ایک تاریخ
Al-Risala, December 1977, pp. 22–25
By Maulana Wahiduddin Khan
بائبل کے بیان کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت پر جب ان کا خاندان مصر گیا تو افراد خاندان کی کل تعداد ۷۰ تھی ۔ اس تعداد میں وہ لڑکیاں شمار نہیں کی گئی تھیں جو حضرت یعقوب کے گھرانے میں بیاہی ہوئی آئی تھیں) حضرت یوسف کی وفات کے تقریباً پانچ سو سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے۔ بائبل کے بیان کے مطابق خروج کے بعد دوسرے سال بیابان سینا میں حضرت موسیٰ نے جو مردم شماری کرائی تھی، اس کے مطابق صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد ۶۰۳۵۵۰ تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت، مرد، بچے، بوڑھے سب ملا کر وہ کم از کم ۲۰ لاکھ ہوں گے۔
ظاہر ہے کہ ۷۰ افراد کے ایک خاندان کی تعداد پانچ سو سال میں محض توالد و تناسل سے اتنی زیادہ تعداد میں اس غیر معمولی اضافہ کا سبب یقیناً بنی اسرائیل کی تبلیغ تھی۔ ان کی تبلیغ کے زیر اثر جن مصریوں نے اپنا دین بدلا، غالباً ان کا تمدن بھی بنی اسرائیل کے رنگ میں رنگ گیا تھا۔ میں ان نومسلموں کے لئے " ملی جلی بھیڑ" جیسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تو ان کے یہ دینی بھائی بھی ان کے ساتھ تھے۔ عدم تشدد کا ہتھیار تشدد سے زیادہ سخت ثابت ہوا ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک ۱۸۵۷ میں شروع ہوئی۔ ابتدائی ۵۰ سال تک یہ تحریک تشدد کے طریقہ پر چلتی رہی۔ مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاست میں داخل ہوئے تو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اہنسا کی بنیاد پر آزادی کی تحریک چلائیں گے۔
انگریز حکمرانوں کے لئے گاندھی جی کا عدم تشدد کا ہتھیار پچھلے "مجاہدین آزادی" کے تشدد کے ہتھیار سے زیادہ سخت ثابت ہوا۔ تشدد کو تشدد کے ذریعہ ختم کرنے کا ان کے پاس کافی وجہ جواز تھا۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ عدم تشدد کے اصول پر اٹھنے والے طوفان کا مقابلہ کس طرح کریں۔ جب یہ صورت حال سامنے آئی تو ایک پرانے انگریز کلکٹر نے سیکرٹریٹ کو تار دیا : KINDLY WIRE INSTRUCTIONS, HOW TO KILL A TIGER NON-VIOLENTLY برائے مہربانی بذریعہ تار ہدایات بھیجیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے۔ اکثر لوگ سیاست کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ حریف سے لامتناہی لڑائی جاری رکھی جائے۔ مگر اصل سیاست یہ ہے کہ خاموش تدبیر کے ذریعہ حریف کو اسطرح بے ہتھیار کر دیا جائے کہ وہ لڑنے کے قابل نہ رہے
مین اینڈ ہر گاڈس (انگریزی)
دی ہیملن پبلشنگ گروپ لمیٹڈ، لندن ۱۹۷۴ء، صفحات ۴۱۴ یہ مذہب پر ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مختلف مغربی علماء کے ۴۲ مقالات درج ہیں۔ ماقبل تاریخ سے لے کر اب تک کے تمام مذاہب کی معلومات نہایت سلیقہ کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔ کثیر تعداد میں قیمتی تاریخی تصاویر اور حسن ترتیب نے کتاب کو ایک خوبصورت البم بنا دیا ہے۔ قدیم زمانہ میں مذہب پر جو کتابیں لکھی جاتی تھیں، وہ یا تو کسی مذہب کی موافقت میں ہوتی تھیں، یا اس کی مخالفت مذاہب کا غیر جانب دارانہ تاریخی تعارف قدیم زمانہ میں ایک لامعلوم چیز تھی، موجودہ زمانہ میں جو چیزیں پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مذاہب اور دوسرے موضوعات پر اس انداز سے کتاب لکھی جاتی ہے گویا کہ لکھنے والا اپنے موضوع پر کوئی موافق یا مخالف رائے نہیں رکھتا، وہ صرف ایک قلمی کیمرہ کا فرض انجام دے رہا ہے جس کی ساری دلچسپی اصل صورت حال کی تصویر کشی سے ہے نہ کہ اس کے بارے میں اپنی کوئی رائے دینے سے۔
زیر نظر کتاب بھی اسی انداز پر لکھی گئی ہے۔ کے مرتب نے کتاب کا خاتمہ حسب ذیل سطروں پر کیا ہے: " اس انسائیکلوپیڈیا نے حقائق پیش کرنے کی کوشش کی اس کا کام حکم لگانا یا کوئی معیار قائم کرنا نہیں، اس نے صرف سچائی کو پیش کر دیا ہے (صفحہ ۴۳۱)
قدیم طرز کی متکلمانہ کتابیں " "پروپیگنڈا لٹریچر" " سمجھی جاتی مگر اس طرز تصنیف نے آج کے متکلمین کو موقع دیا ہے کہ وہ بظاہر لوگوں کو علوم کی تدوین کرتے ہوئے نظر آئیں ، حالانکہ حقیقہ" وہ اپنا کلامی لٹریچر تیار کر رہے ہوں اور پھر یہی کتابیں تعلیم گاہوں میں عمومی نصاب کے طور پر داخل ہوں۔ کے ریفرنس سیکشن میں سجائی ہوئی ہوں۔ علمی تحقیق کے لئے ان کا مطالعہ کیا جائے ۔
اس طرز تصنیف کے رواج سے یہودیوں اور عیسائیوں نے کافی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ انداز ترتیب کے لحاظ سے مکمل طور پر غیر جانب دار رہ کر مذہب اور تاریخ کے موضوعات پر کتابیں لکھتے ہیں۔ ان کو آدمی اس طرح پڑھتا ہے گویا کہ وہ ایک موضوع کا علمی مطالعہ کر رہا ہے نہ کہ اس کے بارے میں کسی موافق یا مخالف کا تبصرہ پڑھ رہا ہے۔ اور پھر نہایت ہوشیاری سے وہ اس کے بین السطور میں اپنا نقطہ نظر شامل کر دیتے ہیں ۔
اس انسائیکلو پیڈیا میں جس کے ایک مقالہ نگار ہندو اور باقی سب یا یہودی یا عیسائی ہیں، اسلام کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ بظاہر اس میں اسلام کی دعوتی، تہذیبی اور سیاسی کامیابیوں کا فیاضانہ اعتراف موجود ہے ۔ حتیٰ کہ اس میں یہ جملہ بھی ہے : ITS ADVENT CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY
اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا ۔ اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں بھی اسلام نے پرامن ذرائع سے نئی کامیابیاں (NEW GAINS) حاصل افریقہ میں تیزی سے نو مسلموں کا اضافہ کسی تبلیغی کوشش سے زیادہ اسلام کی اپنی کشش کی بنیاد پر ہو رہا ہے (۳۰۴) تاہم اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جن کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لکھنے والے نے یہ سطریں کیوں نہ لکھیں ۔
مثال کے طور پر صفحہ ۳۹۵ پر درج ہے:
"محمد کو اپنی زندگی میں عرب سے باہر کسی علاقہ کا قبضہ حاصل کسی طرح یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سمجھتے ہوں کہ عربوں کے علاوہ بھی اسلام میں کسی کے لئے کوئی معنویت ہے، اگرچہ بعد کا مسلم نظروہ ان کے عالمی مقاصد کی توثیق کرتا ہے، تاہم اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں انھوں نے عرب کی بعض سرحدی عیسائی ریاستوں کے خلاف مہم بھیجی جو جزیرہ نما کے شمال میں واقع تھیں۔ ان مہموں نے مسلمانوں کو عظیم بازنطینی اور ساسانی سلطنتوں سے ٹکرا دیا اور پیغمبر کی وفات کے جلد ہی بعد تیز رفتار اور دائمی فتح کا سبب
