Al-Risala · October 1977

سیاست جب نشہ بن جائے

Al-Risala, October 1977, pp. 48–52

By Maulana Wahiduddin Khan

مکھن بنانے والی کوئی کمپنی اگر اپنے مکھن کی پیکنگ پر لکھ دے: ”یہ مکھن صحت کے لئے مضر ہے“ تو اس کا مکھن کوئی بھی شخص نہیں خریدے گا۔ ایسی کمپنی چند ہی روز میں دیوالیہ ہو جائے گی۔ مگر جدید قوانین کے تحت سگریٹ کا ہر پیکٹ جو سگریٹ ساز کمپنی سے تیار ہو کر بازار میں آتا ہے، اس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے: CIGARETTE SMOKING IS INJURIOUS TO HEALTH (سگریٹ پینا صحت کے لیے مضر ہے) مگر اس سے سگریٹ کی خریداری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سگریٹ سازی کا کاروبار آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکھن ایک مفید غذا ہے۔ اس کو آدمی صحت اور طاقت حاصل کرنے کے لئے کھاتا ہے۔ اس لئے جب کسی مکھن کی یہ حیثیت مشتبہ ہو جائے تو وہ فوراً اس کو چھوڑ مگر سگریٹ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے ساتھ غذائی افادیت کا کوئی تصور وابستہ نہیں۔ سگریٹ صرف نشہ حاصل کرنے کے لئے پیا جاتا ہے اور نشہ کا فائدہ سگریٹ میں اس وقت بھی پوری طرح موجود ہوتا ہے جب کہ صحت کے اعتبار سے اس کا مضر ہونا ثابت ہو گیا ہو۔ جب اصل مقصد حاصل ہو رہا ہو تو کوئی شخص کیوں اسے چھوڑے۔ یہ معاملہ کھانے اور پینے کی چیزوں تک محدود نہیں۔ یہ کبھی دین اور مذہب تک پہنچ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کچھ لوگوں کو ”سیاست“ کا چسکا لگ جائے تو خواہ کتنے ہی یقینی دلائل سے اس کا بے حقیقت ہونا ثابت کر دیا جائے بہرحال لوگ اس سے چمٹے رہیں گے۔ وہ کسی بھی طرح اس کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ دلائل کی کوئی بھی مقدار سیاست سے نشہ کی کیفیت چھین نہیں سکتی۔ بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ سیاست تمام نشہ آور چیزوں میں سب سے زیادہ نشہ کی چیز ہے۔ سگریٹ اور بھنگ کا نشہ اتر سکتا ہے۔ مگر سیاست کا نشہ کبھی آدمی سے نہیں اترتا۔ آپ دلائل کا انبار جمع کر دیجئے، تجربات اس کے بے فائدہ ہونے کا عملی ثبوت دیتے چلے جائیں۔ مگر جن لوگوں کو سیاست کا نشہ لگ گیا ہے، تخیلات کی دنیا میں بدستور وہ اپنا سیاسی رو مان جاری رکھیں گے ۔ سوا کوئی طاقت نہیں ہے جو ان کے اور سیاست کے درمیان تفریق کر سکے، اور اگر اتفاق سے سیاست میں کسی نے نئی ترقی کا راز دریافت کر لیا ہو یا کسی کو ایسی قرآنی ڈکشنری مل گئی ہو جس میں دین کے معنی سیاست لکھے ہوئے ہوں تو ایسے لوگوں کو سیاسی مشغلہ سے ہٹانا اتنا مشکل ہے کہ انسانی زبان میں شاید ابھی وہ الفاظ ہی وضع نہیں ہوئے ہیں جس میں اس کی دشواریوں کو بیان کیا جا سکے۔

