Al-Risala · March 1978

اصحاب رسول : وہ کیسے لوگ تھے

Al-Risala, March 1978, pp. 7–12

By Maulana Wahiduddin Khan

عمرو بن العاص اور خالد بن الولید صفر8 ھ میں اسلام لائے ۔ عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں مدینہ جاتے ہوئے ھدہ پہنچا تو راستہ میں دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی۔ میں نے دیکھا تو ان میں سے ایک خالد بن الولید تھے۔ میں جو گفتگو ہوئی ، اس کا ایک حصہ یہ تھا:

قلت این ترید، قال محمداً دخل الناس فی عمرو بن العاص نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے۔ خالد بن الولید الاسلام فلم يبقى احدا به طعم نے جواب دیا محمد کے پاس جا رہا ہوں۔ لوگ اسلام میں داخل (اخرجہ البیہقی من طریق الواقدی ) ہوگئے۔ کوئی چاشنی والا آدمی باقی نہیں رہا۔

رجل ذوطعم کا مفہوم عربی زبان میں تقریباً وہی ہے جو انگریزی میں (Man of taste) کا ۔ اردو میں اس کو صاحب ذوق کہہ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں تمام کارنامے انھیں لوگوں نے انجام دئے ہیں جن کے اندر یہ مبلغ ہو کہ وہ "ذوق" کے تحت رد و قبول کا فیصلہ کرتے ہوں۔ باقی وہ لوگ جو فائدوں اور مصلحتوں کے تحت چلتے ہوں، وہ ہمیشہ اپنی ذات کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ ان پر نہ زندگی کے بڑے بڑے حقائق کھلتے اور نہ ان سے کسی بڑے کام کی امید کی جاسکتی۔

عرب میں جو انسانی گروہ جمع تھا، وہ اس صلاحیت کی اعلیٰ ترین مثال تھا۔ یہ انتہائی اونچی طبیعت کے لوگ اپنے دشمن کے خلاف وہ ہر قسم کا تشدد کر سکتے تھے۔ مگر وہ اپنی آن کو کبھی چھوڑتے نہ تھے۔ کسی بھی حال میں ان سے کسی ذلیل حرکت کی امید نہ کی جاسکتی تھی۔ عرب کردار کی شہاد تیں تاریخ میں کثرت سے موجود ہیں۔ یہاں بطور نمونہ صرف ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔

قدیم زمانہ میں ایران کی ساسانی سلطنت اور روم کی باز نطینی سلطنت دو بڑی حریف حکومتیں تھیں ۔ ان میں اکثر جنگ جاری رہتی تھی۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں ان کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں یہاں تک کہ 616ء میں ایرانیوں نے رومیوں کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا۔ رومی سلطنت کے تقریباً تمام مشرقی مقبوضات ، اردن، شام ، فلسطین ، عراق ، مصر ، سب ایرانیوں کے قبضہ میں چلے گئے۔ اور رومی شہنشاہ قسطنطنیہ میں پناہ گزیں ہو گیا۔ یہ ٹھیک وہی وقت تھا جب کہ مکہ میں اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش اپنی شدید ترین شکل میں جاری تھی ۔ ایسے حالات میں اہل کتاب رومیوں کے مقابلہ میں بت پرست ایرانیوں کی فتح مکہ کے لوگوں کے لئے گفتگو کا خصوصی موضوع بن گئی۔ مشرکین نے اس سے اپنی فتح کا شگون لیا اور مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح پڑوس میں ہمارے بت پرست بھائیوں نے آسمانی کتاب کے حاملین پر غلبہ حاصل کیا ہے ، اسی طرح ہم بھی تمھارے اوپر غالب آجائیں گے۔ وقت قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ اتری اور اعلان کیا کہ چند سالوں کے بعد دوبارہ حالات بدلیں گے اور رومی ، ایرانیوں کو شکست دے کر غالب آ جائیں گے ۔ قرآن کی اس پیشین گوئی نے مکہ کے مسلمانوں کو انتہائی ذہنی تقویت دی۔ وہ اس پر یقین رکھنے لگے کہ اللہ کا فیصلہ یہی ہے۔

