لطفه
Al-Risala, February 1977, pp. 10–14
By Maulana Wahiduddin Khan
گاما پہلوان (۱۹۵۸ - ۱۹۷۵ء) کو ۲۰ سال کی عمر میں رستم ہند اور اس کے بعد رستم زماں کا خطاب ملا تھا۔ ایک بار جلسہ ہو رہا تھا۔ محمد اقبال صدر تھے۔ گاما بھی جلسہ میں موجود تھے۔ لوگ بول چکے تو آخر میں ڈاکٹر اقبال نے اعلان کر دیا کہ گاما اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ گاما پہلوان کھڑے ہوئے کچھ دیر انھوں نے جسم کو حرکت دی ، ہاتھ ادھر ادھر ہلایا اور کہا ”بھائیو! ورزش کیا کرو“ جب وہ اپنی مختصر تقریر ختم کر کے بیٹھے تو دیکھنے والوں نے یہ دیکھا کہ گاما پہلوان کی نہ صرف پیشانی پر قطرات نمایاں تھے بلکہ کُرتا بھی بھیگ چکا تھا ۔
الرساله کے شائقین سے گزارش ہے کہ وہ پرچہ بذریعہ وی، پی طلب نہ فرمائیں۔ بلکہ اپنا زر تعاون منی آرڈر کے ذریعہ بھیج دین یہ طرفین کے لئے سہولت کا باعث ہے۔
جو لوگ سالانہ یا شش ماہی زر تعاون بیک وقت ادا نہ کر سکیں ، وہ ہر مہینہ دو روپے کا ٹکٹ لفافہ میں رکھ کر بھیج دیں۔ انھیں روانہ کر دیا جائے گا۔
خریداری حضرات براہ کرم اپنے خطوط میں خریدار نمبر کا حوالہ ضرور تحریر فرمائیں خط و کتابت کے وقت یا زر تعاون بھیجتے ہوئے اپنا پتہ صاف اور حتی الامکان انگریزی میں تحریر فرمائیں۔
الرساله نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں پڑھا جاتا ہے بلکہ ملک کے باہر بھی عرب دنیا اور دوسرے علاقوں میں جاتا ہے۔ تاجر حضرات الرسالہ میں اشتہار دے کر اپنی تجارت کو فروغ دیں۔
ابو لہب كويہ بات غیر اہم نظر آئی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی اور خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں کے درمیان حقیقت کا اعلان کرو تو آپ صفا کی پہاڑی پر چڑھے ، اس زمانے میں کسی بڑے خطرے کے اعلان کے لئےمکہ میں اسی بلند مقام کو استعمال کیا جاتا تھا۔ آپ نے پکار کر لوگوں کو جمع کیا۔ جمع ہوگئے تو آپ نے ایک مختصر تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا :
" لوگو آگاہ ہو جاؤ ، جس طرح تم سوتے ہو ، اسی طرح تم مرو گے اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے ۔ اس کے بعد یا ہمیشہ کے لئے جنت ہے یا ہمیشہ کے لئے جہنم"
یہ آخرت کی حقیقت کا اعلان تھا جو دنیا پرست لوگوں کو سنایا جا رہا تھا۔ کے چچا ابولہب کی دنیوی فکر کے لئے یہ پیغام آخرت اتنا غیر مانوس ثابت ہوا کہ وہ فوراً مجلس سے اٹھ گیا اور چلا کر کہا : «تَبًّا لَكَ سائر اليوم المهذا اجمعتنا تمھارا براسا ہو۔ کیا تم نے یہی بات سنانے کے لئے ہم کو جمع کیا تھا۔
دین کو جب دنیوی سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جائے تو وہ بہت جلد لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔
آخرت طلبی کا نام ھے ۔
مہاتما گاندھی بھی سوشلزم کو مانتے تھے، اور دونوں میں فرق یہ تھا کہ گاندھی جی اختیاری سوشلزم کے قائل تھے اور کمیونسٹ جبری سوشلزم کے۔ کمیونسٹوں کا سوشلزم عوام میں پھیل گیا۔ جب کہ گاندھی جی کے سوشلزم کو صرف چند ہی لوگ قبول کر سکے۔ وجہ بالکل ساڑ ہے؛ کمیونسٹوں کا نظریہ عوام کی فکری سطح سے قریب تھا۔ اس کے برعکس گاندھی جی کا نظریہ، نسبتاً زیادہ بہتر ہونے کے باوجود، عوام کے لئے ناقابل فہم تھا۔ اس کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جو سماجی مسائل پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہوں۔
یہی صورت حال مذہب کے ساتھ بھی پیش آتی کوئی مذہبی تحریک عوام میں مقبول ہو رہی ہو تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صداقت پر مبنی ہے۔
ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ عوام کی فکری سطح سے قریب ہے۔ رمضان کے مہینے میں ان دکانوں پر زیادہ بھیڑ ہوتی ہے جو سحری اور افطار کے لذیذ کھانے فروخت کرتی ہوں۔ اس کے بر عکس جو شخص روزہ کا فلسفہ بیان کر رہا ہو، اس کے حلقہ میں بہت کم آدمی دکھائی دیں گے۔ اس کے برعکس جب دین کو آخرت طلبی کے روپ میں پیش کیا جائے جو اس کی حقیقی صورت ہے تو وہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ لوگ اس کو اپنی فکری سطح سے ہٹا ہوا پاتے ہیں، اس لئے اسے رد کر دیتے ہیں۔
قرآن پاک میں جن لوگوں نے نماز کا مطلب یہ بتایا اس لئے کہ لذیذ کھانے کی طلب ہر ایک میں ہوتی ہے ۔ جب کہ فلسفیانہ غور و فکر سے لوگوں کے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔
جو مذہب ”زردہ اور بریانی“ میں ثواب کا راز نہ بتائے، وہ بہت جلد لوگوں کی حمایت حاصل کرلے گا۔ مذہب کی یہ قسم عوام کی فکری سطح سے انتہائی قریب ہے۔ اس کو اختیار کرنے کے لئے ان کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ توڑنے کی ضرورت نہیں۔ جو مذہب کشف و کرامت کی داستانیں اپنے ساتھ لئے ہوئے ہو، عوام اس کی طرف دوڑ پڑیں گے کیونکہ عجوبہ پسندی ساری دنیا میں سب سے زیادہ عام انسانی اسی طرح جو لوگ سیاسی اصطملحوں میں مذہب کو بیان کریں یا جلسوں اور نعروں والا مذہب تقسیم کرتے ہوں وہ بہت آسانی سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیں گے۔ کیوں کہ یہ سب وہی چیزیں ہیں جن سے لوگ پہلے ہی سے
دین کی اصل آخرت ہے۔ دینی زندگی کا مطلب ہے ایسی زندگی جس میں ساری توجہ آخرت کی کامیابی اور ناکامی کی طرف لگی ہوئی ہو۔ مگر لوگ ہر زمانہ میں دنیا دار انہ مشاغل کی سطح پر ہوتے ہیں۔ اگر دین کو انکی دنیوی زندگی کے ضمیمہ کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کو قبول کرنے میں نہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں دین ان کو ٹھیک اسی سطح پر لا رہا ہوتا ہے جس سطح پر وہ خود پہلے سے کہ بیت اللہ میں جمع ہو کر تالی پیٹیں اور سیٹی بجائیں ۳۵) ان کو عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں دیر نہیں لگی۔ جنھوں نے خدا پرستی کا کمال یہ بتایا کہ حاجیوں کو پانی پلایا جائے اور مسجد حرام کی خدمت کی جائے (توبہ - ۹) ان کو بھی بہت جلد عوام الناس کی تائید حاصل ہو گئی کیونکہ یہ باتیں ان کی فکری سطح سے قریب تھیں۔ وہ اپنے مقررہ دنیوی ڈھانچے کو توڑے بغیر اس مذہب کو اپنی زندگی میں شامل کر سکتے تھے۔ اسی طرح جن لوگوں نے مذہب کا خلاصہ یہ بتایا کہ احبار و رہبان (بزرگوں) کا دامن تھام لو (توبہ - ۳۱) وہ بھی عوام میں خوب مقبول ہوئے۔ ان کا مذہب لوگوں کی دنیا دارانہ زندگی سے کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں کرتا تھا۔ اس طرح وہ اپنے محبوب دنیوی مشاغل میں مصروف رہتے ہوئے یہ اطمینان کر سکتے تھے کہ انھوں نے اپنی نجات اور کامیابی کا یقینی انتظام کر لیا ہے۔ مگر مذہب کی دعوت جب پیغمبر اسلام کی زبان سے بلند ہوئی تو بالکل مختلف صورت حال پیش آئی۔ یہاں جو مذہب پیش کیا جا رہا تھا، وہ لوگوں کی دنیا پرستانہ زندگی کے سانچہ میں نہ تھا، بلکہ اس کو توڑکر اپنی جگہ بنانا چاہتا تھا۔ آپ کا مذہب مکہ والوں کو آخرت کی طرف دوڑنے کا تقاضا کر رہا تھا نہ کہ دنیا کی طرف۔ اس لئے بالکل فطری تھا کہ طبیعتیں اس سےاپرا ئیں، لوگ اس کا انکار اور استہزاء کرنے لگیں۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ یورپ اپنی تمام مادی ترقیوں کے باوجود ایک احساس ناکامی سے دو چار ہے۔ اس کو نظر آرہا ہے کہ اس کی سائنس اور ٹکنالوجی نے اس کو مشینیں اور سواریاں تو دیں، مگر اس کو وہ فلسفہ حیات نہ مل سکا جو اس کو یقین کی دولت عطا کرتا۔ انگریز فلسفی بریڈ لے (۱۹۲۴۔ موجودہ صدی کے ربع اول میں کہا تھا:
دنیا کو ایک نئے مذہب (New Religion) کی ضرورت ہے، ہمیں ایک ایسا عقیدہ چاہیے جو تمام انسانی مفادات کا تعین کرے اور ضروری تناسب کے ساتھ اس کے جواز کی بنیاد ہو، اور اسی کے ساتھ وہ شعور عطا کرے، جس سے انسان اس پر اعتماد کے ساتھ قائم ہو سکے "