Al-Risala · March 1978

مذہبی تعلیم کی سائنسی تصدیق

Al-Risala, March 1978, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کے ہر دور میں عورتیں، مردوں کے ماتحت حتیٰ کہ آج بھی مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ صورتِ حال مکمل طور پر موجود ہے۔ نام نہاد آزادیٔ نسواں تحریک کے مغربی علم بردار اب تک یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ کوئی فطری تقسیم نہیں ہے، بلکہ سماجی حالات (SOCIAL CONDITIONING) نے مصنوعی طور پر یہ فرق پیدا کر رکھا ہے۔ تاہم حال میں اس سلسلے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

امریکہ کے پروفیسر اسٹیسن گولڈ برگ نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے: "نظامِ سرداری کی مصنف کہتے ہیں کہ معاشرہ میں عورت مرد کے فرق کی وجہ حقیقتاً کوئی سماجی دباؤ نہیں ہے، بلکہ دونوں جنسوں میں بنیادی فطری فرق اس کا سبب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد پروفیسر کو امریکہ کی انتہا پسند خواتین کی طرف سے نہایت سخت خطابات ملے ہیں مثلاً ظالم خنزیر" اور "مردسادی" وغیرہ۔ سادیت، کونٹ دی سادے (۱۸۱۴-۱۷۴۰) کی طرف منسوب ہے۔ اس سے مراد ایک قسم کی جنسی کجروی ہوتی ہے جس کے مبتلا کو اس میں لطف آتا ہے کہ وہ معشوق کو جسمانی تکلیف دے۔ "مرد سادی" کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مرد جو عورت کے حق میں ظالم ہو کتاب کی اشاعت کے بعد پروفیسر گولڈ برگ سے جب "ڈیلی ایکسپریس" کا نمائندہ ملا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: "مساوات نسواں کی علم بردار خواتین مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ تمام انسانی معاشروں میں مرد کا عمومی غلبہ (MALE DOMINANCE) صرف سماجی حالات کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔

اس فرق کی زیادہ حقیقت پسندانہ توجیہہ یہ ہے کہ اس کو مردانہ ہارمون (MALE HORMONE)

کا نتیجہ قرار دیا جائے جو کہ ابتدائی جراثومہ حیات پر اس وقت غالب آجاتے ہیں جب کہ وہ ابھی رحم مادر میں ہوتا یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بچے ہمیشہ چھوٹی بچیوں سے زیادہ جارح ہوتے ہیں اور یہ فرق اس وقت ظاہر ہو جاتا ہے جب کہ ابھی وہ سماجی حالات کے زیر اثر آئے بھی نہ ہوں۔ مساوات نسواں کے علم برداروں کا مقدمہ، خالص علمی اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ بات صحیح ہوتی کہ مرد کا غلبہ سماجی حالات کی وجہ سے ہے نہ کہ پیدائشی خصوصیات کی وجہ سے، تو یقیناً کبھی نہ کبھی دنیا کے کسی خطہ میں ایسا معاشرہ ضرور رہتا جس میں عورتوں کو غلبہ حاصل ہوتا۔ جب کہ پوری معلوم تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ اشتراکی معاشرہ میں بھی ایسا نہیں ہے جو جنسی مساوات کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔ کی وزراتی کابینہ میں ۲۳ طاقت ور وزراء شامل ہیں، مگر ان میں کوئی ایک بھی خاتون ممبر نہیں۔

علم الانسان کی ماہر خاتون ڈاکٹر مارگریٹ میڈ، جو خود بھی مساوات نسواں کی تحریک سے تعلق رکھتی ہیں، انھوں نے ساری عمر مختلف انسانی معاشروں کا مطالعہ کیا ہے، تاہم وہ لکھتی ہیں:

ایسے تمام دعوے جن میں زور شور کے ساتھ ایسے معاشروں کا انکشاف کیا گیا ہے جہاں عورتوں کو غلبہ حاصل تھا، بالکل لغو ہیں۔ اس قسم کے عقیدہ کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ ہر دور میں مرد ہی امور عامہ کے قائد رہے ہیں۔ اور گھر کے اندر بھی اعلیٰ اختیار ہمیشہ یہیں کو حاصل رہا ہے"۔

پروفیسر گولڈ برگ کہتے ہیں، " اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد، عورتوں سے بہتر (BETTER) ہوتے ہیں۔ مرد کا دماغ اس سے مختلف طرز پر کام کرتا ہے جس طرح عورت کا دماغ کام کرتا ہے۔ یہ فرق چوہوں وغیرہ کے نر اور مادہ میں بہت واضح طور پر تجربہ کیا جا چکا ہے۔ کچھ عورتیں مستثنی ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ بہت معمولی اقلیت ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے مختلف ہیں، رحم مادر سے لے کر سوچنے کی صلاحیت تک۔ یہ فرق دونوں کی حیاتیاتی نوعیت کے فرق سے پیدا ہوتا ہے ۔ نہ کہ کسی قسم کے سماجی حالات سے ۔

ڈاکٹر کے. بی. جمال الدین (۱۹۸۱ء)

(DIFFERENT) مطلب صرف یہ ہے کہ مرد عورتوں سے مختلف (ڈیلی ایکسپریس ۲۴ جولائی ۱۹۶۶) شاعر کا اعتراف طرماح بن حکیم (م ۱۰۰ھ) اور کمیت بن زید اسدی دونوں ہم عصر شاعر تھے۔ دونوں کا نسب، وطن اور مذہب بالکل الگ الگ تھا۔ شامی اور خارجی تھا. اس کے برعکس کمیت عدنانی کوفی اور شیعہ تھا جیسا کہ معلوم ہے خارجی حضرت علی کے دشمن تھے۔ خوارج کے چھ بڑے فرقے ہوئے ہیں، ازارقہ، نجمدات، صفر یہ، مجاردہ، اباضیہ یہ سب حضرت عثمان و حضرت علی سے براءت و بیزاری میں متفق ہیں اور اپنے اس عقیدے کو تمام عبادتوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ طرماح کا تعلق فرقہ ازارقہ سے تھا جو اتنا متشدد تھا کہ حضرت علی کو نعوذ باللہ کافر کہتا تھا اور آپ کے قاتل ابن ملجم کو برحق دوسری طرف کمیت شیعہ ہونے کی وجہ سے حضرت علی کی تعریف میں اتنا غلو کرتا تھا کہ آپ کو بشریت سے بلند مانتا تھا۔

اس شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے۔ تھا ہم دونوں عوام سے بغض رکھنے میں متفق “ ایک بار دونوں شاعر مخلد بن یزید مہلبی کے یہاں گئے‘ اس نے دونوں کو عزت سے بٹھایا اور شعر سنانے کے لئے کہا۔ طرماح نے بیٹھے بیٹھے سنانا شروع کیا۔ مخلد نے کہا، ہمیں کھڑے ہو کر طرماح نے کہا: ”ہرگز نہیں۔ شاعری کی قوت نہیں کہ میں کھڑا ہو جاؤں اور وہ مجھے ذلیل کرے “ مخلد غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا: تم کیت کے لئے جگہ خالی کر دو“ اب کیت آگے بڑھا اور کھڑے ہو کر اشعار سنانے شروع کئے ۔ مخلد بہت خوش ہوا۔ اور اس کو پچاس ہزار درہم انعام دیئے۔ باہر نکلے تو کیت نے آدھے درہم طرماح کو دیئے۔ اس نے کہا: ”اے ابو ضبیہ! تم خود دار ہو اور میں موقع پسند ہوں۔ اور وقت کے مطابق کام کرتا ہوں “

خدا کی اس زمین پر کیا کیا پیش آیا ہے حضرت شعیب حضرت ابراہیم کی نسل سے تھے۔

نسب نامہ یہ ہے :