نادانی کے اقدامات صرف غیر اسلام کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں پاکستان تحریک میں اسلام کا نعرہ کثرت سے استعمال کیا گیا تھا۔ اس واقعہ نے پاکستان کے اسلام پسند گروہ کو موقع دیا کہ وہ مملکت خدا داد میں اپنے لئے قیادت کا ایک افق انھوں نے نظام اسلامی کے مطالبہ کی مہم شروع کر دی ۔ ” پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے، اس لئے یہاں اسلام کی حکومت ہونی چاہئے تاہم حقیقی صورت حال کے اعتبار سے اس نعرہ کی قیمت اس سے زیادہ نہیں تھی جتنی ہندوستان میں مسلم قائدین کے ایک گروہ کی یہ چیخ پکار کہ : " ہندوستان سیکولرزم کے نام پر آزاد کرایا گیا ہے اس لئے یہاں سیکولر راج ہونا چاہئے ۔

پاکستان اگر چہ اسلام کے نام پر بنا، مگر خود اسلام کا لفظ پاکستان میں کسی ایک چیز کا نام نہ تھا۔ اس سلسلے میں وہاں دو بڑے گروہ تھے۔ ایک انتہا پسند مسلمان ۔ للبرل مسلمان ۔ عددی اعتبار سے لبرل مسلمان اکثریت میں تھے۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء سے لے کر لیاقت علی خاں کے قتل (۱۹۵۱) اور پھر محمد ایوب خاں کے زوال (۱۹۶۹) تک مختلف انقلابات کے باوجود عملاً پاکستان میں انھیں لبرل مسلمانوں کو غلبہ حاصل رہا۔

تاہم برل مسلمانوں کا غلبہ پاکستان میں اسلام پسند گروہ کی نفی کے ہم معنی نہیں تھا۔ وزارت سازی کے باہر زندگی کے تمام مواقع ان کے لئے پوری طرح کھلے ہوئے تحقیق و تعمیر اور دعوت و اشاعت کے تمام میدانوں میں وہ بے روک ٹوک اپنا کام جاری رکھ سکتے تھے ۔ حتی کہ خود حکومت کے تعاون سے ایک ایسا اسلامی مرکز قائم کر سکتے تھے جو نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں دعوتِ حق اور تعمیرِ افکار کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دیتا۔ اسلامی گروہ کے لئے حقیقت پسندانہ طریقِ کار یہ تھا کہ وہ لبرل مسلمانوں سے سیاسی تصادم نہ کرتے ہوئے دوسرے ممکن مواقع کو اپنے استعمال میں لاتے ۔ اگر وہ ایسا کرتے تو پاکستان میں اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر سکتے تھے کہ بالآخر وہ جمہوری طریقہ کے مطابق وہاں غالب آجاتے ۔ مگر انھوں نے قبل از وقت سیاسی ٹکراؤ میں بہترین ۳۰ سال ضائع کر دیئے ۔ کہ مسئلہ پہلے سے زیادہ گمبھیر ہو گیا ۔

پچھلے برسوں میں جب کہ پاکستان میں انتہا پسند مسلمانوں اور لبرل مسلمانوں کے درمیان اقتدار کی کش مکش جاری تھی ٹھیک اسی وقت وہاں ایک اور مسئلہ پرورش پا رہا تھا۔ مہاجرین اور غیر مہاجرین کا مسئلہ تھا۔ دہلی ، یو۔ پی ، بہار وغیرہ کے مسلمان جو پاکستان تحریک میں بہت زیادہ پیش پیش تھے ، ہجرت کر کے پاکستان گئے ۔ یہ لوگ اس احساس کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے تھے کہ " پاکستان ہم نے بنایا ہے " قدرتی طور پر ان کی نفسیات یہ تھی کہ پاکستان میں زبان اور تہذیب سے لے کر سیاسی اور اقتصادی امور تک ہر جگہ ان کو غلبہ ملنا چاہئے۔ مہاجرین کی یہ ذہنیت غیر مہاجرین کے لئے ناقابلِ برداشت تھی ۔ دونوں میں ہر محاذ پر کش مکش شروع ہوئی جو دن بدن بڑھتی چلی گئی ۔

