الاسلام متحدى
Al-Risala, February 1977, pp. 8–10
By Maulana Wahiduddin Khan
ہا اس میں دیں. یوں اس نام سے ہے۔ ہو سکتا ہے حقائق الإسلام واباطیل الخصوم عباس محمود العقاد الاسلام والعصر الحدیث ڈاکٹر اسماعیل الوحي المحمدی رشید رضا مصری "
سلسلے کی پہلی چیز یہ ہے کہ اُسے علم بالقرآن اور علم بالسنت حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا اور آنحضورؐ نے اس کی شرح فرمائی۔ آپ کی اس شرح کو ہم سنت سے تعبیر کرتے ہیں اور احادیث کی بہترین کتابوں میں سے یہ صحاح ستہ کی کتابیں ہیں جن کے کہ اس میں موضوع اور بے اصل حدیثیں بھی ہیں لیکن امام عراقی کی تخریج کے بعد اب یہ ایسی کتاب ہو گئی ہے کہ اس پر ہر مسلمان کو فخر کرنا چاہئے اور بہت سی وہ حدیثیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ضعیف ہیں امام زبیدی نے اپنی شرح میں ثابت کیا ہے مؤلفین نے بڑی محنت کے بعد ان کو جمع کیا ہے۔ امام بخاری، امام مسلم اور دوسرے مصنفین محض اللہ کی رضا مندی کے لئے تدوین و ترتیب میں لگے رہے۔ بہترین کتابوں میں سے جو ایک مسلمان کی عادت و اخلاق کی پوری شرح کرتی ہے، ریاض الصالحین ہے جو امام نووی کی مصنفہ ہے۔ اس کتاب میں ضعیف اور موضوع حدیثیں نہیں ہیں بلکہ یا تو صحیح حدیثیں ہیں یا حسن جو ایک مسلمان کے عمل کے لئے کافی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح سے قرآن کے شارح اپنے قول سے تھے اسی طرح آپ اس کے شارح اپنی زندگی کے اعتبار سے آپ کا اخلاق قرآن تھا جیسا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کان خلقہ القرآن معلوم ہوا کہ داعی کو یہ ضرورت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بھی واقف ہو اور اس کے لئے اسے سیرت ابن کثیر کا مطالعہ کرنا چاہئے جو سیرت کی بہترین کتاب ہے۔ نیز دعوتی کام کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ احیاء علوم الدین کا مطالعہ کریں۔ امام غزالی نے اپنی اس مبارک کتاب میں ہر ایک چیز کو نہایت جامع طریقے سے بیان کیا ہے جس کی ایک داعی کو ضرورت پڑتی ہے۔ اس میں فقہ بھی ہے، اخلاق بھی ہے، سلوک بھی ہے قلب اور اعمال کی صفائی کے سلسلہ کی ہدایات بھی ہیں، احیاء العلوم کے بارے میں شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ ان کو ضعیف کہنا درست نہیں ہے بلکہ وہ دوسری سند اور دوسری روایات کے اعتبار سے قوی ہیں اور جن احادیث کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کی کوئی اصل نہیں ہے مرتضی زبیدی جو ایک بڑے محدث ہیں نے ان کی اصل کو دریافت کر لیا ہے لیکن موجودہ زمانے میں دعوت کے سلسلے میں بہت شبہات پیدا ہو گئے ہیں اس لئے ان شبہوں سے واقفیت اور ان کے جواب سے واقفیت ایک داعی کے لئے ضروری ہے اور اس سلسلہ میں الااسلام تحدی علم جدید کا چیلنج ، مصنف : وحید الدین خاں حقائق الاسلام وابا طیل الخصوم مصنف عقائد الاسلام والعصر الحدیث مصنفہ ڈاکٹر اسماعیل الوحی المحمدی مصنفہ رشید رضا کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ داعی کے لئے موجودہ زمانے میں سلام پر کئے جانے والے نئے نئے اعتراضات اور اس کے جوابات سے آگاہی از بس ضروری ہے اور ان کتابوں میں شبہات کا کافی اور شافی طور پر رد ہے دوسری شرط جو داعی کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دعوت دینے والے کے قلب میں صرف اللہ کا خوف ہو وہ کسی سے نہ ڈرے اور بغیر خوف لو مۃ لائم فریضہ دعوت و تبلیغ کو انجام دیتا رہے نیز تیسری شرط جس کا داعی میں پایا جانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ وہ دعوت کا کام حکمت اور موعظت کے ساتھ انجام دے
ماحول کی پوری رعایت رکھے۔ ہر طبقہ کے ساتھ اور ہر فضا میں اس طریقے کو اختیار کرے جو طریقہ کہ دعوت کی کامیابی کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ادع الى سبيل ربك بالحكمة و الموعظة الحسنة میں فرمایا ہے۔ زمانہ کے اعتبار سے دعوت کا وہ طریقہ اختیار کرے جو انسانی مزاج کے مطابق اور حالات کے موافق ہے حکمت و موعظت کا وہ اسلوب اختیار کرے جو قلب کو داعی کی طرف مائل کرے، احساسات کو ابھارے اور انسان کو اللہ کی طرف متوجہ کرے۔
فرمایا گیا وجادلهم بالتی هی احسن - نرم خوئی اور نرم گوئی دعوت کی اساسی شرطوں میں سے ہے۔ فرمایا گیا - ولو كنت فظا غليظ القلب لا نفضوا من حولك آیت مذکورہ میں دوسری بات جو فرمائی گئی وہ عمل صالح ہے اور عمل صالح سے مراد ہر وہ عمل ہے جو اسلامی ہے شریعت اسلامیہ کے مطابق ہے اسلام کے مزاج سے میل کھاتا ہے، اور عمل کی غرض و غایت اللہ کی ذات ہے۔ موضوع اور نیت ہر اعتبار سے اسلام کے مطابق ہے۔ اگر نیت خالص نہ رہی یا عمل سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی اور مقصود رہا تو اس عمل کو نہ اسلامی کہا جائے گا اور نہ اس کا نام عمل صالح رکھا جائے گا۔ اس بات پر موجودہ زمانہ میں تنبیہ حاصل کرنا ضروری ہے کہ جو عمل نیت اور موضوع کے اعتبار اسلامی ہوگا وہی عمل صالح کہلائے تیسری اور آخری بات جو اس آیت میں فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وقال اننى من المسلمين - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ان تسلم قلبک یعنی اللہ کے لئے تمھارا دل جھک جائے۔ یہی اسلام ہے۔ جس چیز کا اللہ نے حکم دیا ہے اُسے کرو اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سے رک جاؤ یعنی تمھارے اندر عبدیت اور خضوع کی پوری شان نمایاں ہو، یہ ہے اسلام اور اللہ کو واحد جانو۔ سر تمھارا اللہ ہی کے لئے جھکے اور ہر معاملے میں اسی کی اطاعت و انقیاد ہو۔ یہی اسلام کے حقیقی معنی ہیں * (الجمعیۃ ۲۱ نومبر ۱۹۷، ۶۱۹)