Al-Risala · March 1978

قابل پیشین گوئی کردار

Al-Risala, March 1978, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر67 میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی کائنات میں کوئی ”تفاوت“ نہیں۔ تفاوت کے معنی ہیں فرق، عدم مطابقت ۔ تفاوت استمیان : دو چیزوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے، اس میں مطلوب اور عمل کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ خدا کا جو تخلیقی منصوبہ ہے، اسی کے مطابق عملاً

ساری کائنات چل رہی ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ساری کائنات مکمل طور پر قوانین فطرت کے مطابق ہے۔ یہ مطابقت اتنی زیادہ ہے کہ کائنات میں ہونے والے واقعات کی نہایت صحت کے ساتھ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ جب ہم قوانین فطرت کو جان لیں تو ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں حالت میں فلاں قسم کا نتیجہ برآمد ہو گا ۔ پانی کو آگ پر رکھنے سے نہ خلائی کشتی کو سیارہ کی طرف بھیجنے تک ساری سرگرمیاں اسی لئے ہیں کہ ہم کو یقین ہے کہ کائنات کی ہر چیز مکمل طور پر اپنے قانون کی پیروی کرتی ہے، وہ اس سے منحرف نہیں ہوتی۔ فکر وعمل کی یہی مطابقت انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مادی کائنات کے لئے قوانین طبیعی مقرر کئے ہیں اور ساری کائنات کامل یک سوئی کے ساتھ اس کی پیروی کر رہی ہے۔ اسی طرح اس نے انسان کے لئے قوانین شرعی مقرر کئے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان اس سے ہم آہنگ ہو کر اپنی زندگی گزارے ۔ زمین و آسمان کو خدانے بندہ اپنے مقررہ قوانین کا تابع بنا دیا ہے، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو ان قوانین کے مطابق بنائے۔ طبیعی دنیا، جس طرح قوانین قدرت کے تحت کامل طور پر قابل پیشین گوئی ( PREDICTABLE ) ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے کہ، اخلاقی اعتبار سے، انسان قابل پیشین گوئی بن جائے ۔ مومن اپنے ذاتی ارادہ کو خدا کے ارادہ کے تابع کر دیتا ہے ، اس لئے وہ قابل پیشین گوئی ہوتا ہے۔ مومن سے معاملہ کرتے وقت ایک شخص پیشگی طور پر اندازہ کر سکتا ہے کہ اس کو کس قسم کے رد عمل سے سابقہ پیش آئے گا۔

حسن بصری تابعی نے نفاق (خلاف ایمان حالت ) کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔

من النفاق اختلاف القلب واللسان و اختلاف نفاق یہ ہے کہ قلب اور زبان میں فرق ہو، چپھے اور کھلے السر و العلانية و اختلاف الدخول والخرج میں فرق ہو، داخل ہونے اور خارج ہونے میں فرق ہو۔ جامع العلوم والحکم، صفحه: ۷۳ اصحاب رسول کے ایمان نے اس قسم کے فرق کو ان کی زندگیوں سے مٹا دیا تھا۔ جس طرح مشین کے رہنما پرچے کو دیکھ کر ایک آدمی سمجھ لیتا ہے کہ وہ کس طرح عمل کرے گی، اسی طرح قرآن وسنت کو دیکھ کر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ اصحاب رسول کا رد عمل کسی معاملہ میں کیا ہو گا ۔ ــــ وہ جانتا تھا کہ ایک صحابی سے جب عہد و پیمان کا کوئی معاملہ ہو گا تو وہ لازماً اس کو پورا کرے گا (بقرہ ۱۷۷) ۔ کوئی مالی لین دین ہو گا تو اس کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی کی جائے گی (مائدہ ۱) ۔ اگر کسی وجہ سے اختلاف پیدا ہو جائے تو عدل کے خلاف رویہ کا اس کو سامنا کرنا نہیں ہو گا (مائدہ ۸) وہ حاکم ہو یا ماتحت، دونوں حالتوں میں وہ انھیں حدود پر قائم رہے گا جو اس کے رب نے اس کے لئے مقرر کر دیئے ہیں (توبہ 112) ۔ اگر وہ کسی کے اوپر غلبہ پالے تو وہ ظلم اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرے گا (من کظم غیظا وہو قادر علی ان ينقذ کا ۔ ابو داؤد، ترمذی) اس کی غلطی کی گرفت کی جائے گی تو اس کو عزت کا سوال بنا کر وہ اپنی غلطی سے پشیمان نہیں رہے گا بلکہ صاف لفظوں میں اعتراف کرے گا (بقرہ ۳۰۹) ، اس سے کسی بات کو منوانے کے لئے طاقت کی ضرورت ایک لفظی دلیل اس سے کوئی صحیح بات منوانے کے لئے کافی ہوگی (محمد ﷺ ، حتی کہ صحابی کے بارے میں

