Al-Risala · February 1977

میجر بلیکر

Al-Risala, February 1977, pp. 15–19

By Maulana Wahiduddin Khan

واپسی کے بعد کرنل ایتھرٹن نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ”وسط ایشیا کے قلب میں“ In the Heart of Central Asia انھوں نے اپنی اس کتاب میں جو باتیں لکھیں ، ان میں سے ایک یہ تھی :

The new set of ideas of the Bolsheviks was potentially much more of a menace to English domination in the orient than all of the Czar's armies in the past. یعنی بالشویکوں کے نظریات بالقوہ طور پر برطانیہ کے مشرقی مقبوضات کے لئے اس سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ ماضی میں زار کی تمام فوجیں ہو سکتی تھیں۔ (۹۳ - ۹۲)

آسمان کا مشاہدہ پلانیٹیریم میں ہندوستان کی جدید تاریخ پر نہرو خاندان کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ اس کے کسی بھی صفحہ پر اسے (RESEARCH ORIENTED) دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موتی لال نہرو ہوں گی ۔ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور سنجے گاندھی کے بغیر جدید ہندستان کو سمجھا نہیں جا سکتا ۔

ہندوستان کی تاریخ کے اس پہلو کو واضح کرنے یہ ہے کہ اس میں ایک پلانیٹیریم (Planetarium) بنایا کے لئے جو ادارے ملک میں قائم ہوئے ہیں، ان میں ایک جدید شان دار اضافہ ممبئی کا نہرو سنٹر ہے جو ہم دم کا سب سے بڑا اور دنیا کے بہترین پلانیٹیریموں میں سے ہیکٹر رقبہ میں تعمیر کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی سے تیار ہوا ہے ۔ اس رقم میں مشترکے کے برلا کا عطیہ نے نومبر ۱۹۷۲ میں اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس کا بجٹ ۳ء۵ کر وڑ تھا۔ مگر ۱۹۷۸ء میں جب وہ آخری طور پر مکمل ہوگا تو اندازہ ہے کہ اس کی لاگت ایم۔ حسین کا نام بھی ہے۔ ایکوڑ و روپئے تک پہنچ جائے گی۔

نہرو سنٹر میں مختلف قسم کے علمی اور ثقافتی کا ذریعہ ہوگا کہ وہ ایک ہال کے اندر بیٹھ کر " آسمانی سیر" بلکہ ریسرچ کے لئے علم افلاک اور خلائی سائنس کے ہر شعبہ کے مطالعہ میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس پلانیٹیریم کا ڈیزائن اور منصوبہ ہندوستانی ماہرین نے تیار کیا تھا، اور وہ ہندوستانی فرموں کے علاوہ جرمن ڈیمو کریٹک رپبلک کے سامان اور ٹیکنکل تعاون سے بنایا گیا ہے۔ اس پلانیٹیریم میں بیٹھ کر آپ نہ صرف آج کے آسمان کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ۲۷ ہزار سال پہلے اور ۲۷ ہزار سال بعد تک کے آسمان کا مشاہدہ بھی منٹوں میں کر سکتے ہیں۔ پلانیٹیریم کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ یہ ہے کہ نوجوانوں میں علمی نقطہ نظر (SCIENTIFIC APPROACH) پیدا کرنے کے لئے خصوصی پروگرام رکھے جائیں۔ اس مقصد کے لئے پلانیٹیریم میں مختلف قسم کے سائنسی شو دکھائے جائیں گے جو چھوٹے بچوں سے لے کر یونیورسٹی کے طلبہ تک کے لئے ہوں گے۔ ملک کے مختلف حصوں کے لوگ اس میں شریک ہوں گے۔ بمبئی کی رات کا آسمان منٹوں میں آپ کے لئے قطب جنوبی یا قطب شمالی کا آسمان بن سکتا ہے جہاں ستارے نہ ڈوبتے ہیں نہ نکلتے ہیں۔ یہاں آپ شہابے، مدار ستارے، سورج، چاند، شمسی نظام، حتی کہ کہکشاؤں اور صحابیوں کو اس طرح دیکھ سکتے ہیں گویا کہ آپ آسمانی فضا میں شامل ہو کر پوری کائنات کا مشاہدہ کر رہے ایک زمینی سال کو اس گنبد نما "آسمان" میں ۱۰ منٹ میں پورا کر دیا جاتا ہے۔ یہ اور اسی طرح کے دوسرے مناظر کو دکھانے کے لئے اس میں جو پروجیکٹر لگے ہوئے ہیں ان کی تعداد مجموعی طور پر ۱۱۰ ہے۔ اس قسم کا ایک پلانیٹیریم بنانے کے لئے مختلف علوم درکار ہوتے ہیں مثلاً فلکیات، بصریات، الکٹرکس، انجینئرنگ وغیرہ ۔ آسمان کا سائنسی مشاہدہ کرنا ہو تو بہت سے علوم ضروری ہو جاتے ہیں نائلون و پلاسٹک کے بٹن ہر کوالٹی اور ہر رنگ میں قمیص،کوٹ،پینٹ ، کوٹ، پینٹ، چسٹر اور کالر شولڈر پیڈ وغیرہ کیلئے ہول سیل ریٹ پر طلب فرمائیں ۔

