مومن کی تصویر
Al-Risala, December 1977, pp. 26–32
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کا یہ اجتماع جس میں ہم آپ جمع ہوئے ہیں، یہ گویا ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے جماعت اسلامی کی دعوت پر ملک کے گوشے سے یہاں جمع ہو کر آپ نے اس بات کا مظاہرہ کیا ہے کہ پچھلے پندرہ سال کے اندر ہم اس ملک میں کتنا کام کر چکے ہیں اور یہاں جو کارروائی انجام پائے گی وہ ہماری طرف سے اس بات کا اعلان ہوگا کہ آئندہ ہم اس ملک میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گویا ماضی اور مستقبل کے درمیان کا ایک وقفہ ہے جس کو ہم دار السلطنت یا قرآن کے الفاظ میں اس ملک کے ام القری میں گزار رہے ہیں۔ وقت میں جو کچھ عرض کروں گا وہ ہمارے اس تاریخی دن کے دوسرے پہلو کا ایک جز ہے۔ خدا میری اور آپ کی مدد فرمائے۔
حضرت معاذ خدا کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک گفتگو کی روداد ان الفاظ میں نقل
قَالَ أَلا أَدُلُّكَ بِرَأسِ الأَمْرِ و عَمُو دِهِ وَذِرْوَةِ سنامِهِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَ رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلوة وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ (احمد تر مندی، ابن ماجه)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ دین کا سر کیا ہے اور اس کا ستون کیا ہے اور اس کی سب سے بلند چوٹی کیا ہے۔ میں نے جواب دیا: ہاں اے خدا کے آپ نے فرمایا۔ دین کا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔
اس حدیث کے مطابق دین کے تین درجے ہیں۔ اسلام، نماز اور جہاد—— یہ تین الفاظ در اصل تین مختلف عمل کے عنوانات ہیں جو ایمان لانے کے بعد کسی کی زندگی میں ابھرتے ہیں۔ اسلام اس کا پہلا عمل اور اس کی بنیاد ہے اور نماز وہ چیز ہے جو اس عمارت کو اوپر اٹھاتی ہے اور جہاد اس کی آخری منزل ہے۔ سب سے پہلے اسلام کو لیجیے۔ اسلام کے معنی سپردگی اور حوالگی کے ہیں۔ بندہ جب اپنے خدا کو پالے اور اپنے آپ کو بالکل اس کے حوالے کردے تو اسی کو اسلام کہتے ہیں۔ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کا فنا فی اللہ ہے جس میں بندہ اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور جسمانی طور پر اپنے الگ وجود کو باقی رکھتے ہوئے نفسیاتی طور پر خدا کی ہستی میں گم ہو جاتا ہے۔ یہ آدمی کے پورے وجود کا خدا کے تصور میں ڈھل جانا ہے۔ اسلام یہ ہے کہ ہمارا ذہن اس حقیقت پر بالکل مطمئن ہو جائے کہ اس کائنات کا ایک خالق اور مالک ہے۔ احساسات میں وہ اس طرح شامل ہو جائے کہ رگ رگ میں ہم اس کی کھٹک محسوس کرنے لگیں۔ ہم اپنے آپ کو اس طرح اس کے حوالے کر چکے ہوں کہ کسی معاملے میں اس کے خلاف جانے کا تصور تک نہ کر سکیں. ہمارا ذہن اسی کے بارے میں سوچتا ہو اور ہمارے جذبات اسی کے لیے متحرک ہوتے ہوں، ہم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے
