Al-Risala · March 1978

ما عمل بعد هذه 8

Al-Risala, March 1978, pp. 15–31

By Maulana Wahiduddin Khan

امام ترمذی انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں۔ حدیبیہ میں جب بیعت رضوان ہوئی ، اس وقت عثمان بن عفان رسول اللہ کے سفیر کی حیثیت سے مکہ گئے ہوئے تھے۔ جب تمام لوگ بیعت ہو چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عثمان اس وقت اللہ اور اس کے رسول کے کام پر ہیں۔ " پھر آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور خود اپنے ایک ہاتھ سے اپنے دوسرے ہاتھ پر عثمان کے لئے بیعت کی :

فكانت يد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العثمان خیراً پس عثمان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ لوگوں کے ان کے من أيديهم لا نضهم اپنے ہاتھ سے بہتر تھا۔

امام ترمذی مرۃ بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا حال بیان کیا جو آپ کے

بعد آئیں گے، اتنے میں ایک صاحب سامنے سے گزرے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا : ھذا ابو منڈ علی الھدی (یہ شخص اس دن حق پر ہوگا) میں اٹھ کر ان کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ عثمان بن عفان ہیں۔ عثمان نے اپنے مال سے مشکل وقتوں میں اتنی زیادہ اسلام کی مدد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار ان کے لئے دعا فرمائی۔ ایک بار آپ نے فرمایا:

اللهم انی قد رضيت عن عثمان فارض عنه ، اللهم انی اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔ قد رضیت عن عثمان فارض عنه میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔

ایک بار حضرت عثمان کے ایثار و قربانی سے آپ اتنا خوش ہوئے کہ دعا کا یہ کلمہ دن بھر آپ کی زبان سے نکلتا رہا۔ تاہم یہی عثمان بن عفان تھے جن کے خلاف ان کی خلافت کے بعد کے سالوں میں سارے ممالک اسلامی میں شورش برپا ہو گئی۔ اس شورش کے پیدا کرنے میں متعدد وخلاص اور مقدس لوگ بھی شریک تھے۔ یہ شورش اتنی بڑھی کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوائی مختلف ملکوں سے جمع ہو کر مدینہ میں گھس گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ کے گھر میں پانی کا داخلہ روک دیا۔ آپ کے لئے مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھنا نا ممکن بنا دیا ۔ جب شدت بہت بڑھی تو آپ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور بلوائیوں کو خطاب کیا :

عن ثمامة بن حزن القشيرى قال، شهدت الدار 2 - میں حزن القشیری کہتے ہیں۔ عثمان بن عفان کے محاصرہ حين أشرف عليهم عثمان فقال : أنشدكم الله والاسلام کے وقت میں ان کے گھر کے پاس موجود تھا۔ وہ مکان کے اوپر هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم چڑھے اور لوگوں سے کہا۔ میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم المدينة وليس بها ماء لا يستعذب غير بئر رومة. دلاتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فقال من يشرى بئر رومة يجعل دلوه مع دلاء کرکے مدینہ آئے اور یہاں صرف ایک یہودی کا کنواں بئر رومہ تھا المسلمين بخير له منها في الجنة - فاشتريتها من جس سے میٹھا پانی لیا جا سکے وہ بہت مہنگی قیمت پر فروخت کرتا صلب مالى، وأنتم اليوم تمنعوني أن أشرب منها۔ تھا) رسول اللہ نے کہا ۔ کون بئر رومہ کو خریدتا ہے کہ وہ بھی اس فقالوا اللهم نعم - فقال انشدكم الله والاسلام هل سے پانی لے اور مسلمان بھی پانی لیں، جنت میں اس کو اس سے بہتر تعلمون ان المسجد ضاق بها عله فقال رسول الله ٹگا ملیں گے (۲۵ ہزار درہم) کے عوض اس کو خریدا۔ صلى الله عليه وسلم من يشترى بقعة آل فلان مجھ کو اس سے پانی پینے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے جواب دیا ۔ فيزيدها في المسجد بخير له منها في الجنة ہاں۔ پھر عثمان بن عفان نے کہا ۔ میں تم کو قسم دلاتا ہوں اللہ کی فاشتريتها من صلب مالي، فانتم اليوم تمنعوني اور اسلام کی۔ کیا تم جانتے ہو کہ مسجد نبوی تنگ پڑ گئی تو رسول اللہ ان اصلی فيها ركعتين، فقالوا اللهم نعم - - قال الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون فلاں زمین کو خرید کر مسجد میں اكبر، اشهد داو رب الكعبة ، انى شهيد، انلا ثا۔ اضافہ کر تا ہے، جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے اس (ترمدی - نسائی ، دار قطنی) کو اپنے مال سے خریدا۔ اور تم مجھ کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے

بند کرتے ہو۔ رگوں نے کہا خدا یا ہاں ۔ عثمان بن عثان نے کہا رب کعبہ کی قسم تم لوگ گواہ رہو کہ میں شہید ہوں (زین بار فرمایا)

سرخ اسکول (جلا ئیں) کا قیام، نوجواں اور ان کا ساتھی، شہدائے شہروڑ کے قریب ان سب کے باوجود لوگوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔ اور قتل کرنے والے اور ان کا ساتھ دینے والے سب کے سب نمازہ روزہ والے مسلمان تھے۔ حتی کہ ان کا ساتھ دینے والوں میں سے ایسے لوگ بھی تھے جن کے اخلاص اور بندگی میں کسی کو ے ورسز مانا كچھ لوگ کڑھتے رہے، اس کے منہ پر بھی تبصرہ کیے۔ وہ اپنے کام میں لگے رہے، تھوڑے لوگ ۔

بھیک جی میوات کے مشہور صوفی شاعر ہیں۔ وہ تین سو سال پہلے اوڈ کی (راجستھان) میں ایک خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ٹڈیڈ میں اب بھی ان کا اور ان کے شیخ تسلیم شاہ کا مزار موجود ہے۔ انھوں نے اپنا گھر چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کرلی تھی۔ بہت سے اشعار عوام میں مشہور ہیں۔ ایک شعر یہ ہے : یہ پیا کے دیس کی بڑی کٹھن ہے گیل کوئی کوئی جائیگو سلجھا سلجھا بیل مطلب یہ ہے کہ محبوب (خدا) کے دیس (آخرت) کا راستہ بڑا اکتشن تھوڑے لوگ ہوں گے جو راستہ کی جھاڑیوں سے بچ کر وہاں تک پہنچیں ۔

Printed page