A CONCORDANCE
Al-Risala, April 1977, pp. 55–57
By Maulana Wahiduddin Khan
۴ اکتوبر صوفی اسٹور سوپور کے مکان پر ”سیرت سے کیا سبق ملتا ہے “۔
ہیں مگر انہیں مسلمانوں کو حقیقی عملی زندگی میں دیکھیئے تو وہ خود اپنے اکثریتی علاقہ میں ہر اعتبار سے دوسرے درجہ کی قوم نظر آئیں گے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تاریخ کو دو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ جہاں وہ غالب حیثیت میں ہیں وہاں بے معنی سیاست بازی، اور جہاں غالب حیثیت میں نہیں ہیں وہاں بے معنی فریاد و احتجاج۔ کشمیر کے مسلمان دونوں حالتوں کے درمیان ہیں اس لئے وہاں کسی صحت مند اسلامی تحریک کے مواقع دوسرے مقامات کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ خیال ہے کہ پورے برصغیر میں کشمیر موزوں ترین مقام ہے جہاں سے کسی مؤثر دینی کام کا آغاز کیا جا سکے ۔ اگر چہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہاں کسی ایسے عمل کا آغاز ہو چکا ہے یا مستقبل ۵ اکتوبر مسجد نور باغ بارہ مولہ ، درس حدیث ۔ ۶ اکتوبر کشمیر یونیورسٹی سری نگر، مذہب اور سائنس۔ ۷ اکتوبر شعبہ تعلیمات کشمیر، یونیورسٹی ، تعلیم اور اخلاقیات۔ ۷ اکتوبر لالہ رخ ہال ، سری نگر، اسلام اور جدید تحقیقات ۔ ۸ اکتوبر اسلامیہ کالج آف سائنس اینڈ کامرس، سری نگر، " اسلام اور عصر جدید "
۹ اکتوبر بارہ مولہ (جامع مسجد ) " اسلام کا پیغام سیرت کی روشنی میں “ کشمیر کے مختلف مقامات سے تقاضے جاری تھے۔
لوگوں کا اصرار تھا کہ میں مزید قیام کروں اور مختلف مقامات کا سفر کر کے وہاں اجتماعات کو خطاب کروں ۔ مگر مزید ٹھیرنا میرے لئے ممکن نہ تھا ۔ ۲۱ اکتوبر کو میں دہلی واپس آگیا۔
آزادی سے قبل اگرچہ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر ریاستوں کی اندرونی خود مختاری کے خلاف تھے۔ اور کانگریس اور مسلم لیگ کے لیڈروں کے درمیان ابتداء ایک بڑا اختلافی نکتہ یہی تھا جو بالآخر دونوں کے درمیان تفریق کا سبب بنا تاہم آزادی کے بعد حالات کے دباؤ نے ان کو اس معاملہ میں نرم ہونے پر مجبور کر دیا۔ ریاست تعلقات کے موجودہ ڈھانچے میں ملک کی ایک ریاست کو اندرونی طور پر کافی اختیارات دیئے گئے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنے عوام کی ترقی کے لئے بہت کچھ کر سکتی ہے۔ کو اس سلسلہ میں مزید خصوصیت حاصل ہے کیونکہ دستور کی دفعہ ۳۷۳ نے اس سرحدی ریاست کو خصوصی درجہ عطا کیا ہے جو کسی دوسری ریاست کو حاصل نہیں ہے۔ 4 نومبر ۱۹۷۷ء کو جموں وکشمیر کی حکومت نے جو آرڈیننس جاری کیا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے دہلی کے ایک اخبار نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے: یہ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ کشمیر کو دستور ہند کی دفعہ ۳۷۳ کے تحت جو خصوصی درجہ حاصل ہے، اس کی وجہ سے ایسا ہو کہ جو چیز دوسری ریاستوں میں بے ضابطہ ہے، وہ یہاں ضابطہ کے مطابق قرار پائے۔
حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کی حکومت دوسری ریاستوں کی حکومتوں سے کہیں زیادہ اس حیثیت میں ہے کہ وہ اپنے عوام کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کر سکے۔ اسی بنا پر ہم نے پندرہ سال پہلے کشمیری دوستوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ "حقیقت پسندانہ سیاست" کا طریقہ اختیار مگر اس وقت کشمیر سیاسی جوش و خروش کا طوفان ڈل جھیل کی
"یہاں ہم کو
بنا ہوا تھا۔ ہماری بات ان کی سمجھ میں نہ آسکی۔ پسندی اور سیاست ان کے یہاں شاید دو متضاد چیزیں تھیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں ۔
کسی نے کہا ہے: "سیاست ممکنات کا کھیل ہے نہ کہ ناممکن چیزوں کے پیچھے دوڑنے کا۔ مسلم قائدین کے نزدیک سیاست اس کے برعکس چیز کا نام رہی ہے۔ خاص طور پر برصغیر کے مسلمانوں کے نزدیک تو سیاست کا واحد مطلب یہ ہے کہ ساری عمر ناممکن چیزوں کے پیچھے دوڑتے رہو اور جو چیز آج ممکن ہے اس کو استعمال کرنے سے کوئی غرض نہ رکھو۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس لا حاصل مشغلہ کو وہ جہاد اور قربانی کے پر فخر ناموں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ تاہم ۳۰ قیمتی سال ضائع کرنے کے بعد شاید کشمیریوں کو اپنی غلطی کا کچھ احساس ہوا ہے۔ حکومت نے عوام کی بہبود کے بہت سے اقدامات شروع کئے ہیں۔ اوقاف کے وسیع ذرائع کو از سر نو منظم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سری نگر کے حالیہ سفر میں میں نے دیکھا کہ قدیم شہر کی سڑکوں کو چوڑا کرنے کے لئے بڑے پیمانہ پر مکانات گرائے جا رہے ہیں۔ مکان کے مالکوں کو اس سلسلہ میں حکومت سے کوئی شکایت نہیں، کیونکہ حکومت اس کا اتنا معقول معاوضہ دے رہی ہے جو ان کے نقصان کی پوری تلافی کر دیتا ہے۔ کشمیر کے غالب فکر کے مقابلہ میں یہ چیزیں ابھی بہت کم تاہم یہ نیا ذہن اگر اسی طرح بڑھتا رہا تو عجب نہیں کہ یہاں کے لوگ اگلے ۳۰ سال میں وہ چیزیں حاصل کرلیں جس کو پچھلے ۳۰ سال میں وہ صرف کھوتے رہے ہیں۔ صرف پندرہ منٹ میں ٹائم میگزین (نیویارک) کے دفتر میں یہ قاعدہ ہے کہ مضامین پریس میں جانے سے پہلے ایک مخصوص اسٹاف کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ وہ ان میں مندرج تمام حقائق کو باریک بینی کے ساتھ جانچتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر ہے جس کے پاس ایک مکمل قسم کی ریفرنس لائبریری مہیا کی گئی ہے۔
میگزین کی ایک اشاعت (۸ اپریل ۱۹۷۳ء)
میں صفحہ اول کا مضمون (COVER STORY) افراط زر پر تھا جس کا عنوان تھا :