولائی ۱۹۴۵ کو پوٹڈم ڈیکلریشن جاری کیا گیا تو وہ ذہنی طور پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہو چکے تھے۔ جاپانی پارلیمنٹ کی خواہش تھی کہ اس ڈیکلریشن کی بنیاد پر اتحادی طاقتوں سے امن کی گفتگو شروع کی جائے۔

باضابطہ فیصلہ سے پہلے ۲۸ جولائی کو جاپانی وزیر اعظم سوزوکی (SUZUKI) نے ایک پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے پریس کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی کابینہ مو کوستسو (MOKUSATSU) کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ مو کوستسو ایک جاپانی لفظ ہے جس کا کوئی قطعی متبادل انگریزی زبان میں نہیں ہے۔ خود جاپانی میں بھی وہ ایک غیر واضح لفظ ہے۔ ایک مفہوم "تبصرہ سے رکنا" ہے۔ اور اغلب جاپانی وزیر اعظم کی مراد یہی تھی۔ مگر خود جاپانی زبان ہی میں اس لفظ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، اور وہ ہے نظر انداز کرنا۔ جاپانی وزیر اعظم کو کابینہ کی طرف سے جس بیان کی ہدایت کی گئی تھی، وہ یہ تھا کہ جاپانی کا بینہ پوٹڈم ڈیکلریشن کے معاملہ میں ابھی کسی فیصلہ پر نہیں پہنچی ہے۔ انھوں نے پریس کانفرنس میں جو لفظ استعمال کیا وہ سننے والے اخبار نویسوں کے لئے مبہم ثابت ہوا۔ جاپان کی ڈومی نیوز ایجنسی نے وزیر اعظم کے بیان کا جو انگریزی ترجمہ نشر کیا اس میں موکوستسو کا ترجمہ IGNORE کے لفظ سے کیا ایک لفظ کے دو ممکن مفہوم میں سے سخت تر مفہوم کے انتخاب کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ ۱۹۴۵ء کے جاپان میں جنگی جنون کا جو ماحول تھا، اس میں "نظر اندازی" کا تصور عوامی ذوق کے زیادہ مطابق تھا۔ جاپان کے قومی حوصلوں کے لئے اس میں زیادہ تسکین مل رہی تھی، مگر اس لفظی تسکین کی قیمت جاپان کو بہت مہنگی ادا کرنی پڑی۔ اتحادی طاقتوں کے دفاتر میں جب یہ نشر یہ سنا گیا تو انھوں نے سمجھا کہ جاپانیوں نے پوٹڈم ڈکلریشن کو نظر انداز کر دیا ہے ؀۔ چند دن بعد ہی جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے اور ہیروشیما اور ناگاساکی تباہ ہو گیا۔ دو لاکھ انسان فوراً مرگئے اور بے شمار لوگ خطر ناک طور پر زخمی ہوئے۔

یہ انکشاف کاسوکوائی (KASUO KAWAI) نے کیا ہے جو اس سے پہلے جاپان کے طاقتور اخبار نپن ٹائمس کے ایڈیٹر تھے۔

پلین ٹرو تھ ، دسمبر ۱۹۷۰ء (۶۲۲ - ۶۳۲) دور نبوت (۶۳۲ - ۶۲۲) خلافت راشدہ (۶۶۱ - ۷۵۰) بنوامیہ (۷۵۰ - ۱۵۱۶) بنو عباس (۱۵۱۶ - ۱۹۲۲) عثمانی خلافت ترکی (۱۵۳۶ - ۱۸۵۷) مغل سلطنت

نہ کہ حالات کا اندازہ کئے بغیر چھلانگ لگانے کا قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلُمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (حج- ۳۹) ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جاتی ہے ، اس لئے کہ ان پر ظلم ہوا اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔

مکہ کے مشرک مسلمانوں کو بہت تکلیفیں دیتے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے کہ کسی کا سر پھٹا ہوتا، کوئی زخمی ہوتا، کوئی چوٹ کھایا ہوا ہوتا۔ وہ آپ سے شکایتیں کرتے۔ مگر آپ کا جواب صرف یہ ہوتا: صبر کرو مجھے ابھی لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فانی لم اومر بالقتال ، تفسیر النسفی)۔ اسی حال میں تیرہ برس گزرگئے۔ پھر ہجرت کے دوسرے سال مدینہ میں قتال کی ہدایات بھیجی گئیں۔ عبد الرزاق ، عبد بن حمید، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بزار، ابن جریر ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں عبد اللہ بن عباس کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ کچھ اوپر ستر آیات میں قتال کی ممانعت کے بعد اجازت کی یہ پہلی آیت قرآن میں نازل ہوئی (رھی اول آية أذن فيها بالقتال بعد ما نھی عنہ فی نیف وسبعین آية)