ہوں اور سب سے زیادہ اس سے محبت کرتے ہوں جس شخص کی یہ کیفیت ہو جائے وہی دراصل اسلام کو قبول اسلام تسلیم وتفویض کی وہ آخری قسم ہے جس میں بندہ اپنے فکر کو، اپنے جذبات کو، اپنے وجود کو اور اپنے سارے اثاثے کو خدا کے سپر د کر دیتا ہے اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر ہے وہاں اسی لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انھوں نے سمجھا کہ خدا مجھ سے میرے لڑکے کی قربانی مانگ چنانچہ انھوں نے فوراً لڑکے کو لیا اور اس کو لٹا کر اس کی گردن پر چھری رکھ دی۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان لفظوں میں آیا ہے:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ جب وہ دونوں مسلم ہوئے اور ابراہیم نے اسمعیل کو پیشانی کے بل ڈال دیا۔
حضرت ابراہیم کا یہ عمل اسلام کی حقیقی تصویر ہے۔ یہ حوالگی اور سپردگی کی انتہا ہے کہ خدا کی طرف سے جو حکم بھی آئے بندہ فوراً اس کی تعمیل کے لیے تیار ہو جائے حتیٰ کہ اگر اس کو محسوس ہو کہ اس سے اپنے لڑکے کو ذبح کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے تو وہ بے تکلف اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹائے اور اس کی گردن پر چھری
یہی اسلام خدا پرستانہ زندگی کا آغاز ہے۔ جب آدمی اس طرح مسلم اور مطیع ہو جائے تو وہ دین کا سرا اس مکمل حوالگی کے بغیر کسی کی زندگی حقیقی معنوں میں خدا پرستانہ زندگی نہیں بن سکتی۔ اس حوالگی میں جتنی کمی ہوگی اسی کے بقدر آدمی کی زندگی میں کمی رہ جائے گی. مثلاً ایک شخص نے اگر اپنے ذہن کو خدا کے حوالے کیا ہے مگر اس کے احساسات پر خدا کا غلبہ نہیں ہوا ہے تو وہ اسلام کا صرف ایک وکیل بن کر رہ جائے گا۔ اسلام کے لیے بحثیں کرے گا اور دوسردں پر تنقید کرنے میں اس کی زبان بہت تیز ہوگی۔ مگر اس کی اپنی زندگی خدا پرستی سے خالی ہوگی۔ کوئی شخص اگر اسلام کی طرف اس طرح آئے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کا نفع حاصل کرنا چاہتا ہو تو وہ خدا پرستی کو اسی حد تک اختیار کرے گا جس حد تک اس کے دنیوی مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔ جہاں اس کا دنیا کا فائدہ خطرہ میں نظر آیا وہ خدا پرستی کو ترک کر دے گا اور دنیا کے بت کو پوجنے لگے گا۔ شخص کسی سطحی تاثر یا وقتی جذبات کے تحت اسلام کی طرف مائل ہوگا وہ چند دنوں تو بڑی سرگرمی دکھائے گا مگر اس کے بعد ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ یا جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جائے گا۔ جو شخص اسلام کی طرف اس طرح آئے کہ وہ اپنی خودی کے بت کو بھی ساتھ لیے ہو وہ خدا کے دین کی ان چیزوں کو بڑی خوشی سے لے لے گا جو اس کے ذوق کے مطابق ہوں گی اور جو چیز اس کے ذہنی سانچے میں فٹ ہوگی وہ اسے رو کر دے گا۔ جو شخص اسلام کے ناقص مطالعہ کے تحت محض اس کے بعض پہلوؤں سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف آئے وہ اپنے پسندیدہ پہلوؤں کے بارے میں تو اتنی گرم گرم تقریر کرے گا گویا وہ صحابہ کرام سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ مگر دوسرے پہلوؤں سے اسے کچھ زیادہ
دل چسپی نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کو اپنے قومی اور تحریکی جذبات کی تسکین کے لیے اختیار کرے تو وہ قومی جوش وخروش اور تحریکی اخلاقیات میں تو بہت نمایاں نظر آئے گا۔ مگر حقیقی اسلامی اسپرٹ اور اسلامی اخلاقیات کا اس کے اندر کہیں پتہ نہ ہوگا۔ حتی کہ جو لوگ مکمل حوالگی کے بغیر دین کی طرف آئیں ان کی کمزوریاں اس حد تک پہنچ سکتی ہیں کہ ایک شخص کو صبح سات بجے کسی دینی کام کے لیے بلایا جائے گا اور وہ کہے گا میں تنہ سویرے نہیں آسکتا کیونکہ وہ میرے چائے پینے کا وقت ہے۔ ایک شخص کو کسی اسلامی اجتماع کے پروگرام میں حصہ لینے کے لیے رات کو گیارہ بجے کا وقت دیا جائے گا اور وہ جواب دے گا کہ گیارہ بجے تک میرے لیے سو جانا ضروری ہے۔ اس لیے میں اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو صلاحیت دی ہے اس کو دین کی خدمت میں لگاؤ مگر وہ کہے گا کہ میں تو دنیا کی خدمت کروں گا کیونکہ دنیا کے بازار میں میری صلاحیتوں کی زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ ایک شخص اسلام کا دعویٰ کرنے کے باوجود ہر وقت کھانے کپڑے کی فکر میں مبتلا رہے گا، اس کی مجلس میں ہر وقت روپے پیسے کا تذکرہ ہوگا اور جب اس سے کہا جائے گا کہ مومن کے گھر میں خدا اور آخرت کا چر چاہونا چاہیے تو وہ بگڑ کر بولے گا کہ ہاں یہ مومن کا نہیں کافر کا گھر ہے۔ شخص اپنے آپ کو اسلام کے علمبردار کی حیثیت سے پیش کرے گا لیکن اگر اس کی زندگی کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اسلام سے زیادہ اس کا ذہن اپنے ذاتی مسائل میں دلچسپی لیتا ہے، وہ اپنی اسلامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے زیادہ سنج قسم کے مشغولوں میں اپنا وقت صرف کر رہا ہے، وہ اپنی معاش کمانے اور اپنے بیوی بچوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے تو سارے جتن کرتا ہے مگر اسلام کا کوئی کام کرنا ہو تو معمولی معمولی باتوں کو عذر بنا لیتا ہے۔ اس قسم کی کمزوریاں جہاں نظر آئیں سمجھ لیجیے کہ اس کا ایک ہی سبب ہے، وہ یہ کہ آدمی کے اندر مکمل حوالگی کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کے دین کی طرف نہیں اس نے ادھوری شکل میں اسلام قبول کیا ہے۔
یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بعض احادیث میں چند مخصوص چیزوں کو اسلام‘‘ کہا گیا ہے۔ مثلاً حدیث جبریل میں ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: اے محمد ! بتائیے اسلام کیا ہے؟ نے جواب دیا:’’ اسلام یہ ہے تم گواہی دو کہ الَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ کہ شہادت دو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بشرط استطاعت بیت اللہ کا حج کرو‘‘ اس طرح کی اور بھی روایتیں ہیں جن کو دیکھ کر بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہی وہ چند چیزیں ہیں جن کے مجموعے کا نام اسلام ہے مگر اس قسم کا شبہ وہی کر سکتا ہے جو ان احادیث کو پوری شریعت سے الگ کر کے دیکھے۔ قرآن وحدیث کی ساری تعلیمات کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ یہ چند چیزیں کل اسلام نہیں ہیں بلکہ یہ اسلام کے چند علامتی پہلو ہیں۔ کلمہ توحید کا اقرار اپنے اندر ایک فکری انقلاب کا اعتراف ہے۔ نماز اس بات کا اظہار ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کے آگے جھک گیا ہے۔ زکوٰۃ اپنے مال واسباب کو خدا کے لیے وقف کر دینے کا اعلان ہے روزہ اس بات کا