اس پیراگراف نے اسلام کو اُس سطح پر کھڑا کر دیا جہاں موجودہ مسیحیت ہے، بائبل کے مطابق حضرت مسیح اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجے گئے (متی ۱۵:۲۴)۔ مگر بعد کو سینٹ پال اور دوسرے سنت اور آپ کے اصحاب کے چھوڑے ہوئے نمونہ کا نام اس لئے اسلام کے مطالعہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات، رسول کی ثابت شدہ سنت اور صحابہ کرام کی زندگیوں کو سامنے رکھ کر اسلام کو سمجھا جائے ۔ صرف اسی چیز کا نام ہو جو ان معیاری ذرائع سے معلوم ہو، اس کے سوا کسی چیز کا نام اسلام نہ ہو۔ بعد کے دور میں اسلام کی جو تاریخ بنی، اس کو مذکورہ بالا معیار پر جانچا جائے اور اتنے ہی حصہ کو اسلام قرار دیا جائے جو اس معیار پر باقی کو " انحراف ‘‘ قرار دے کر اسلام کی حقیقی تاریخ سے الگ کر دیا جائے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصنفین اس کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں میں جو کچھ بھی پایا جاتا ہے ، اس کو اکٹھا کرتے ہیں اور اس پورے مجموعہ کو اسلام قرار دے دیتے ہیں ۔ اس طرح توحید سے لے کر بزرگ پرستی تک ہر چیز کا نام اسلام ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر کبھی کسی " مسلمان ‘‘ نے گرد و پیش کی مسیحی راہبوں نے کشف و رویا کا سہارا لے کر مسیحیت کو عالمی بنا دیا۔ مگر پیغمبر اسلام کی بابت یہ بیان بالکل خلاف قرآن میں صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ آپ تمام دنیا کے لئے ڈرانے والے (فرقان۔ 1) بنا کر بھیجے آپ نے خود فرمایا کہ ارسلت الی الناس کافة میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں) آپ نے اپنی زندگی ہی میں عرب کے باہر دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے ۔ اور صریح طور پر پیش گوئی فرمائی کہ اسلام عنقریب ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ اسی طرح اس کتاب میں یہ غلطی بھی کی گئی ہے جو موجودہ زمانہ کے رواجی مطالعہ کی بنا پر اکثر مذہبی مصنفین کرتے اسلام کسی تاریخ کا نام نہیں، وہ قرآن، رسول کی فضا سے متاثر ہو کر ایک تصویر بنائی جس میں دکھایا کہ فرشتہ ایک پر دار خاتون کی شکل میں آیا ہے اور پیغمبر اسلام کو خدا کی وحی پہنچارہا ہے۔ اس تصویر کو نہایت اہتمام سے ایڈنبرا یونیورسٹی کی لائبریری میں محفوظ کر دیا گیا اور کتاب میں اس کا فوٹو (صفحہ ۳۹۱) چھاپ دیا گیا۔ اسی طرح چودھویں صدی عیسوی میں کسی مسلمان یا عیسائی نے دو صاحب ریش بزرگوں کی تصویر بنائی اور ان کے سر پر پگڑی رکھی۔ ایک کو اونٹ پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا، دوسرے کو گدھے پر۔ گدھے کے مسافر کے نیچے لکھ دیا "عیسیٰ"، اونٹ کے مسافر کے لئے لکھ دیا : "محمد"، یہ تصویر بھی اسلامی تاریخ کے ایک قیمتی صفحہ کی حیثیت سے کتاب (۴۳۱) کی زینت بن گئی۔ مسلمانوں میں ایک گروہ پیدا ہوا جس نے دوسری قوموں کے اثر سے "وجد" کا نظریہ
