منجمد
Al-Risala, March 1978, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
عثمان بن عفان رضی اللہ عنه24 ھ میں خلیفہ منتخب ہوئے اور ۳۵ ھ میں آپ کو شہید کر دیا گیا جب کہ آپ کی عمر ۸۲ سال تھی۔ امام مسلم عائشہ رض سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے مکان میں لیٹے ہوئے تھے۔ آپ کی پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں۔ اتنے میں ابو بکر رض آئے، آپ اسی حال میں لیٹے رہے اور باتیں کیں۔ پھر عمر رض آئے، آپ بھی اسی طرح لیٹے رہے اور باتیں کیں۔ اس کے بعد عثمان آئے ۔ اب آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے کو ٹھیک کر لیا۔ جب تینوں چلے گئے تو میں نے عرض کیا: اے خدا کے رسول ! ابو بکر آئے تو مگر آپ نہیں اٹھے۔ عمر آئے پھر بھی آپ اسی مگر عثمان آئے تو آپ اٹھ گئے اور اپنے کپڑے کو درست کر لیا، آپ نے جواب دیا:
الا تستحيي من رجل تستحيي منه الملائكة کیا میں ایک ایسے شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا
امام ترمذی عبدالرحمن بن خباب رض سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس وقت مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب کہ آپ جیش عسرہ (تبوک) کی تیاری کے لئے لوگوں کو ابھار رہے تھے۔ عثمان بن عفان کھڑے ہوئے اور کہا: اے خدا کے رسول ، ایک سو اونٹ مع کجاوہ اور پالان کے میں خدا کے راستہ میں دیتا ہوں ۔ " آپ نے پھر لوگوں کو عثمان بن عفان دوبارہ کھڑے ہوئے اور کہا: ” دوسو اونٹ مع کجاوہ اور پالان کے اللہ کے راستہ میں " آپ نے پھر لوگوں کو ابھارا۔ عثمان بن عفان تیسری بار کھڑے ہوئے اور کہا: اے خدا کے رسول تین سو اونٹ مع کجاوہ اور پالان کے اللہ کے راستہ میں " لئے راوی کہتے ہیں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر پڑے۔ کی زبان پر یہ کلمہ جاری تھا :
ما على عثمان ما عمل بعد هذه 5 ما علی عثمان اس کے بعد عثمان جو بھی کریں ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔ بعد عثمان جو بھی کریں ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