دوسری طرف ابو بکر کے قریبی دوست ابی بن خلف نے اس سے اپنی فتح کا شگون لیا اور ابو بکر سے شرط لگائی کہ تین سال کے اندر رومی ایرانیوں پر غالب نہیں آئیں گے۔ ابو بکر نے یہ شرط قبول کر لی اور مدت تین سال کے بجائے پانچ سال طے ہوئی اور شرط کی رقم سو اونٹ قرار پائی۔ اس کے بعد ابوبکر نے نبی سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں لفظ (بضع سنين) آیا ہے اور بضع تین سے نو تک کے عدد کو کہتے ہیں اس لئے تم مدت کو بڑھا کر دس سال کر دو اور اونٹوں کی تعداد بھی بڑھا کر سو سے ایک سو اونٹ کر دو۔ چنانچہ ابوبکر گئے اور ابی بن خلف سے مدت دس سال اور اونٹوں کی تعداد سو کر دی۔

قرآن کی پیشین گوئی بالکل صحیح نکلی۔ ہجرت کے ساتویں سال صلح حدیبیہ کے موقع پر رومیوں نے ایرانیوں پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ اس طرح قرآن کی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی اور ابو بکر نے اپنے مخالف سے شرط کے مطابق سو اونٹ وصول کئے۔ ( ابن کثیر ، تفسیر سورہ روم)

یہ واقعہ تاریخ کا ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس میں کتنی بڑی نفسیاتی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ مکہ کے مسلمان جب کہ خود اپنے ہی شہر میں ایک کمزور اقلیت بنے ہوئے تھے اور باہر ہر طرف بت پرست طاقتوں کا غلبہ تھا ، اس ماحول میں ایک ایسی پیشین گوئی پر سو اونٹ کی شرط باندھنا جو صرف عقیدہ کی بنیاد پر تھی ، کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لوگ اپنے خدا پر کس درجے کا پختہ یقین رکھتے تھے اور اپنے مستقبل کے بارے میں ان کے اندر کتنی بڑی بصیرت پائی جاتی تھی۔ وہ محض وقتی مفاد اور ظاہری حالات کے تحت سوچنے والے لوگ نہ تھے۔ وہ اس حقیقت کو جانتے تھے کہ دنیا میں ظاہری حالات کے پیچھے ایک اور طاقت کام کر رہی ہے، جس کو تقدیر الہی کہا جاتا ہے۔ طوفانوں کے سامنے جھکنے والے نہیں تھے ، بلکہ وہ خدا کے غیبی فیصلوں کے منتظر رہتے تھے، اور جب کوئی الہی فیصلہ ظاہر ہو جاتا تو وہ اس کو اس طرح اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے جیسے کوئی پانی کو گلے سے اتار لیتا ہے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں جہاں کسی قوم نے حالات کے بالمقابل اتنی بڑی فکری آزادی کا وہ حالات کے غلام نہیں تھے بلکہ حالات کے خالق تھے۔

کے اوپر غالب آجائیں گے۔

سووہ روم کی ان آیتوں نے مکہ کے مخالفوں کو اسلام کا مذاق اڑانے کا نیا موضوع دے دیا۔ خلف نے ابو بکر صدیق سے کہا: ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اگر تم کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا تو مجھ سے شرط کرلو۔ دونوں کے درمیان شرط ہوئی کہ رومی اگر دوبارہ غالب آگئے تو ابی بن خلف ایک سو اونٹ دے گا۔ اس کے خلاف ہوا تو ابو بکر صدیق ایک سو اونٹ ادا کریں گے۔