ایسے لوگوں کی ایک مجلس کا فوٹو لے لیا گیا (۴۱۱) اور دکھایا گیا کہ اسلام کے مطابق جب خدائی راگ چھیڑا جاتا ہے تو لوگوں کو وجد آ جاتا ہے اور وہ کھڑے ہو کر ناچنے اسی طرح مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بعض معاملات بیں قرآن کے بیانات متضاد (CONTRADICTORY)
مثال کے طور پر کبھی قرآن کہتا ہے کہ انسان کو عمل کی آزادی حاصل ہے، اور کبھی قرآن ہی یہ زور دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ انسان کے تمام معاملات پر خدا کا مکمل کنٹرول قائم ہے (۴۰۷) قرآن کی بابت مقالہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے کسی ما قبل انسانی ماخذ کا ثبوت نہیں ملتا (۴۰۲) حتی کہ قرآن کی زبان بھی محمد کی اپنی روز مرہ کی زبان سے مختلف ہے (۳۹۸) پھر بھی معروف رواج کے مطابق انھیں تلاش ہے کہ سابق مذہبی کتابوں میں اس کا کوئی ماخذ جائے۔ یہ باتیں بلاشبہ ہمارے لئے تکلیف دہ ہیں۔
مگر اس قسم کی جو کتابیں چھپ رہی ہیں، ان کا توڑ نہیں ہے کہ ان کے خلاف ایک جلی کٹی تنقید لکھ کر چھاپ دی جائے یا ناشراور مصنف کے نام احتجاجی تار روانہ کر دیئے اس قسم کی کوشش، خدمت اسلام کا جھوٹا کریڈٹ لینے کے ہم معنی ہے ۔ ان کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ کچھ خبریں اخبار میں چھپ جائیں اور وہ بھی دینی نقصان میں مالی نقصان کے اضافہ کی قیمت پر۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ان کتابوں کا علمی بدل فراہم کیا جائے ، ہمارے درمیان اعلیٰ سطح پر ایسے ادارے قائم ہوں جو خود علوم کو نئے ڈھنگ پر مرتب کر ڈالیں۔ موجودہ قسم کی اشتہاری کتابوں کے بجائے وہ علمی طرز کی کتا میں تیار کریں ، اسلام کی قلمی خدمت کے کام کو مناظرہ بازی یا دوسرے لفظوں میں "مذہب کے پروپیگنڈہ لٹریچر" کی سطح سے اٹھا کر تدوین علوم کی سطح پر پہنچادیں ۔ وہ انسانی ذہن کو تحقیق وتصنیف کے اس مقام پر پہنچ کر خطاب کریں جہاں سے دوسرے لوگ اس کو خطاب کررہے ہیں ۔ دوسری کوئی بھی صورت اس فتنہ کے مقابلہ کی نہیں ہے۔
صیانۃ الحدیث حصہ اول (صفحات ۳۲۸)
" " حصہ دوم (صفحات ۲۰۰)
ازمولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈانگری قیمت ہر دو حصے نوروپے پچاس پیسے پتہ: مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری معرفت خان کلاتھ ہاؤس، رام دت گنج ضلع بستی العلم والعلماء از مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈانگری صفحات ۱۰۴ - قیمت دو روپے (پتہ مذکورہ بالا) دونوں کتابوں کا موضوع ان کے نام سے ظاہر ہے۔ منکرین حدیث کا اعتراض ہے کہ احادیث رسول ڈھائی سو برس بعد مرتب کی گئیں۔ اس لئے وہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ صیانۃ الحدیث میں اس الزام کا مفصل جواب تاریخ و واقعات کی روشنی میں دیا گیا ہے۔ دوسری کتاب (العلم والعلماء) میں طلب علم کے سلسلے میں علمائے سلف کی جدوجہد کے عبرت انگیز واقعات درج ہیں۔ موصوف نے دیباچہ میں لکھا ہے : "حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا ہے کہ اپنی تصانیف میں سے صرف فتح الباری اور مقدمہ فتح الباری کے تیار کرنے پر سب سے زیادہ میں بھی اپنے تازہ مضامین میں "سیرت پاک" پر لکھے ہوئے مقالہ اور نصرت حدیث پر لکھے ہوئے مضمون "صیانۃ الحدیث اور نصرۃ الباری فی بیان صحۃ البخاری" سے سب سے زیادہ مطمئن ہوں"