Al-Risala · December 1977

اعتراض برائے اعتراض

Al-Risala, December 1977, pp. 18–21

By Maulana Wahiduddin Khan

یونیورسٹی کے ایک استاد کو ان کے ساتھی نے کتاب ’’ "الاسلام" پڑھنے کے لئے دی۔ انھوں نے کتاب کھولی تو اس کا پہلا جملہ سامنے آیا:

’’ انسانی تاریخ کو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا دور سائنس سے پہلے اور دور سائنس کے وہ چیز جس کو دورِ جدید کہتے ہیں، وہ حقیقتاً دورِ سائنس کا دوسرا نام ہے۔ یہ دور ممتاز طور پر سترھویں صدی میں شروع ہوا اور دوسری عالمی جنگ تک اپنے آخری عروج پر پہنچ گیا،، (صفحہ ۳)

ان سطروں کو دیکھ کر انھوں نے کتاب واپس کر دی۔ انھوں نے کہا: ’’ میں ایسی کتاب کو یں پڑھ سکتا جس کا پہلا جملہ ہی غلط ہو۔ سائنس سترھویں صدی میں شروع نہیں ہوئی، وہ اس سے بہت پہلے موجود تھی۔ مذکورہ بزرگ اگر کتاب واپس کرنے میں جلدی نہ کرتے اور اس کے بقیہ صفحات کو بھی پڑھنے کی کوشش کرتے تو ان کی غلط فہمی بآسانی دور ہو جاتی۔ کیوں کہ اسی کتاب میں آگے یہ سطریں موجود ہیں:

’’ سائنس کے ظہور کے ابتدائی عناصر اگر چہ تاریخ میں بہت پہلے سے کام کر رہے تھے۔ تاہم وہ نمایاں وقت جب کہ انسانی تاریخ ایک دور سے نکل کر دوسرے دور میں داخل ہوئی، اس کا آغاز نیوٹن (۱۶۴۲ء - ۱۷۲۷) سے ہوتا ہے؛ (الاسلام صفحه ۱۷۴)

آدمی دوسرے پر تنقید کرنے میں بہت کم انصاف سے کام اگر چہ ہر ناقد ہمیشہ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کی تنقید عین انصاف کے مطابق ہے ۔

الاسلام کے پہلے باب میں رویتِ ہلال کے مسئلہ پر ایک ضمنی گفتگو ہے۔ اس سلسلے میں لکھا گیا ہے : دو حدیث میں ہے کہ اگر ۲۹ تاریخ کو افق پر بادل آجائیں اور چاند دیکھا نہ جاسکے تو ۳۰ تاریخ کو چاند کا دکھائی دینا ضروری نہیں۔ اس کے بعد بطور واقعہ رویت مان لی جائے گی۔ ۲۹ تاریخ کو چونکہ رویت کا علم صرف آنکھ کے ذریعہ ہو سکتا تھا، اس لئے آپ نے دیکھنے کا حکم ۳۰ تاریخ کو معلوم فلکیاتی قانون پر قیاس کرنا کافی نہ تھا، اس لئے آپ نے دیکھنے کی شرط حذف کردی‘۔ الاسلام ، صفحہ ۱۵ اس کے بارے میں ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ وہ غلط وہ تحریر فرماتے ہیں ” غلط اس پہلو سے ہے کہ ۳۰ تاریخ کو رویتِ ہلال ضروری نہ ہونے کی وجہ فلکیاتی قانون پر قیاس نہیں ہے جیسا کہ مصنف نے لکھا ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی قمری مہینہ ۳۰ دنوں سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ لئے ۳۰ کو رویتِ ہلال کی ضرورت نہیں ہے۔ کی بحث پیدا ہی اس لئے ہوتی ہے کہ بعض قمری مہینے ۲۹ کے بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ ۲۹ کو بادل یا کسی اور وجہ سے رویتِ ہلال نہ ہو تو ۳۰ دن پورے کر لئے جائیں۔ ” معلوم فلکیاتی قانون پر قیاس‘ کے لفظ سے الاسلام کے مصنف کی مراد ٹھیک وہی ہے جس کو تنقید نگار نے ان لفظوں میں لکھا ہے کہ ”کوئی قمری مہینہ ۳۰ دنوں سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ مگر جب اعتراض برائے اعتراض کا ذہن ہو تو آدمی بھول جاتا ہے کہ کیا بات قابلِ تنقید ہے اور کیا بات قابل تنقید نہیں ہے۔