کش مکش جب سماجی سطح پر اپنا حل نہ پاسکی تو اس کے بعد اس نے سیاسی رنگ اختیار کرنا شروع کیا۔ غیر مہاجرین کے پاس اپنے موقف کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے اگر علاقائی نعرے

تھے تو مہاجرین کے نہایت آسانی کے ساتھ آفاقی اسلام میں تعصب کے نتیجہ میں بالکل برباد ہو چکا ہے۔ اب تقریباً یقینی اپنے موافق نعرے تلاش کر لئے۔ غیر مہاجرین نے سوشلزم دوسرے نیشنلزم کے سایہ میں پناہ لی۔ دوسری طرف مہاجرین اسلام کے علم بردار بن کر کھڑے ہو گئے ۔ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے زوال (۱۹۷۷) کے بعد یہ پولرائزیشن اپنے آخری نقطہ پر پہنچ اب پاکستان کی سیاست مہاجرین اور غیر مہاجرین کی سیاست ہے نہ کہ حقیقتاً اسلام اور غیر اسلام کی سیاست ۔ اس طرح پاکستان کی سیاسی لڑائی، اسلام پسند طبقہ کی مسلسل نادانیوں کے نتیجہ میں ، اب شدید تر مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ جو تقسیم پہلے انتہا پسند مسلمان اور لبرل مسلمان کے نام سے تھی، اب اس نے مہاجر اور غیر مہاجر کی تقسیم کی صورت اختیار کرلی ہے۔ دوسرے لفظوں میں نظریاتی اختلاف کے ساتھ نسلی اور اقتصادی عصبیتیں بھی شامل بدقسمتی سے اب بھی دوسرا گروہ (غیر مہاجرین) ہے کہ پاکستان میں یا تو الیکشن نہیں ہوگا اور فوجی افسران بدستور اقتدار پر قابض رہیں گے۔ اور اگر کبھی الیکشن ہوا تو لازماً بھٹو پارٹی بر سر اقتدار آئے گی۔ خواہ اس پر بد عنوانی اور غداری کا کتنا ہی الزام لگایا جائے۔ حتیٰ کہ اگر مسٹر بھٹو کو قتل کر دیا جائے جب بھی عملاً جو فرق ہوگا وہ صرف یہ کہ کوئی ”بے نظیر“، یا غیر بے نظیر جو مسٹر بھٹو (بالفاظ دیگر اینٹی مہاجر تحریک) کی علامت بن کر ابھرے گا ، پاکستان کی اکثریت کا ووٹ اس کے حصہ میں جائے گا۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ علاقہ ہو سکتا ہے جس کی سرحدیں افغانستان سے ملی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں دوبارہ جمہوری حالات پیدا ہوئے تو یہ علاقہ خان عبدالولی خاں کی قیادت میں غالباً وہی راستہ اختیار کرے گا جو اس سے پہلے شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں سابق مشرقی پاکستان نے اختیار کیا تھا۔

