Al-Risala · February 1977

لِمَثل هذا فليعمل العاملون

Al-Risala, February 1977, pp. 26–36

By Maulana Wahiduddin Khan

في مطلع رمضان .. شهر القرآن .. (۱۳۹۳هـ) .. جاءت الأنباء باعلان الرئيس « برنارد بونجو » رئيس جمهورية الجابون ، اعتناقه للإسلام لأنه راى فيه ، كما جاء في بيانه : نور الفطرة وجلال العدالة أما الإسلام .. فان دُعَاتَهُ في افريقيا عشرات .. وفى بعض الأقطار أفراد يعدون على الأصابع ! ومع هذا يعرف الإسلام طريقه الى القلوب .. ولا يخفى نوره على الناظرين ، مهما تَكَاثَرَتِ السحب ، واغبرت الآفاق !

عجب الناس من إسلام رئيس جمهورية الإفريقية .. طائعاً مختاراً « مستجيباً لله ورسوله لا تحركه رغبة ، ولا تحمله رهبة .. ولكن العجب ما يلبث أن يتبدد حين يتأمل الإنسان حقيقة الإسلام ويعرف خاصته ، التي ترهب اعداءه..! أنه الدين الذي يخاطب الفطرة .. وينادى العقل .. ويحرك الشعور .. انه الدين الذي لا طلاسم فيه ولا مجاهيل .. ولا خرافات ولا أباطيل .. فاذا ما انزاحت الغشاوة عن البصيرة .. وانجابت سحب الزيف عن الفطرة ، فانها تعرف طريقها الى الإسلام وشيكا .. وتسرع اليه راغبة مشتاقة .. وتنزع الى رحابه راضية مطمئنة .. انها صورة فريدة من الاستجابة لم تتبدل في كل جيل وقبيل .. منذ عهد النبوة .. حين كان الناس ينقلبون من النقيض الى النقيض .. بتأثير آية يسمعونها .. وحكمة يتلقونها .. فيصبحون آخر النهار من جند الإسلام .. بعد أن كانوا في اوله من أعدائه الألداء !

هكذا فعل الإسلام في حمزة .. وعمر .. وأسيد بن حضير .. وخالد بن الوليد .. وعمرو بن العاص.. وغيرهم من الأبطال الذين كسبهم الإسلام جنوداً أوفياء .. بل كسبتهم الإنسانية مضحين شرفاء .. ممن نفتحت بصائرهم على نور الإسلام في ومضة خاطفة ، بعد أن كانوا عنه متباعدين .. بل هي المعجزة الإسلامية التي جعلت التتار يعتنقون الإسلام ويدافعون عنه ، بعد أن أقبلوا من قبل يدمرون حاضرة الخلافة ، ويحاولون هدم حضارة الإسلام !

بل هذه الحضارة الْغَرْبِيَّةُ، .. رغم أضوائها وزخارفها لم تستطع أن تحول بين افراد أنقياء ينتمون اليها .. وبين الاستضاءة بنور الإسلام والاستظلال بظلاله .. ففى كل يوم يكسب الإسلام أنصاراً في هذه العواصم الحضارية في أوربا وأمريكى .. لا يحجب عنهم ضياء الإسلام ، ما يرونه من ضعف المسلمين وتغلب الأعداء عليهم .. لأنهم يعلمون أن حقائق الإسلام شيء .. وواقع المسلمين شيء آخر .. تلك خاصة الإسلام في ذاته .. انه دين زاحف منتشر .. يحمل في طبيعته خصائص القوة والوضوح والتأثير في القلوب .. متى برئت من العلل والأهواء .. ان الحق تبارك وتعالى قد وعد باظهار الآيات التي تؤكد دائماً أن الإسلام حق .. وأنه وحى من السماء لا هوى من الأرض .. ( سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق ، أو لم يكف بربك أنه على كل شيء شهيد ) .. وان انتصار الإسلام .. عقيدة مؤثرة ، وديناً يستحوذ على القلوب .. لآية من آيات الله في هذا العصر ، الذى تتداعى فيه الأمم على أمة الإسلام ، والذى تَشْتَدُّ فيه الحرب الخبيثة لِانْتِقَاصِ ديار الإسلام واذلال أتباعه.. في وسط هذا الظلام تأتي أضواء البشائر .. فترى العقيدة الإسلامية تعرف طريقها الى القلوب .. نقية صافية .. قوية شامخة ، تؤكد أن الإسلام حقاً هو دين الإنسانية ، الذي يحقق لها الأمن والطمأنينة ويأخذ بأيديها الى حمى الخير والسلام .. ولكن هذه القوة الذاتية للإسلام ، لا تعفى الأمة الإسلامية من واجبها في الدعوة اليه ، وفي جلاء الحقائق أمام الإنسانية ، حتى تختار طريقها وتعرف سبيلها .. أن أسلافنا الأماجد قد قاموا بواجبهم خير قيام .. في الدعوة الى الإسلام .. فسعدوا به وأسعدوا الإنسانية .. وبقى علينا أن ندرك المسؤولية التي يُلْقِيهَا عَلَيْنَا ديننا الحنيف حتى نَكُونَ أهلاً لهذا التكريم الذى لقىء الجيل المثالى من هذه الأمة .. جيل الصحابة الكرام الذين نجد وصفهم في قول الحق سبحانه : ( كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله) .. ومثل هذا فليعمل العاملون ..