۳- الاسلام کے بارے میں ایک بے لاگ ناقد تحریر فرماتے ہیں "اس کتاب کی ایک نمایاں بات اس کی تضاد بیانی بھی ہے۔ میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں"۔ سلسلے میں انھوں نے تضاد بیانی کی یہ مثال پیش فرمائی ہے کہ کتاب میں شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی کے بارے میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ مغل شہنشاہ جہانگیر سے مل کر انھوں نے جو اسلامی خدمات انجام دیں، اگر موجودہ زمانہ کے مصلحین نے بھی اسی ڈھنگ سے کام کیا ہوتا تو اب تک اظہار دین اور غلبہ اسلام کا وہ کام انجام پاچکا ہوتا جس کے لئے ابھی ہم صرف غور و فکر کر رہے ہیں" (صفحہ ۱۸) دوسری طرف انھیں مجددالف ثانی کے بارے میں اس کتاب میں یہ الفاظ

"واسکوڈی گاما کے انتقال کے سو سال بعد شیخ احمد سرہندی (۱۶۲۵ - ۱۵۶۴) پیدا ہوتے ہیں ان کا زمانہ ٹھیک وہی ہے جب کہ جنوبی ہند کے ساحل پر وہ واقعہ رونما ہو چکا ہے جو بالآخر اس ملک کی نئی تاریخ بنانے والا ہے مگر انھیں اس واقعہ کی خبر تک نہیں ہوتی۔ عالم بالا میں ان کی روحانی پرواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ وحدت وجود کی پیچیدہ بحث پر مجتہدانہ فیصلے دے سکیں مگر وہ خود اپنے ملک کے اس واقعہ سے بے خبر رہتے ہیں کہ مغربی قومیں بحری طاقت کو ترقی دے کر ملک کے سواحل پر قبضہ کر رہی ہیں جو بالآخر یہاں تک پہنچنے والا ہے کہ مدراس سے لے کر بمبئی اور کلکتہ تک کا پورا ساحلی ہندوستان ان کے قبضہ میں چلا جائے اور دہلی کی سلطنت ان کے مقابلے میں بے بس ہو کر رہ جائے وہ اکبری فتنوں کو دیکھتے ہیں مگر یہ زیر نگالی فتنے انھیں نظر نہیں آتے جو بعد کو پیدا ہونے والے نتائج کے اعتبار سے بدرجہا شدید ہیں"۔ الاسلام کی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد محترم ناقد لکھتے ہیں "پہلی تحریر سے حضرت مجدد کے بارے میں جو خیال قائم ہوتا ہے، اس دوسری تحریر سے اس کے برعکس خیال قائم ہوتا ہے۔

فاضل ناقد کو ان دونوں عبارتوں میں "تضاد"

اس لئے نظر آیا کہ ان کی "بے لاگ تنقید نگاری" کا اصول غالباً یہ ہے کہ کسی شخص میں اگر ایک بات قابلِ تنقید نظر آئے تو اس کے یہاں کسی بھی قسم کی کسی خوبی کا اعتراف نہیں کیا جا سکتا۔

اصل یہ ہے کہ الاسلام کے صفحہ ۸ پر طریق کار کے مسئلہ کا ذکر ہے اور صفحہ ۳۶ پر جو گفتگو ہے، وہ ایک نظریاتی گفتگو ہے اور اس کا تعلق عصری تقاضوں کو سمجھنے مصنف کا کہنا یہ ہے کہ حضرت مجدد صاحب اپنے وقت کے اصل عصری مسئلہ (مغربی فتنہ) کو سمجھ نہ سکے۔ تاہم طریق کار کی بحث کے ذیل میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ان کے یہاں ایک قابلِ تقلید مثال پائی جاتی ہے۔ زمانہ کے ایک مقامی مسئلہ (اکبری فتنہ) کو فرو کرنے کے لئے انھوں نے جو طریق کار اختیار کیا، وہ ، بحیثیت طریق کار کے ، ایک حکیمانہ طریقہ تھا اور اس قابل تھا کہ وسیع تر مسئلہ اسلام کے احیاء) کے سلسلے میں اس کو عملاً اختیار کیا جاتا۔ اختلاف کے وقت انصاف ایک شخص بحث و گفتگو میں "مکمل اسلام" سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہو، مگر اختلاف کے وقت وہ انصاف سے ہٹ جائے (مائدہ - ۸) تو یہ عجیب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مکمل اسلام کی علم برداری کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جزوی اسلام پر بھی قائم نہ ہو۔

آدَمِی کے سَامنے سچائی آتِی ہے مگر ضِد کی نَفسیات اور عَزّت کا سوال اِس کو سچائی کے اعتراف سے رُوک دیتا ہے نئے عہدنامہ،، کے نام سے عیسائیوں کی جو مُقدس کتاب ہے، اس میں حضرت مسیح کے حالات اور تعلیمات کے بارے میں چار انجیلیں شامل ہیں۔ تا ہم چوتھی صدی عیسوی میں ان چار انجیلوں کو سرکاری طور پر معتبر قرار دینے سے پہلے اور بہت سی انجیلیں عیسائی حضرات کے درمیان رائج تھیں۔ انھیں میں سے ایک انجیل گمان کیا جاتا ہے کہ برنا باس حضرت مسیح کے حواریوں میں سے تھا۔ سینٹ پال نے جب مسیحیت کو بدلا تا کہ دوسری اقوام کے لئے مسیحیت میں داخلہ کو آسان بنایا جا سکے تو برناباس نے مسیح کے حالات اور تعلیمات کو اصلی شکل میں پیش کرنے کے لئے اپنی انجیل تاکہ وہ ’’اس سچائی کو بیان کرے جو اس نے سنا اور دیکھا تھا‘‘ کتاب کے آغاز میں برنا باس لکھتا ہے :

