Al-Risala · October 1977

الاسلام پر دو تبصرے

Al-Risala, October 1977, pp. 41–45

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب اسلام کو آج کل کے سائنسی دور میں کس طرح سمجھنا اور سمجھانا چاہیے، یہ اس کتاب کا موضوع اصلی ہے۔ ساتھ ہی آج کل سیاسی اور معاشرتی حالات کے جو تقاضے درپیش ہیں ان کا دینی نقطۂ نگاہ سے کس طرح رد و قبول کیا جائے، مصنف نے ان تمام امور پر نہایت عالمانہ طور سے روشنی ڈالی ہے۔ مطالعہ اور علمیت کے ساتھ ان کی قوتِ استدلال نیز اندازِ بیان بصیرت عطا کرتا ہے۔ آج کل کے ہر روشن خیال مسلمان کو اس کتاب میں فکر و نظر کا سامان

قومی آواز (لکھنو) ۱۷ ستمبر ۱۹۷۷ء ( ۲ )

مولانا وحید الدین خاں ہمارے ملک کے ان چند فکر مندوں میں سے ہیں جو مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر سکتے ہیں۔ وہ مغرب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ تقاضوں سے واقفیت رکھتے ہیں اور جہاں ایک طرف مغرب کی خوبیوں کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہیں وہیں دوسری طرف اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کا فکری دیوالیہ پن بھی مہارتِ فن کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ "الاسلام" سے قبل ان کی ایک بہت کار آمد کتاب "علم جدید کا چیلنج" کے نام سے شائع ہو چکی ہے جس میں انھوں نے "جدید چیلنج" کو قبول کر کے اس کا بھر پور جواب دیا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب "الاسلام"، بھی موجودہ سائنسی دور کی رعایت کر کے ہی لکھی گئی ہے۔ موجودہ دور میں دین کو سمجھنے اور سمجھانے کا انھوں نے اس میں طریقہ بتایا ہے۔ دور کی بہت سی سیاسی و معاشی اصلاحات کو انھوں نے قبول کیا ہے اور بہت سی اصلاحات کو قطعی ناقابلِ اعتنا گردان کر ٹھکرا دیا ہے۔ مگر یہ قبول وانکار باقاعدہ اور مدلل ہے۔ ”تعارفِ مسئلہ“ کے ایک ذیلی عنوان ”اسلامی ادارے“ کے تحت مصنف نے موجودہ دور کے تین اسلامی اداروں خانقاہ، مدرسہ ، اور جماعت کا جائزہ لیا ہے اور مجموعی طور پر تینوں کو اپنے مقاصد میں ناکام قرار دیا ہے کیونکہ مصنف کے خیال کے مطابق یہ ادارے ان فرائض کو ادا نہیں کر رہے ہیں جو ان کے قیام کے ساتھ ہی ان پر عائد ہوتے تھے۔ نتیجے میں ان اداروں نے اپنی تاثیر کھودی، مگر فاضل مصنف نے صرف اسی قدر بیان پر اکتفا کر کے تنقید کا حق تو ادا کر دیا البتہ اصلاح کی بات نہ ہوسکی، جب کہ ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی تھی کہ وہ بتائیں کہ اب اس روایتی نظام کو تبدیل کرنے کی کیا شکل ہوگی ، کیونکہ کم از کم خانقاہیں اور مدرسے ”ایک نظام“ کے پابند ہیں اور اس سے بغاوت ان کے لئے دشوار مسئلہ ہے اس دشواری کو وہ کس طرح عبور کریں ۔ ”مجموعی طور پر ”الاسلام“، نہایت ہی کارآمد اور تحقیقی کتاب ہے ،مصنف ”الاسلام“، سے جا بجا فکری طور پر اختلاف کی تو گنجائش ہے مگر ان کی تحقیق و جستجو اور وسیع مطالعہ سے مجالِ انکار نہیں ہے اور یہ تلاش محنت بغیر کسی فکر اور درد کے نہیں ہو سکتا ، اس لئے یہ بات بھی پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان کی تحریر ان کی دلی تڑپ کی