یہاں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں پر ظلم تو مکہ کے دور میں اپنی بد ترین شکل میں ہورہا تھا، اور اللہ بلاشبہ اس وقت بھی مسلمانوں کی نصرت پر پوری طرح قادر تھا۔ پھر مکہ میں "قتال" کی اجازت کیوں نہ دی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے قانون کے مطابق مسلمان ابھی اتنے طاقتور نہ ہوئے تھے کہ ان کا کوئی اقدام فیصلہ کن نتیجہ تک پہنچ سکتا۔ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کی طاقت اس معیار کو پہنچ گئی تو ان کا اقدام یوم الفرقان (انفال - ۴۱) کو وجود میں لانے کے ہم معنی بن سکے تو مڈبھیڑ کی اجازت دے دی گئی۔

پچھلے ڈیڑھ سو برس سے اسلام کے علم بردار جس طرح اپنے مفروضہ حریفوں سے ٹکرا رہے ہیں اور نقصان ہر بار اسلام کے علم برداروں کے حصہ میں آتا ہے، وہ اس قرآنی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات محض نادانی کے اقدامات تھے ، اگر چہ غلط طور پر ان کو ” اسلامی جہاد “ کا مقدس نام دے دیا گیا ۔

یہ سیاست !

پاکستان کی قومی اسمبلی کے انتخابات (۷۷ کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو پاکستان کی نو پارٹیوں کے اسلامی محاذ نے شور مچانا شروع کیا کہ مسٹر بھٹو اور ان کی پارٹی دھاندلی کر کے الیکشن جیتی ہے۔ یہ بات جزوی طور پر ہی صحیح تھی۔ مسٹر بھٹو نے صرف ۲۰ سیٹوں پر دھاندلی کی تھی۔ اس دھاندلی کا مقصد اپنی کامیابی کی مقدار کو بڑھانا تھا۔ ورنہ ان کو پاکستان میں اتنی مقبولیت حاصل تھی اور اب بھی حاصل ہے کہ قطعاً منصفانہ الیکشن میں بھی ان کی پارٹی ۵۰ فی صد سے زیادہ نشستوں پر قابض ہو سکتی تھی۔

تاہم اسلامی عدل کے علم برداروں کے لئے یہ جزوی غلطی بھی ناقابلِ برداشت تھی۔ انھوں نے ملک میں آگ لگا دی۔ گار جین اور اکونو مسٹ (لندن) کے ایشیائی نمائندہ سائمن ونچسٹر SIMON WINCHESTER نے پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ انتخاب کے نتائج کے اعلان کے چند گھنٹہ بعد ہی پاکستان قومی اتحاد نے پاکستان کے شہروں میں بلوے اور احتجاج کی مہم شروع کر دی ۔ اس کے بعد حکومت کی مشینری قیام امن کے لئے متحرک اور پھر جو نتیجہ نکلا، وہ اس کے الفاظ میں یہ تھا : A FEW HOURS LATER THE JEEPS WERE OUT IN LAHORE, RAWALPINDI, HYDERABAD, AND KARACHI. THERE WERE CURFEWS, GASSINGS, SHOOTINGS MORE RIOTS, MANY DEATHS. BY THE TIME THE UNREST SETTLED, SOME THREE HUNDRED PAKISTANIES HAD DIED-----AND ALL, IT NOW SEEMS FOR NOTHING. (I.W., 16.10.77)

چند گھنٹے بعد لاہور ، راولپنڈی، حیدر آباد اور کراچی کی سڑکوں پر جیپیں دوڑ رہی تھیں۔ کرفیو ، آنسو گیس، گولیاں اور پھر مزید فسادات اور اموات ۔ اب جبکہ یہ ہنگامہ تھم گیا ہے، تقریباً تین سو پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں، اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک بے مقصد انجام کے لئے۔ بدقسمتی سے یہی ہماری پوری جدید تاریخ کا خلاصہ سیاسی اقدامات، بربادیاں اور پھر آخر میں کچھ نہیں۔ ڈیڑھ سو برس سے پوری قوم نہایت اخلاص کے ساتھ اسی نام نہاد قربانی کے عمل کو دہرارہی ہے۔

