Essays on Truth and Reality, P. 446
Al-Risala, February 1977, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد خود مغربی ممالک میں ایسے لوگ اٹھے جنھوں نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ ان کے پاس خدا کی جو امانت ہے، وہ یورپ کی اس فکری کمی کو پورا کر سکتی ہے، وہ اس کو لے کر اٹھیں اور اہل عالم تک اس کو پہنچا کر اپنا خدائی فریضہ ادا کریں۔ لو تھین (۱۸۸۲۔ ۱۹۳۰) چالیس سال پہلے ہندوستان آئے تھے اور ۱۹۳۸ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقسیم اسناد کے جلسہ کی صدارت کی تھی۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے خطبہ میں کہا تھا: "یورپ اپنے سیاسی، معاشی، تمدنی اور عائلی مسائل کا تسلی بخش حل دریافت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ آپ حضرات کا دعویٰ ہے کہ اسلام زندگی کا مکمل دستور العمل ہے اور اس میں اجتماعی مسائل کا بہترین حل موجود ہے۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ بلادِ مغرب میں جا کر وہاں کے باشندوں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کریں" (خطبہ تقسیم اسناد)
منٹگمری واٹ ( - ۱۹۰۹) نے اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں مسلمانوں کی غیرت کو پکار ا۔ پیغمبر پیغمبر اسلام کی سیرت پر اپنی کتاب میں انھوں نے لکھا:
" دنیا بہت تیزی سے ایک ہوتی جا رہی ہے اور اس ایک دنیا میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ اس کے اندر اتحاد اور یکجہتی اس رجحان کی وجہ سے یقیناً وہ دن آئے گا جب کہ یہاں اخلاقی اصولوں کا ایک ایسا نظام ہو گا جو نہ صرف عالمی جوڑا رکھتا ہوگا بلکہ في الواقع وہ ساری دنیا میں تسلیم کیا جا چکا ہو گا۔ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ محمد تمام نوع انسانی کے لئے ایک عملی اور اخلاقی نمونہ ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دنیا کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ ان پر رائے قائم کر سکے۔ اب تک یہ معاملہ دنیا کی بہت کم توجہ اپنی طرف مائل کر سکا ہے۔ مگر اسلام کی قوت کی وجہ سے یہ بالآخر اہمیت حاصل کرلے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا محمد کی زندگی اور تعلیمات میں سیکھنے کے قابل کچھ اصول ہیں جو مستقبل کی دنیا کو واحد اخلاقی نظام عطا کر سکیں
دنیا کو ابھی تک اس سوال کا آخری جواب نہیں دیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے محمد کے بارے میں اپنے دعوے کی تائید میں اب تک جو کچھ کہا ہے، وہ اس سلسلہ میں بس ایک ابتدائی بیان کی حیثیت رکھتا ہے اور بہت کم غیر مسلم اس سے مطمئن ہو سکے ہیں۔ تاہم یہ موضوع ابھی کھلا ہوا ہے۔ دنیا کا ردِ عمل محمد کے بارے میں کیا ہوتا ہے، کسی حد تک اس پر منحصر ہے کہ آج کے مسلمان اس کے لئے کیا کرتے ہیں۔ انہیں اب بھی یہ موقع حاصل ہے کہ بقیہ دنیا کے سامنے اپنے مقدمہ کو زیادہ بہتر اور مکمل طور پر پیش کریں۔ کیا مسلمان یہ دکھا سکیں گے کہ ایک متحدہ دنیا کی اخلاقیات کے لئے محمد کی زندگی ایک آئیڈیل انسان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مسلمان اپنے مقدمہ کو بہتر طور پر پیش کر سکیں تو عیسائیوں میں وہ ایسے لوگ پائیں گے جو اس کو سننے کے لئے تیار ہیں۔ “ (صفحہ ۳۳۳) Mohammad As Model for Universal Morality اس طرح کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے ۔ مسلمان اس پوری مدت میں مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی تو لڑتے رہے جس میں مغرب صریح طور پر ان کے اوپر برتری رکھتا تھا۔ مگر فکری اور اعتقادی میدان جو مغربی قوموں کا کمزور گوشہ تھا وہاں ان پر کوئی جدو جہد نہ کی۔ نادانی کی ایسی عجیب غریب مثال شاید پوری تاریخ میں کوئی دوسری نہیں ملے گی۔
فکری اور نظریاتی طاقت کی اہمیت کیا ہے، اس کی ایک مثال یہاں ہم خود جدید مغربی تاریخ سے پیش کریں گے۔ پہلی جنگ عظیم (۱۸–۱۹۱۴) کے دوران روس میں کمیونسٹوں کا غلبہ برطانیہ عظمیٰ کے لئے ایک سوالیہ نشان تھا۔ کیونکہ یہ برطانوی سلطنت کے ”مشرقی حصہ“ کے لئے خطرہ کے ہم معنی تھا۔ میں انگریز فوجی افسروں کا ایک وفد صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لئے سمر قند پہنچا۔ اگرچہ بظاہر یہ بتایا گیا تھا کہ یہ ایک تجارتی وفد ہے اور وسط ایشیا کی کپاس کا سودا کرنے جا رہا ہے۔ وفد کے ممبران یہ تھے: (Colonel F.M. Bailey)
(Colonel P.T. Etherton)
(Major L.V.S. Blacker)