اکثریت میں ہیں۔ لیاقت علی خاں (۱۹۵۱ء - ۱۸۹۵ء) اور محمد ایوب خاں (پم ۱۹۰۷ء - ۱۹۷۷ء) کے زمانہ میں اگر کسی درجہ میں اسلام کے نفاذ کا امکان تھا تو اب وہ ضد اور آہ اسلام کے وہ علم بردار جو اپنی بے دانشی کے نتیجہ میں صرف غیر اسلام کے لئے راہ ہموار کرنے کا سبب بن جائیں۔ سرحد پار سے آنے والی خبروں سے اندازہ ہوتا ایک خاندان کے یہاں دوسرے فرقہ کا ایک آدمی ملازم تھا۔ اس نے چوری کی۔ نوجوان صاحبزادے جوش میں اس کو مارنے کے لئے دوڑے۔ باپ نے منع کیا۔ ”تم چوری کے لئے اس کو مارو گے “ باپ نے کہا ” اور اس کے بعد اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ ، فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ ، کھڑا ہو جائے گا۔ “ اب گھر کے لوگ مارنے سے رک گئے اور مسئلہ کو حکمت کے ساتھ حل کیا۔ ” حکمت عملی“ کا یہ راز جو ایک معمولی آدمی اپنے ذاتی معاملہ میں پا لیتا ہے ، اس کو پاکستان کے رہنما اسلامی تحریک کے معاملہ میں نہ جان سکے۔ وہ صورت حال کے تمام پہلوؤں کا اندازہ کئے بغیر بار بار ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ اصل مقصد ( اسلامی نظام کا قیام ) تو حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ ہنگامہ کے نتیجہ میں کچھ اور شدید تر مسئلے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نئی نئی پیچیدگیاں ابھر کر راستہ کی مشکلات کو کچھ اور زیادہ بڑھا دیتی ہیں۔ مجیب ازم (بنگالیت) بھٹو ازم (پاکستانی نیشنلزم) ولی ازم (سرحدی علاقائیت) وغیرہ سب اسی قسم کے نادان اقدامات کے پیدا شدہ نتائج ہیں۔ ” چوری “ ختم نہیں ہوتی۔ البتہ ” فرقہ وارانہ فسادات “ نئے نئے عنوان سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کیسی عجیب ہے یہ سیاست اور کیسے عجیب ہیں یہ خادمانِ اسلام ۔ اور کچھ نہیں ہو سکتا

ہے کہ موجودہ فوجیوں حکمران مسٹر بھٹو کی مقبولیت سے بے حد وہ مارشل اصغر خاں کو آگے بڑھارہے ہیں تاکہ اگر الیکشن کرانا پڑے تو مسٹر بھٹو کے بجائے مارشل اصغر خاں کو اوپر لایا جاسکے جو اپنی کمتر صلاحیت کی بنا پر فوجی کے لئے نسبتاً کم درجہ کا خطرہ بن سکتے ہیں۔ جہاں تک نو جماعتوں کے متحدہ اسلامی محاذ کا سوال ہے وہ اپنے آپ ختم ہورہا ہے کیونکہ اس اتحاد کی بنیاد محض منفی جذبات پر تھی اور منفی بنیادوں پر قائم ہونے والا اتحاد دیر تک باقی نہیں رہتا۔

مذکورہ بالا تجزیہ سے اگر پورا اتفاق نہ کیا جائے، جب بھی یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان میں جو سیاسی مسئلہ ہے وہ حقیقتاً اسلام بببمقابلہ ایوب یا اسلام مقابلہ بھٹو نہیں ہے۔ بلکہ اسلام مقابلہ لبرلزم ہے اور اسلام کا یہ حریف اس وقت بھی پوری طرح باقی رہتا ہے جب کہ ایوب یا بھٹو کو ختم کر دیا گیا ہو۔

مسٹر بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے پاکستان کو اور ہمارے عوامی حکمراں !