کام کرنے والوں کو اس کے لئے کام کرنا چاہئے رمضان ۱۳۹۳ھ کے آغاز میں یہ خبر آئی تھی کہ جمہوریہ گابون کے صدر برنارو بانگو نے اسلام قبول کر انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میں نے اسلام کو اس لئے اختیار کیا کہ اس میں مجھے فطرت کا نور اور انصاف اور مساوات کی عظمت نظر آئی۔

اسلام کے مبلغین افریقہ میں دس بیس ہوں گے موجودہ مغربی تہذیب اپنی تمام چمک دمک کے با وجود اپنے اندر کے صاف ذہن لوگوں کو اس سے نہ روک سکی کہ وہ اسلام کے نور سے اپنے لئے روشنی چنانچہ یورپ اور امریکہ کے تہذیبی مراکز سے اسلام ہر دن اپنے اعوان و انصار پارہا وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان کمزور ہیں اور دشمنوں نے ان کے اوپر غلبہ حاصل کر رکھا ہے۔ مگر یہ واقعہ ان کے لئے اسلام کی طرف آنے میں رکاوٹ نہ بن سکا۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کی سچائی الگ چیز ہے اور مسلمانوں کی عملی حالت دوسری چیز ہے۔

اسلام کا ایک مؤثر عقیدہ کی حیثیت سے زندہ رہنا اور اس کا ایسا دین ہونا جو دلوں کو مفتوح کرے۔ یہ موجودہ زمانہ میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور بعض علاقوں میں تو ان کی تعداد انگلیوں پر گنی اس کے باوجود اسلام دلوں تک پہنچنے کے لئے اپنا راستہ پارہا ہے ۔ اس کی روشنی دیکھنے والوں کے لئے مخفی نہیں ۔ کیونکہ اسلام وہ دین ہے جو فطرت کو مخاطب کرتا ہے، جو عقل کو پکارتا ہے اور شعور کو حرکت میں لاتا ہے۔ یہ ایسا دین ہے جس میں طلسماتی چیزیں اور مجہول باتیں نہیں ۔ اس میں خرافات اور اباطیل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بصیرت سے پردہ اٹھتا ہے اور فطرت کے اوپر سے مصنوعی بادل چھٹتے ہیں تو بہت جلد انسان اسلام کا راستہ پہچان لیتا ہے۔ اسلام کا یہی معجزہ ہے جس نے تاتاریوں کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا دیا اور وہ اس کی حمایت کرنے والے بن گئے ۔ حالاں کہ وہ دارالخلافہ کو برباد کرنے آئے تھے اور اسلامی تہذیب کو مٹاڈالنا چاہتے تھے۔ جب کہ قومیں اس کی دشمن بنی ہوئی ہیں اور بلادِ اسلام کو ڈ ڈھانے اور اہل اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے جنگیں برپا کئے رہتی ہیں ۔

مگر اسلام کی یہ ذاتی قوت امت اسلامیہ کے لئے اس کی دعوتی ذمہ داریوں سے معافی کا سبب نہیں ہم کو بہر حال انسانیت کے سامنے حق کو واضح کرنا ہے تاکہ وہ اپنے طریقے کو پکڑ لے اور اپنے راستہ کو پالے۔ ہمارے بزرگ اکابر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے پوری طرح اٹھے انھوں نے دنیا کو اسلام کی دعوت دی۔ انھوں نے خود اس سے برکت حاصل کی اور دوسروں کو برکت اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس ذمہ داری کو سمجھیں جو دین حق نے ہمارے اوپر ڈالی ہے تاکہ ہم اس عزّت کے مستحق بنیں جو اس امت کے مثالی لوگوں ۔ صحابہ کرام ۔ یہ ہے وہ کام جو کرنے والوں کو کرنا چاہئے۔

تیرہ سالہ کانہہہ ہوئی انسر کا نانا کا قدا با سلام نہین سال کے اندر دو عیسائی حکمرا نوں کا قبول اسلام کئی سو سال کے وقفہ کے بعد اسلام دوبارہ اپنی اس تاریخی قوت کو دہرارہا ہے کہ ملکوں کے حکمراں خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔ الرسالہ کے پچھلے شمارہ میں سنٹرل افریقہ کے صدر بو کا سا کے قبول اسلام (اکتوبر ۱۹۷۶) کا واقعہ شائع ہو چکا ہے۔ تا ہم اس نے "تاریخ ساز عمل کا آغاز جس نے کیا وہ جمہوریہ گابون کے صدر البرٹ برنار ڈبو نگوہیں جنھوں نے ۲۹ ستمبر ۱۹۷۳ء کو اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا اسلامی نام عمر بونگورکھا۔ گابون، جنوبی افریقہ کا ساحلی ملک ہے جو اٹلانٹک کے کنارے واقع ہے ۔

