العبقريات الاسلامیہ، صفحه ، ۳۹۷
Al-Risala, March 1978, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
جب قرآن کو چھوڑی ہوئی کتاب بنا دیا جائے قرآن مکی سورہ نمبر25 میں ارشاد ہوا ہے : وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا ھٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوْرًا (فرقان - ۳۰)
اور کہا رسول نے اے میرے رب میری قوم نے ٹھہرا دیا اس قرآن کو چھوڑا ہوا ۔
اس آیت سے اولاً وہ لوگ مراد ہیں جن کے سامنے قرآن آتا ہے مگر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔ جیسا کہ کی دور میں قریش نے کیا۔ تاہم اس نفسیات کا عملی مظاہرہ کبھی ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے جو بظاہر قرآن کو ماننے والوں کی فہرست میں داخل ہوں۔ مولا نا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں: ” آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے۔ تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، اس میں تدبر نہ کرنا، اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی تصحیح قرات کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجران قرآن کے تحت داخل ہو سکتی ہیں۔ قرآن کے ماننے والوں کے لئے قرآن کو کتاب مہجور" بنانے کی شکل کبھی نہیں ہوتی کہ اس کا احترام و تقدس لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہے، برکت اور تقدس کا نشان ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ اس کو اپنے طاق کی زینت بنائے رہتے ہیں۔ البتہ وہ اس سے فکری رہنا نا لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا کی کتاب میں ان کے لئے ذہنی غذا نہیں ہوتی ۔ وہ ان کی حقیقی زندگی کا سرمایا نہیں بنتی۔ وہ ان کی دنیا پرستانہ زندگی کے لئے "برکت کا تعویذ‘‘تو تو ضرور ہوتی ہے مگر آخرت کی رہنما کتاب کی حیثیت سے ان کی زندگی میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا ۔ مطلب ہے خدائی کتاب کو "کتاب مہجور" بنا دینے کا۔ الرسالہ کے لئے چک یا ڈرافٹ یا پوسٹل آرڈر کے ذریعہ رقم بھیجنے والے حضرات پانے والے کے خانہ میں صرف حسب ذیل الفاظ لکھیں:
الدار العلمیہ کے لئے رقم بھیجنے والے حضرات صرف حسب ذیل الفاظ لکھیں مذکورہ نام سے پہلے یا بعد مزید کسی اور لفظ کا اضافہ نہ فرمائیں ۔
الرسالہ کی فائل شمارہ ۱ تا ۱۰ ( مجلد) محدود تعداد میں دستیاب ہو سکتی ہے قیمت فی جلد ۲۵ روپے محصول ڈاک بذمہ خریدار الرسالہ ماہ جنوری ۱۹۷۷ء کے شمارے قیمتأً جو لوگ فراہم کرسکتے ہوں مطلع