وہ انسانی گروہ جس کے مجموعہ کو ”ہندوستانی مسلمان “ کہا جاتا ہے، چالیس سال پہلے ایک عظیم ملک کے طول وعرض میں پھیلا ہوا تھا جس کی سرحدیں ایک طرف برما سے لے کر بلوچستان تک اور دوسری طرف سیلون سے لے کر تبت تک چلی گئی تھیں۔ اس کے بعد مسلمانوں نے ۔ اپنے بل پر نہیں بلکہ انگریزوں کے بل پر ایک طوفانی تحریک اٹھائی۔ تحریک کا مقصد ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ کوشش اپنے انجام کو پہنچی تو برصغیر کے مسلمان آٹھ علیحدہ ملکوں (پاکستان، ہندوستان، سیلون، برما، تبت، نیپال، بھوٹان، مالدیپ) میں بٹ گئے ۔ پہلے وہ اس پورے خطہ میں بے روک ٹوک سفر کر سکتے تھے اور ہر جگہ اللہ کے پیغام کی اشاعت کے لئے جدوجہد کر سکتے مگر دوسروں کے بل پر کی ہوئی کوشش کا نتیجہ ان کے اپنے حق میں نہیں نکل سکتا تھا۔ انگریز نے مسلمانوں کو آٹھ ملکوں میں تقسیم کر کے ان کی قوت منتشر کر دی ۔ اس کے بعد دوسری چھلانگ شروع ہوئی ۔ چھلانگ کا عنوان تھا: ” مملکت خدا داد میں اسلامی قانون مگر اس بار بھی اقدام کرنے والوں کے ساتھ وہی کمزوری لگی ہوئی تھی۔ وہ اپنی طاقت کے بل پر اپنے مفروضہ حریف کو زیر نہیں کر سکتے تھے۔ انھوں نے اولاً موجودہ پاکستان

لے سیلو کر غنا اور اس دینی خدمت کے لئے اپنے ساتھ بیمار حبیب اس سے بھی اپنی قوت کی کمی کی تلافی نہ ہوسکی تو جمہوریت کے نام پر ہنگامہ کرکے شیخ مجیب الرحمن کو رہا کرایا گیا۔ ان کی رہائی اسلام کے تو کچھ کام نہ آئی۔ البتہ اس کے فورا بعد بنگنائیت اپنے تمام اجزاء کے ساتھ زندہ ہوگئی۔ دوسروں کے بل پر کئے ہوئے اس اقدام کا نتیجہ ۱۹۷۱ میں اس طرح برآمد ہوا کہ پاکستان مزید دو ٹکڑے ہوگیا۔ متحدہ پاکستان نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی صورت اختیار کر لی مسلمانوں کی جغرافیائی تقسیم کا عدد آٹھ سے نو تک پہنچ گیا ۔

بچے ہوئے پاکستان میں اب اسلام پسند گروہ پھر اپنے مقدس مشن کے لئے متحرک ہے۔ تاہم وہ محسوس کر رہا ہے کہ اس کی اپنی طاقت اس کے محبوب انقلاب کو لانے کے لئے ناکافی ہے۔ اپنی اس کمی کی تلافی کے لئے اب وہ خان عبدالولی خاں کو رہاکرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ کوشش ابھی واقع نہیں بنی ہے۔ تاہم بادشاہ خاں کا یہ حوصلہ مند وارث اگر قید سے باہر آگیا تو یقینی ہے کہ پشتونستان کی تحریک از سر نو زندہ ہو جائے گی اور عجیب نہیں کہ اسلامی خلافت کے قیام کی یہ بلند بانگ تحریک صرف اس انجام پر ختم ہو کہ موجودہ پاکستان دوبارہ منقسم ہو کر مشرقی اور مغربی حصوں میں بٹ جائے اور برصغیر کے مسلمانوں کا جغرافیائی انتشار دس کے عدد کو پورا کرے ۔ ثلاث عشرہ کا حملہ !

