Al-Risala · March 1978

ڈائری کا ایک ورق

Al-Risala, March 1978, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر۴۰ میں ایک ’’رجل مومن‘‘ کا یہ فرعون کے شاہی خاندان کا ایک فرد تھا۔ موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف فرعون کی کشمکش جب اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس وقت یہ مرد مومن، جو اب تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، دربار میں کھڑا ہو گیا۔ اس نے آخرت کے موضوع پر ایک بے لاگ تقریر کی۔ نے اپنی قوم کو یوم التناد (چیخ پکار کے دن) سے ڈرایا۔ ان کو نصیحت کی کہ اپنی زندگی کا نقشہ دار القرار کو سامنے رکھ کر بناؤ۔

یہ تقریر اپنی تاریخی اہمیت کی بنا پر فی الفور سارے ملک مصر میں پھیل گئی۔ ایک شخص کی صرف ایک تقریر نے پوری قوم کے اوپر خدا کی حجت تمام کر دی ۔

تاریخ انسانی میں اس قسم کا لمحہ صرف کبھی کبھی پیش آتا ہے ، زندگی ، مخصوص واقعاتی تسلسل کے تحت ، کبھی ایک ایسے کلائیکس پر پہنچ جاتی ہے کہ ایک فرد کو ، جو اس وقت ایک خاص مقام پر کھڑا ہو ، اپنی مخصوص پوزیشن کی وجہ سے ایک ایسا کردار ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے جس کو عام حالات میں لاکھوں انسان مل کر بھی انجام نہیں دے سکتے۔

۱۱ فروری ۱۹۷۷ء کو سابق صدر جمہوریہ ہند فخر الدین علی احمد (۱۹۷۷-۱۹۰۵) کے اچانک انتقال کی خبر ملی تو مجھے خیال آیا کہ مرحوم شاید ہندوستان کی جدید تاریخ میں پہلے شخص تھے جو اس قسم کی نادر پوزیشن پر پہنچ گئے تھے۔

Printed page