صدر عمر بونگو کے قبول اسلام کے بعد ان کے خاندان کے تمام افراد مسلمان ہو گئے۔ اس کے علاوہ کابینہ کے اکثر وزراء ، حکراں پارٹی کے ارکان، ملک کی ممتاز شخصیتیں اور عام باشندوں میں ہزاروں لوگ مسلمان ہو چکے ہیں اور برابر ہوتے جارہے ہیں۔ مسلم ممالک سے گابون کے نہایت قریبی تعلقات قائم ہیں۔ صدر عمر بونگو نے کہا : " براعظم افریقہ میں اسلام کا مستقبل روشن ہے" صدر عمر بونگو ۳۰ دسمبر ۱۹۳۵ کو فرانس ویل( (گابون) میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد سرکاری ملازمت پر رہے ۔ ۱۹۶۰ میں گابون کو فرانس سے آزادی ملی تو وہ وزارت خارجہ کے ایک افسر تھے۔ ۱۹۶۴ میں وہ وزارت PRESIDENT OMAR BONGO BOITE POSTALE 546 REPUBLIC OF GABON جمہوریہ گابون کے صدر عمر بونگو میں داخل ہوئے اور مختلف ترقیاں کرتے ہوئے دسمبر ۱۹۶۷ میں جمہوریہ گابون کے صدر منتخب ہوئے۔

صدر عمر بونگو کے قبول اسلام کی تقریب میں گابون کی راجدھانی لیبر ویل میں ایک خصوصی جلسہ کیا گیا تھا جس میں سعودی عرب، لیبیا، خلیج عرب کی ریاستوں کے وفاق کے وفود نے شرکت کی۔ لیبیا سے آنے والے وفد کے سربراہ شیخ محمود صبحی نے صدر بونگو کو کلمہ شہادت پڑھایا۔ اپنی فرانسیسی تقریر میں کہا:

”میں ایک کیتھولک عیسائی تھا۔ میں نے انجیلوں کا مطالعہ کیا ہے، اور مختلف مذاہب کی کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ تمام ادیان انسانی فطرت سے دور ہیں۔ نے اسلام کا مطالعہ کیا تو میں نے پایا کہ یہی وہ دین ہے جو انسان کو عزت بخشتا ہے اور مختلف انسانوں کے درمیان تفریق نہیں برتتا، وہ انسانیت کا احترام سکھاتا ہے“ صدر عمر بونگو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک کی تعمیر کے لئے ہمارے یہاں تجربہ کار افراد اور ماہرین کی بہت

۱۹۵۷ء میں جب صدر بونگو ہندوستان آئے تھے تو یہاں انھوں نے بعض مجالس میں ذکر کیا کہ ان کو ایک لیڈی ٹیچر کی ضرورت ہے جو ان کے گھر کی خواتین کو اسلامی تعلیم دے اور ان کی دینی تربیت کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے اور یہاں کوئی خاتون اس کام کے لئے مل سکیں تو میں ان کو ترجیح دوں گا۔ مگر ان کے گھر کی زبان فرانسیسی ہے۔ ان کو ایسی خاتون کی ضرورت تھی جو عربی اور فرانسیسی جانتی مگر ہندوستان سے ایسی کسی خاتون کا انتظام نہ ہو سکا۔ گابون کا رقبہ ۲ لاکھ ۶۷ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ آبادی ایک ملین ہے۔ صدر عمر بونگو کے قبولِ اسلام سے پہلے یہاں مسلمانوں کی مجموعی آبادی تقریباً ۳۵ ہزار تھی۔ اس تعداد میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔

گابون اپنے گھنے جنگلات کے لئے بہت مشہور ہے ملک کی اہم پیداوار لکڑی ہے۔ سمندر اور خشکی سے پٹرول بھی نکالا جاتا ہے۔ تیل صاف کرنے کا کارخانہ پورٹ جنتی میں قائم کیا گیا ہے۔ مگر اس کارخانہ میں حکومت کا سر ما یہ صرف۵ فی صد ہے۔ بقیہ سرمایہ دوسروں کا ہے۔ صدر عمر بو نگو نے ملک کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا ہے اور اس سلسلہ میں عرب حکومتوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ مگر اصل مشکل یہ ہے کہ عرب ممالک زیادہ سے زیادہ انھیں پٹرول ڈالرز دے سکتے ہیں جب کہ گابون کو اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ "انسان" ہیں نہ کہ ڈالر۔ اس کو ہر فن کے ایسے ماہرین درکار ہیں جو ملک کے ترقی پذیر معاشرہ کے مختلف شعبوں کا چارج لے سکیں۔ اور اس معاملہ میں عرب ممالک کا حال یہ ہے: ؀ او خویشتن گم است کرا رہبری کند گابون، اسی قسم کے دوسرے افریقی ممالک کی طرح، ایک نئے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ زراعی شعبے، تجارتی منصوبے، صنعتی تنظیمیں، تعلیمی درس گاہیں، سائنسی تحقیقات اور حکومتی دفاتر سے لے کر خالص مذہبی اداروں تک ہر کام کے لئے اس کو تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہے۔ کچھ افراد، اپنی فطرت کی آواز پر، دین حق میں شامل ہو گئے خوش قسمتی سے یہ ملک کے حکمران افراد ہیں اور اگرچہ ملک کے تقریباً تمام شعبوں پر عیسائیوں اور فرانسیسیوں کا گابون کو اگست ۱۹۶۰ میں فرانسیسی اقتدار سے آزادی مل گئی تھی ۔ مگر اقتصادی آزادی حاصل کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ حکومت کے عہدوں پر زیادہ تر فرانس کے تعلیم یافتہ عیسائی قابض ہیں۔ ملک کا سارا نظم ہی چلاتے عیسائی مشنریاں بھی کثیر تعداد میں ملک کے اندر پھیلی ہوئی ہیں اور منصوبہ کے تحت منظم طور پر اپنے تبلیغی مشن میں مصروف ہیں۔ اسپتال، اسکول، کالج، کھیل کے میدان، کلب ، غرض جدید زندگی کی سرگرمیوں کے تمام ادارے انھوں نے قائم کر رکھے ہیں اور ان کے ذریعے عیسائیت کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔

قبضہ ہے، یہ نو مسلم حکمران مسلمانوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ وہاں آئیں اور ہمہ گیر جد و جہد کے ذریعے ملک کے مستقبل کو بدل ڈالیں۔ مگر مسلم ممالک کے رہنماؤں اور مفکروں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا محبوب مشغلہ یہ ہے کہ اپنے اپنے ملکوں کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی فکر میں اور اگر عملاً اس کے مواقع نہ ہوں تو "قنوت نازلہ" پڑھنا شروع کردیں۔ وقت آگیا ہے کہ سطح ارضِ اسلام کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے۔ مگر یہاں کسی کو کرنے کا کوئی کام نظر نہیں آیا۔ مسلم قائدین کے سیاسی ذوق نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو کتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے !

۱- سید محمد بن یوسف حسینی جو نپوری (م ۱۵۰ ا- ۱۴۴۳ء) اپنے زمانہ کے ایک مسلمہ بزرگ تھے۔ ذات پر انھیں اس قدر یقین تھا کہ انھوں نے اعلان کردیا کہ انسان اگر اس دنیا میں دیدار الہیٰ سے مشرف نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو قلب یا چشم سر سے خواب یا بیداری میں نہ دیکھے تو مومن نہیں “ اُن کے سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ وہ ”صدق و عزیمت میں پایہ بلند رکھتے تھے۔ بڑے قوی الاستعداد صاحب تاثیر بزرگ تھے، دعوت الی اللہ ، ہجرت فی سبیل اللہ ایثار و زہد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

مگر اس تمام نیکی اور بزرگی کے باوجود ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وہی ”مہدی موعود“ اور ”مہدی آخرالزماں “ ہیں جن کے متعلق حدیثوں میں خبر دی گئی ہے، وہ فرقہ مہدویہ کے بانی ہوئے۔ بزرگی اور تقدس اس قدر مسلم تھا کہ جب انھوں نے یہ دعویٰ کیا تو اس وقت کے ہندوستان میں (جس میں افغانستان بھی شامل تھا، زبر دست ہلچل پیدا ہو گئی ۔ علماء و سلاطین سے لے کر عوام تک وہ گفتگو کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ مگر بعد کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ محض وہم پر مبنی تھا ۲- محمد حامد (۱۸۸۵ء ۔ ۱۹۴۸ء) جو بعد کو مہدی سوڈانی کے نام سے مشہور ہوئے، ایک خالص عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد اُن کا رجحان تصوف کی طرف ہو گیا۔ انھوں نے ایک مسجد بنائی اور اس میں گوشہ نشین ہو کر تعلیم اور عبادت میں مشغول چونکہ شخصیت پرکشش پائی تھی ۔ اُن کے مریدوں اور شاگردوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ یہاں تک کہ وہ کافی مشہور ہو گئے۔ یہ شہرت اور مقبولیت اُن کے لئے غلط فہمی کا باعث بن گئی۔ ایک مورخ لکھتے ہیں: لماکثراتباعه و مريديه واعتقد انه المهدى المنتظر ثم اخذ ينشر دعوته و وزع منشورات على الناس بانه المهدی (جمال الدین الافغانی ۔ جب اُن کے پیروں اور مریدوں کی تعداد بڑھ گئی تو وہ سمجھنے لگے کہ میں ہی مہدی ہوں پھر انھوں نے اپنی دعوت پھیلانی شروع کی اور لوگوں میں مشہور کیا کہ مہدی موعود وہی ہیں ۔

اس زمانہ میں سوڈان پر انگریزوں کا غلبہ تھا اور وہ وہاں مظالم کر رہے تھے ۔ "مہدی" ہونے کی حیثیت سے انھیں اس فتنہ کو ختم کرنا ضروری تھا۔ اس طرح اُن کی خانقاہی زندگی میدان جنگ کی زندگی میں تبدیل انھیں ابتدائی کامیابیاں ہوئیں مگر انگریزوں نے بالآخر اُن کے گروہ کو شکست دی اور انھیں کچل کر ختم کر دیا۔ "مہدویت" پر انگریزیت غالب آگئی۔ ۳ - ابوالکلام آزاد (۱۹۵۸-۱۸۸۸ء) کو قدرت نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ مگر اُن کی درج ذیل سطریں صرف یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ اپنے بارے

میں شدید غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے :

"افسوس ہے کہ زمانہ میرے دماغ سے کام لینے کا کوئی سرو سامان نہ کر سکا۔ غالب کو تو صرف اپنی شاعری کا رونا تھا۔ نہیں معلوم میرے ساتھ قبر میں کیا کیا چیزیں جائیں گی۔

