Al-Risala · March 1978

تہذیب سیرة ابن هشام ، جزء ثانی، صفحه ۵۵۱

Al-Risala, March 1978, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ عبدیت کا وہ مقام ہے جہاں آدمی نفرت اور محبت کی نفسیات سے الگ ہو کر حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے۔ کامل انسان صدر اول میں بھی تھوڑے تھے، اور بعد کے زمانہ میں تو شاید ایسے لوگ پیدا ہی نہیں ہوئے ۔ اصحاب رسول نے اسی عبدیت کا مظاہرہ جمع قرآن کے سلسلے میں کیا۔ ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں جب زید بن ثابت انصاری نے قرآن کو مدون کیا تو ان کے نسخہ کے بعد بہت سے اجزا جمع کئے جن پر قرآن کی آیتیں اور سورتیں لکھی ہوئی تھیں۔ تمام اصحاب کے مشورے سے اس ذخیرہ کو جلا دیا گیا۔ اسی طرح عثمان غنی کی خلافت کے زمانہ میں جب قرآن کے نسخے جمع کئے گئے اور چند مستند نسخے تیار کئے گئے تو بہت سے نسخے پٹ گئے جو مختلف لوگوں کے لکھے ہوئے تھے۔ اس بار بھی اصحاب رسول کے متفقہ مشورہ کے مطابق سرکاری نسخوں کے علاوہ تمام نسخے جلا دیئے گئے۔ " قرآن" کو عظیم تر دینی مصلحت کی خاطر جلانا ، ایک ایسی جرأت کا کام ہے جس کا مظاہرہ

صرف ایسے لوگ کر سکتے تھے جو حقیقت کو اس بلند مقام سے دیکھ رہے ہوں جہاں ہر دوسری چیز حذف ہو جاتی ہے اور حقیقت اعلیٰ کے سوا کوئی چیز مرکز توجہ بننے کے لئے باقی نہیں رہتی۔

اختلاف کے باوجود عدل پر قائم رہنا:

عمر فاروق اپنے وقت کی ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ آپ نے ایک بار تقریر کے دوران کہا: اگر تم لوگ میرے اندر کوئی غلطی دیکھو تو کیا کرو گے۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا:

خدا کی قسم اگر ہم تمھارے اندر کوئی ٹیڑھ دیکھیں تو ہم اس کو تلوار سے سیدھا کر دیں گے۔

عمر فاروق نے اس "گستاخی" پر آدمی کو تنبیہ کرنے کے بجائے فرمایا الحمد للہ ان جعل فی المسلمین من یقوم اعوجاج عمر بسیفہ (خدا کا شکر ہے کہ اس نے مسلمانوں میں ایسے لوگ بنائے جو عمر کی ٹیڑ ھ کو تلوار سے سیدھا کر دیں گے) عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عیینۃ بن حصن مدینہ آئے اور عمر فاروق سے ملے۔ انھوں نے کہا: اے خطاب کے بیٹے، خدا کی قسم تم نہ ہم کو کچھ دیتے ہو، هی یا ابن الخطاب، فو الله ما تعطینا الجزل ولا نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو۔

عمر فاروق یہ سن کر غصہ میں آگئے اور اٹھے کہ آدمی کو ماریں۔ یہ دیکھ کر حُر بن قیس نے کہا: اے امیر المومنین "اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ معاف کرو اور جاہلوں سے درگزر کرو اور یقیناً یہ ایک جاہل آدمی ہے۔

خدا کی قسم قرآن کی آیت سننے کے بعد عمر نے مطلق تجاوز نہیں و الله ما جاوزها، حین تلاها عليه، وكان کیا، وہ خداکی کتاب پر بہت زیادہ رکھنے والے آدمی تھے۔

