عصبيت کہاں تک لے جاتی ہے
Al-Risala, October 1977, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں مسلمانوں کے علاوہ کئی یہودی قبیلے آباد تھے۔ آپ نے ان قبیلوں سے معاہدہ کیا۔ ان معاہدوں کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی کے ساتھ نہیں دیں گے۔ نے اس کی خلاف ورزی کر کے غداری کا جرم کا ارتکاب کیا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد بنو نضیر کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔ غزوہ خندق میں بنو قریظہ نے اسی قسم کی غداری کی۔ قریش کی واپسی کے بعد مسلمانوں نے بنو قریظہ کو گھیر لیا جو اپنے قلعہ نما مکان میں محصور ہو گئے تھے۔ تک محاصرہ جاری رہا۔ اس کے بعد جب بنو قریظہ نے دیکھا کہ ان کے لئے کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا ہے تو انھوں نے ثالث مقرر کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت قبیلہ اوس ان کا حلیف تھا، انھوں نے خود یہ شرط پیش کی کہ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ (جو مسلمان ہو چکے تھے) کو ثالث مقرر وہ جو فیصلہ کریں گے ہم کو منظور ہوگا۔ سعد بن معاذ نے تو رات کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ کے تمام مرد قتل کر دیئے جائیں اور ان کی عورتیں باندی بنا لی جائیں۔ یہودیوں میں ایک شخص زبیر بن باطاا غرضی تھا، اس نے مدینہ کے ایک مسلمان ثابت بن قیس سے جنگ بعاث کے موقع پر احسان کیا تھا۔ مدینہ کے عربوں اور یہودیوں کی اس جنگ میں ثابت بن قیس گرفتار ہو گئے تھے، زبیر بن باط نے ان کو آزاد کرایا۔ ثابت بن قیس نے چاہا کہ یہودی سردار کے اس قدیم احسان کا بدلہ ادا کریں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے ان کے کہنے پر زبیر بن باط کو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ ثابت بن قیس نے یہ خوش خبری یہودی کو پہنچائی تو اس نے کہا: میرے جیسا کمزور، طاقت ور کے اوپر غالب آسکتا ہے یہ قوی ہیکل جوان امریکی ہوائیہ کا ایک افسر ہے جس جس کا نام میجر رچرڈ ایڈگر جانسن ہے۔
دسمبر ۱۹۷۲ء میں شمالی ویت نام کی ایک معمولی عورت نے اس کو پکڑا اور اس کو بندوق کی نوک پر اپنے ساتھ چلنے کے لئے مجبور کر دیا۔
بوڑھا آدمی، جب اس کے پاس اس کے اہل وعیال اور اس کا مال ہی نہ ہوں تو وہ اکیلا زندہ رہ کر کیا کرے گا۔ ثابت بن قیس نے دوبارہ رسول اللہ سے درخواست کی تو آپؐ نے اجازت دے دی کہ وہ اپنے اہل وعیال اور مال کو بھی لے سکتا ہے۔ مگر یہودی اس پر بھی مطمئن نہ ہوا۔ اس نے پوچھا کہ بنو قریظہ کے دوسرے سرداروں مثلاً کعب بن اسد، حی ابن اخطب، عزآل بن سموئل کا کیا حشر ہوا بتایا گیا کہ وہ قتل کر دیئے گئے اس پر یہودی کھرے پا حجازی نغمے شاکر قیاوی اچھوتے انداز و منفرد رنگ میں حمد غلو سے خالی نعت میں نعت ہی نعت بے مبالغہ درود و سلام متوقع مقبول بارگاہ مناجات بعنوان ” لا اله الا اللہ “ وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ تھا:
فلما علم انهم قتلوا قال : انی اسألک یا ثابت بیدی عندك الا الحقتنی بالقوم ۔ فواللہ مافی العیش بعد ھؤلاء من خیر ، فما انا بصابر للہ قتلۃ دلونا ضح حتى القی الاحبة فضربت عنقه محمد حسين هيكل ، حيات محمد ، قاهره ، ۱۹۶۵ ، صفحه ۴۳ جب اس نے جانا کہ اس کے تمام یہودی سردار قتل کر دیئے گئے، تو اس نے کہا، اے ثابت ، مجھے بھی میرے لوگوں تک پہنچا دو۔ خدا کی قسم ان کے بعد اب زندگی میں کوئی بھلائی نہیں۔ کے اندر ڈول ڈالنے کی مدت کے بقدر بھی مجھے صبر نہیں ، یہاں تک کہ میں اپنے دوستوں سے مل جاؤں ۔ پس اس کی مرضی کے مطابق اس کی گردن مار دی گئی ۔
اس غزوہ میں جو یہودی عورتیں باندی بنائی گئی تھیں، ان میں ریحانہ نامی ایک عورت رسول اللہ کے حصہ میں آئی۔ نے اس سے کہا کہ تم اسلام قبول کر لو میں تمھارے ساتھ شادی کروں گا تم عزت سے میرے ساتھ رہنا۔ مگر وہ یہودیت ترک کرنے پر راضی نہ ہوئی ۔ وہ آپ کی خدمت میں باندی کی حیثیت سے رہی اور اسی حال میں مر گئی ۔
تدبیر بندشِ شکستہ شیرازہ وحدت عمل ہی عمل کی للکار اعتراف ملی تقصیرات اسلام محیط برانام سیرانی رو حانیت تشنه شادی بیاه میں غیر اسلامی مانگ تلک،، قرآن کی پکار استفہام از دردمندان ملت کائناتی زبان حال ماں بہنوں سے خطاب ہر ملک ملک ماست الخ عرفانی رباعیات و قطعات و غیرہم پر مشتمل اصلاح آس اور دلوں، محفلوں نیز اسلامی جلسوں کو گرمانا مقصود ہو تو پیشگی قیمت ایک روپیه آٹھ آنے بھیج کر بک پوسٹ یا بذریعہ رجسٹری حجازی نغمه طلب فرمائیے۔ خرچہ رجسٹری بذمہ خریدار رہے گا۔
پته: شاکر گیادی ۔ منہاری شاپ مسبو پور بازار جمشید پور یء