بعض اوقات سوچتا ہوں تو طبیعت پر حسرت و الم کا ایک عجیب عالم طاری ہو جاتا ہے، مذہب، علوم وفنون، ادب وانشا، شاعری کی کوئی ایسی وادی نہیں جس کی بے شمار راہیں مبد ار فیاض نے مجھ نامراد کے دل و دماغ پر نہ کھول دی ہوں اور ہر آن و ہر لحظہ بخششوں سے دامن مالامال نہ ہوا جبکہ ہر روز اپنے آپ کو عالم معانی کے ایک نئے مقام پر پاتا ہوں اور ہر منزل کی کرشمہ سنجیاں پچھلی منزلوں کی جلوہ طرازیاں ماند کر دیتی ہیں لیکن افسوس جس ہاتھ نے فکر و نظر کی ان دولتوں سے گراں بار کیا اسی نے شاید سرو سامان کا رکے لحاظ سے تہی دست رکھنا چاہا۔ میری زندگی کا سارا ماتم یہ ہے کہ اس عہد اور محل کا آدمی نہ تھا مگر اس کے حوالہ کر دیا گیا۔ ابوطیب احمد بن حسین متنبی (م ۳۵ ۳۰۳ھ) کوفہ کے ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔ کا باپ کوفہ میں بھشتی کا کام کرتا تھا۔ متنبی بچپن سے بلند حوصلہ آدمی تھا اور بڑا بننے کا شوق رکھتا تھا۔ کا یہ جذبہ اولاً اس کو شاعری کی طرف لے گیا، کیونکہ اس زمانہ میں شہرت ، دولت اور مرتبہ حاصل کرنے کا سب سے آسان ذریعہ شاعری تھا۔ مگر شاعر بننا اُس کی طبیعت کو پوری طرح تسکین نہ دے سکا۔ اب اس نے بادشاہ بننے کا خواب دیکھا اور لوگوں کو اپنی خلافت کی بیعت پر ابھارنا شروع کیا۔ بیعت کا معاملہ پورا ہونا چاہتا تھا کہ علاقہ کے گورنر کو اس کے منصوبہ کی اطلاع ہو گئی اور اس نے اس کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ جیل خانے سے اس نے گورنر کے نام ایک قصیدہ لکھ کر روانہ کیا اور اس میں معافی کی درخواست دی۔ نے اس کو رہا کر دیا۔

مگر بڑا بننے کا ذہن اب بھی اس کے اندر سے ختم نہ ہو سکا۔ اب اس نے ایک اور تدبیر کی ۔ نے شام میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اپنی جادو بیانی اور اپنے ادبی زور سے بہت سے لوگوں کو اپنا معتقد بنانے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا ۔ آپ ہی نے تو میری آمد کی بشارت دی تھی اور فرمایا تھا لانبی بعدی - اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ مگر متنبی نے اعراب میں تغیر کر کے یہ مطلب نکالا : میرے بعد لا نا می شخص نبی ہوگا اور میرا نام آسمان میں "لا" ہے۔ اس نے قرآن کے مقابلہ میں اپنا کچھ کلام بھی پیش کیا۔ اس کے دعوے کو شہرت ہوئی تو اسے اخشیدیہ کے نائب امیر حمص نے گرفتار کر لیا ۔ متنبی پریشان ہو گیا اور دعوے نبوت سے توبہ کر کے رہائی حاصل کی۔ کے معتقدین کا حلقہ بھی ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد وہ مختلف بادشاہوں کی مدح کر کے دولت کماتا رہا ۔ مگر اس کا سراری مزاج اسے بار بار خود اپنے ممدوح سے ٹکرا دیتا تھا بالآخر عضدالدولہ (شیراز) نے اس کو قتل کرا دیا۔ پہلے متنبی نے اسکی مدح کر کے اسے انعام واکرام حاصل کیا تھا۔

برآمدی تجارت کو ترقی دینے کے لئے بندرگاہ کو ترقی دینا ضروری تجارتی نقل وحمل، قدیم زمانہ میں، خشکی اور تری سے ہوتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں اگر چہ اس میں تیسرے ذریعے (فضائی) کا اضافہ ہو گیا ہے، تاہم آج بھی بین الاقوامی تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ سمندری جہاز رانی ہی ہے۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان میں پانچ بڑی بندرگاہیں تھیں جن میں سے ایک وسکھا پٹنم کی بندر گاہ تھی۔ جو ہندوستان میں خام لوہے کا سب سے بڑا خریدار ہے اس کو خام لوہے کی برآمد اسی بندر گاہ سے ہوتی تھی۔ مگر بڑھتی ہوئی برآمد اور نئے طریقوں کی ایجاد کے بعد یہ بندر گاہ ناکافی نظر آنے لگی۔ ۱۹۶۴ - ۶۵ ء میں پہلی بار اس میں اتار نے چڑھانے کے مشینی آلات لگائے اس سے خام لوہے کی برآمدی تجارت کو کافی