عزم ہے کہ بندہ اپنے رب کی خاطر ساری مشقتیں جھیلنے کے لیے تیار ہے اور حج گویا آدمی کی طرف سے اس تقریری کا اظہار ہے کہ وہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں کو چھوڑ کر خدا تک پہنچ جانا چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کلمہ توحید اور نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ بذات خود مکمل اسلام نہیں بلکہ یہ اسلام سے پیدا ہونے والی اندرونی کیفیات کے چند نشان ہیں۔ یہ مکمل حوالگی کی جزوی تصویر ہے نہ کہ انھیں کا نام مکمل حوالگی ہے۔ یہ چیزیں جن کا حدیث میں ذکر ہے یہ شریعت کی وہ مخصوص چیزیں ہیں جن کو ہمارے اوپر فرض قرار دیا گیا ہے اور فرائض کے متعلق سمجھ لینا چاہیے کہ وہ راستے کی حد نہیں ہیں بلکہ وہ صرف راستے کی سمت بتاتے یہ فرائض ایک طرح کی لازمی تربیت ہیں جو ہم کو مخصوص وقتوں میں ایک مقررہ عمل کرا کے اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ بقیہ وقت میں ہمیں کیا کرنا ہے۔ ان کی حیثیت محض علامات کی ہے نہ کہ ذمہ داریوں کے حدود متعین کرنے کی۔
ایک مثال سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔ نومبر ۱۹۵۹ء میں جب ہندوستان میں چینی جارحیت کا خطرہ بہت بڑھ گیا تھا۔ احمد آباد کے ۲۵ ہزار طلبہ نے یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے لڑیں گے اور اپنی جان دے کر چینی حملہ کا مقابلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد ان میں سے ہر شخص نے ایک ایک پیسہ دے کر ۲۵ ہزار پیسے جمع کیے اور ان کو ہندوستانی وزیراعظم کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسے دیتے ہوئے انھوں نے وزیراعظم سے کہا کہ یہ ہماری طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے TO GIVE OURSELVES TO YOU کا نشان ہے۔ یہ وقت کی ایک مثال ہے جس سے ہم اسلامی فرائض کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ اور واجبات کی شکل میں اپنے وجود کا تھوڑا حصہ خدا کو دے کر اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اپنا پورا وجود خدا کو دینے کے لیے تیار ہے۔ وہ اپنی بعض حیثیتوں میں سے کچھ دے کر تمام حیثیتوں سے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔
اب نماز کو لیجیے جو اس سلسلے کی دوسری چیز ہے۔ جب کوئی شخص مکمل حوالگی کے ساتھ خدا کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے بالکل قدرتی نتیجے کے طور پر اس کی پوری زندگی ذکر اور دعا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اور دعا کی ایک مخصوص صورت کا نام نماز ہے۔ اہلِ ایمان کی تعریف قرآن میں يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (سجدہ -۱۶) کے الفاظ میں کی گئی ہے۔ یعنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمتوں کی تمنا کرتے ہوئے اسے پکارتے رہتے ہیں۔ جن واقعات کو دیکھ کر لوگ دوسری چیزوں کو یاد کرتے ہیں ان کو دیکھ کر مومن خدا کے تصور میں غرق ہو جاتا ہے۔ اگر وہ کسی جنازے میں شرکت کے لیے قبرستان جاتا ہے تو یہ موقع اس کے لیے بستی کے لوگوں سے ملاقات کی تقریب نہیں ہوتی بلکہ کھودی جانے والی قبر اس کے لیے ایک کھلا ہوا دروازہ بن جاتی ہے جس سے وہ آخرت کی حقیقتوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ اگر وہ کسی عالی شان مکان میں اپنے آپ کو پائے تو وہ اس کے نقش و نگار دیکھنے میں محو نہیں ہو جاتا بلکہ وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ خدا یا مجھے ایسا مکان