ROYAL FARE FOR KATHMANDU, Nov 10.-King Birendra and Queen Aishwaryä rode a cycle rickshaw through the border town of Birgunj, in eastern Nepal, says Samachar. An English daily, Mother- land, yesterday reported that as the tired rickshaw-puller was calling it a day after paltry earnings, he found a young couple briskly walking across the road and boarding his The passengers wanted to see the town and the rickshaw- puller was too pleased to show the "tourists" around. He ex- plained the various landmarks to them and talked about his hopes to earn a lot of money. After half-an-hour's ride the passengers got down and the rickshaw-puller stared in dis- belief when he was paid Rs 2,000 as fare. The Motherland reported that the King often travelled incognito to study the prob- lems of the poor. بیر گنج ، نیپال کا ایک قصبہ ہے جو ریاست کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ نیپال کے مہاراجہ اور مہارانی یہاں حفاظتی عملہ یا افسروں کے غول کے بغیر تنہا گھومتے رہے۔ ان کی سواری ایک معمولی سائیکل رکشا تھا۔ غریب رکشے والا دن بھر کا تھکا ہوا اپنی معمولی کمائی پر افسردہ چلا جا رہا تھا بہت بڑی قیمت دینی پڑی ہے۔ مگر اس کے باوجود اصل صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اپنی بیرکوں میں واپس چلی جائے اور دوبارہ پاکستان میں جمہوری طرز پر حکومت بنے، جب بھی عملاً جو فرق ہوگا وہ صرف یہ کہ لبرل اسلام کو ماننے والی اکثریت پہلے اگر ایوب اور بھٹو کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوئی تھی تو اب وہ کسی "مارشل اصغر خاں" یا کسی "عبد الولی خاں" کو کو اپنی نمائندگی کے لئے پالے گی۔ جہاں تک اسلامی قانون کے علم برداروں کا تعلق ہے، ان کا بیلٹ بکس بدستور خالی رہے گا۔

کہ ایک جوڑے نے اس کو روکا، جو سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا اور اس پر سوار ہو گئے۔

دونوں سواروں نے شہر کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور رکشے والا ان ”سیاحوں‘‘ کو خوشی خوشی قصبہ کی سیر کراتا رہا۔ اور مختلف مقامات کے بارے میں ان کو بتاتا رہا۔ کی سواری کے بعد دونوں مسافر رکشے سے اتر گئے۔ کو اس وقت سخت حیرانی ہوئی جب اس نے دیکھا کہ دونوں مسافروں نے اسکو کرایہ کے طور پر دو ہزار روپے دیے ہیں۔ مہاراجہ نیپال کے لئے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ وہ اکثر اسی طرح بھیس بدل کر ریاست کے مختلف مقامات پر جاتے ہیں تاکہ غریب عوام کے مسائل کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔

کشمیر کے قدرتی مناظر اس سے زیادہ حسین ہیں کہ کوئی شخص ان کو لفظوں میں بیان کرسکے ۔ کیمرہ اس کے بعض پہلوؤں سبزہ کا فرش ، چشمہ کی موسیقی ، درختوں کی قطاریں ، پہاڑوں کے مناظر اور ان کے آگے آسمان کا آفاقی پس منظر ، ان تمام چیزوں نے مل کر میرے سامنے کی دنیا کو اتنا خوبصورت بنا دیا تھا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا گویا میں جنت کی کوئی جھلک اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ " کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو خدا کی بہشت میں جگہ ملے ۔ اور کتنے بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اس سے محروم کردیئے جائیں ۔

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ایک طرف دہکتے ہوئے ستارے رکھ دیئے ہیں تاکہ آدمی جہنم کا تصور کر سکے اور دوسری طرف کشمیر جیسے حسین قطعات ہیں جو گویا ہمیں جنت کی ایک جھلک دکھارہے ہیں۔ کا الاؤ ہم کو خدا کی ہول ناک پکڑنے سے لرزاتا ہے ۔ زمین کے خوبصورت ٹکڑے ہم کو خدا کی جنت کی یاد دلا کر اس کی رحمتوں اور نعمتوں کی طرف دوڑنے کا شوق دلاتے ہیں ۔ اگر آدمی آنکھ کھول کر زندگی گزارے تو یہی دنیا اس کو جنت اور جہنم کا نقشہ دکھانے کے لئے کافی ہے۔ مگر جنہوں نے غفلت اور سرکشی سے کا عکس لے سکتا ہے مگر مسلم کے ذریعہ ان کی تصویر کشی ممکن نہیں اپنی بینائی کھودی ہو، ان کو کوئی چیز بھی دکھائی دینے والی نہیں۔ نہ جنت نہ جہنم ۔

Printed page