مگر اب سمندری جہاز رانی میں زبردست تبدیلی ہو گئی ہیں۔ اشیاء کے نقل و حمل کے لئے بہت بڑے بڑے جہاز استعمال ہونے لگے ہیں۔ ان جہازوں کو بندر گاہ پر لانے کا انتظام اور ان پر سامان لادنے اور اتارنے کے لئے نئے نئے طریقے رائج ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں دوبارہ ضرورت تھی کہ وسکھا پٹنم کی بندر گاہ کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق بنایا جائے ۔

8 دسمبر۱۹۷۶کو شپنگ اور ٹرانسپورٹ کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جی۔ ڈھلون نے وسکھا پٹنم میں جس آؤٹر ہاربر کا افتتاح کیا ہے وہ اسی ضرورت کی تکمیل ہے جدید تعمیر کے بعد وسکھا پٹنم کی بندرگاہ دنیا کی دوسری اور ایشیا کی سب سے لمبی اور گہری بندرگاہ ہو گئی ہے۔ یہ جدید بندر گاہ جاپان کے تعاون سے تعمیر کی گئی ہے۔ اسی کی ایک علامت کے طور پر وسکھا پٹنم کی رسم افتتاح میں پنڈال کے اندر بڑی تعداد میں جاپانی موجود تھے۔ جدید بندر گاہ میں ایک لاکھ ڈی ڈبلیوٹی کی صلاحیت کے جہاز داخل ہو سکیں گے اور ان پر ہر ہزار ٹن فی گھنٹہ

شفیق احمد انبالہ والا دھلی جانب داری نہیں ہوتی قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے جرم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ قبیلہ کے لوگ سخت پریشان کہ اس کو سزا سے کیسے بچائیں ۔ خود نبی اکرم سے سفارش کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ آخر کار حضرت اساؓمہ کو کسی طرح راضی لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ آپ حضرت اسامہہ کو بہت محبوب رکھتے ہیں اس لئے ان کی بات مان لی جائے حضرت اسامہ نے جب یہ بات کہی تو سن کر آپ سخت ناراض ہوئے غصہ سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ، اور

کیا تم حدود اللہ کے معاملہ میں سفارش

پھر سب لوگوں کو جمع کیا، خطبہ دیا اور فرمایا: " تم سے پہلی قویم اسی لئے تباہ ہوگئیں کہ جب کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب معمولی آدمی جرم کرتے تو سزا پاتے تھے۔ خدا کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا "۔

کی رفتار سے مال بھرا جاسکے گا۔ حکومت کے سامنے منصوبے یہ ہے کہ اس صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے ۔ دو لاکھ ڈی ڈیلیوٹنک کے جہاز کی گنجائش پیدا کی جائے ۔ تیل کے ٹینکر جو باہر سے ہندوستان کے لئے تیل لاتے ہیں وہ بھی اسی بندرگاہ پر کھڑے ہوتے ہیں، منصوبہ یہ ہے کہ تیل کے لئے ایک علیحدہ ” آئی jetty“ بنائی جائے۔ وسکھاپٹنم کی اس بندرگاہ کی تعمیر کا کام فروری ۱۹۴۷ میں شروع ہوا تھا۔ اس بندرگاہ کو آسٹریلیا کی بندرگاہ کا مقابلہ درپیش تھا۔ جو جاپان کے لئے خام لوہے کا دوسرا بڑا مارکیٹ ہے۔ مگر جدید بندرگاہ کی تعمیر کے بعد مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ ابتداء اس منصوبہ پر ۳۷ کروڑ ۹۷ لاکھ روپے کے خرچ کا اندازہ کیا گیا تھا۔ جس میں فارن ایکس چینج کی رقم ۸ کروڑ ۷۲ لاکھ روپے کے مگر منصوبہ کی تکمیل تک اخراجات کی مقدار ۹۷ کروڑ ۲۹ لاکھ ( زر مبادلہ : اکتو رہم ۶ لاکھ روپے ) تک پہنچ گئی۔

آندھرا پردیش کے ساحل پر واقع بندرگاہ کی یہ جدید تعمیر نہ یادہ تر ملکی مہارت اور ملکی ذرائع کی مدد سے کی گئی ہے۔ ہندوستان نہایت تیزی سے صنعت اور رکنا لوجی میں مکمل خود کفالتی دور کی طرف جا رہا ہے۔ کے افتتاح کے موقع پر وسکھا پٹنم ٹرسٹ نے اعلان کیا کہ خام لوہے کی میکینکل ہینڈلنگ کے منصوبے کی اس کامیابی کے بعد طے کیا گیا کہ آندھرا یونیورسٹی میں خاص اس موضوع کے مطالعہ کے لئے ایک ” چیر “ قائم کی جائے گی۔ یونیورسٹی کے اس شعبہ کا مقصد اشیاء کے چڑھانے اتارنے کا کام (Materials Handling systems) کا خصوصی مطالعہ

انسانی تجربات انسان کو سچائی کے دروازہ تک پہنچا چکے ہیں۔ دین حق کے حاملین کو یہ کرنا ہے کہ وہ اٹھیں اور سچائی کے بند دروازہ کو کھول دیں۔ تاکہ انسانی قافلہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں داخل ہوجائے جہاں ان کا رب ان کا انتظار کر رہا ہے۔