دہلی بٹن اسٹور ۱۱۰۵ نواب منزل کشن گنج آزاد مارکیٹ دھلی ۔

حقائق کا مقابلہ الفاظ سے نہیں کیا جاسکتا نواب واجد علی شاہ فروری ۱۸۵۶ء تک اودھ کے حکمران تھے۔ ان کو "سلطان عالم" کا خطاب حاصل کہا جاتا ہے کہ جب ملک کے بیشتر حصوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہوگیا اور خبریں آنے لگیں کہ انگریزی فوجیں لکھنؤ کی طرف بڑھ رہی ہیں تو نواب اودھ کی عورتیں محل میں نواب کے گرد جمع ہوئیں اور دشمن کو کوسنا شروع کیا : "موئے فرنگیوں کی توپوں میں کیڑے پڑیں"۔ کے محل کا یہ واقعہ بظاہر ایک انوکھا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن غور سے دیکھیے تو موجودہ زمانے میں ہمارے لیڈروں کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ پچھلی صدیوں میں جب مغربی قومیں اسلامی ملکوں پر چھا گئیں تو اس کے مقابلہ کے لئے ساری مسلم دنیا میں بے شمار لیڈر اٹھ کھڑے ہوئے۔ مشرق کے اوپر مغرب کا یہ غلبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک سائنسی واقعہ تھا نہ کہ سادہ معنوں میں محض ایک سیاسی واقعہ۔ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے درمیان جو لوگ اٹھے وہ سب شاعر تھے یا خطیب۔ یہ غالب قومیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے زور پر آگے بڑھ رہی تھیں۔ مگر ان کو مغلوب کرنے کے لئے ہمارے لیڈروں کے پاس جو چیز تھی، وہ صرف پرشور الفاظ کا طوفان تھا۔ نواب اودھ نے مشین کا مقابلہ اگر عورتوں کے کوسنے سے کرنا چاہا تھا تو لیڈروں نے مشین کا مقابلہ شاعری اور خطابت کے ذریعے کرنے کی کوشش کی۔ ان دونوں چیزوں میں ظاہر کے اعتبار سے تو ضرور فرق ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔

مولانا محمد علی (۱۹۳۱ء - ۱۸۷۸ء) کی تقریر و تحریر کا نقشہ رشید احمد صدیقی نے ان لفظوں میں کھینچا ہے : روکس بلا کے بولنے اور لکھنے والے تھے۔ بولتے تو معلوم ہوتا ابو الہول کی آواز اہرام مصری سے ٹکرا رہی ہے۔ معلوم ہوتا کرپ کے کارخانے میں توپیں ڈھل رہی ہیں یا پھر شاہجہاں کے ذہن میں تاج کا نقشہ مرتب ہو رہا ہے۔ میں نے ان کو اسٹیج پر آتے اور بولتے ہوئے سنا ہے۔ محمد علی کو داد دینے سے پہلے انیس کو داد دی ہے : ضیغم ڈکارتا ہوا نکلا کچھار سے ‘‘ جمال الدین افغانی (۱۸۹۷ء - ۱۸۳۸ء) کی تقریر کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔ ۱۸۶۸ء میں وہ ہندوستان آئے تھے اور زیادہ تر حیدر آباد میں مقیم رہے۔ انھوں نے ہندوستانیوں کے ایک مجمع میں تقریر کرتے

يا اهل الهند، وعن الحق وسر العدل، لو كنتم، وانتم مئات الملايين، ذبابا لكان طنينكم يصم آذان بريطانيا العظمى ويجعل في آذان كبيرهم المستوغلاد ستون وقرا، ولو كنتم، وانتم مئات الملايين من اليهود قد مسخكم الله فجعل كلا منكم سلحفاة وخضنتم البحر واحظتم ببحزيرة بريطانيا العظمى لجررتموها الى القعر، و عدتم الى هند كم احرارا (۷۰)

اے ہندوستان والو، عزت حق اور راز عدل کی قسم، تم جو

سیکڑوں ملین کی تعداد میں ہو، اگر تم مکھیاں ہوقے تو تمھاری بھنبھناہٹ برطانیہ عظمیٰ کرکے کانوں کو بہرا کردیتی، اور مسٹر گلیڈسٹون کے کان اس سے سُن ہو جاتے۔ اگر تم یہودی ہوتے اور خدا نے تم کو مسخ کے تم میں سے ہر ایک کو کچھوا بنا دیا ہوتا اور تم سمندر کو تیر کر جزیرہ برطانیہ پہنچ جاتے تو تمھارے بوجھ سے جزیرہ غرق ہو جاتا اور تم آزاد ہو کر اپنے ملک میں واپس آتے۔

۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ نے تقسیم فلسطین کا اعلان کر دیا، اور یہودیوں کی حکومت تسلیم کرلی۔ اسرائیل کو اقوام متحدہ کا ممبر بھی نامزد کر دیا گیا شیخ حسن البنا (۱۹۴۸ - ۱۹۰۲) اپنی بارعب شخصیت اور پُر زور خطابت کی وجہ سے اس وقت مصر کے انتہائی مقبول قائد بن چکے تھے۔ انھوں نے اس مسئلہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا:

”اے اہل مصر، کل ہی کی توبات ہے کہ ہیضہ کی وبا میں مصر کے چالیس ہزار افراد نے دست وتے میں مبتلا ہو کر جان دے دی، اور تم نے اسے برداشت کر لیا۔ تم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے چالیس ہزار آدمی اور بھی، ہمارے محبوب فلسطین کی آزادی کی خاطر خاک خون میں لوٹ کر شہادت کا درجہ حاصل کر لیں؟ اس قسم کے خطیب سارے عالم اسلام میں پیدا ہوئے۔ اس پوری مدت میں کوئی لیڈر ایسا نہ اٹھا جو علمی تجزیہ اور سائنسی ذہن سے مسلح ہو۔ ہر ایک کے پاس بس شعر و خطابت کا طوفان تھا۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ جس طرح عورتوں کے کوسنے سے انگریزی فوجوں کی توپ میں کیڑے نہیں پڑ سکتے تھے۔ اشعار اور خطبار کی لفاظیوں سے ملت کی تعمیر بھی ممکن نہ ڈیڑھ سو سالہ بلند بانگ کوششوں کا انجام اس کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔

Printed page