Al-Risala · April 1977

المركز الاسلامی

Al-Risala, April 1977, pp. 59–62

By Maulana Wahiduddin Khan

JAMIAT BUILDING - QASIMJAN STREET - DELHI 110006 (India)

اسلام کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کے آگے سپر (SURRENDER)

مسلمان وہ ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ مرنے کے بعد ہر ایک سے اس کے کارنامہ زندگی کا حساب لے گا۔ کے بعد اپنے وفادار بندوں کے لئے دائمی جنت کا فیصلہ کرے گا، اور غیر و فا دار بندوں کو دائمی جہنم میں ڈال دے گا۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو ایک لفظ میں آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کہہ سکتے ہیں۔ یہ احساس جب کسی دل میں پیدا ہو جائے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی وہ ہر وقت خدا سے ڈرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ خدا اس کو کھلے اور چھپے ہر حال میں دیکھ رہا ہے، بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ہر انسان کے پیچھے اس کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ وہ کبھی اس بات کو نہیں بھولتا کہ بالا تر وہی چیز صحیح قرار پائے گی جس کو خدا صحیح کہے اور وہ سب کچھ غلط ٹھہرے گا جس کو خدا غلط ٹھہرائے۔ اسی کے ساتھ مسلمان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ زندگی کی اس حقیقت کو دوسری تمام قوموں تک پہنچائے۔ اس سنگین واقعہ سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لئے پہلے انبیاء آتے تھے۔ ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری نبی آخر الزماں کی امت پر ڈال دی گئی ہے، مسلمان پر جس طرح خود عمل کرنے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک کام، دوسرے کام کے لئے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتا۔

اسلامی مرکز کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو دنیوی مہم کے بجائے اُخروی مہم کے طور پر سامنے لایا جائے ۔ اس کا منصوبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر ان احساسات کو جگائے، اور دوسری قوموں تک حق کا پیغام پہنچانے کی تدبیر اختیار کرے۔

اسلامی مرکز کے سامنے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو وقت کے اسلوب اور زمانہ حاضر کی زبان میں لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ تاکہ جس اسلام کو وہ تقلیدی طور پر مانتے ہیں ، وہ ان کے ذہن کی غذا بن سکے، وہ ان کے اندر عمل کی حرارت پیدا کرنے لگے۔ وہ ان کی زندگی کا محض ایک ضمیمہ نہ ہو، بلکہ وہی ان کی کل زندگی بن جائے ۔ ہر عہد کا ایک فکری معیار ہوتا ہے ، اور کسی انسان کی زندگی میں کوئی فکر اسی وقت غالب فکر بن کر داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اس کو اس فکری معیار پر طے جس کے اندر وہ سانس لے رہا ہے۔ اسلامی مرکز کے سامنے دوسرا کام ، مسلمانوں کو داعی گروہ کی حیثیت سے اُٹھانا ہے۔ دعوت ہی واحد کام ہے جو مسلمانوں میں عمل کا حوصلہ ابھار سکتا ہے ، ان کے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کرتا ہے ، ان کو خدا کی اجتماعی نصرتوں کا مستحق بناتا ہے۔ ان کو آخرت میں خدا کے گواہ کا درجہ عطا کرتا ہے جس سے بڑا کوئی درجہ انسان کے لئے نہیں ۔ اسلامی مرکز انھیں دونوں مقاصد کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ کسی قسم کی سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ مسلمانوں کو اور تمام انسانوں کو آنے والے یومِ حساب سے ہوشیار کرنے کی ایک مہم ہے۔ زندگی میں آدمی کو بے شمار مسائل نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد ایک ہی مسئلہ اس کے سامنے ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ موت سے پہلے آدمی اس مسئلہ سے آگاہ ہو جائے موت سے پہلے وہ اس کی تیاری میں اپنے کو لگا دے۔

عربی، انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں میں رسائل کا اجراء جس کے ذریعہ مسلمانوں کو ان کی دعوتی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا جاسکے اور اسلام کو جدید اسلوب اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مدلل کیا جائے۔

قرآن کے ترجمے دنیا کی تمام زبانوں میں شائع کرنا اور ان کو رعایتی قیمت کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا۔ قرآنی علوم کی تدوین اور اسلامی انسائیکلوپیڈیا کی اشاعت ۔ حدیث، سیرت، حالات صحابہ، تاریخ اسلام (نہ کہ تاریخ فتوحات) پر سادہ، واقعاتی انداز میں کتابوں کی تیاری اور ان کو مختلف زبانوں میں شائع کرنا۔

ایسی درس گاہ کا قیام جس میں قرآن، حدیث، سیرت، تقابلی مذہب، عربی زبان اور دوسری زبانوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔

اسلامیات اور مختلف مذاہب کے مطالعہ کے لئے ایک مکمل لائبریری کا قیام۔ مختلف علاقوں اور ملکوں میں تبلیغی وفود بھیجنے کا انتظام۔ اسلام کے تاریخی آثار اور دستاویزات کا میوزیم قائم کرنا۔ علمی طرز فکر اور حقیقت پسندانہ مزاج پیدا کرنا۔

جدید طرز کے پریس کا قیام جہاں مختلف زبانوں میں اعلیٰ چھپائی ہو سکے۔ ایسے ادارہ کی تشکیل جہاں تمام ضروری دینی شعبے قائم ہوں اور غیر مسلم وہاں آکر اسلام کو

اسلامی مرکز کے سلسلہ میں تمام امور کے لئے براہ راست صدر سے رجوع کیا جائے خطوط وغیرہ پر حسب ذیل پتہ تحریر کیا جائے :

مولانا وحید الدین خاں ، صدر اسلامی مرکز، جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ MAULANA WAHIDUDDIN KHAN PRESIDENT, ISLAMI MARKAZ QASIMJAN STREET, DELHI 6

Printed page