جدید سائنس قرآن کا علم کلام ہے اسلامی ریاست ابتداء مدینہ میں ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں قائم ہوئی۔ اس وقت سے لے کر 19 ویں صدی کے اختتام تک شریعت اسلامی زمین کے بڑے حصہ پر بلا اختلاف جاری رہی ہے۔ ان تیرہ صدیوں میں اگرچہ سماجی زندگی میں بڑے بڑے انقلاب ہوئے، مگر کبھی یہ سوال نہیں اٹھا کہ شریعت اسلامی مخصوص وقت کے لئے تھی وہ ہر زمان ومکان کے لئے موزوں نہیں۔ مدینہ کی ابتدائی ریاست، ایک سادہ عرب ریاست تھی جس میں پیغمبر اسلام نے اسلامی قانون کو جاری کیا۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں شام، مصر، عراق، ایران، فلسطین کے متمد ن علاقے اس کے تحت آگئے۔ مگر عمر فاروق اور علی مرتضیٰ کو نئے حالات پر اسلامی شریعت کو منطبق کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ عباسی میں ایک طرف اسلامی سلطنت کا سیاسی رقبہ اتنا وسیع ہو چکا تھا کہ آسمان پر بادل کا ٹکڑا دیکھ کر ہارون الرشید کو یہ کہنے کی جرات ہوئی کہ أَمْطِرِي حيث شئت فنسياً تئنی خواجك (جہاں چاہے برس، تیراخراج مجھی کو پہنچے گا) دوسری طرف یونان، مصر، ہند، چین کے علوم از سر نو زندہ ہوئے اور اسلامی معاشرہ علم وفن کے اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ مگر قاضی ابویوسف وقت کی اس سب سے بڑی اور سب سے زیادہ متمدن سلطنت کا نظام اسلامی شریعت کی بنیاد پر چلانے میں پوری طرح کامیاب رہے۔ اس کے بعد مغلوں اور ترکوں کا دور آیا اور ایشیا، افریقانیہ یورپ کے بڑے۔ اسلام کے ماتحت آگئے۔ مگر اول الذکر کے عہد میں فتاویٰ عالمگیری اؤنوکر الذکر کے عہد میں المجلة العثمانیہ کا ترتیب پانا تب ہے۔ نہ انہوں نے شریعت کو اپنے بڑھے ہوئے قانونی مسائل کے لئے عاجز نہیں پایا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بیسویں صدی ہی میں ہم یہ آواز سنتے ہیں کہ "شریعت اسلامی ہر زمان ومکان کے لئے موزوں نہیں۔ اس کی وجہ مستشرقین کا پروپیگنڈا نہیں، جیسا کہ بعض لوگ سادگی سے سمجھتے ہیں، بلکہ اس کی وجہ وہ عالمی فکری انقلاب ہے جو جدید سائنس کے زور پر پیدا ہوا ہے۔ ہر دور کا ایک رئیسی طرز فکر ہوتا ہے۔ اس کے تحت آدمی کے خیالات بنتے ہیں، اور ہر معاملہ میں اسی کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں۔ چند سو برس پہلے دنیا کا رئیسی طرز فکر ما بعد الطبیعیاتی بنیادوں پر قائم تھا۔ پچھلے تمام معلوم زمانوں سے یہی طرز فکر چلا آرہا تھا۔ اور اسی کی بنیاد پر رائیں قائم کی جاتی تھیں۔ سائنس نے تاریخ میں پہلی بار اس طرز فکر کو اس کے مقام سے ہٹا دیا اور طبیعیاتی انداز فکر کو رئیسی حیثیت دے دی۔ مذہب اور جدید ذہن کے درمیان

موجودہ زمانہ کے تمام مسائل در حقیقت اسی تبدیلی فکر کا شاخسانہ ہیں۔

قدیم زمانہ میں فلسفہ کو علوم کی ملکہ (کوین آف آرٹ) سمجھا جاتا تھا۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد فلسفہ نے اپنا یہ مقام کھو دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس کے بیانات میں فنی اتقان (Technical Perfection) ہوتا ہے، جب کہ فلسفہ کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔ سائنس کی اس خصوصیت نے جدید دنیا میں اس کو تمام علوم پر غالب کر دیا اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر وہ طرزِ فکر پیدا ہوا جس کو عام طور پر ایجابیت (پازیٹوزم) کہا جاتا ہے۔ محسوس و مشہود واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ قدیم ما بعد الطبیعیاتی طرز فکر کے لئے اس میں کوئی استبعاد نہ تھا کہ وہ روح کو آسمان سے نازل شدہ ایک غیر مرئی چیز سمجھے، اور اس مفروضہ کی بنیاد پر انسانی حرکات کی توجیہہ کیے مگر جدید ذہن نے چاہا کہ دوسرے امور کی طرح ، وہ اس کو بھی کیمیاوی اصطلاحوں میں بیان کرے ۔ اس نے کہا کہ روح، طبیعی اور کیمیائی مادوں کے عمل اور رد عمل سے پیدا ہونے والی ایک وقتی کیفیت ہے ، ٹھیک ویسے ہی جیسے ہوا میں دو شاخوں کی رگڑ سے آواز پیدا ہوتی ہے۔