اس کے بعد قریش کے ساتھ مسلمانوں کی کشمکش اور زیادہ بڑھی یہاں تک کہ ہجرت ہوئی اور سم ۶۲ میں جنگ بدر پیش آئی ۔ اس جنگ میں قریش کے اکثر سردار مارے گئے جس نے اسلام کے خلاف ان کے غصے کو جنون کی حد تک پہنچا دیا۔ عین اس وقت (م ۶۲۴ میں) قیصر روم نے ایرانیوں کو نینوا (عراق) کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی اور اپنے تمام چھینے ہوئے علاقے ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ قرآن کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ ابو بکر صدیق اس وقت مدینہ میں تھے۔ آپ نے ابی بن خلف کے پاس مکہ میں یہ پیغام بھیجا کہ قرآن کی بات صحیح ثابت ہوئی۔ اس لئے تم شرط کے مطابق ایک سو اونٹ ادا کرو۔ یہ پیغام مکہ پہنچا تو وہاں کسی نے اس کی مخالفت نہ کی۔ نہ تاویل نہ توجیہہ کے ذریعہ اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں سے تمام تر دشمنی کے باوجود، مکہ سے ایک سو اونٹ مدینہ بھیج دیئے گئے۔ جب یہ اونٹ مدینہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق سے فرمایا ان کو صدقہ کر دو۔ حق بات کو مان لینا، خیر میں داخلہ کا واحد دروازہ ہے اور یہ صفت قدیم عربوں کے اندر کمال درجے میں موجود تھی ۔ یہ وہ عرب تھے جن کے ہمترین حصے کو کاٹ کر (آل عمران (۱۴) اسلام میں شامل کیا گیا تھا، جن کو آج ہم اصحاب رسول کہتے ہیں۔ یہ لوگ جب اسلام میں آئے تو ان کی صلاحیتوں میں اور زیادہ جلا پیدا ہوا۔ وہ ایسے عظیم اوصاف کے مالک بن گئے جیسے اوصاف والے لوگ شروع سے پہلے زمین پر آباد ہوئے نہ اس کے بعد دوبارہ دیکھے گئے۔ کے بہتر لوگ اسلام کے بہتر لوگ بن گئے ۔ (خیار هم فی الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا متفق عليه) اسلام کا مقصد، آدمی کو مادیات کی سطح سے اٹھا کر روحانیات کی سطح پر پہنچانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ زندگی کی اس سطح پر پہنچ جائے جہاں اس کی اپنی فکری سطح اور عالم حقیقت کی سطح دونوں ایک ہو جائیں۔ آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے تو ایک طرف رہ فیضان الہی کا محیط بن جاتا ہے ۔ دوسری طرف ظواہر کا پردہ اس کے لئے اس طرح کالعدم ہوجاتا ہے کہ وہ حقائق کو بے نقاب حالت میں دیکھنے لگتا ہے۔

زندگی کی اس سطح پر پہنچنے کی واحد شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کے خول سے باہر آ جائے ۔ رہ اپنے آپ سے الگ ہو کر اپنے آپ کو دیکھنے لگے۔ جب آدمی اپنے خول سے باہر نکل آتا ہے تو وہ فیضان الہی کی براہ راست زد میں حقائق خواہ اس دنیا کے ہوں یا اس دنیا کے، اس کے لئے اس طرح جانی پہچانی چیز بن جاتے ہیں جس طرح کسی ماں کے لئے اس کی اولاد ۔ مگر یہ مقام صرف بلند فطرت لوگوں کو ملتا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے لئے اپنے آپ کو جس طرح کچلنا پڑتا ہے، اس کی بہت صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو تمام مصالح ومفادات سے اوپر اٹھ کر

سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ پست فطرت لوگ کبھی اپنی ذات کے خول سے نکل نہیں پاتے ۔ اس لئے وہ اسلام کے اونچے مقام کا تجربہ بھی نہیں کر سکتے : وَمَا يُلَقّٰهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ خم سجدہ - ۳۵ معاصرین کی رائے :