نہیں چاہیے، میں تو تیری رحمت اور مغفرت کا طلب گار ہوں اور وہی تو مجھے دے دے۔ آکر وہ کسی تاریخی کھنڈر کے سامنے کھڑا ہو تو وہ اس کو محض آثار قدیمہ کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اس سے یہ عبرت حاصل کرتا ہے کہ ان آبادیوں کے بسنے والے اپنی آبادیوں کو چھوڑ کر جس دنیا میں چلے گئے ہیں وہیں مجھ کو بھی جانا ہے۔ اگر وہ کسی جدید طرز کے کارخانے میں داخل ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ جو کام پہلے سخت قسم کی انسانی محنت سے انجام پاتا تھا، اس کو تیز رفتار مشینیں انجام دے رہی ہیں اور انسان ان کے سامنے کھڑا ہوا صرف ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے تو اس کو ’’صنعتی انقلاب‘‘ کے عجائب یاد نہیں آتے بلکہ وہ کارخانے کی شکل میں خدا کے انعامَات کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا تو نے انسان کو وہ سب کچھ دے دیا ہے جس کی اسے ضرورت تھی، تو نے اسے ایک ایسی کائنات دی ہے جو اپنے ساز و سامان کے ساتھ گویا اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ انسان اگر ایک بٹن دبا دے اور ساری کائنات اس کی خدمت کے لیے حرکت میں آجائے۔
اسی طرح وہ خود جتنے عمل کرتا ہے وہ بھی خدا کو اپنی طرف مائل کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ یہ ہے کہ مومن کا ہر عمل اپنے رب سے درخواست ہے جب وہ کسی کی عیب پوشی کرتا ہے تو گو یا وہ خدا سے اس کا متمنی ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن اس کے عیبوں کو چھپائے۔ جب وہ کسی کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرتا ہے اور اس کے حق سے زیادہ اسے دیتا ہے تو در حقیقت وہ دعا کرتا ہے کہ مالک حقیقی اس کے ساتھ بھی اسی طرح فیاضی کا معاملہ کرے حتی کہ جب وہ اپنے بچے کو گود میں لیتا ہے تو اس وقت بھی اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آجاتے ہیں اور وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا یہ بچہ جتنا کمزور ہے میں اس سے زیادہ تیرے سامنے بے بس اور کمزور ہوں تو میری مدد فرما! وہ کہتا ہے کہ میرے رب! جس طرح ایک چھوٹا بچہ ہکتا ہے تو شفیق باپ لپک کر اسے اٹھا لیتا ہے اسی طرح میں تیری طرف آنا چاہتا ہوں، مگر اپنے کمزور قدموں کے ساتھ میں تجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔ تو ہاتھ بڑھا کر مجھے اٹھا لے !
نماز در حقیقت اسی مومنانہ زندگی کا نشان اور اس کا مرکزی نقطہ ہے۔ مومن کی پوری زندگی نماز ہوتی ہے، مخصوص اوقات میں جب وہ نماز پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنی حالت نماز میں ہونے کی حیثیت کو مجسم اور مکمل کرتا ہے، نماز بندگی کی تصویر ہے۔ نماز اپنے رب سے قریب ہونے کی کوشش ہے۔ نماز خدا کے دربار میں حاضری کا وقت ہے۔ نماز ان جذبات کا ایک خارجی مظہر ہے جو مومن کے سینے میں تڑپ رہے ہوتے ہیں نماز ایک لحاظ سے دعا ہے، وہ اپنی عاجزی کو پیش کر کے خدا سے اس کی رحمت و مغفرت مانگتا ہے اور دوسرے لحاظ سے وہ اسی قسم کا ایک بتیا بانہ عمل ہے جو ایک شخص اپنے محبوب دوست کے لیے کرتا ہے جب کہ وہ اس سے بچھڑ گیا ہو اور تصور کی دنیا میں اس تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہو۔ نماز خدا کا اپنے بندے کی طرف آنا اور بندے کا اپنے رب تک پہنچ جانا ہے۔ بندہ جب نماز میں مشغول ہوتا ہے تو وہ دوسری تمام حالتوں کے مقابلے میں خدا سے زیادہ قریب ہوتا ہے چنانچہ نماز کے وقت اس کو ایک خاص طرح کی قربت کا احساس