آج کے روشن خیال افراد اور مغربی دنیا کے دلدادہ مسلمانوں کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی مفید اور کارآمد ثابت ہوگا ۔ (ماہنامہ البدء کا لوری ، اکتوبر ۱۹۷۷ء)

ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں ایک حدیث ہے :

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے ستر سے زیادہ وسلم الایمان بضع وسبعون شعبۃ ، فافضلھا شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ کا کہنا قول لا الہ الا اللہ ، و ادناھا اماطۃ الاذی عن ہے اور سب سے کم راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا الطریق والحیاء شعبۃ من الایمان ہے، اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔

( رواہ الستۃ وغیرہم بالفاظ مختلفۃ)

اس حدیث میں "ستر" کا عدد محض زیادتی کے مفہوم کو بتانے کے لئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں دوسرے اعداد بھی آئے ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں ۷۷ کا عدد بتایا گیا ہے۔ مگر لوگوں کو ہمیشہ یہ شوق رہتا ہے کہ حقیقتوں کو مقداری اصطلاحوں میں بیان کرسکیں، اس لئے بہت سی طبیعتیں اس تلاش میں لگ گئیں کہ وہ ستر شاخوں کی گنتی کریں، حتیٰ کہ ان ستر شاخوں کے تعین کے لئے علماء نے بہت سی مستقل کتابیں لکھ ڈالیں۔ مثلاً فوائد المنہاج از ابو عبد الله حلبی، شعب الایمان از بیهقی، شعب الایمان از عبد الجلیل، کتاب النصائح از اسحاق بن قرطبی، وصف الایمان از ابو حاتم وغیرہ۔

امام ابو حاتم بن حبان فرماتے ہیں کہ میں ایک مدت تک اس حدیث کا مطلب سوچتا رہا۔ جب عبادتوں کو گنتا تو وہ ستر سے بہت زیادہ ہوجاتیں۔ احادیث میں چھان بین کرتا اور حدیث میں جن چیزوں کو نام لے کر ایمان کی شاخوں کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے، ان کو گنتا تو وہ اس عدد سے کم ہوجاتیں۔ قرآن کی طرف متوجہ ہوا اور قرآن میں جن چیزوں کو ایمان کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے، ان کو شمار کیا تو وہ بھی ستر سے کم نکلا۔

اس کے بعد میں نے قرآن اور حدیث دونوں کو جمع کیا۔ دونوں میں جن چیزوں کو ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، ان کو گنا۔ جو چیزیں دونوں میں مشترک تھیں ان کو ایک ایک عدد شمار کر کے میزان نکالی تو دونوں کا مجموعہ، مکررات کو الگ کرکے ، اُس عدد کے موافق ہوگیا۔

کچھ دوسرے لوگ جو ساری کوششوں کے باوجود اپنی فہرست ایمان کو ۶۷ یا ۷۷ کے موافق نہ بناسکے، انھوں نے کہہ دیا کہ اللہ ورسولہ اعلم۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان شاخوں کی تفصیل بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے اور اجتہاداً سے ان تفصیلات کے مراد ہونے کا حکم لگایا ہے، حالانکہ اس مقدار کی تعیین معلوم نہ ہونے سے ایمان میں کوئی نقص واقع نہیں خطابی لکھتے ہیں کہ اس تعداد کی تفصیل اللہ اور اس کے رسول کے علم میں ہے اور شریعت مطہرہ میں موجود ہے ، اس لئے تعیین کے ساتھ ان کی تعداد کا معلوم نہ ہونا کچھ مضر نہیں۔ نووی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شاخوں میں سب سے اعلیٰ توحید کو قرار دیا ہے اور سب سے نیچے جو ہے وہ دفع کرنا ہے اس چیز کا جو کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کا احتمال رکھتی ہو۔ سب شاخیں ان کے درمیان ہیں جن کی تفصیل معلوم ہونا ضرور ی نہیں۔ اجمالاً ان پر ایمان لانا کافی ہے، جیسا کہ سب فرشتوں