شعیب بن میکیل بن يشجر بن مدین بن ابراهیم حضرت شعیب مدین کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ، یہ شہر بحر احمر کے کنارے واقع تھا۔

حضرت شعیب کو فصاحت میں کمال حاصل تھا اسی خصوصیت کی وجہ سے آپ کو ”خطیب الانبیار“ کہا آپ نے بہترین اسلوب اور اعلیٰ ترین استدلال کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے حق کا پیغام دیا۔ اس کے جواب میں ان کی مدعو قوم نے جو کچھ کیا، اس کا ایک حصہ قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوا ہے :

” انہوں نے کہا، اے شعیب ! تمھاری کہی ہوئی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آئیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہو۔ اگر تمھارے قبیلے کا معاملہ نہ ہوتا تو ہم تم کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیتے۔ ہماری نظر میں تمھاری کوئی وقعت نہیں۔ پیغمبر نے کہا، اے قوم، کیا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک زیادہ طاقت ور ہے خدا سے ، اس کو تم نے پس پشت ڈال دیا، یقیناً میرے رب کے قابو میں ہے جو تم کرتے ہو۔

ایک شخص نے اپنی جماعت میں کوئی دنیوی بنیاد کھڑی کر لی ہو تو لوگ اس کے خلاف ہاتھ اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ حالاں کہ جس کے گرد و پیش بظاہر دنیوی بنیادیں نہ ہوں ، اس کے خلاف کارروائی کرنے سے اور بھی زیادہ ڈرنا چاہئیے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں خدا اس کی مدد کے لئے کھڑا ہوا ہو۔ اور جس کی مدد پر خود خدا کھڑا ہو اس کو کون تکلیف پہنچا سکتا ہے اور اگر تکلیف پہنچا دے تو اس کی سزا کتنی سخت بھگتنی پڑے گی۔

قدیم زمانہ میں جب کہ دنیا میں قبائلی نظام تھا، ہر آدمی اپنے قبیلہ کی پناہ میں ہوتا تھا، قبیلہ کے کسی فرد کو کوئی قتل کر دے تو پورے قبیلہ کی ذمہ داری ہو جاتی تھی کہ اس سے بدلہ لے۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں اسلام کے دشمنوں نے غلاموں کو سخت ترین عذاب دیا حتیٰ کہ بعض کو مار ڈالا۔ مگر جو لوگ کسی قبیلہ سے وابستہ تھے۔ ان پر اس قسم کا ظلم کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

ابن اسحاق کا بیان ہے کہ عمر بن خطاب جب اسلام نہیں لائے تھے، ایک روز تلوار لے کر غصہ میں چلے جا رہے تھے، راستہ میں نعیم بن عبداللہ ملے۔ انھوں نے کہا من مرید یا عمر (اے عمر کس کا قصد ہے) انھوں نے کہا محمد کا قصہ تمام کرنے جا رہا ہوں ۔ نعیم نے جواب دیا: واللہ لقد غرتك نفسك یا عمر، اتری بنی عبد مناف تاركاً تمشى على الارض وقد قتلت محمداً خدا کی قسم اے عمر ! تمھارے نفس نے تم کو دھوکہ میں ڈال دیا اگر تم نے محمد کو قتل کر دیا تو کیا بنو عبد مناف تم کو زمین پر چلتا ہوا چھوڑ دیں گے ۔ یہ سن کر وہ رک گئے ۔ حضرت شعیب کی قوم نے آنجناب سے یہی بات کہی تھی ناگر ہم کو یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمھارا قبیلہ انتقام لینے کے لئے کھڑا ہو جائے گا تو ہم تمھارا خاتمہ کر دیتے ۔ نے جواب دیا کہ تم کو قبیلہ کا خوف ہے اور خدا کا خوف نہیں اگر تم نے مجھے ناحق قتل کرنے کی کوشش کی تو خدا میری پشت پر کھڑا ہو جائے گا اور وہ تم سے اتنا بڑا انتقام لے گا جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے

Printed page