Al-Risala · December 1977

اختلاف سے بچو

Al-Risala, December 1977, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا سے ڈرو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو۔ اور اس میں متفرق نہ ہو۔ میں اختلاف کرنا آگ کے کنارے کھڑا ہونا ہے۔ کے نزدیک وہی لوگ کامیاب ہیں جو خصوصی اہتمام کے ذریعہ ہر حال میں اپنے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا کو باقی رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے خداوندی علم کی امانت یہود کو دی گئی تھی۔ مگر وہ تفریق اور اختلاف میں پڑ گئے اور اس کے نتیجہ میں اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق بنا لیا۔ ان کے انجام سے ڈرو اور تم بھی انھیں کی طرح نہ ہو جاؤ۔ (آل عمران ۱۰۶-۱۰۳)

یہ تفریق و اختلاف جس سے بچنے کا حکم قرآن میں دیا گیا ہے ، اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔ سے ایک وہ نقصان ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبرہ میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:

" اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت آپس میں نزاع مت کرو۔ ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“ انفال - ۴۶ اتفاق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اختلاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔ انسانوں کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر جو لوگ خدا سے ڈرتے ہوں وہ معاملہ کی وضاحت کے بعد، یا تو اپنے اختلاف کو ختم کر دیتے ہیں اور اگر پھر بھی اختلاف باقی ہو تو وہ اس کو اپنے ذہن تک محدود رکھتے ہیں۔ عملی زندگی میں اس کو پھیلا کر معاشرہ کو خراب نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں وہ اس کو اپنے عزت و وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ خواہ کتنے ہی دلائل دیئے جائیں، وہ اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے وہ ایسا نہیں کرتے کہ اختلاف رائے کو عناد کی حد تک جانے سے روکیں اور اس کو باہمی کدورت کا سبب بننے یہی دوسری قسم کا اختلاف ہے جو قوم کو کمزور ایک غیر متحد قوم ، خواہ اپنے حریف کے لئے خط وہ کتنی ہی بڑی ہو نہیں بن سکتی اپنے حریف کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے موشے دیان (پیدائش ۱۹۱۵) نے اپنی خود نوشت سوانح عمری شائع کی ہے جس کا نام ہے میری زندگی کی کہانی ( THE STORY OF MY LIFE ) اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع نے اپنے حالات کے ذیل میں عربوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے : THE ARABS, DISUNITED AND AT ODDS WITH ONE ANOTHER OVER EVERY ISSUE, BIG AND SMALL, PRESENT NO THREAT غیر متحد عرب جو ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر باہم لڑتے رہتے ہیں، اسرائیل کے لئے کوئی خطرہ نہیں بن سکتے

کرتا ہے اور اس کو خدا کی نصرت سے محروم کر دیتا ہے۔ اصحاب رسول جو سب پاکباز لوگ تھے، ان کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوتے تھے۔ کبھی اختلافات کو عناد بننے نہیں دیتے تھے۔ جانتے تھے کہ اختلاف کے ساتھ اتحاد کے تقاضوں کو کس طرح پورا کرنا چاہئے۔

حضرت معاویہ بن ابی سفیان ہجرت سے سترہ سال پہلے پیدا ہوئے اور سنہ 60ھ میں وفات پائی۔ وہ حضرت علی بن ابی طالب سے چھ سال چھوٹے تھے۔ حضرت علی چوتھے خلیفہ مقرر ہوئے تو امیر معاویہ شام کے حاکم تھے۔ اس کے بعد دونوں میں اختلاف ہوا جو حسن بن علی تک جاری رہا۔ بالآخر فیصلہ امیر معاویہ کے حق میں ہوا۔ ربیع الاول ۴۱ھ سے لے کر آخر عمر تک (۲۰ سال) وہ تقریباً تمام اسلامی دنیا کے خلیفہ

جس زمانہ میں علی و معاویہ کے درمیان اختلافات بڑھے ہوئے تھے، قسطنطنیہ (استنبول) کی عیسائی حکومت نے سمجھا کہ مسلم سلطنت پر حملہ کرنے کا یہ موزوں ترین اس نے عیسائیوں کی ایک بڑی فوج تیار کی اور ایران کے شمالی صوبوں پر حملہ کی تیاریاں شروع کردیں ۔ یہ علاقہ اس وقت حضرت علی کی حکومت میں شامل تھا۔ اگر یہ حملہ ہو جاتا تو اس وقت حضرت علی کے لئے اس کو بچانا مشکل ہو جاتا ۔ بظاہر دکھائی دیتا تھا کہ یہ پورا حصہ کٹ کر عیسائی سلطنت میں شامل ہو جائے گا۔ عیسائی حکمران حضرت علی کی مشکلات سے خوب وہ یہ بھی جانتے تھے کہ علی ، امیر معاویہ کے لئے حریف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ علی کو کمزور کرنے کی عیسائی کوشش سے خوش ہوں گے اور مزاحمت نہیں اس طرح علی کو زیر کرنا ان کے لئے آسان ہو مگرامیر معاویہ ، علی بن ابی طالب سے اختلاف کے باوجود ان کے معاند نہیں بن گئے تھے۔ وہ اس بات کے لئے تیار نہ تھے کہ ان دونوں کا باہمی اختلاف اسلامی دنیا کے لئے کسی نقصان کا سبب بن جائے۔ اس خبر کے سنتے ہی قیصر (قسطنطنیہ کے بادشاہ) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا :

”اے رومی کتے ! اگر تو ہمارے باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ہم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو تجھ کو معلوم ہونا چاہئے کہ علی کی قیادت میں جو لشکر تیرے مقابلے کے لئے نکلے گا ، معاویہ اس لشکر کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوگا! یہ خط عیسائی حکمران کے لئے ایک فوج سے بھی زیادہ شدید ثابت ہوا ۔ اس نے اسلامی علاقہ پر حملہ کا ارادہ ترک کر دیا ۔

Printed page