غیر طبیعی واقعات کی توجیہہ طبیعی اصطلاحات میں کرنے کا یہ ذہن مذہب تک بھی پہنچا۔ مذہب کے آسمانی رشتہ کا مشاہدہ سائنسی ذرائع سے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ البتہ مذہب کے وہ خارجی مظاہر انسان کے مشاہدہ میں آئے تھے جو ہر دور میں انسانی سماج کے اندر مذہب کے نام سے پائے جاتے رہے ہیں۔ اس لئے انہیں خارجی مظاہر کو مذہب کے سمجھنے کا مدار قرار دے دیا۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب الہیات (تھیالوجی) کے بجائے انسانیات (اینتھر پالوجی) کے مطالعہ کا موضوع بن گیا۔ اب انسانی سماج ، مذہب کو جاننے کا ماخذ تھا، جب کہ اس سے پہلے مذہب آسمان سے ماخوذ سمجھا جاتا تھا۔ یہ تبدیلی کوئی معمولی تبدیلی نہ تھی ۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے ریاض کی یہ وئو تمر (ذوق قعده ١٣٩٦) جو شریعت اسلامی کے موضوع پر ہو رہی ہے۔ مورخین کی جماعت اس کو " "فرنیچر" " کی تاریخ کے خانہ میں ڈال دے اور آئندہ اس کا مطالعہ فرنیچر کے عنوان کے تحت کیا جانے لگے۔

آج جب ایک شخص کہتا ہے کہ " مذہب و شریعت زمانی چیزیں ہیں " تو اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوتا ہے کہ مذہب و شریعت سماجی عوامل کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ معلوم بات ہے کہ سماجی عوامل کے تحت پیدا ہونے والی چیزیں زمانی ہوتی ہیں۔ لباس اور فرنیچر ہر زمانہ میں یکساں نہیں ہو سکتے۔ اس لئے مذہب و شریعت بھی قدرتی طور پر ایک زمانی ظاہرہ ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان مذہب کا مطالعہ اس نظر سے کرتا کہ اس کا مصدر وہی لازوال حقیقت اعلیٰ ہے جو نباتات کی روئیدگی ، حیوانات کی پیدائش اور ستاروں کی گردش کو کنٹرول کر رہی ہے تو اس کو نظر آتا کہ مذہب ایک ابدی حقیقت ہے جس طرح طبیعیات اور حیاتیات کے قوانین ابدی ہیں۔ مذہب کو " سماجی علوم " کے مطالعہ کا موضوع بنانے کی وجہ سے سارا معاملہ الٹ گیا۔

تاریخ انسانی کا یہ فکری موڑ جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں وقوع میں آیا، اسلام کے لئے انتہائی فیصلہ کن تھا۔ ضرورت تھی کہ مسلم قومیں اس سیلاب کے مقابلہ میں جوابی سیلاب بن کر اٹھیں اور تاریخ کے دھارے کو

اسلام کے مطلوبہ رخ کی طرف موڑ دیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے مصلحین معاملے کی اصل نوعیت کو سمجھ نہ سکے۔ نے اس پورے معاملے کو استعمار کا پیدا کردہ ایک سیاسی مسئلہ سمجھا اور دوسو برس کی انتہائی قیمتی مدت صرف سیاسی معرکہ آرائیوں میں ضائع کر دی گئی۔ دور جدید کو سمجھ کر اس کے حسب حال احیائے اسلام کی جدوجہد کی منصوبہ بندی ہم نہ کر سکے۔

یہ چیلنج جو موجودہ زمانہ میں اسلام کو پیش آیا، کسی قدر بدلی ہوئی شکل میں اسلام کے ابتدائی دور میں بھی اس کے ساتھ پیش آچکا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کا مقابلہ جس دنیا سے ہوا، وہ شرک کی دنیا تھی۔ مختلف ملکوں اور قوموں میں خدا کے رسول آنے رہے۔ انھوں نے متفقہ طور پر لوگوں کو توحید کی طرف بلایا۔ رائے عامہ نے دعوت توحید کو رد کر دیا اور زندگی کے تمام شعبے شرک کی بنیادوں پر قائم ہو گئے ۔ اس زمانہ میں شرک اتنا طاقتور تھا کہ توحید کی آواز بلند کرنے والوں کو آرے سے چیر دیا جاتا تھا۔ جس نظام میں اقتصادیات دیوتاؤں کے نام پر لگنے والے بازاروں سے وابستہ ہوگئی ہو، اور جہاں ایک بادشاہ حکومت کرنے کا حق یہ کہہ کر حاصل کرتا ہو کہ وہ فلاں دیوتا کی اولاد ہے، وہاں توحید کے پیغام کو کس طرح برداشت کیا جا سکتا تھا۔ وقت اللہ نے اپنے آخری رسول کو بھیجا اور اس کو لیظهرہ علی الدین کلہ کی نسبت عطا فرمائی۔ اس نصرت کے بل پر اسلام کے نمائندے توحید کا پیغام لے کر اٹھے اور اس طاقت کے ساتھ اس کوشش کیا کہ انسانیت کا قافلہ ایک نئی راہ پر چل پڑا۔ لندن کی ایک تازہ انسائیکلو پیڈیا (م ۷ ، ۱۹) میں "اسلام" کے مقالہ نگار نے اس حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے: اسلام نے تاریخ کے رخ کو بدل دیا:

Printed page