پر ایمان لانا ضرور ی ہے مگر ان کی تفصیل اور ان کے نام ہم نہیں جانتے۔

حقیقت کو مقداری اصطلاحوں میں بیان کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں ہے، اس کے بعد پورے دین کا تصور ہی بدل جاتا مثال کے طور پر احادیث میں بعض کلمات واذکار کی فضیلت آئی ہے۔ مثلاً ایک حدیث ہے : عن ابن عباس قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و الذي نفسی بیدہ لو جئئی بالسّموات والارض میں میری جان ہے، اگر تمام آسمان وزمین لائے جائیں اور ومن فیهن وما بینهن وما تحتھن فوُضِعَنّ فی کفة جو لوگ ان میں ہیں اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں یا ان المیزان ووضعتُ شہادۃ ان لا الہ الا اللہ فی کے نیچے ہیں، سب کا سب ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ الکفة الاخری لَرُجِحَتْ بھن دیا جائے اور لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یقیناً وہ جھک جائے گا۔

حقیقت کو مقداری اصطلاح میں بیان کرنے کا ذہن ، اس قسم کی احادیث کے سلسلے میں ، سب سے پہلے یہ کرتا ہے کہ ”گواہی دینے“ کو ”پڑھنے کے معنے میں لے لیتا ہے۔ حالانکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص محبت کی تعریف میں کہے : محبت نام ہے اپنی زبان سے یہ جملہ بولنے کا ۔ ’’ میں تم سے محبت کرتا ہوں ‘‘، اب اگر ایک باپ کو اپنے بیٹے سے محبت ہے تو اس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ کسی گوشہ میں بیٹھ کر ایک لاکھ بار محبت محبت کا ورد کر لیا کرے ۔ اس کے بعد دوسری شدید تر غلطی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس ذہن کے سامنے وہ روایتیں آتی ہیں جن میں ذکر اور استغفار کے کلمات کی کثرت کی تلقین کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا: باقیات صالحات (مریم) کو کثرت سے کہا کرو۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں۔ فرمایا تکبیر، تہلیل، تسبیح، تحمید اور لا حول ولا قوة ۔ اسی طرح ایک روایت ہے : عن ابی بکر الصدیق عن رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا الہ الا اللہ اور استغفار علیکم بلا الہ الا اللہ والاستغفار فاکثروا منھا تمھارے لئے ضروری ہیں ، پس ان میں کثرت کرو۔ کہنے یا شہادت دینے کو ” پڑھنے “ کے معنی میں لینے کے بعد قدرتی طور پر یہ ہوتا ہے کہ ذکر کی کثرت ” ورد کی کثرت “ کے معنی میں ڈھل جاتی ہے۔ اب اس کا مطلب یہ ہو جاتا ہے کہ ذکر کے مسنون اور غیر مسنون کلمات کو یاد کر لیا جائے اور ان کو تسبیح کے دانوں پر شمار کیا جاتا ر ہے۔ ایسے ایسے مشائخ فن پیدا ہونے لگتے ہیں جن کے ذکر کی مقدار لاکھوں سے گزر کر کروڑوں کی گنتی تک پہنچ جاتی ہے ۔

جامع الاصول میں لکھا ہے کہ لفظ اللہ کا ذکر ورد کے طور پر کم از کم پانچ ہزار روزانہ کی مقدار ہے۔ اور زیادہ کے لئے کوئی حد نہیں۔ صوفیاء کے لئے کم از کم پچیس ہزار روزانہ کی مقدار ہے۔ لا الہ الا اللہ کی مقدار کے متعلق لکھا ہے کہ کم از کم پانچ ہزار روزانہ ہونا چاہئے۔ شاہ ولی اللہ نے قول جمیل میں اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ میں ابتدائے سلوک میں ایک سانس میں لا الہ الا اللہ دوسو مرتبہ کہا کرتا تھا۔ صوفیاء کے یہاں ایک اصطلاح وضع ہوئی جس کو پاس انفاس کہا جاتا ہے۔ یعنی اس بات کی مشق کہ کوئی سانس اللہ کے ذکر کے بغیر نہ اندر جائے نہ باہر آئے۔ کروڑوں لوگوں نے ریاضت کرکے باقاعدہ اس کی مشق حاصل کی۔

