رسضحس ووی شکا کی ویل ھو
Al-Risala, February 1977, pp. 6–8
By Maulana Wahiduddin Khan
Rich and poor come t سب سے ضروری کام یہ کنٹھ بلی اور اس کا لڑکا ونود غم اور مایوسی کے بوجھ سے دبے ہوئے دارالسلطنت میں داخل ہوئے تھے۔ مگر اخبار میں شائع شدہ ان کی صرف ایک اپیل پر قوم نے ان کو اتنا زیادہ تعاون دے دیا کہ اب ان کے چہرے پر خوشی اور کامرانی کی شادابی کے سوا اور دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے ایک باتصویر خبر شائع کی جس کا عنوان تھا کیا و نو د کو مر جانا چاہئے۔
تصویر میں کنٹھ بلی نامی سبزی فروش کو اپنے دس سالہ لڑکے ونود کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ونود دل کا مریض ہے۔ اس کے علاج کے لئے اس کا باپ اپنے وطن اننت ناگ (کشمیر) سے دہلی آیا۔ یہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ونود کا مرض سنگین ہے اور اس کے علاج میں دس ہزار روپے خرچ ہوں گے۔ غریب کنٹھ بلی پریشان ہے ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ علاج کا یہ بل کہاں سے ادا کرے اور اپنے بچے کی زندگی کس طرح بچائے۔
اس خبر کا چھپنا تھا کہ اخبار کے دفتر میں ہر طرف سے روپے آنا شروع ہو گئے۔ صرف تین دن کے بعد ۹ دسمبر کی اشاعت میں اخبار کو اعلان کرنا پڑا کہ ”ونود فنڈ“ بند کر دیا گیا ہے کیونکہ اس فنڈ میں اب تک ۲۵ ہزار روپے آ چکے ہیں جو کہ علاج کے علاوہ باپ اور بیٹے کی دوسری ضرورتوں کے لئے بھی کافی ہیں۔
عجیب بات ہے کہ ٹھیک اسی زمانہ میں اسلامی مرکز کے آرگن ماہنامہ الرسالہ نے بھی ایک تجربہ کیا ۔ انگریزی اخبار کی پکار تھی ”ونود کو بچاؤ“ الرسالہ نے آواز لگائی کہ ”انسانیت کو بچاؤ“ انگریزی اخبار نے
کہ انسانیت کے قافلہ کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے ایک بچہ کی چند روزہ دنیوی زندگی کو بچانے کا نعرہ رہا تھا۔ الرساله نے بتایا کہ سارے انسانوں کی زندگی خطرہ میں لوگ نہایت تیزی سے آخرت کے دائمی عذاب کی طرف چلے جارہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مرنے سے پہلے انہیں پیغمبر خدا کی یہ چیتاونی پہنچادی جائے : انتم اليوم في عمل ولا حساب وَسَتَكُونُونَ غَدًا فِي حساب ولا عمل آج تم کو عمل کا موقع ہے اور تمھارے اوپر حساب نہیں ہے، آنے والی دنیا میں تم کو حساب دینا ہوگا اور عمل کا موقع نہیں ہوگا۔
یہ صحیح ہے کہ لفظی تعریف کے خطوط بھیجنے میں لوگوں نے ہمارے ساتھ بخل نہیں کیا۔ مگر جہاں تک حقیقی تعاون کا سوال ہے، ہر طرف سے ایک ہی خاموش صدا آ رہی ہے : زر می طلبی سخن درین است حال ہی میں نہرو کے شیدائیوں نے بمبئی میں دس کروڑ روپئے کے خرچ سے ایک عظیم الشان نہرو مرکز قائم کر دیا مگر اسلام کے شیدائیوں میں اسلامی دعوت کا مرکز قائم کرنے کا کوئی
مگر یاد رکھیے، یہ صرف دوسروں کو آگ سے بچانے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ خود اپنے آپ کو بچانے کا معاملہ بھی آخرت کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے اگر ہم نہیں اٹھتے تو ہم نہ صرف اپنے فرض کو چھوڑ رہے ہیں بلکہ یہ ثبوت بھی دے رہے ہیں کہ ہم کو آنے والے ہولناک دن کا یقین نہیں۔ اس دہرے جرم کے بعد آخر وہ کون سی چیز ہوگی جو اس دن کی پکڑ سے ہم کو بچا سکے جب مالک کائنات کی عدالت قائم ہوگی۔ جب نہ کسی کے لئے دلیل بازی کا موقع ہوگا اور نہ کوئی مادی سہارا کسی کے کام آسکے گا ۔ والامر یو مئذ للہ مسلمان خدا کی طرف سے اس ذمہ داری پر مقرر کئے گئے ہیں کہ وہ تمام اہل عالم کو یہ بتا دیں کہ ان کا رب ان سے حساب لینے والا ہے۔ اس تقرر نے ان کے حال اور مستقبل کو اس کار خاص کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ خدا کی نظر میں ان کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ خدائی پیغام رسانی کی اس خدمت کو انجام دیں۔ وہ اس کے لئے نہ اٹھیں تو خدا کے نزدیک وہ اپنی قیمت کھو دیں گے ۔
اس ذمہ داری کو چھوڑنے کے بعد کوئی بھی دوسرا عمل ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد خدا ان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دے گا، ان کے اوپر دوسری قومیں غلبہ حاصل کریں گی، حتیٰ کہ دوسری بنیادوں پر اٹھائی ہوئی ان کی اسلامی تحریکوں پر بھی رولر چلا دیا جائے گا۔ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اگر چہ وہ خوش فہمیوں میں مبتلا رہیں گے۔ مگر حالات کی بے رحم زبان چیخ رہی ہوگی کہ ان کا خدا ان کو چھوڑ چکا ہے۔
اقوام عالم کے سامنے اللہ کے دین کی گواہی دینے کے لئے اگر مسلمان نہیں اٹھتے تو ان کی کوئی قیمت خدا کے نزدیک نہیں ہے، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں ۔ یہود کی تاریخ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے
اسلام کے داعی کے اندر کیا اوصاف ہونے چاہئیں شیخ الازھر ڈاکٹر عبد الحلیم محمود جامعہ ازہر کے شیخ ڈاکٹر عبد الحلیم محمود نے نومبر ۱۹۷۵ء میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ میں وہ جامعہ ڈابھیل (سورت) بھی گئے۔ طلبہ اور مقامی لوگوں پر مشتمل ایک اجتماع ہوا جس میں تقریباً دس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ علاوہ غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ موقع پر شیخ الازہر نے ۱۱ نومبر کو جو عربی تقریر کی تھی اس کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
(بعد حمد و صلوٰۃ) کون سی شرطیں ہیں جن کا پایا جانا داعی کے اندر ضروری ہے۔ پہلی چیز یہ ہے کہ داعی بصیرت کے ساتھ دعوت پیش کرے ۔ علی بصیرة انا ومن اتبعنی من المسلمین یعنی داعی کے اندر پہلی چیز جس کا پایا جانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دعوت کے سلسلے میں اسے پوری بصیرت حاصل ہو اور بلا شبہ بصیرت علم کو بھی متضمن ہے یعنی داعی کو دعوت کے طریقے اور انداز سے بھی واقف ہونا چاہئے، اسے قرآن کا علم ہونا چاہئے۔ اسے حدیث سے واقفیت ہونی چاہئے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ۔
اللہ نے فرمایا لا یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون - آنحضورؐ نے فرمایا۔ ولو کان با لصین اور فرمایا طلب العلم فریضۃ نے فرمایا ہے: قل ھذا سبیلی ادعو الی اللہ علی کل مسلم و مسلمة - معلوم ہوا کہ دعوت کے " موجودہ زمانہ میں اسلام کے بارے میں بہت سے شبہات پیدا ہو گئے ہیں ان شبہات موجودہ زمانہ میں اسلام کے بارے میں بہت شبہات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے واقفیت اور ان کے جواب سے واقفیت اسلام کے ایک داعی کے لئے ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں ان کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ ان کتابوں میں اس قسم کے شبہات کا کافی وشافی رد موجود ہے :