Al-Risala · December 1977

قومی کردار

Al-Risala, December 1977, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری جنگ عظیم میں جب کہ برطانوی فوج کے سامنے یہ مہم تھی کہ وہ ڈنکرک میں پھنسے ہوئے پانچ لاکھ فوجیوں کو فوری طور پر نکالے ، اس وقت کے برطانی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے قوم سے اپیل کی کہ جن لوگوں کے پاس کشتیاں اور اسٹیمر ہیں ، وہ بطور خود ان کو فلاں مخصوص مقام پر پہنچا دیں۔ پوری قوم نے اس اعلان کی تعمیل اس طرح کی کہ کوئی ایک شخص بھی نہ بچا جس نے اپنی کشتی اور اسٹیمر مقررہ مقام پر نہ پہنچا دی ہو۔

"الاسلام" کے بعد ادارہ الرسالہ کی دوسری کتابی پیش کش عنقریب شائع ہونے والی ہے مقابل صفحہ پر اس کا "ابتدائیہ" نقل کیا جا رہا ہے صفحات (تخمئناً) ۲۰۰ قیمت (تخمینی) چھ روپے قرآن پہلی کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ میں دورِ نثر کا آغاز کیا۔ علمی طرزِ فکر کی بنیاد رکھی اور سائنٹفک استدلال کو رائج کیا۔ موجودہ دور کا علمی انقلاب ، قرآن ہی کے پیدا کردہ انقلاب کا نتیجہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے حاملین اس انقلاب کو سمجھنے میں سب سے پیچھے ہیں ۔ وہ ابھی تک شعر و شاعری کی فضا سے نکل نہ سکے۔ حتی کہ ان کی نثر بھی خطابت اور شاعری کی ایک صورت ہوتی ہے۔ میں ان کے پیچھے ہونے کا حال یہ ہے کہ ان کے علماء اب بھی سائنٹفک استدلال اور مغرب زدگی کو ہم معنی سمجھتے ہیں ۔

مسلمانوں کی اس علمی پس ماندگی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دورِ جدید کے معیارِ فکر پر ابھی تک اسلام کا علمی اظہار نہ ہوسکا۔ ہر دور کا ایک اسلوب اور ایک علمی معیار ہوتا ہے اور ہر دور کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے دور کے فکری معیار پر خدا کے دین کا اعلان عام کریں۔ جب خود ہی فکری پس ماندگی میں مبتلا ہوں تو وہ اس ذمہ داری کو کس طرح ادا کر سکتے ہیں

Printed page