صوفوء ذکر کے نام پر درد کی خوب کثرت کراتے ہیں۔ عقیدہ یہ ہے کہ قلب میں اس کے بعد دسا دس کی گنجائش ختم ہو جائے یہاں یہ سوال تھا کہ اوراد اور ضربوں سے اگر قلب کی اصلاح ہوتی ہے تو صحابہؓ نے اپنی اصلاح کے لئے یہ طریقہ کیوں نہ اختیار کیا۔ اس کا سادہ جواب یہ دیا گیا کہ "صحابہ کرام کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے یہ قوت قلبیہ اعلیٰ درجہ پر حاصل تھی تو ان کو ضربیں لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے جتنا بعد ہوتا گیا اتنی ہی قلب کے لئے اس مقوی قلب خمیرہ کی ضرورت بڑھتی گئی۔

ذکر کو درد کے ہم معنی سمجھنے کی وجہ سے بزرگی کی عجیب عجیب قسمیں وجود میں آنے لگیں۔ سری سقطی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جرجانی کو دیکھا کہ ستو پھانک رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ خشک ہی پھانک رہے ہو، کہنے ل کہ میں روٹی چبانے اور پھانکنے کا جب حساب لگایا تو چبانے میں اتنا وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ اس میں آدمی ستر مرتبہ سبحان اللہ کہہ سکتا ہے۔ اس لئے میں نے چالیس برس سے روٹی کھانا چھوڑ دیا، ستو پھانک کر گزر کر لیتا ہوں۔

اس ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ عمل اور اس کے نتائج دونوں شماریاتی چیز بن گئے۔ جب گناہوں کی بھی گنتی تھی اور ذکر و استغفار کے کلمات بھی گنتی کی چیز تھے تو یہ ممکن ہوگیا کہ ایک گنتی کو با آسانی دوسری گنتی سے ختم کر لیا جائے۔ ایک بزرگ لکھتے ہیں: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان ان کا اہتمام کرلے، جنت میں داخل ہو از دہ دونوں بہت معمولی چیزیں ہیں۔ مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ ایک یہ کہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ پڑھ لیا کرے تو روزانہ ایک سو پچاس مرتبہ (پانچوں نمازوں کے بعد کا مجموعہ) ہو جائے گا اور دس گنا ہوجانے کی وجہ سے پندرہ نیکیاں حساب میں شمار کی جائیں گی۔ اور دوسری چیز یہ کہ سوتے وقت اللہ اکبر ۳۴ مرتبہ ، الحمد للہ ۳۳ مرتبہ، سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ پڑھ لیا کرے تو۔ اکیلے ہو گئے جس کا ثواب دس گنا بڑھ کر ایک ہزار نیکیاں ہوگئیں۔ اب ان کی اور دن بھر کی نمازوں کے بعد کی میزان کل دو ہزار پانچ سو نیکیاں ہوگئیں، بھلا اعمال تولنے کے وقت ڈھائی ہزار برائیاں روزانہ کی کس کی ہوں گی جوان پر غالب آجائیں گے (۱۳۳) ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ کوئی شخص تم میں سے اس بات کو نہ چھوڑے کہ ہزار نیکیاں روزانہ کر لیا کرے۔ سبحان اللہ وغیرہ سومر تبہ پڑھ لیا کرے۔ (دس گنا بڑھ کر) یہ ہزار نیکیاں ہو جائیں گی۔ اتنے گناہ تو انشاء اللہ روزانہ کے ہوں گے بھی نہیں۔ اور اس تسبیح کے علاوہ جتنے نیک کام کئے ہوں گے ان کا ثواب علیحدہ نفع میں رہا۔

مغفرت کا معاملہ اگر اس قسم کے سادہ حساب کا معاملہ ہوتا تو صحابہ کا یہ حال نہ ہوتا کہ وہ آخرت کے خوف سے بے قرار رہتے اور یہ کہتے کہ کاش میں ایک تنکا ہوتا، کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ " من قال لا الہ الا اللہ مخلصا دخل الجنۃ" اس قسم کی روایات کی تشریح عام طور پر جس طرح کی جاتی ہے اس سے سخت غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ اخلاص کے ساتھ لا الہ کہنے کا مطلب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی تھوڑی دیر کے لئے کسی گوشہ میں بیٹھ جائے اور خوب احترام اور قرأت کے ساتھ ان الفاظ کی تکرار کرلے۔ اخلاص کا یہ مطلب نہیں ہے۔ اخلاص قلب کے اندر ایک انقلاب پیدا ہونے کا نام ہے نہ کہ تقدس یا احترام کے ظاہری آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے کچھ الفاظ کو دہرانے کا۔