ایک شخص یہاں تک یقین رکھ سکتا تھا کہ وہ اس کے معاملہ پر اپنا معاملہ نہیں کرے گا (لا یبیع بعضکم علی بیع بعض- مسلم) اگر کوئی ایسی بات سامنے آئے جس کی بابت وہ علم و مطالعہ نہ رکھتا ہو، تو وہ صاف طریقہ سے کہہ دے گا کہ میں نہیں جانتا (من لم یعلم فلیقل اللہ اعلم، بخاری) ـــــــــ مادی کائنات "طوعاً و کرهاً" خدا کے منصوبہ کے مطابق بنی ہوئی ہے۔ اصحاب رسول نے اپنی مرضی سے اپنے آپ کو خدائی منصوبہ کے مطابق بنالیا تھا۔ رضی اللہ عنہم

اصحاب رسول کا یہی قابل پیشین گوئی کردار ان کو دوسرے انسانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ایک آدمی نفس و شیطان کے قبضہ میں ہو تو مشکلی طور پر یہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی معاملہ میں وہ کس قسم کا مظاہرہ کرے گا۔ مگر جب آدمی اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں خدا کا بندہ بنا لے تو وہ اسی طرح قابل پیشین گوئی بن جاتا ہے جس طرح خدا کی بقیہ کائنات ۔ موجودہ زمانہ میں بعض مشینی معاشروں نے ٹیکنکل پہلو سے اپنے کو قابل پیشین گوئی بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایک ہندوستانی سیاح جاپان کی ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اسٹیشنوں کے نام صرف جاپانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔ جب کہ جاپانی ریلوے اپنا ٹائم ٹیبل انگریزی میں بھی فراہم کرتی ہے۔ ہندوستانی سیاح نے اپنے ایک جاپانی ہم سفر سے شکایت کی کہ آپ لوگ اسٹیشنوں کے بورڈ پر صرف جاپانی زبان میں نام لکھتے ہیں، میرے جیسا آدمی کیسے جانے کہ اس کا مطلوبہ اسٹیشن آگیا۔ "اس کا حل بہت آسان ہے " جاپانی مسافر نے کہا، " آپ اپنی گھڑی کو صحیح رکھئے اور انگریزی ٹائم ٹیبل، جو آپ کے پاس ہے، اس میں دیکھ لیجئے کہ آپ کے مطلوبہ اسٹیشن پر ٹرین کے پہنچنے کا وقت کیا ہے۔ آپ کی گھڑی کی سوئی جب مقررہ وقت پر پہنچے گی تو آپ کی گاڑی اسی اسٹیشن پر کھڑی ہوگی "۔ منصوبہ اور عمل در آمد کے درمیان یہ مطابقت جو بعض مشینی معاشروں نے ٹیکنکل سطح پر حاصل کی ہے، یہی انسان سے شرعی اور اخلاقی اعتبار سے مطلوب ہے۔ اصحاب رسول، انسانی تاریخ میں، اس معیار کا سب سے کامیاب نمونہ تھے۔ ان کے بارے میں پیشگی طور پر اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ کسی معاملہ میں ان کا رویہ کیا ہوگا۔ اور اگر بشری کمزوری یا بھول چوک سے کبھی ان کے عقیدہ اور عمل میں فرق آتا تو یاد دہانی کے بعد فوراً وہ اس کی اصلاح کر لیتے تھے۔ ذہب بلال الى عمر مستاذناً فقال له الخادم إنه بلال ایک روز عمر فاروق کے یہاں ملاقات کے لئے گئے۔ نائم - فسأله كيف تجد دین عمر - قال : خير الناس 23| نے بتایا کہ وہ سورہے ہیں۔ خادم سے پوچھا، تم لوگ إلا انه اذا غضب فهو مرعظيم - قال بلال : لو كنت 25| عمر کو کیسا پاتے ہو۔ خادم نے جواب دیا، وہ بہترین انسان عنامه اذا غضب تر أنت عليه القرآن حتى يذهب 27| ہیں۔ مگر جب غصہ میں آجائیں تو ان کا غصہ بڑا سخت ہوتا ہے۔ غضبه 29| بلال نے کہا: اگر میں ان کے غصہ کے وقت ہوتا تو میں ان 31| کے سامنے قرآن پڑھتا۔ اس کے بعد ان کا غصہ ختم ہو جاتا۔

Printed page