آدمی بدل جاتا ہے
Al-Risala, March 1978, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
محمد بن علی بن طباطبا عرف ابن الطقطقی تیرھویں صدی عیسوی کا مشہور مورخ ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ عبد الملک بن مروان اموی (۵۰ھ-۷۳ھ) مدینہ کے مشہور فقہا میں سے تھا۔ لوگ اس کو "مسجد کا کبوتر" کہتے تھے، کیوں کہ وہ اکثر مسجد میں رہتا اور قرآن کی تلاوت اس کے باپ مروان بن الحکم کے مرنے کے بعد جب اس کو بتایا گیا کہ "آج سے تم خلیفہ ہو"، تو اس نے قرآن کو فوراً بند کر دیا اور کہا: هذا فراق بيني و بينك (اب میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے) عبد الملک کی خلافت سے پہلے جب یزید بن معاویہ نے مدینہ والوں سے لڑنے اور کعبہ پر حملہ کرنے کے لئے فوج روانہ کی تو عبدالملک بہت خفا ہوا تھا۔ اس نے کہا تھا: ”کاش آسمان ٹوٹ کر زمین پر گر پڑے“، مگر جب وہ خود خلیفہ ہوا تو اپنے حریف عبداللہ بن زبیر کو مغلوب کرنے کے لئے اس نے وہی فعل شدید تر شکل میں کیا۔ اس نے حجاج بن یوسف کو اس کام کے لئے مقرر کیا جس نے مکہ کا محاصرہ کر لیا اور کعبہ پر منجنیق سے پتھر سعید بن المسیب، عبدالملک کے استاد تھے۔ ایک روز عبدالملک نے سعید بن المسیب سے کہا: اب میرا یہ حال ہو گیا ہے کہ میں کوئی نیک کام کرتا ہوں تو میرے دل کو خوشی نہیں ہوتی۔ جب کوئی برائی کرتا ہوں تو اس کا کچھ رنج نہیں ہوتا۔ حالاں کہ پہلے ایسا سعید بن مسیب نے جواب دیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تمھارے دل کی موت عمل ہو چکی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس جے ۔ سنہانے ۱۲ جون ۱۹۷۵ء کو اپنا یہ تاریخی فیصلہ دیا جس میں مسز اندرا گاندھی کے الیکشن (۱۹۷۱ء) کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۲۶ جون ۱۹۷۵ء کو ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں آیا جس نے پورے ملک کو نئے راستہ پر ڈال دیا۔ اس وقت سے لے کر فخر الدین علی احمد ہو جاتی ۔ مگر وہ اس خدائی پیغام کے ناشرین جاتے جس کو پچھلی کئی صدیوں سے سارے مسلمان مل کر بھی انجام نہیں دے سکے ہیں اور جس کے ادا کرنے والے کے لئے بلاشبہ خدا کے یہاں سب سے بڑی سرفرازی ہے۔ نام کیا حقیقت کے انتقال تک جو ہنگامہ خیز واقعات ہوئے، ان سب میں مرحوم کا نام شامل تھا۔ ایک صاحب اقتدار شخصیت محض اپنی ذات کو بچانے کے لئے انتہائی بے دردی کے ساتھ پورے ملک کا ڈھانچہ بدلتی رہی اور راشٹرپتی بھون کا صدر نشین اس کے ہر منصوبے پر قانونی جواز کی مہر لگاتا رہا۔
جیسا کہ کہا جاتا ہے، آخری دنوں میں مرحوم فخر الدین علی احمد کا ضمیر چیخ اٹھا تھا۔ انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس عہدہ سے استعفا دے دیں گے۔ اگر انھوں نے ایسا کیا ہوتا اور پھر دربار فرعون کے مومن کی طرح کھڑے ہو کر یہ کہتے کہ " اقتدار کے جوش میں یہ مت بھول جاؤ کہ خدا کی پکڑ تمھارا انتظار کر رہی ہے۔ تمھیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد خدا کے یہاں حساب دینے کے لئے حاضر ہونا ہے" اگر وہ ایسا کرتے تو اچانک وہ اس مقام پر کھڑے ہو جاتے جو شہدا اور انبیا ر کا مقام ہے۔ ہندوستانی تاریخ کا کلامیکس اور ان کی مخصوص پوزیشن ان کی تقریر آخرت کو نہ صرف سایۂ فلک بلکہ ساری دنیا میں پھیلا دیتی۔ کوئی کان نہ ہوتا جس نے اس کو سنا نہ ہو، کوئی نگاہ نہ ہوتی جس نے اس کو پڑھا نہ ہو۔ صدر جمہوریہ کے عہدہ سے استعفا دینے کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ چند روز کے لئے ان کی دنیا برباد سی سے مذہب کے بارے میں بات ہورہی تھی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے کہا: HUMAN QUALITIES ARE MORE IMPOR- TANT THAN THE RELIGIOUS CUSTOMS نسانی صفات زیادہ ضروری ہیں بہ نسبت مذہبی رسوم۔ یہ جملہ اس نفسیات کو بہت خوبی کے ساتھ بتا رہا ہے جس کی وجہ سے مذہب آج کل کے پڑھے لکھے لوگوں کی نظر میں قیر اہیم بن گیا ہے۔ یہ لوگ مذہب کو ایسے رسوم و اعمال کے مجموعہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جس کا انسان کی اصل زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حقیقی زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہے، وہ مذہب سے حاصل نہیں ہوتیں، تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے رسیمیاتی خیمہ کا بوجھ وہ کیوں اٹھائے پھریں۔
مذہب کا یہ تصور اصل مذہب کے مطالعہ سے نہیں بنا ہے بلکہ اہل مذاہب کو دیکھ کر بنا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں مذہب والوں نے یہ ہی نمونہ پیش کیا ہے، گویا مذہب کچھ ناقابل فہم قسم کے رسمی اعمال کی بجا آوری کا نام ہے۔ حالانکہ مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک زندہ قوت کا نام ہے جو انسان کی پوری زندگی میں ہلچل پیدا کر دیتا ہے۔