ذکر کے معنی عربی زبان میں یاد کے ہیں۔ اللہ کا ذکر مراد یہ ہے کہ آدمی کا دل اللہ کے خوف اور اس کی محبت سے سے اس طرح بھر جائے کہ ہر وقت اس کی یاد آتی رہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کوئی شخص اپنے محبوب ترین دوست کے لئے بے قرار رہتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز میں اس کو خدا کا جلوہ دکھائی دے جس کی وجہ سے بار بار کلمات شکر اس کی زبان سے آخرت اس کو اتنی بڑی حقیقت دکھائی دینے لگے جو اس کی ساری زندگی کو بے چین کر دے اور بے تابانہ اس کی زبان سے استغفار کی دعائیں ٹپکنے لگیں۔

ذکر نہ ورد ہے نہ تکرار الفاظ۔ یہ انتہائی واقعہ ہے جو پوری انسانی زندگی کو متاثر کرکے رکھ دیتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ بندہ جب تکبیر (اللہ اکبر) کہتا ہے تو اس کا نور زمین سے آسمان تک سب چیزوں کو ڈھک لیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خطبہ میں فرمایا، جو شخص لا الہ الا اللہ کو اس طرح کہے کہ خلط ملط نہ ہو تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ علی بن ابی طالب نے پوچھا کہ خلط ملط کا کیا مطلب ہے۔ فرمایا: دنیا کی محبت اور اس کی طلب میں لگ جانا۔ ایک بار آپ نے فرمایا کہ جو شخص لا الہ الا اللہ اخلاص کے ساتھ کہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پوچھا گیا لا الہ الا اللہ کا اخلاص فرمایا: وہ آدمی کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے روک دے۔

عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ صلی اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ علیہ وسلم لا يموت عبد يشهد ان لا اله اس نے گوآہی دی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، اور میں اللہ الا اللہ واني رسول الله يرجع ذلك الى کا رسول ہوں۔ اور یہ بات اس کے قلب سے نکلی ہو، تو وہ ضرور قلب مومن الا دخل الجنة (وعن عمر ان جنت میں داخل ہوگا۔ (دوسری روایت میں) جو اس بات کو بلفظ) من علم ان الله ربه واني نبيه موقنا جان لے کہ اللہ اس کا رب ہے اور میں خدا کا رسول ہوں، من قلبه حرمه الله على النار اس نے قلب سے اس کا یقین کیا ہو تو جہنم کی آگ اللہ اس کے لئے حرام کر دیتا ہے۔

شیخ محمد مہدی (م ۱۸۱۵ء) مصر کے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے تھے، پھر اسلام قبول کیا۔ میں تعلیم حاصل کی۔ اور اس کے بعد شیخ الازہر کے منصب پر سرفراز کئے گئے۔

احمد فارس شتیاق (۱۸۸۷-۱۸۰۰) لبنان کے مارونی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم اور مطالعہ کے بعد ادبی حیثیت سے بہت نمایاں ہوئے۔ لندن کی تورات سوسائٹی نے ان کو تو رات کے ترجمہ کے لئے بلایا۔ اسی طرح کے اور بہت سے علمی اور ادبی مرتبے ان کو حاصل ہوئے ۔ آخر میں تونس پہنچ کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام احمد رکھا۔ عالم عرب میں اس طرح کے بہت سے عیسائی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی کسی تبلیغی کوشش کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ عرب کے مسلمان اگر سیاسیات میں نہ الجھتے اور تبلیغ و دعوت کا کام کرتے تو یقینی ہے کہ وہ زمین ہی ختم ہو جاتی جس پر فلسطین اور لبنان جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

Printed page