ہوتا رہتا ہے مگر جوں ہی نماز پوری کر کے وہ سلام پھیرتا ہے اس کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی ایئر کنڈیشنڈ عمارت سے یکایک باہر آگیا ہو۔ مختصر یہ کہ نماز وہ مقام ہے جہاں خدا اپنے بندوں سے ملاقات کرتا ہے جس طرح جنت کی زندگی کے بارے میں آتا ہے کہ جب جنتیوں کو خدا کا دیدار کرایا جائے گا تو وہ جنت کے بہترین آرام و عیش بھول جائیں گے اور انہیں محسوس ہوگا کہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو انہیں نصیب ہوئی ہے۔ اسی طرح کیفیت سے بھرا ہوا ایک سجدہ ایسا سجدہ جس سے سر اٹھانے کا جی نہ چاہے دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ ہے۔ ایسے سجدوں والی نماز ہی حقیقی معنوں میں نماز ہے اور جس کو ایسے سجدوں کی توفیق نہیں ہوئی وہ گویا ابھی تک نماز سے آشنا ہی نہیں ہوا۔ ایسے شخص سے میں خدا کے رسول کی زبان میں کہوں گا کہ اِرْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ۔ (جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی) حدیث میں نماز کو دین کا ستون کہا گیا ہے۔ یہ نماز کے تربیتی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ نماز مومن کی تربیت ایک طرف وہ آدمی کے اندر وہ خصوصیات پیدا کرتی ہے جن سے وہ دین کا حامل بن سکے۔ طرف وہ آدمی کو اس مقصد کے لیے تیار کرتی ہے کہ وہ حق کا علمبردار بن کر دنیا کے سامنے کھڑا ہو۔ نماز کے یہ دونوں فائدے سورہ مزمل کی ابتدائی آیتوں میں بیان کئے گئے ہیں، ارشاد ہوا ہے :- يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ٥ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ٥ اے چادر اوڑھنے والے! نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ٥ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ قیام کر تھوڑے حصے کو چھوڑ کر یعنی آدھی رات یا وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ٥ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر قَوْلًا ثَقِيلًا ٥ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ ٹھہر کر پڑھ۔ ہم تم پر ایک بھاری بات اتارنے والے وَطْءًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ٥ إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا ہیں بے شک رات کو اٹھنا نفس کو خوب کچلتا ہے طَوِيلًا ٥ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ اور ایسی حالت میں جو بات نکلتی ہے وہ بھی بہت درست ہوتی ہے دن کے وقت تمہیں لمبی مشغولیت (مزمل : ۱-۸)
ہوتی ہے اور اپنے رب کے نام کا ذکر کر اور ہر طرف سے کٹ کر اسی کا ہونا۔
ان آیات میں نماز کے ایک پہلو کو وِطْاً شدید کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے آدمی مقالِ اقوم (درست گفتگو) کے قابل بنتا ہے اور اس کے دوسرے پہلو کو ذکر اسم رب کہا گیا ہے جس سے تبتل الی اللہ (خدا کی طرف یکسوئی) کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوپر حق کی تبلیغ کرنے کی جو ذمہ ڈالی ہے وہ ایک نہایت گراں بار ذمہ داری ہے جس کو اوپر کے ٹکڑے میں قول ثقیل کہا گیا ہے۔ اس قول ثقیل کا بوجھ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی زبردست رياضتیں کر کے اپنے اندر وہ قوت پیدا کرے جس سے اس کا بوجھ اٹھانا آسان ہو جائے ۔