غزوہ ذات السلاسل (8ھ) میں اولاً عمرو بن العاص ۳۰۰ کے لشکر کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف روانہ کئے گئے ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن الجراح کو دو سو مہاجرین وانصار کے ساتھ روانہ کیا اور ان کو جھنڈا بھی عطا فرمایا۔ رخصت کرتے ہوئے آپ نے ہدایت فرمائی کہ تم اور عمرو بن العاص دونوں مل کر کام کرنا ، اختلاف مت کرنا ( اذا قدمت علی صاحبک فتطادعا ولا تختلفا)

جب وہ عمرو بن العاص کے پاس پہنچے تو ابو عبیدہ بن الجراح نے چاہا کہ لوگوں کی امامت کریں۔ عمرو بن العاص نے کہا کہ آپ بطور مدد کے بھیجے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ آپ میری امامت کریں جب کہ میں امیر ہوں۔ ابو عبیدہ کے دستے میں مہاجریں ابو بكر و عمر جیسے لوگ تھے ، کہا کہ عمرو بن العاص اپنے دستے کے امیر ہیں اور ابو عبیدہ اپنے دستہ کے ۔ بن العاص نے اس تقسیم سے اتفاق نہیں کیا اور کہا تم لوگ میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہو۔ اصل قائد میں ہوں (انما انتم امددت بحکم فانا القائد ابابو عبیدہ بن الجراح نے اپنا حق واپس لے لیا اور کہا: رسول اللہ نے مجھ کو جو

آخری نصیحت کی تھی، وہ یہ تھی کہ تم اور عمرو بن العاص دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف مت کرنا، اس لئے میں کسی حال میں جھگڑا نہیں کروں گا :

وانك والله ان عصيتني لا طعتك خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو تب بھی میں تمہاری اطاعت

اس قسم کی ناخوش گوار باتیں جب کسی کی زندگی میں پیش آتی ہیں تو فوراً اس کی انا بھڑک اٹھتی ہے۔ مواقع پر اپنے کو عجز اور عبدیت کے دائرہ میں محدود رکھنا، جیل جانے اور پھانسی پر چڑھنے سے بھی زیادہ مشکل اس امتحان میں وہی لوگ پورے اتر سکتے ہیں جو اپنی ذات کی نفی کر کے خدا کی بندگی میں داخل ہوئے ہوں۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله مومن کی ہوشیاری سے بچو کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اگر ایک طرف عالم آخرت کی حقیقتوں کو آدمی کے اوپر منکشف کرتا ہے تو دوسری طرف وہ موجودہ دنیا کے حقائق بھی اس پر کھولتا ہے، حتی کہ اس کی نظر اتنی بے پناہ ہو جاتی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں نہایت عاقلانہ فیصلے کرے اور ایسے اقدامات تجویز کرے جس کو فیصلہ کن انجام تک پہنچنے سے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ یہاں میں بطور مثال صرف دو حوالوں کا ذکر کروں گا۔ عمر فاروق نے ایک بار فرمایا:

ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر عقل مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے۔

ولكنه الذى يعرف خير الشرين عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے خیر کیا ہے ۔

خلیفہ دوم کے اس قول میں زندگی کے معاملات کا نہایت گہرا شعور پایا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے لئے خیر و شر میں انتخاب (CHOICE) کا موقع ہو۔ جب کہ یہ امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ دو نا پسندیدہ صورت حال میں سے اس صورت حال کو قبول کر لیا جائے جو "خیر" کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کا موقع دیتی ہو۔ جو چیز آج حاصل نہیں ہو رہی ہے، وہ کل مزید تیاریوں کے بعد حاصل ہو جائے ________ خلیفہ دوم نے اپنے اس مختصر جملہ میں دنیا کی آدھی سیاست بتادی ہے۔ اس گہرے سیاسی راز تک وہ اس لئے پہنچ سکے کہ وہ عمل کی نفسیات سے الگ رہ کر معاملات پر غور کر سکتے تھے۔

موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کی مثال سے اس قول کی حکمت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ان ملکوں کے اسلامی رہنماؤں کا مقصد غیر اسلامی طرز کے حکمرانوں کو ہٹا کر اسلامی طرز کے حکمرانوں کو بر سرِ اقتدار انھوں نے یہ فرض کر لیا کہ وہ اس حالت میں ہیں کہ خیر (اسلامی نظام) اور شر (سیکولر نظام) میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں، انھوں نے "شر،، کو ختم کرنے کی جدوجہد شروع کردی تا کہ اس کے بعد "خیر" کو اوپر آنے

کا موقع مل جائے، اکثر ملکوں میں، دوسری سیاسی طاقتوں کے ساتھ متحدہ محاذ میں شریک ہو کر، وہ مفروضہ شر کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ (انڈونیشیا میں ولندیزی، مصر میں شاہ فاروق، ہندوستان میں انگریز، پاکستان میں ایوب اور بھٹو، وغیرہ) مگر اس کامیابی کے بعد جو انجام سامنے آیا، وہ صرف یہ تھا کہ فاروق کی جگہ ناصر، ایوب کی جگہ بھٹو، ولندیزی کی جگہ سویکارنو اور مستعمرین کی جگہ اکثریت کی جگہ اقتدار پر قابض ہو گئی۔ گویا وہ ایک شر اور دوسرے شر میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی پوزیشن میں تھے نہ کہ حقیقۃً خیر اور شر میں سے کسی ایک کو۔ تحریکوں نے جو طاقت ایک شر کو ہٹا کر دوسرے شر کو لانے میں خرچ کی ، اسی طاقت کو اگر وہ اسلام کے اشاعت و استحکام میں لگاتے تو وہ زیادہ بہتر طور پر ”خیر“ کی منزل کی طرف سفر کر سکتے تھے۔

علی بن ابی طالب کے زمانہ میں تحکیم کا جو واقعہ پیش آیا، اس کے بعد آپ کی فوج سے تقریباً ۱۰ ہزار آدمی الگ ہو گئے جو عام طور پر خوارج کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ لوگ خلیفہ چہارم کے خلاف سخت غم و غصہ میں مبتلا تھے اور آپ سے جنگ کرنے کی باتیں کر رہے تھے۔ آپ کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ قبل اس کے کہ خوارج ہمارے اوپر حملہ آور ہوں، ہم خود بڑھ کر ان کے اوپر حملہ کریں اور ان کا خاتمہ کر دیں۔ علی بن ابی طالب نے فرمایا: لا اقاتلہم حتی یقاتلونی ، و سیفعلو ن میں ان سے نہیں لڑوں گا جب تک وہ خود مجھ سے لڑنے کے لئے نہ آئیں ۔ (وہ ضرور ایسا کریں گے۔

عباس محمود العقاد ، العبقريات الاسلامیہ دارالآداب بیروت ۱۹۶۴، صفحہ ۴۶ خلیفہ چہارم کے یہ دس ہزار ساتھی آپ سے بگڑ کر اور آپ کو مطعون کر کے نہایت نازک موقع پر آپ سے الگ ہو گئے تھے۔ اگر آپ بھی انھیں کی طرح منفی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے تو آپ کبھی یہ جملہ نہیں کہہ سکتے تھے۔ ایک غیر متاثر ذہن کے تحت پورے واقعہ کا مطالعہ کر رہے تھے ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس گہرے راز کو پا لیا لہ خواند کی یہ جماعت انتہائی جذباتی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان کو غصہ اور نفرت نے ہم سے جدا کیا ہے۔ اس قسم کی نفسیات میں مبتلا لوگ زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکتے۔ ان کی بے صبری ضرور ان کو ابھارے گی کہ وہ ہمارے اوپر حملہ کریں۔ حالت میں جارحیت کا الزام ہم اپنے سر کیوں لیں۔ ہمیں ان کی طرف سے ہونے والی جارحیت کا انتظار کرنا چاہئے۔ وہ جارحیت کرکے ہمارے لئے جنگ کا جواز پیدا کر دیں، اس وقت زیادہ بہتر طور پر ہمارے لئے یہ موقع ہو گا کہ ان کے اوپر بھر پور حملہ کرکے ان کا استیصال کر دیں۔

Printed page