اور یہ بات انھیں کو ملتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے ۔

اصحاب رسول کے بارے میں یہاں تک کہ بعض معاصرین کے تاثرات نقل کئے جاتے ہیں۔ عن عبد الله بن مسعود قال ان الله نظر في قلوب العباد فاختار محمد ا صلى الله عليه وسلم فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه ، ثم نظر في قلوب الناس بعده فاختار الله له اصحابا فجعلهم انصار دينه ووزراء نبياء صلى الله عليه وسلم ابن عبد البر، الاستيعاب ، جلدا، صوف عبدا للہ بن مسعود کہتے ہیں ۔ اللہ نے بندوں کے دلوں کو پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا۔ پیغمبر ی کے لئے آپ کی بعثت فرمائی ۔ آپ کو آپ کے علم کی وجہ سے منتخب کیا۔ اس کے بعد لوگوں کے دلوں کو دیکھا اور آپ کے لئے آپ کے ساتھیوں کو چن لیا۔ ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی کا وزیر بنایا حسن بصری تابعی (م ۱۱۰ھ) نے ایک بار اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا: لقد ادركت سبعين بدرياً أكثر لباسهم الصوف ذلور أیتمو هم لقلتم مجانين ودوراً واخیارکم فقالوا ما لهولاء من خلاق - ولوراً فاشر اکرکم فقالوا ما يومن هولاء بيوم الحساب عن عبد الله بن عمر، قال، اولئك اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الامة ابرها قلو باو اعمقها علما و اقلها تكلفا (ابو نعیم، حلیة الاولیاء جلد ا، صفر ۳۰۵) عن عبد الله بن مسعود قال، انتم أكثر صياما و اكثر صلاة واكثر اجتها دا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم كانوا خيرا منكم - قالوا ألم يا ابا عبد الرحمن - قال هم كانوا ازهد في الدنيا ے بدری صحابیوں کو دیکھا ہے ، ان کا لباس نیا نہ تو صرف کا ہوتا تھا۔ اگر تم ان کو دیکھتے تو تم کہتے یہ پاگل ہیں۔ اور اگر وہ تمہارے اچھوں کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ۔ اور اگر وہ تمہارے بروں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ حساب کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔ عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں ۔ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے بہترین لوگ تھے ۔ وہ بہت اچھے دل والے ، بہت گہرے علم والے اور تکلفات سے دور تھے ۔ حضرت ابن مسعود نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا، تم نماز روزہ میں اصحاب رسول سے زیادہ ہو۔ ان سے زیادہ مجاہدہ مگر وہ تم سے بہت بہتر تھے ۔ لوگوں نے پوچھا کیوں ۔ انھوں نے جواب دیا، وہ دنیا سے بہت زیادہ بے رغبت تھے ۔

وارغب في الآخرة حلية الأولياء، جلد ۱، صفر ۱۳۷ قال على بن ابى طالب ، والله لقد رأيت اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما ارى اليوم شيئا يشبههم، لقد كانوا يصبحون صفر اشعثا غبرا، و حملت اعينهم حتى تبل ثيابهم، والله فكأن القوم باتوا غافلين البداية والنهاية، جلد ۸، صفحه سئل عبد الله بن عمر، هل كان اصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يضحكون - قال نعم والایمان فى قلوبهم اعظم من الجبال (اخرجه ابو نعيم عن قتادة)

دخل ضرار بن ضمرة الكناني على معاوية فقال له - صف لي عليا - قال: انه كان يستوحش الدنيا وزهرتها، ويستأنس بالليل وظلمته ـ كان والله غزيرا العبرة ، طويل الفكرة ـ يقلب كفه و يخاطب نفسه - يعجبه من اللباس ما تقص ومن الطعام ماجشب ـ يعظم اهل الدين ويحب المساكين لا يطمع القوى في باطله اور آخرت کے بہت زیادہ مشتاق تھے۔

علی بن ابی طالب نے کہا، خدا کی قسم میں نے اصحابِ رسول کو دیکھا ہے، آج کوئی چیز ان کے مشابہ نہیں، وہ خالی ہاتھ، پراگندہ بال اور غبار آلود ہو کر صبح کرتے تھے۔ ان کی آنکھیں اتنا آنسو گرائیں کہ ان کے کپڑے بھیگ جاتے۔ خدا کی قسم آج کے لوگوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے غفلت میں رات گزاری۔