کا طریقہ لمبی قرأت والی طویل نمازیں ہیں جن کا بہترین وقت رات کی تنہائی ہے۔ رات میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ایک بڑا مشقت کا عمل ہے جس کو یہاں وطا شدید (بہت ردندنا) کہا گیا ہے۔ اس وطا شدید کے ذریعہ من اپنے نفس کو کچلتا ہے اور اس حالت میں قرآن پڑھ کر اپنے ذہن کو صاف اور دل کو پاک کرتا ہے۔ تربیت پا کر وہ انسان تیار ہوتا ہے جو اعلیٰ اخلاقی اوصاف رکھنے والا ہو اور مقال اقوم کے ساتھ تبلیغ کا فریضہ انجام دے سکے۔ رات کو خدا کے سامنے کھڑا ہونا آدمی کو اس قابل بناءتا ہے کہ وہ دن کو بندگان خدا کے سامنے کھڑا ہو، اور خدا کے کلام کے مطالعہ سے اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول سکے۔ نماز کا دوسرا پہلو ذکر اسم رب ہے جو تبتیل الی اللہ کی کیفیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یعنی خدا کی یاد میں اس قدر مشغول ہونا کہ ذہنی حیثیت سے آدمی ایسا ہو جائے گویا وہ دنیا سے کٹ کر خدا سے جڑ گیا ہے۔ یہ نماز صرف یاد کی شکل میں بھی ہوتی ہے جس کو قرآن میں ذکر کثیر کہا گیا ہے اور قیام و قعود اور رکوع و سجود کی شکل میں بھی جو نماز کی مخصوص صورت ہے۔ آدمی جب دن کے وقت اپنی مشغولیتوں میں خدا کو یاد کرتا رہتا ہے اور جب مخصوص اوقات کے آتے ہی وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں مسجد کے لیے روانہ ہو جاتا ہے تو اس کے ذریعہ سے وہ اس بات کی تربیت حاصل کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مادی دنیا سے ہٹا کر روحانی دنیا کی طرف لے جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اس کی دلچسپیوں سے اس قدر بے تعلق ہو جائے گویا کہ وہ خدا کا راہب بن گیا ہے۔ اس طرح ذکر اور نماز آدمی کو مادی آلائشوں سے پاک کرکے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دنیا کے اوپر آخرت کو ترجیح دے فانی دنیا کو چھوڑ کر باقی رہنے والی دنیا میں اپنا دل لگائے۔
خدا کی راہ میں نفس کو کچلے بغیر آدمی کے اندر وہ سوز پیدا نہیں ہو سکتا جو دعوت حق کی جان ہے اور نہ اس کے بغیر کسی کو موعظہ حسنہ کی وہ زبان حاصل ہو سکتی جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ داعی کی زندگی سراپا اپنے نظریات کا مجسمہ بن گئی ہو۔ اس کے منہ سے جو الفاظ نکلیں وہ محض الفاظ نہ ہوں بلکہ اس کی اپنی زندگی ان کے اندر کھینچ آئی ہو۔ دعوت حق کے کام کے لیے علمی قابلیت کی ڈگریاں درکار نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے ایسی زندگی کی ضرورت ہے جو اپنی ترجمان آپ ہو، جو بولنے سے پہلے بول رہی ہو اس کو ایسے دل کی ضرورت ہے جو اس غم میں گھل رہا ہو کہ لوگ اپنے رب کو بھول گئے ہیں۔ جو ساری فکروں کو چھوڑ کر اس فکر میں دیوانہ ہو جائے کہ کس طرح لوگوں کو جہنم کے راستے سے ہٹا کر جنت کے راستے کی طرف لگایا جائے اور آدمی کے اندر ان خصوصیات کو پیدا کرنے والا ایک ہی نسخہ ہے اور وہ نماز ہے، ایسی نماز جس میں مشغول ہو کر بندہ اپنے آپ کو خدا سے قریب کرتا ہے۔ جس کے ذریعہ وہ خدا سے جڑ جاتا ہے۔ یہ نماز داعی کا سب سے بڑا اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ وہ نماز کو اپنی زندگی میں شامل کیے بغیر حق کا داعی بن سکتا ہے تو محض ایک غلط فہمی ہے اور جتنی جلد وہ اس غلط فہمی سے نکل آئے اچھا ہے۔
نماز کی اسی اہمیت کی بنا پر حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں تمام عمال کے نام ایک مکتوب