وحید الدین ۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۷۷ء یہ کام ہے یا لیڈر کی ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (۱۹۱۳-۱۹۷۴) ابتداء میں آل انڈیا امن کونسل کے ممبر تھے۔ اس کے بعد اس سے علیحدہ ہوگئے اور اولاً آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور اس کے بعد مسلم مجلس کے ذریعہ کام کرتے رہے۔ سے اپنی علیحدگی کے بارے میں ایک شخص کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا : جب جبل پور میں بدامنی (۱۹۶۳) ہوئی تو میں نے کونسل سے کہا کہ چلو، جبل پور چل کر کچھ کام کریں۔ مگر ان لوگوں نے میری بات نہ مانی۔ وہ بین الالاقوامی امن کی بات تو کرتے تھے۔ مگر انھیں گھر کی بدامنی رفع کرنے کے کام سے دل چسپی نہ تھی۔ مجھے یہ بات عجیب سی لگی اور محسوس ہوا کہ ایسی تنظیم سے میرا تعلق رکھنا بے کاری بات ہے۔ اس لئے میں نے استعفا دے دیا‘‘ (الحسنات اگست ۱۹۷۷ء)

ڈاکٹر صاحب مرحوم نے جو بات امن کونسل کے بارے میں کہی، وہ صد فی صد صحیح ہے، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ خود ہمارے رہنماؤں کا حال بھی یہی ہے۔ ہمارا تقریباً ہر رہ نما، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، عالمی کاموں سے خصوصی دل چسپی رکھتا ہے۔ اپنے گھر، اپنے محلہ، اپنے ادارہ اور اپنے قریبی دائرہ میں اس کے لئے جو کام ہیں، اس میں مصروف ہونا وہ اپنے لئے چھوٹی بات سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس آل انڈیا اجتماعات کی صدارت اور بین اقوامی نمائش گاہوں میں تقریری کمال دکھانا اس کو زیادہ پسند ہے۔ موجودہ زمانہ میں ملت کی بربادی کی، اگر حل نہیں تو کم از کم ایک بڑی وجہ، یقیناً یہی ہے۔

ہماری زندگی کا ایک درد ناک پہلو سابق وزیر اعظم ملیشیا تنکو عبدالرحمن نے بتایا کہ ملایشیا میں جو غیر مسلم آباد ہیں، وہ اسلام کے بارے میں جاننے کے بہت شائق ہیں، مگر مسلمانوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ ان کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ الیکشن کے موقع پر غلط قسم کی سیاست بازی کے ذریعہ وہ غیر مسلموں کو اسلام سے کچھ متوحش کر دیتے ہیں۔ نے بتایا کہ ان کی جماعت ”پر کم“ کی کوششوں سے ملایشیا میں تقریباً ۳۰ ہزار اور صباح میں ایک لاکھ آدمی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ سراوک میں ہر دن لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ مگر مسلمان ان کو اپنے معاشرہ میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ بعض لوگ ان نو مسلموں سے مصافحہ تک نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے خیال کے مطابق ”ان کے ہاتھ سور کی چربی سے گندے ملایشیا کی حکومت نے جزیرہ نما میں نئی سڑکوں کی تعمیر کے لئے ایک بلین ڈالر کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہو چکے ہیں“ ۔

تنکو عبدالرحمن لکھتے ہیں :

TODAY I AM FIGHTING A LONE BATTLE TO GET THESE MUSLIM CONVERTS ACCEPTED INTO THE ان نومسلموں کو ملایا کے مسلم معاشرہ میں شامل کرنے کے لئے میں ایک تنہا جنگ لڑ رہا ہوں اسلامک ہیرالڈ، کوالالمپور، دسمبر ۱۹۷۵ء تنکو عبدالرحمن اپنی سیاسی زندگی کے زمانہ میں ملیشیا کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ مگر جب انھوں نے سیاست کی ہنگامی زندگی کو چھوڑ کر تعمیری کام کرنا چاہا تو اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا ہیں۔ ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ۔

یہی موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ کسی قائد کا ساتھ صرف اس وقت دیتے ہیں جب کہ وہ ان کو جذباتی سیاست کی شراب پلا رہا خاموش کام کرنے والوں کا ساتھ دینے کا ان کے اندر حوصلہ نہیں۔ اس مشکل کا واحد حل یہ ہے کہ ہمارے درمیان کچھ قائد ایسے نکلیں جو عزت و شہرت کی قربانی پر اپنے آپ کو خاموش تعمیری کاموں میں لگا دیں۔ قائدین کی ایک نسل اس طرح اپنے آپ کو گم نامی کے قبرستان میں دفن کر چکی ہوگی ۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ملت کو حقیقی معنوں میں دنیا کے اندر عزت و سر بلندی کا مقام حاصل ہو۔ اگر ہمارے قائدین شہرت و عزت کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہوں اور عوام کو تعمیری کام کا وعظ سنائیں، تو یہ کام کبھی انجام نہیں پا سکتا ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ تونکو عبدالرحمن جیسے تعمیری کام کا ذوق رکھنے والے ہمارے یہاں صرف استثناء کا درجہ رکھتے ہیں ۔

Printed page