عبداللہ بن عمر سے پوچھا گیا، نبی کے اصحاب کیا ہنستے بھی انھوں نے کہا ہاں۔ اور ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوتا تھا۔

ضرار بن ضمرہ امیر معاویہ کے پاس آئے۔ امیر معاویہ نے مجھ سے علی کے اوصاف بیان کرو۔ انھوں نے کہا۔ علی، دنیا اور اس کی رونق سے وحشت محسوس کرتے ان کو رات اور رات کی تاریکی سے انس تھا۔ کی قسم وہ بہت زیادہ عبرت پکڑنے والے، طویل فکر کرنے والے تھے، اپنی ہتھیلی کو پلٹتے اور اپنے نفس کو مخاطب مختصر لباس اور معمولی کھانا ان کو پسند ہوتا۔ وہ دنوں میں دعوت کرتے ، مسکینوں کو دوست رکھتے۔ ولا ييأس الضعيف من عدله - فاشهد بالله لقد رأيته في بعض مواقفه وقد أرخي الليل سدوله وغارت نجومه يميل في محرابه قابضا على لحيته يتململ تململ السليم ويبكى بكاء الحزين - فكأنى اسمعــه الآن وهو يقول ياربنا يا ربنا (ابو نعیم) طاقت ور اپنے باطل میں ان سے امید نہ کر سکتا تھا اور کم زور ان کے انصاف سے نا امید نہ ہوتا تھا۔ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے علی کو بعض مواقع پر دیکھا ہے جب کہ رات کی تاریکی چھا رہی تھی اور ستارے غروب ہو رہے تھے۔ آپ اپنے محراب میں داڑھی پکڑے ہوئے اس طرح بے چین تھے جیسے زہریلے جانور کا ڈسا ہوا بے چین ہوتا ہے۔ غم زدہ کی طرح رورہے تھے۔ اب بھی میں ان کو بے قرار حالت میں یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں۔ اے ہمارے رب ! اے ہمارے رب ۔

معاملات میں اخروی پہلو کو سامنے رکھنا ۔

یرموک کی لڑائی میں خالد بن ولید (م ۳۸ ۶۴) اسلامی فوجوں کے سپہ سالار تھے اور ابو عبیدہ بن الجراح ان کے ماتحت افسر کی حیثیت سے جنگ میں شریک تھے۔ حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انھوں نے خالد بن ولید کو معزول کر کے ابو عبیدہ بن الجراح کو سپہ سالار مقرر کر دیا اور خالد بن ولید کو ان کے ماتحت کر دیا۔ یہ فرمان لے کر مدینہ سے جو شخص روانہ ہوا تھا ، وہ مقام جنگ پر اس وقت پہنچا جب کہ طویل مقابلہ کے بعد لڑائی اپنے آخری انجام کو پہنچنے والی تھی اور فتح کے مقدمات ظاہر ہو چکے تھے۔ قاصد نے یہ فرمان اولاً ابو عبیدہ بن الجراح کو دیا۔ ابو عبیدہ فرمان خلافت کے مطابق فوراً سپہ سالاری کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے کر فتح کا کریڈٹ وصول کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ خالد بن ولید کی ماتحتی میں بدستور لڑتے رہے:

فاحتفى ابو عبيد ة الخبر و صار في مكانه ابو عبیدہ نے خبر کو چھپایا اور خالد کی ماتحتی میں بدستور خلف خالد حتى ظهرت مقدمات النصر - اپنے کو باقی رکھا یہاں تک کہ فتح کے مقدمات ظاہر ہو گئے۔ و قد سئل عن عدم اخذ کا بلواء القيادة ان سے پوچھا گیا کہ قیادت کا جھنڈا آپ نے فوراً کیوں نہ على الفور فقال: ما سلطان الدنيا اريد لے لیا۔ فرمایا: میں دنیا کی بڑائی نہیں چاہتا اور نہ دنیا و ما للدنيا اعمل کے لئے عمل کرتا ہوں ۔