" بہت سے لوگوں کو شیطان نے دھوکا دیا ہے۔ مقدس بن کر بے دین عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ ختنہ کے طریقہ کو متروک قرار دیتے ہیں جس کو خدا نے ہمیشہ کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور حرام کھانوں کو حلال کر رہے ہیں۔ کھانے والوں میں سے ایک پولوس بھی ہے۔

موجودہ سرکاری انجیلوں اور برناباس کے تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ برناباس ، حضرت مسیح کی تعلیمات کا زیادہ صحیح اور معتبر ریکارڈ ہے۔ تعلیمات قرآن کی تعلیمات سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔ مگر چونکہ وہ عیسائی حضرات کے موجودہ عقائد کے خلاف ہے۔ اس لئے وہ لوگ اس کو جعلی انجیل PSEUDO GOSPEL کہتے ہیں ۔ اس میں ان کے لئے ہدایت کا کوئی سامان نہیں ایک بزرگ اس صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: " اس انجیل کو اگر کوئی شخص تعصب کے بغیر کھلی آنکھوں سے پڑھے اور نئے عہد نامہ کی چاروں انجیلوں سے اس کا مقابلہ کرے تو وہ یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ سچائی کو بتانے کے لئے خدا خود زمین پر نہیں اترتا، نہ فرشتوں کے ذریعہ اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ "کعبہ" اور "بیت المقدس" کے متولیوں کی زبان سے بھی اس کا پیغام بلند نہیں کرایا جاتا۔ دعوت ہمیشہ کسی غیر اہم گوشہ سے اٹھائی جاتی ہے تاکہ سنت اللہ کے مطابق اس میں التباس کا پہلو باقی رہے (انعام ۔

جو شخص التباس واشتباہ کے ظاہری پہلوؤں سے گزر کر سچائی کو پالے، اس کے لئے یہ دعوت ، زندگی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جن کی نگاہیں التباس کے پردہ میں اٹک کر رہ جائیں ، ان کے لئے اس دعوت میں محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔

اس میں خدائی تعلیمات زیادہ صحیح اور مؤثر طریقہ سے بیان ہوئی ہیں" یہ ان چاروں سے بدر جہا بہتر ہے۔ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات اس میں چاروں انجیلوں کی نسبت زیادہ صحیح اور مؤثر طریقہ سے بیان ہوئی ہیں۔ مجھے آکسفورڈ سے شائع شدہ برناباس کے انگریزی ترجمہ (۱۹۰۷) کی ایک فوٹو سٹیٹ کاپی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اسے لفظ بلفظ میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے عیسائیوں نے محض تعصب اور ضد کی بنا پر اپنے آپ کو محروم کر رکھا ہے۔ اوپر کے اقتباس میں جس کمزوری کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ صرف عیسائیوں کی کمزوری نہیں ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ کچھ افکار و خیالات کو اپناتے ہیں۔ ابتداءً یہ اپنانا محض نظریاتی وابستگی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے وہ تعصب بن جاتا ہے اور اگر اس نظریہ کی بنیاد پر ان کو کچھ دنیوی مقبولیت حاصل ہو جائے تو تعصب مزید آگے بڑھ کر عزت کا سوال بن جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی سچائی خواہ کتنے ہی واضح انداز میں ان کے سامنے لائی جائے اور ان کے موقف کو کتنے ہی زیادہ دلائل سے غلط ثابت کر دیا جائے، بہر حال وہ اس سے چمٹے رہتے ہیں۔ وہ کسی حال میں اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے پر تیار کیونکہ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ اس طرح ان کا کاروبار بگڑ جائے گا۔ ان کی پوزیشن خطرہ میں پڑ جائے گی، اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بالإِثْمِ کا مصداق بن کر وہ کھلی ہوئی سچائی کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انجیل برناباس عیسائیوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ مگر ضد اور تعصب نے ان کو اس نعمت سے محروم کر رکھا ہے ۔ اس قسم کی نعمتوں کے دستر خوان اللہ دوسروں کے لئے بھی کھولتا ہے ۔ مگر وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہتے ہیں ۔ دوسروں کے ضد اور تعصب کی خبر ہر ایک کو ہے ۔ مگر اپنے ضد اور تعصب کی کسی کو خبر نہیں ۔

مسائل زمزم !

حدیث میں ہے :

Printed page