آخرت کے لحاظ سے کریڈٹ یہ تھا کہ خبر کو چھپایا جائے۔ دنیا کا کریڈٹ اس میں ملتا تھا کہ اس کو ظاہر کر دیا جائے ۔ ابو عبیدہ نے آخرت کا کریڈٹ لینا پسند کیا اور دنیا کے کریڈٹ کو نظر انداز کر دیا۔

اب خالد بن ولید کے کردار کو دیکھئے ۔ یرموک کی فتح کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس عظیم جنگ کے فاتح (خالد بن ولید) کو سپہ سالاری سے معزول کر دیا گیا ہے تو ان کے اندر سخت بے چینی پیدا ہو گئی۔ بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے ، انھوں نے حضرت خالد کی بہادری اور جوش مردی پر تقریریں کیں اور ان کی معزولی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کو ابھارا کہ وہ خلیفہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں اور وعدہ کیا کہ ہم سب لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔ (نحن ضنونہ علی عصیان امر الخليفة و يعدونه بانهم سيكونون معه) مگر خالد بن ولید نے اس قسم کے مشورہ کو ماننے سے قطعی انکار کر دیا۔ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ ابو عبیدہ بن الجراح کی ماتحتی میں ایک معمولی فوجی بن کر اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف لڑتے رہیں ۔ اس وقت انھوں نے جو جملہ کہا وہ تاریخ نے ان الفاظ میں محفوظ رکھا ہے :

انی لا اقاتل فی سبیل عمر ولكن فی سبیل میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا ، بلکہ عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتا ہوں ۔

جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچنا :

۱ھ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اکثر مسلمان ہل گئے۔ عمر فاروق کا یہ حال ہوا کہ مدینہ کی مسجد میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ، اس کی گردن مار دوں گا۔ ابو بکر صدیق رسول کی محبت میں تمام لوگوں سے بڑھے ہوئے تھے۔ ہجرت کے موقع پر جب آپ مکہ میں اچانک ابو بکر صدیق کے گھر آئے اور فرمایا کہ مجھے مکہ سے چلے جانے کا حکم ہو گیا ہے تو ابو بکر صدیق نے پہلی بات یہ فرمائی: "کیا مجھے بھی ساتھ نصیب ہوگا ؟ " آپ نے فرمایا ہاں۔ یہ سفر بظاہر موت کا سفر تھا۔ مگر اس نازک موقع پر رسول کی معیت ان کو اتنی محبوب تھی کہ خوشی کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ عشق کی حد تک رسول سے عقیدت ہونے کے باوجود جب آپ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ، تو آپ مسجد میں آئے جس سے متصل رسول اللہ کا حجرہ تھا۔ یہاں لوگ حیران و پریشان تھے۔ عمر فاروق نے سرے سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ رسول اللہ کی وفات ہو سکتی ہے۔ مگر ابو بکر صدیق نے اپنی روح کو عالم بالا سے اس حد تک مطابق کر لیا تھا کہ آپ کو اصل حقیقت سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے آپ کے چہرے سے چادر اٹھا کر آپ کو چوما اور پھر فرمایا : بابي انت وامی ، اما الموتۃ التی كتب اللہ علیک فقد ذقتھا، ثم لن تصیبک بعدها موتہ ابد از جوموت اللہ نے آپ کے لئے مقدر کی تھی وہ آپ نے چکھ لی۔ اس کے بعد اب کوئی موت آپ کو آنے والی نہیں! اس کے بعد آپ باہر مجمع میں تشریف لائے اور تقریر کرتے ہوئے کہا :- ایھا الناس، انہ من کان یعبد محمد فان لوگوں! جو شخص محمد کو پوجتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا، اور محمد اتد مات ، ومن كان يعبد الله فان جو شخص خدا کو پوجتا تھا تو خدا زندہ ہے، اس کو موت الله حي لا يموت آنے والی نہیں۔

Printed page